Connect with us

بہار

کس کتاب میں ہے ضلع مجسٹریٹ کو تھپڑ چلانے کا حق : روہنی آچاریہ

Published

on

پٹنہ:بی پی ایس سی امیدوار کو تھپڑ مارنے پر نہ صرف پٹنہ کے ڈی ایم ڈاکٹر چندر شیکھر سنگھ کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے بلکہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار بھی اپوزیشن کے نشانے پر آگئے ہیں۔ آر جے ڈی لیڈر روہنی آچاریہ نے تھپڑ مارنے کے واقعہ کو لے کر وزیر اعلیٰ پر حملہ کیا ہے ۔ انہوں نے سخت لہجے میں کہا کہ وزیر اعلیٰ آپ کے پسندیدہ افسر عوام اور نوجوانوں کے ساتھ بدتمیزی پر اترآئے ہیں۔
روہنی آچاریہ نے کہا کہ نتیش کمار کا دور بے لگام نوکر شاہی اور افسروں کے لیے جانا جاتا ہے ، لیکن اب نتیش کمار کے پسندیدہ افسران بہار کے لوگوں اور نوجوانوں کے ساتھ بدتمیزی پر اتر آئے ہیں۔ پٹنہ ضلع مجسٹریٹ کا بی پی ایس سی امیدوار کو تھپڑ مارنا سراسر غنڈہ گردی کے زمرے میں آتا ہے ۔ وزیر اعلیٰ ہونے کے ناطے نتیش کمار کو یہ بتانا چاہیے کہ ان کے افسران کو تھپڑچلانے کا حق کس کتاب میں لکھا ہے ۔
روہنی آچاریہ نے اس پر لکھا کیا آپ اپنی ناکامی، اپنی حکومت کی ناکامی اور اپنے دور حکومت میں پھیلی کرپشن سے مایوسی کا اظہار کر رہے ہیں، کبھی لاٹھی اور کبھی تھپڑ مار کر؟دراصل جمعہ کے روز بی پی ایس سی کے 70ویں امتحان کے بعد امیدوار پیپر لیک ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے پٹنہ سیٹی کے باپو آڈیٹوریم کے باہر احتجاج کر رہے تھے ۔ اسی دوران غصے میں پٹنہ کے ڈی ایم ڈاکٹر چندر شیکھر سنگھ نے ایک امیدوار کو اچانک تھپڑ مار دیا۔ اس کو لے کر اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو سمیت تمام اپوزیشن لیڈروں نے حکومت کو نشانہ بنایا ہے ۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Bihar

ضلع مجسٹریٹ سے سیمانچل یوا سنگٹھن جوکی ہاٹ کی ملاقات

Published

on

ارریہ:سوموار کو سیمانچل یوتھ آرگنائزیشن، جوکی ہاٹ کے ایک وفد نے ضلع مجسٹریٹ، ارریہ سے ملاقات کرکے +2 سرکاری امداد یافتہ ہائی اسکول، جوکی ہاٹ کے احاطے میں تعمیر شدہ اقلیتی طلبہ ہاسٹل کو فوری طور پر فعال کرنے اور ہائی اسکول کے میدان نیز اس سے متصل عوامی سڑک پر برسوں سے قائم غیر قانونی تجاوزات اور سبزی منڈی کے مسئلے سے متعلق ایک تفصیلی عرضداشت پیش کی۔ وفد نے ضلع مجسٹریٹ کو بتایا کہ اقلیتی طلبہ ہاسٹل کی عمارت مکمل ہونے کے باوجود آج تک اسے طلبہ کے لیے نہیں کھولا گیا، جس کے باعث سیمانچل کے غریب اور اقلیتی طبقے سے تعلق رکھنے والے طلبہ اس بنیادی سہولت سے محروم ہیں۔
اس سلسلے میں مختلف محکموں اور متعلقہ حکام کو پہلے بھی متعدد بار درخواستیں دی جا چکی ہیں، جن کی تفصیلات بھی ضلع مجسٹریٹ کے سامنے پیش کی گئیں۔ اس موقع پر وفد نے جوکی ہاٹ ہائی اسکول کے میدان اور اس سے گزرنے والی عوامی سڑک پر قائم غیر قانونی سبزی منڈی اور تجاوزات کا معاملہ بھی اٹھایا۔ وفد نے کہا کہ اس تجاوز کی وجہ سے روزانہ ہزاروں طلبہ، اساتذہ اور سرپرستوں کو اسکول آنے جانے میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سڑک پر ہر وقت ٹریفک جام رہتا ہے، حادثات کا خدشہ برقرار رہتا ہے، جبکہ اسکول کا واحد کھیل کا میدان بھی بری طرح متاثر ہو چکا ہے، جس سے طلبہ کی کھیل، ثقافتی اور دیگر تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔
ضلع مجسٹریٹ نے دونوں معاملات کو سنجیدگی سے سنتے ہوئے وفد کو یقین دلایا کہ اقلیتی طلبہ ہاسٹل کو جلد از جلد فعال بنانے کے لیے متعلقہ محکموں اور ذمہ دار افسران کو ضروری ہدایات جاری کی جائیں گی۔ ساتھ ہی اسکول مینجمنٹ کمیٹی سے بھی وضاحت طلب کی جائے گی کہ اب تک ہاسٹل کے آغاز میں تاخیر کیوں ہوئی۔ مزید برآں ضلع مجسٹریٹ نے ہائی اسکول میدان اور عوامی سڑک پر قائم تجاوزات کی فوری جانچ کرا کر ضروری کارروائی کرنے اور متعلقہ محکموں کو تجاوزات ہٹانے کے لیے مناسب ہدایات جاری کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی۔
، تاکہ طلبہ اور عام شہریوں کو محفوظ اور آسان آمد و رفت کی سہولت میسر آ سکے۔
سیمانچل یوتھ آرگنائزیشن نے ضلع مجسٹریٹ کے مثبت اور سنجیدہ رویے کا خیر مقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ انتظامیہ کی مؤثر کارروائی سے اقلیتی طلبہ ہاسٹل جلد فعال ہوگا اور ہائی اسکول کا میدان اور عوامی سڑک تجاوزات سے پاک ہو کر دوبارہ طلبہ اور عوام کے لیے مفید ثابت ہوں گے۔
تنظیم نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ وہ تعلیم، طلبہ کے حقوق اور عوامی مفاد سے وابستہ مسائل کو آئندہ بھی آئینی، جمہوری اور پرامن طریقے سے انتظامیہ کے سامنے اٹھاتی رہے گی۔

