دیش
جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے ادھم پور سیلاب متاثرین میں تقسیم کی گئیں 15مکانات کی چابیاں
ایک دن ایسا ضرور آئے گا جب ظالموں کے گلے میں زنجیریں ہوں گی اور ملک ایک بار پھر پیار، محبت اور انصاف کے سائے میں ترقی کرے گا:مولانا ارشد مدنی
(پی این این)
نئی دہلی :آج پہلے مرحلے میں ادھم پور جموں و کشمیر میں15 نئے تعمیر شدہ مکانات کی تقسیم کے دوران سیلاب متاثرین جن میں 7 عدد بیوہ خواتین بھی شامل ہیں کو چابیاں تقسیم کرتے ہوئے صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا ارشد مدنی نے پنجاب ہماچل اور جموں و کشمیر میں سیلاب کی وجہ سے آئی تباہی پر کہا کہ ہم مالک کائنات کے بندے ہیں ،چنانچہ اس کے ہر فیصلے پہ سر تسلیم خم کرتے ہیں۔کیوں کہ ہماری بندگی کا تقاضا بھی یہی ہے اور وہی ہے جو ہر پریشانی کا مداوا کر سکتا ہے ،تاہم اسباب کے طور پر جمعیۃعلما ہند اور اس کے خدام اور اس کی شاخیں تا بحد امکان متاثرین کی مدد کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی مصیبت یہ پوچھ کر نہیں آتی یہ کون ہندو ہے کون مسلمان ہے جب بھی کوئی مصیبت آتی ہے تو ایک ساتھ سب کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہیں اسی طریقے سے ان متاثرین میں ہر مذہب کے ماننے والے شامل ہیں اور جمعیۃ علماء ہند بلا تفریق مذہب ملت سب کی مدد کر رہی ہے کیونکہ کہ انسانیت کی خدمت ہی اس کا نصب العین ہے ۔
آج چابیا ں وصول کرنے بعد مجموعی طور پر متاثرین نے کہا کہ لوگ آئے دلاسہ دے کر چلے گئے مگر کام جمعیۃ علماء ہند نے کیا۔ یہ مجموعی تاثر جموں و کشمیر کے ان سیلاب متاثرین کا ہے جن 15 لوگوں کو جمعیۃ علماء راجستھان کے تعاون سے نئے تعمیر شدہ مکانات کی چابیاں دی گئی ہیں۔ان میں سے کچھ لوگ اس قدر جذباتی ہوگئے جب ان سے ان کے تاثرات جاننے کی کوشش کی گئی تو زبان سے کچھ نہ کہہ سکے البتہ ان کی آنکھیں مارے خوشی سے چھلک پڑیں اور کہا کہ اللہ تعالی مولانا مدنی کو سلامت رکھے اور عمر وصحت میں برکت دے۔ انہوں نے ہمارے درد کو محسوس کیا۔
مولانا مدنی نے ویڈیو کانفرنسینگ کے ذریعہ مجمع کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت ہمارامشترکہ ورثہ ہے اس کا تحفظ ملک کے تمام شہریوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے اگر ہم نے یہ ذمہ داری ادانہ کی تو یادرکھیں اس کوتاہی کے لئے ہماری آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریگی، مولانا مدنی نے کہا کہ حالیہ دنوں میں کچھ ایسے واقعات بھی سامنے آئے ہیں جو انتہائی امیدافزاکہے جاسکتے ہیں اس طرح کے واقعات یہ بتاتے ہیں کہ اب اکثریت فرقہ کے لوگ بھی نفرت کی سیاست کے خلاف بیدارہورہے ہیں ، یہ اس بات کا اشارہ بھی ہے کہ نفرت کی سیاست کے پیچھے جو کالاسچ چھپاہواہے لوگ اسے سمجھ چکے ہیں ہمیں مکمل یقین ہے کہ ایک دن نفرت محبت سے ہارجائے گی ، انہوں نے تقریب میں موجودلوگوں سے یہ بھی کہا کہ اگر اب بھی کچھ لوگ ایسے ہیں جو بے گھر ہوچکے ہیں ہم کوشش کریں گے کہ مسلمانوں کے ساتھ برادران وطن کوبھی نیامکان بنواکر دیں ، آپ یقین رکھیں جمعیۃعلماء ہند نہ صرف آپ کے دکھ دردمیں شریک رہے گی بلکہ مصیبت