Connect with us

بہار

جامعہ رحمانی، خانقاہ مونگیر کے تمام شعبہ جات میں داخلہ جاری

Published

on

(پی این این)
مونگیر :جامعہ رحمانی، خانقاہ مونگیر، بہارملک ہندوستان کا منفرد، ممتاز دینی، تعلیمی اور تربیتی ادارہ ہے، جہاں ابتدائی درجات سے لے کر دورہ حدیث اور تخصصات تک کی تعلیم کا معیاری نظم ہے ۔ جامعہ رحمانی کے سرپرست امیر شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی سجادہ نشیں خانقاہ رحمانی مونگیر کی ہدایت پر تعلیمی مشاورتی مجلس نے نئے تعلیمی سال 1446-1447ھ کے لیے تمام شعبوں میں داخلے کا اعلان کیا ہے۔
ہر سال کی طرح اس سال بھی جامعہ رحمانی کے تمام درجات، (درجہ حفظ، درجات عربی از درجہ ششم اردو تا دورہ حدیث)، دار الحکمت (حفظ و عربی)، معہد الریادۃ (لیڈرشپ اکیڈمی)، شعبہ تخصص فی الافتاء، اور شعبہ صحافت میں داخلے کے لئے اس سائٹ rahmanimission.info پر آن لائن فارم بھرکر اپنا رجسٹریشن کروا لیں ۔ داخلہ کی تمام کاروائی امتحان میں کامیابی کی بنیاد پر ہوگا تخصصات کے طلبہ کو وظیفہ بھی دیا جائے گا ۔ ان شاءاللہ
درجہ حفظ تا دورہ حدیث اور دار الحکمت (حفظ و عربی) میں فارم جمع کرانے کی آخری تاریخ 28 رمضان المبارک 1446ھ ہے، شعبہ تخصص فی الافتاء کے لیے 20 شوال المکرم 1446ھ جبکہ معہد الریادۃ (لیڈرشپ اکیڈمی) اور شعبہ صحافت کے لیے 15 شوال المکرم 1446ھ مقرر کی گئی ہے۔
مطلوبہ تمام درجات میں داخلہ کیلئے امتحان تحریری و تقریری ہوگا، تخصص فی الافتاء اور معہد الریادۃ میں داخلہ کیلئے فقہ، حدیث، عربی ادب اور ترجمہ قرآن وغیرہ کا امتحان لیا جائے گا البتہ معہد الریادۃ میں ابتدائی انگریزی کا امتحان بھی ہوگا۔ شعبہ صحافت میں داخلہ کیلئے اردو زبان و ادب کے بنیادی اصول و قواعد اور مضمون نگاری کا امتحان ہوگا۔
مزید معلومات اور رہنمائی کے لیے درج ذیل نمبرات پر رابطہ کریں۔مولانا عبد الاحد رحمانی ازہری: 081022 17957،مولانا محمد صبا حیدر ندوی : 7039605711، مفتی نشاط احمد ندوی ، 9608078879 ، مفتی جنید احمد قاسمی ، 7004543729، فضل رحمٰں رحمانی : 9971224394

 

Bihar

عہدِ حاضر میں پیشہ ورانہ تعلیم کے ساتھ ساتھ مہارت بھی ضروری:پروفیسر مشتاق

Published

on

(پی این این)
دربھنگہ:عصرِ حاضر میں دن بہ دن پیشہ ورانہ تعلیم کی اہمیت بڑھ رہی ہے کہ تمام شعبوں میں پیشہ ورانہ طورپر مہارت رکھنے والے افراد کی تلاش ہو رہی ہے ۔ایسے وقت میں تعلیمی اداروں میں نصاب کی کتابوں کے ساتھ ساتھ عصری تقاضوں کے مطابق طلبا کی ذہن سازی کرنی ہوگی۔ بالخصوص جو طلبا پیشہ ورانہ تعلیم میں داخل ہیں انہیں آغاز سے ہی یہ تربیت دینی ہوگی کہ وہ ڈگری کے ساتھ ساتھ ماہرانہ صلاحیت بھی حاصل کریں۔
ان خیالات کا اظہارپروفیسر مشتاق احمد ، پرنسپل سی۔ایم کالج، دربھنگہ نے کیا ۔ پروفیسر احمد کالج میں شعبۂ کامرس و بی بی اے، بی سی اے کے زیر اہتمام جی آئی ایم ایس، گریٹر نوئیڈا کے تعاون سے یک روزہ ورکشاپ بہ موضوع’’ پیشہ ورانہ تعلیم اور روزگار کے مواقع‘‘کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ پروفیسر احمد نے کہا کہ خاص کر کامرس اور منجمنٹ کے طلبا وطالبات کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے اندر پیشہ ورانہ مہارت حاصل کریں تاکہ انہیں کامرس کے شعبے میں روزگار مل سکے۔
پروفیسر احمد نے کہا کہ اس ورکشاپ کے لئے ڈاکٹر راجیش کمار جھا( دہلی) اور ڈاکٹر چندرکانت سنگھ( جمشید پور)بطور مہمان مقرر تشریف لائے ہیں ۔ کالج خاندان کے تئیں اظہارِ تشکر پیش کرتا ہے کہ وہ ہمارے طلبا کو پیشہ ورانہ تعلیم کی اہمیت وافادیت اور روزگار کے مواقع کے نسخے سے آگاہ کریں گے ۔
آغاز میں شعبہ کامرس کے صدر پروفیسر للت شرما نے موضوع کا تعارف اور مہمانوں کا استقبال کیا ۔ پروفیسر دوّیا شرما نے اس موضوع کی غیر معمولی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالی ۔اس ورکشاپ میں کامرس کے علاوہ دیگر شعبے کے اساتذہ اور طلبا وطالبات بھی شامل تھے۔

