تازہ ترین خبریںمحاسبہ

تجھ سا دوجا کوئی نہیں……

احمد بھائی نہیں رہے……
مجھے اب بھی یقین نہیں آ رہا ہے کہ انسان دوستی کا عظیم علم بردار دنیا سے جا چکا ہے، میری ان کی دیرینہ رفاقت کا پل منہدم ہو چکا ہے۔ کانگریس کا سنکٹ موچک اور قومی سیاست کا نباض خاموش ہو چکا ہے۔ احمد پٹیل کی یہ خاموشی جانے کتنوں کو رلا رہی ہے، جو ان سے مل چکے ہیں اور ان کی شریف النفسی کے قائل رہے ہیں۔

احمد بھائی ایک قد آور اور کامیاب سیاستداں ہی نہیں بلکہ ایک دور اندیش، سلجھی ہوئی شخصیت خاموش مگر نفیس طبیعت کے مالک تھے۔ گوکہ انھوں نے خود کو کانگریس کے لئے وقف کر دیا تھا، کانگریس اعلیٰ کمان کو بھی ان کی فراست اور سیاست پر بھرپور اعتماد تھا۔ مگر انھوں نے کبھی اس اعتماد کا فائدہ نہیں اٹھایا، یہ ان کی اخلاص فطرت تھی کہ انھوں نے اپنے گھر والوں کو سیاست کے گلیمر سے دور رکھا۔ آج احمد بھائی دنیا میں نہیں ہیں مگر ان کی سیاست کی پختہ کاری کے سبھی قائل تھے۔ وہ قومی سیاست کے بہترین نباض تو تھے ہی ان کا سیاسی تجربہ اور مشاہدہ بھی اتنا پختہ تھا کہ وہ گھاگھ سے گھاگھ نیتاؤں کی راجنیتی کے پر گن لیتے تھے۔ سیاست کے بڑے بڑے گروگھنٹال احمد پٹیل کی چانکیہ نیتی سے چوکنا رہتے تھے۔ لیکن سیاست کا وہی چانکیہ اب دنیا سے دور جا چکا ہے۔

احمد بھائی سے میرا رابطہ، رشتہ 20-25 برسوں پر محیط ہے۔ ایک بار مجھے ان کے ساتھ حج کی سعادت بھی نصیب ہوئی، منیٰ، صفا اور مکہ میں ان کا ساتھ رہا، وہ مجھے ہمیشہ ایک چھوٹے بھائی کی طرح ٹریٹ کیا کرتے تھے۔ ان کا مجھ سے تعلق نفع نقصان سے اوپر کا تھا اور اس اخلاص تعلق کو انھوں نے ہمیشہ نبھایا۔ جب میں سعودیہ عربیہ سے ہندوستان لوٹا تو ہر دس پندرہ دن میں ایک بار ان کے یہاں آنا جانا معمول تھا۔ کبھی کبھار وہ خود فون کرکے یا میسج کرکے مجھے بلا لیتے، باہر والے یا اندرونی کمروں میں بیٹھ کر گھنٹوں ان سے باتیں ہوتیں۔ میری ان کی آخری ملاقات 30 ستمبر کو ہوئی جب بہار اسمبلی انتخاب کے سلسلے میں طویل گفتگو ہوئی اور دوسرے دن میں پٹنہ کے لئے روانہ ہو گیا تھا، اسی درمیان احمد بھائی کا مسیج آیا کہ میں کورونا پازیٹیو ہو چکا ہوں کچھ دنوں کے بعد احمد بھائی ٹھیک بھی ہو چکے تھے لیکن افسوس کہ میں ان سے مل نہ سکا کیوںکہ میں خود کورونا کی زد میں آ چکا تھا۔

احمد بھائی چلے گئے ہیں مگر ایسی یادیں چھوڑ گئے ہیں جو نہ صرف ان کی منسکرانہ طبیعت اور انسان دوست فطرت کی غماز ہیں بلکہ دنیا کے لئے بھی ایک مشعل راہ ہیں۔ احمد بھائی پردے کے پیچھے کے سیاست داں ہی نہیں تھے بلکہ انکسار اور نام نمود سے بے نیازی کا عالم یہ تھا کہ وہ بغیر کسی تشہیر کے چھپ کے لوگوں کی مدد کرتے تھے۔ انسان دوستی، ہمدردی، انکسار و تحمل کی علامت تھے احمد بھائی۔

میں جب بھی ان کے یہاں گیا تو تین چار وزرائے اعلیٰ کو ان کا منتظر پایا۔ احمد بھائی اس معاملے میں اصول وضوابط کے پابند تھے جو پہلے آتے تھے ان سے پہلے ملتے تھے کبھی کبھی میں بنا کوئی وقت لئے ان سے ملنے چلا جاتا تھا تو وہ عجلت میں ہوتے تو بھی کنارے کھڑے ہو کر گفتگو کر لیتے، ان کی یہی سادگی، انکساری، تحمل و بردباری، دکھاوے سے بے نیازی اور عام سی شخصیت ملنے والے کو ان کا گرویدہ بنا دیتی تھی۔ دوستی نبھانے کا جذبہ تو شاید انھیں وارثت میں ملی تھی۔ ان کے والد بھی گجرات کے بزرگوں میں شمار ہوتے تھے احمد بھائی کی اسی انسان دوستی کے پیش نظر میری زندگی میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے مجھے ہمیشہ کے لئے اس شریف النفس شخص کا نہ صرف مداح بنا دیا بلکہ یہ سوچنے پر بھی مجبور کردیا کہ سیاست کی کالی کوٹھری میں رہنے کے باوجود بے داغ رہا جا سکتا ہے۔

