Connect with us

دیش

میوات ماب لنچنگ کے ملزم کی پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ میں ضمانت عرضی خارج

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی :پلوَل ضلع ہریانہ کے ایک نہایت حساس موب لنچنگ مقدمہ میں پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ نے ملزم نربیر عرف نرویر کی ضمانت کی عرضی مسترد کر دی ہے۔ جسٹس سوریہ پرتاپ سنگھ نے کریمنل کیس نمبر /2025 68227 کی سماعت کرتے ہوئے یہ فیصلہ صادر کیا ہے۔ آج عدالت میں جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی کی طرف سے مقرر کردہ وکیل ایڈوکیٹ روزی خاں نے جم کر بحث کی جو ماب لنچنگ میں شہید یوسف اور متاثرہ ڈرائیور روی کی طرف سے ہائی کورٹ میں اس مقدمے میں تعاون کررہی ہیں ۔
واضح ہو کہ 24 جنوری 2025 کو گاؤں اورنگ آباد میں دو گائے اور ایک بچھڑے کو ایک منی ٹرک کے ذریعے لے جایا جا رہا تھا۔ اسی دوران ایک ہجوم نے ٹرک ڈرائیور ’روی‘ اور ’یوسف‘ کو گھیر کر مبینہ طور پر شدید تشدد کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں شدید زخموں کے باعث ’یوسف‘ کی موت واقع ہوگئی۔اس سلسلے میں تھانہ منڈکٹی، ضلع پلوَل میں ایف آئی آر درج کرائی گئی ۔ اس مقدمہ میں کل نو ملزمان نامزد ہیںاور بقید ہیں۔
ملزم نربیر نے BNSS کی دفعہ 483 کے تحت ہائی کورٹ میں اپنی ضمانت عرضی دائر کی تھی۔ دفاعی فریق کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ ملزم کا نام ایف آئی آر میں شامل نہیں ہے اور اگرچہ CCTV فوٹیج میں اس کی موجودگی نظر آتی ہے، لیکن وہ مارپیٹ میں براہ راست ملوث دکھائی نہیں دیتا۔
دوسری طرف جمعیۃ علماء ہند کی طرف سے مقرر کردہ وکیل روزی خاں نے مضبوط دلائل کے ساتھ ضمانت کی مخالفت کی۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر دستیاب شواہد کی روشنی میں بادی النظر میں ملزم کی شمولیت ظاہر ہوتی ہے اور جرم کی نوعیت انتہائی سنگین ہے، اس لیے ضمانت نہیں دی جاسکتی۔
اس حساس مقدمہ کی قانونی پیروی جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی کی سرپرستی میں انجام دی جا رہی ہے۔ضلع و سیشن عدالت پلوَل میں جمعیۃ کی جانب سے ایڈوکیٹ ایشور سنگھ سورین مقدمہ کی پیروی کر رہے ہیں، جبکہ ہائی کورٹ چندی گڑھ میں ملزم کی ضمانت کی مخالفت کے لیے ایڈوکیٹ روزی خاں پیش ہوئیں۔ پورے مقدمہ کی قانونی حکمتِ عملی جمعیۃ علماءہند کے قانونی امور کے ذمہ دار نیاز احمد فاروقی کی رہنمائی میں مرتب کی جا رہی ہے۔ جب کہ جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمد حکیم الدین قاسمی اور ریاستی جمعیۃ علماء کے ذمہ داروں بالخصوص مولانا یحیٰ کریمی ناظم اعلی جمعیۃعلماء ہریانہ، پنجاب و ہماچل وغیرہ نے اس سانحہ کے بعد اہل خانہ سے ملاقات کرکے ہر ممکن تعاون کی یقین دہائی کرائی تھی بعد یہ مقدمہ اس وقت ضلع و سیشن عدالت پلوَل میں زیرِ سماعت ہے اور گواہی کا مرحلہ جاری ہے۔ تمام نو ملزمان عدالتی حراست میں ہیں۔