Continue Reading

Bihar

کربلا کی قربانی آج بھی انسانیت کیلئے مشعل راہ: مولانا ناصر حسین

Published

on

بھاگلپور:شہادتِ کربلا کی عظیم یاد میں 19 چہلم کے موقع پر پیر کے روز میر امام بخش وقف اسٹیٹ، قصبہ گولاغاٹ نیا بازار واقع تاریخی امام باڑے میں عقیدت، احترام اور رنج و غم کے ماحول میں مجلس کا انعقاد کیا گیا۔ مجلس میں شہدائے کربلا کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا، جبکہ شہر کی مختلف انجمنوں نے درد بھری نوحہ خوانی اور سینہ زنی کے ذریعے حضرت امام حسینؓ اور ان کے وفادار ساتھیوں کی بے مثال قربانی کو یاد کیا۔مجلس سے خطاب کرتے ہوئے عالی جناب مولانا ناصر حسین صاحب نے فرمایا کہ کربلا محض تاریخ کا ایک باب نہیں، بلکہ انسانیت، انصاف، صبر اور حق کی حفاظت کا ایسا پیغام ہے جو قیامت تک ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے والوں کے حوصلوں کو تقویت دیتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ حضرت امام حسینؓ نے اپنے اہلِ بیت اور جاں نثار ساتھیوں کے ساتھ کربلا کے تپتے ہوئے ریگستان میں اپنا سر تو قربان کر دیا، مگر ظلم و جبر کی علامت یزید کی بیعت قبول نہیں کی۔ یہی وجہ ہے کہ کربلا کی شہادت آج بھی سچائی، انصاف اور خودداری کی بلند ترین مثال سمجھی جاتی ہے۔

مجلس کے دوران امام باڑا ماتمی نوحوں، “یا حسینؑ” کی صداؤں اور اشک بار فضا سے گونج اٹھا۔ عزاداروں نے نم آنکھوں کے ساتھ امام حسینؓ اور شہدائے کربلا کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کی بتائی ہوئی سچائی، انصاف اور انسانیت کی راہ پر چلنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

اس موقع پر امام باڑے کے متولی سید مہدی علی، سید امبر علی، سید محمد علی، جامین علی، نزاکت علی، دانش، اظہر، افروز، وکٹر، بابر، ارشد علی، اظہر سمیت بڑی تعداد میں عقیدت مند موجود تھے۔

Continue Reading

Bihar

پندرہ اگست سے پہلے ای کے وائی سی ضروری ایل پی جی ملنے میں ہوگی دشواری

Published

on

چھپرہ :وزارت پیٹرولیم اور بھارت پیٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ کی ہدایت کے مطابق بھارت گیس کے تمام صارفین کے لیے 15 اگست سے پہلے ای-کے وائی سی مکمل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔مقررہ مدت میں ای-کے وائی سی مکمل نہیں کرنے والوں کو مستقبل میں سلینڈر حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اوم انٹرپرائزز بھارت گیس کے ڈائریکٹر ابھیشیک سنگھ نے بتایا کہ وزارت پٹرولیم کی ہدایت کے مطابق بھارت گیس کے تمام صارفین کے لیے ای-کے وائی سی کیا جا رہا ہے۔اس کا مقصد حقیقی اور اہل صارفین کی شناخت کو یقینی بنانا اور ایل پی جی کے کنکشن کو زیادہ سے زیادہ تقسیم کرنے سے روکنا ہے۔اس لیے تمام صارفین کو 15 اگست سے پہلے اپنا ای-کے وائی سی مکمل کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا جن صارفین کی ای-کے وائی سی آخری تاریخ تک مکمل نہیں ہوتی ہے۔
انہیں گیس سلنڈر حاصل کرنے یا دیگر خدمات حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ رش سے بچنے کے لیے اس عمل کو ابھی مکمل کرنا بہتر ہوگا۔ابھیشیک نے وضاحت کی کہ ای-کے وائی سی عمل مکمل طور پر مفت ہے۔صارفین کو بس اپنا آدھار کارڈ اور رجسٹرڈ موبائل نمبر اوم انٹرپرائزز بھارت گیس کے دفتر یا ای-کے وائی سی سنٹر پر لانے کی ضرورت ہے۔ ای-کے وائی سی کا عمل بائیو میٹرکس یا او ٹی پی کے ذریعے منٹوں میں مکمل ہو جائے گا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ای-کے وائی سی کا بنیادی مقصد آدھار کے ساتھ صارفین کے ریکارڈ کی تصدیق کرنا،سرکاری اسکیموں کے فوائد کو صحیح افراد تک پہنچنے کو یقینی بنانا،گیس کی تقسیم کے نظام میں شفافیت لانا اور صارفین کو مستقبل میں کسی تکنیکی یا شناخت سے متعلق مسائل سے بچانا ہے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network