میری والدہ جو قلب مریضہ ہیں سات آٹھ سال قبل ان کی طبیعت اتنی خراب ہوگئی کہ انھیں دہلی کے ایک پرائیویٹ اسپتال میں داخل کرانا پڑا میں بے حد پریشان تھا اسی دوران میرے سینئر دوست اور راجیہ سبھا کے سابق رکن محمد ادیب میرے آفس میں آئے انھوں نے مجھے پریشان دیکھا تو پوچھا کیا بات ہے میں نے کہا کہ میری والدہ کی طبیعت زیادہ خراب ہے انھوں نے برجستہ کہا کہ آپ ایمس میں کیوں نہیں دکھاتے میں نے کہا کہ ایمس میں فوری علاج کے لئے بہت سارے لوازمات اور پیچیدہ مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ بہر حال میں گھر آگیا مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میں سویا ہوا تھا کہ تقریبا رات کے ڈیڑھ بجے فون کی گھنٹی بجنے لگی دوسری طرف احمد پٹیل تھے انھوں نے مجھے تسلی دی اور کہا کہ کل میرا سکریٹری ان سے رابطہ کرے گا اور والدہ کے ایمس میں داخلہ کے تمام لوازمات پورے کرے گا۔ میں تو بھونچکا رہ گیا کہ ان کو تو میں نے والدہ کی بیماری سے متعلق کچھ بتایا ہی نہیں پھر اچانک یہ فرشتہ رحمت بن کر کیسے آئے، صبح میں ان کے سکریٹری کا فون آیا اس نے مطلع کیا کہ آپ کی والدہ کے ایمس میں داخلہ کے تمام لوازمات پورے ہو چکے ہیں میں نے کال بیک کیا تو احمد بھائی نے بتایا کہ کل محمد ادیب صاحب آئے تھے انھوں نے آپ کی والدہ کی خرابی طبیعت اور پریشانی کا ذکر کیا تھا، احمد بھائی نے اس موقع پر احسان جتانے کے بجائے یہ شکایت کی کہ آپ نے یہ بات مجھے نہیں بتائی خاص بات تو یہ ہے کہ میری والدہ کے ایمس میں داخلہ کے دوسرے دن احمد بھائی خود انھیں دیکھنے ایمس پہنچ گئے آج میری والدہ بھی احمد بھائی کے رحلت کے غم سے دوچار ہیں اور ان کے لئے دعاگو ہیں…………تو ایسے تھے احمد بھائی۔

خاموش، نرم مزاج اور انکسرانہ طبیعت کے حامل احمد بھائی کے اپنوں کے دکھ درد میں بنا کہے شامل ہو جانے کی کس کس بات کا ذکر کیا جائے۔ 2019 کے پارلیمانی الیکشن کے دوران جب میرا سیاسی سفر شروع ہوا تو ایسے دور میں انھوں نے مجھے جس طرح سنبھالا وہ بھی میری زندگی کا باحوصلہ اور روشن واقعہ ہے حالانکہ میں آر جے ڈی کی ٹکٹ پر بہار سے لوک سبھا کا امیدوار تھا پھر بھی احمد بھائی سیاست سے اوپر اٹھ کر مجھے سنبھالتے رہے وہ ہر گام، ہرموڑ، ہر سکھ دکھ کی گھڑی میں ساتھ رہے، الیکشن کے دوران تمام تر مصروفیات کے باوجود ہر دوسرے تیسرے دن فون کرتے، میری ہمت افزائی کرتے۔ احمد بھائی ایسے انسان تھے جو کانگریس میں سب سے پاور فل مقام پر ہونے کے باوجود معمولی ایمبسڈر کار سے آیا جایا کرتے تھے۔ میں نے کبھی بھی ان کے ماتھے پر غرور کی شکن، طاقت رمق نہیں رکھی بلکہ دیکھی تو سادگی اور بے مثال انسان دوستی دیکھی۔ ان میں انکسار اور اخلاق کا پیکر دیکھا۔ ان میں تحمل وتدبر کا عظیم مظہر دیکھا، وہ پنچ وقتہ نمازی تھے ہر صبح تلاوت قرآن ان کا معمول تھا تو ایسے تھے ہمارے احمد بھائی…… جو اب خاموشی کی چادر اوڑھے خاموشی کے ساتھ اپنی خاموش طبیعت لے کر دنیا چھوڑ چکے ہیں۔ ان کی رحلت میرے لئے ایک ذاتی خسارہ سے کم نہیں، مگر احمد بھائی کی یادیں بھی ایک سرمایہ حیات سے کم نہیں جو ہر موڑ پر میرے لئے مشعل راہ بن کر کھڑی رہیں گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بہت یاد آئیں گے احمد بھائی

(Writer: Syed Faisal Ali………………………..E-mail: [email protected])

ٹیگز
اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close