دیش

موسمیاتی اقدامات کیلئے مکمل تعاون فراہم کرے گی حکومت: پیوش گوئل

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی:مرکزی وزیر برائے تجارت و صنعت پیوش گوئل نے آج نئی دہلی میں منعقدہ ‘‘موسمیاتی تبدیلی کے ساتھ استحکام کو آگے بڑھانا’’ مکالمے میں کلیدی خطاب کرتے ہوئے بھارت کی عالمی سطح پر موسمیاتی اقدامات میں قیادت، اپنے قومی سطح پر طے شدہ اہداف (آئی این ڈی سیز) کی مضبوط کارکردگی، قابلِ تجدید توانائی کی تیز رفتار توسیع اور مختلف ممالک و خطوں کے ساتھ جاری عالمی اقتصادی روابط پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت دنیا کے بہترین کارکردگی دکھانے والے ممالک میں شامل ہے اور اپنے آئی این ڈی سیز اہداف حاصل کرنے میں مسلسل جی-20 ممالک میں سرفہرست 1 سے 3 پوزیشنز پر رہتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بھارت نے اپنے قابلِ تجدید توانائی کے اہداف مقررہ وقت سے آٹھ سال پہلے حاصل کر لیے ہیں اور اب تک 260 گیگاواٹ کا ہدف حاصل کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 2014 میں حکومت کے آغاز کے وقت شمسی توانائی کا ابتدائی منصوبہ 9سے10 سال میں 20 گیگاواٹ تھا، جسے وزیر اعظم نریندر مودی کی ہدایت پر بڑھا کر 100 گیگاواٹ کیا گیا اور یہ ہدف مقررہ وقت میں حاصل کر لیا گیا۔ اب بھارت نے 2030 تک 500 گیگاواٹ صاف توانائی کا پرعزم ہدف مقرر کیا ہے۔
پیرس سی او پی 21 میں بھارت کی قیادت کو یاد کرتے ہوئے پیوش گوئل نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارت نے ترقی یافتہ، ترقی پذیر اور کم ترقی یافتہ ممالک کو ایک مشترکہ اتفاقِ رائے پر مبنی نتیجے تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا، جس میں ممالک کو اپنے اپنے اہداف خود طے کرنے کی لچک دی گئی۔انہوں نے کہا کہ بھارت کو پہلے ایک مخالف یا اعتراض کرنے والا ملک سمجھا جاتا تھا، لیکن اب وہ ایک عالمی رہنما کے طور پر ابھرا ہے، اور اس مذاکراتی عمل میں وزیر اعظم نے اس وقت کے فرانسیسی صدر کے ساتھ مل کر کلیدی اور فیصلہ کن کردار ادا کیا۔
بھارت کی بڑھتی ہوئی عالمی اقتصادی شراکت داری کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ متعدد ممالک اور خطے بھارت کے ساتھ تجارتی اور اقتصادی تعاون کے حوالے سے فعال مذاکرات میں شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مزید 12 ممالک اور خطوں کے ساتھ روابط جاری ہیں، جن میں پیرو، چلی، کینیڈا، قطر، بحرین، سعودی عرب؛ جنوبی افریقہ اور اس کے ہمسایہ خطے؛ برازیل اور اس کے ہمسایہ خطے؛ روس اور یوریشیائی خطہ، اور اسرائیل شامل ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ آج دنیا بھارت کی ترقی کی کہانی کو تسلیم کر رہی ہے اور عالمی منڈیوں میں بھارتی کاروباری اداروں کے لیے مواقع کے دروازے کھولنے میں بھارت کی اہمیت کو تسلیم کیا جا رہا ہے۔

Continue Reading

دیش

مصنوعی ذہانت میں عالمی مرکز کے طور پر ابھررہاہے ہندوستان:اشونی ویشنو

Published

on

(پی این این)
وشاکھا پٹنم:الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹکنالوجی، ریلویز اور اطلاعات و نشریات کے مرکزی وزیر اشونی ویشنو نے کہا کہ ہندوستان الیکٹرانک مینوفیکچرنگ میں دنیا کے لیے ایک بڑے قابل اعتماد ویلیو چین اور سپلائی چین پارٹنر کے طور پر ابھرنے کے لیے تیار ہے ۔وہ وشاکھاپٹنم میں گوگل کلاؤڈ انڈیا اے آئی ہب کی گراؤنڈ بریکنگ تقریب کے بعد آندھرا پردیش کے چیف منسٹر این چندرا بابو نائیڈو کے ساتھ کئی مرکزی وزراء، ریاستی وزراء اور صنعت کے قائدین کی موجودگی میں اجتماع سے خطاب کررہے تھے۔یہ پروجیکٹ، 15 بلین ڈالعکی تخمینی سرمایہ کاری کے ساتھ تیار کیا جا رہا ہے، اور اس میں وشاکھاپٹنم میں 1 گیگا واٹ ہائپر اسکیل AI ڈیٹا سینٹر شامل ہوگا۔ آندھرا پردیش کی حکومت نے اس پروجیکٹ کے لیے ترلوواڈا، رامبیلی اور اڈوی ورم علاقوں میں تقریباً 600 ایکڑ اراضی مختص کی ہے۔
اشونی ویشنو نے روشنی ڈالی کہ ہندوستان پہلے ہی آئی ٹی خدمات میں ایک رہنما کے طور پر ابھرا ہے اور اب الیکٹرانکس کی تیاری میں تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔وزیر نے وزیر اعظم کے وژن کی تعریف کی، ملک کو ٹیکنالوجی کے کلیدی شعبوں جیسے سیمی کنڈکٹرز، کوانٹم، خلائی اور مصنوعی ذہانت میں ایک عالمی مرکز کے طور پر ابھرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے نوٹ کیا کہ ہندوستان نے موبائل مینوفیکچرنگ میں اہم پیش رفت کی ہے، جس میں موبائل فون ملک کی اعلیٰ برآمدی اشیاء میں سے ایک بن گیا ہے۔ اب تقریباً 50فیصد گھریلو الیکٹرانک مانگ مقامی پیداوار کے ذریعے پوری کی جا رہی ہے۔ سیمی کنڈکٹر مشن کے تحت بھارت میں تجارتی پیداوار شروع ہو چکی ہے۔
وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان سیمی کنڈکٹر اور الیکٹرانکس کی پیداوار میں ایک قابل اعتماد شراکت دار بن رہا ہے اور انہوں نے گوگل سمیت عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں سے ملک کے اندر اپنے سرورز، جی پی یو اور چپس تیار کرنے کی اپیل کی۔