Continue Reading

Bihar

میرزا غالب کالج کے سابق پروفیسر محمد وجیہُ الحق کا انتقال، کالج میں سوگ

Published

on

میرزا غالب کالج کے سابق پروفیسر محمد وجیہُ الحق کا انتقال، کالج میں سوگ
گیا جی : میرزا غالب کالج، گیا کے شعبۂ کیمیا کے سابق پروفیسر پروفیسر محمد وجیہُ الحق کا سنیچر کی صبح انتقال ہوگیا۔ وہ 76 برس کے تھے۔ ان کے انتقال کی خبر سے کالج خاندان اور تعلیمی حلقوں میں غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔
پروفیسر وجیہُ الحق نے سن 1976 میں میرزا غالب کالج کے شعبۂ کیمیا میں اپنی خدمات کا آغاز کیا تھا۔ طویل عرصے تک تدریسی خدمات انجام دینے کے بعد وہ سن 2015 میں سبکدوش ہوئے تھے۔ وہ شہرِ گیا کے باشندہ تھے اور اپنے سادہ مزاج، خوش اخلاقی اور بہترین طرزِ تدریس کے لیے جانے جاتے تھے۔ پسماندگان میں ایک فرزند محمد کاشف اور ایک دختر لبنیٰ بانو شامل ہیں۔ ان کے انتقال کے بعد کالج میں سوگ کا ماحول قائم ہے۔ کالج خاندان نے غمزدہ اہلِ خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔
کالج گورننگ باڈی کے صدر شبی عارفین شمسی، سکریٹری ڈاکٹر حفیظ الرحمٰن خان اور پرنسپل ڈاکٹر محمد علی حسین نے پروفیسر وجیہُ الحق کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے انتقال سے تعلیمی دنیا کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے۔کالج کے میڈیا انچارج ڈاکٹر ابرار خان اور ڈاکٹر اکرم وارس نے بتایا کہ پروفیسر وجیہُ الحق ایک مخلص اور باصلاحیت استاد تھے، جنہوں نے اپنے طویل تدریسی دور میں ہزاروں طلبہ کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کیا۔

 

 

Continue Reading

Bihar

ارریہ میں جنتا دربار میں 57 مقدمات کی ہوئی سماعت

Published

on

(پی این این)
ارریہ:سات نشچئے تین کے تحت نافذ کئے گئے”سب کا سمان”، جیون آسان” پروگرام کے تئیں گزشتہ روز کلکٹریٹ کے پرمان آڈیٹوریم میں ایک عوامی سماعت منعقد ہوئی، جس کی صدارت ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ارریہ مسٹر ونود دوہن نے کی۔
میٹنگ کے دوران ضلع کے مختلف بلاکس کے عام شہریوں کی شکایاتیں سنی گئی۔ کل 57/ مقدمات کی سماعت کرتے ہوئے، ضلع مجسٹریٹ نے متعلقہ محکموں کے افسران کو ہدایت کی کہ وہ مقدمات کو فوری، منصفانہ اور مؤثر طریقے سے نمٹانے کو یقینی بنائیں!۔ عوامی سماعت میں موصول ہونے والی سب سے زیادہ شکایات محکمہ ریونیو اور لینڈ ریفارمز سے متعلق تھیں۔
مزید برآں، محکمہ سماجی بہبود، محکمہ داخلہ، محکمہ دیہی تعمیرات، محکمہ دیہی ترقی، محکمہ سپلائی، اور محکمہ تعلیم سے متعلق معاملات بھی عوام کی جانب سے پیش کئے گئے۔رانی گنج بلاک کی بسیٹی پنچایت کا باشندہ اظہر انصاری نے باسگیت( پرچی) سرٹیفکیٹ والی زمین کو تجاوزات سے آزاد کرانے کی درخواست کی۔ رانی گنج بلاک کے پارسا ہاٹ کے رہنے والے شبھم کمار مہتا نے مین روڈ کی مرمت کا مطالبہ کیا۔
نرپت گنج بلاک کے ریواہی کے رہنے والے محمد عین الحق نے زمین پر غیر قانونی قبضہ کی شکایت درج کرائی ہے۔ بھرگاما بلاک کے دھنیشوری کے رہنے والے کامیشور یادو نے پنچایت سکریٹری کی طرف سے خدمات کے فوائد کی ادائیگی سے متعلق شکایت درج کرائی۔
ارریہ میونسپل کونسل کے رہنے والے جیوچھلال بہادر اور چھویلال بہادر نے ماتا ویشاری کے مقام کو خوبصورت بنانے کی درخواست کی۔ رانی گنج بلاک کے حسن پور کی رہنے والی پنکی دیوی نے انو کمپا کی بنیاد پر بحال ڈیلر کے انتخاب کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

جوکی ہاٹ کے رہنے والے عظیم الدین نے ایک طالب علم کے اسکول میں داخلے سے متعلق شکایت درج کرائی۔ نرپت گنج بلاک کے بھنگی پنچایت کے رہنے والے نیگھو رام نے زمین کی پیمائش کے لئے درخواست دی۔ ضلع مجسٹریٹ نے تمام متعلقہ محکموں کے افسران کو ہدایت دی کہ وہ جنتا دربار میں موصول ہونے والی درخواستوں کی بروقت کارروائی کو یقینی بنائیں!۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network