Continue Reading

دیش

اے ایم یو میں رنگریزہ آرٹ فیسٹ کا آغاز، تخلیقی صلاحیتوں اور فنی اظہار کا رنگا رنگ جشن

Published

on

(پی این این)
علی گڑھ:علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے یونیورسٹی فائن آرٹس کلب کے زیر اہتمام منعقد ہونے والا رنگریزہ آرٹ فیسٹ 2026 پرجوش انداز میں شروع ہوا۔ پہلے دن تخلیقی صلاحیتوں کا جشن منایا گیا، جس میں جوش و خروش، فنکارانہ اظہار اور بامعنی شرکت نمایاں رہی۔
تقریب کا باقاعدہ آغاز صبح 11:30 بجے معزز مہمانوں کی موجودگی میں ربن کاٹنے کی رسم سے ہوا۔ اس موقع پر مہمانِ خصوصی سابق وائس چانسلر پروفیسر محمد گلریز تھے، جب کہ مہمانانِ اعزازی میں پروفیسر محمد شمیم (چیئرپرسن،شعبہ تپ دق و امراض تنفس، جے این ایم سی، اے ایم یو)، ڈاکٹر عابد ہادی (چیئرپرسن، شعبہ فائن آرٹس)، ڈاکٹر وسیم مشتاق وانی (صدر، یو ایف اے سی)، پروفیسر بدر جہاں (مینٹور) اور پروفیسر محمد رضوان خان (کوآرڈینیٹر، کلچرل ایجوکیشن سنٹر) شامل تھے۔
افتتاح کے بعد مہمانوں نے نمائش گاہوں کا دورہ کیا اور پیش کیے گئے فن پاروں کا مشاہدہ کیا۔ ان میں مختلف اقسام کی پینٹنگز اور تنصیبات (انسٹالیشنز) شامل تھیں۔ جنگ و تصادم، زیاں اور انسانی دکھ جیسے موضوعات کے ساتھ ساتھ غالب، زرینہ ہاشمی اور مجاز لکھنوی جیسی ادبی و فنکارانہ شخصیات کو خراجِ عقیدت پیش کرنے والے فن پاروں نے فنی گہرائی و گیرائی اور حساسیت کا نمایاں طور سے اظہار کیا۔ ہر فن پارے نے اپنے تہہ دار بیانیے اور فکری وضاحت کے باعث مہمانوں کی توجہ اور ستائش حاصل کی۔
یہ دورہ سی ای سی کے لان تک جاری رہا، جہاں مزید فن پاروں نے شائقین کو محظوظ کیا اور بامعنی مکالمے کو فروغ دیا۔ اس کے بعد افتتاحی تقریب منعقد ہوئی، جس میں مہمانوں کا رسمی استقبال کیا گیا اور انہیں گلدستے پیش کئے گئے۔
اپنے خطاب میں پروفیسر گلریز نے شرکاء کی محنت اور تخلیقی کاوشوں کی ستائش کی اور فیسٹیول میں نمایاں فکری پختگی اور فنکارانہ دیانت داری کو سراہا۔رنگریزہ 2026 کا پہلا دن بے حد کامیاب رہا۔ اپریل کی شدید گرمی کے باوجود فیسٹیول کا جوش و جذبہ برقرار رہا اور یہ ایک یادگار اور بامقصد تجربہ بن کر سامنے آیا۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network