میں آپ کو ہرطرح کی مددبھی مہیاکرائے گی، انہوں نے لوگوں سے تلقین کی کہ وہ ہر قیمت پر اپنے بچوں کو تعلیم سے آراستہ کریں کیونکہ آج اس طرح کے حالات ہیں اس سے مقابلہ کے لئے تعلیم ہی سب سے بڑاہتھیارہے انہوں نے کہا کہ دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ دنیاوی تعلیم بھی بہت ضروری ہے واضح ہوکہ آج پہلے مرحلہ میں جن 15لوگوں کو نئے مکان کی چابیاں دی گئی ہیں ان میں سات عدد بیوہ خواتین بھی شامل ہیں، اس کے علاوہ 148ضرورت مند لوگوں میں راشن کٹ اوردیگر گھریلو سامان بھی تقسیم کیا گیا ان میں تیس غیر مسلم بھی شامل ہیں ۔
انہوں نے کہا فرقہ پرستوں کی کوئی بھی سازش کامیاب نہیں ہو پائے گی۔سیکولرزم اور دستور ہند کے تحفظ کے لئے جمعیۃ علماء ہندآخری دم تک جدوجہد جاری رکھے گی۔تاریخ بتاتی ہے جو قوم اپنی شناخت، تہذیب اور مذہب کے ساتھ زندہ رہنا چاہتی ہے اسے قربانی دینی پڑتی ہے۔انہوں نے کہا کہ مذہب کی بنیاد پر عوام کو تقسیم کرنا ملک کو تقسیم کرنا ہے، جو کچھ ملک میں ہو رہا ہے اس کو دیکھتے ہوئے ہمیں مجبور ہوکر کہنا پڑ رہا ہے کہ فرقہ پرست طاقتیں اسلام اور مسلمان دونوں کو مٹانے کے درپہ ہیں۔مگر انہیں شاید یہ معلوم نہیں کہ اسلام کا یہ چراغ کبھی نہیں بجھے گا اور جن لوگوں نے اسے بجھانے کی کوشش کی وہ خود بجھ گئے۔ ہم ایک زندہ قوم ہیں اور زندہ قومیں مایوسی کا شکار ہونے کے بجائے اپنی فہم و فراست، تدبر اور حکمت عملی سے اپنی کامیابی ایک نئی تاریخ رقم کرتی رہی ہے۔مولانا مدنی نے کہا کہ مو جودہ حالات سے مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے جو حالات آج ہیں وہ ہمیشہ نہیں رہیں گے۔ ہر دن کے بعد سورج طلوع ہوتا ہے، اور وہ دن بھی آئے گا جب امن، بھائی چارہ اور محبت کا سورج طلوع ہوگا اور نفرت و فرقہ پرستی کا سورج غروب ہو جائے گا، کیونکہ جب ظلم اپنی انتہا کو پہنچ جاتا ہے تو سمجھ لیجیے کہ صبحِ روشن قریب ہوتی ہے، اور ایک دن ایسا ضرور آئے گا جب ظالموں کے گلے میں زنجیریں ہوں گی اور یہ ملک ایک بار پھر پیار، محبت اور انصاف کے سائے میں ترقی کرے گا۔
دیش
معروف صحافی ’گل بوٹے‘ ممبئی کے مدیر فاروق سید نہیں رہے،ادبی وسماجی حلقہ سوگوار
(پی این این)
ممبئی۔معروف صحافی، ادیب اور بچوں کے مقبول رسالہ “گل بوٹے” کے مدیر فاروق سید کا آج سانتا کروز کے بینز اسپتال میں انتقال ہوگیا ۔ فاروق سید کی موت سے ادبی وصحافتی حلقوں میں غم کا ماحول ہے۔
فاروق سید گزشتہ دو ماہ سے مسلسل علالت کا شکار تھے، رمضان المبارک میں وہ عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کے لئے مکہ مکرمہ گئےتھے۔ لیکن اسی دوران انھیں برین ہیمرج ہوگیا۔ وہ مکہ کے ایک اسپتال میں داخل کئے گئے جب ان کی طبیعت میں کچھ بہتر ہوئی تو وہ ممبئی واپس آگئے۔ ممبئی واپسی کے بعد انھیں ہارٹ اٹیک ہوا ، ان کے دل کا آپریشن بالا جی اسپتال میں کیا گیا۔ لیکن وہ سنبھل نہیں سکے۔ پھر انھیں سانتا کروز کے بینز اسپتال میں داخل کیا گیا۔ جہاں ان کی حالت مزید تشویشناک ہوگئی ، وہ وینٹی لیٹر پر منتقل کیے گئے اور بالآخر اس دنیائے فانی کو لبیک کہا۔
فاروق سید اردو صحافت اور بچوں کے ادب کی دنیا میں ایک معتبر اور محترم نام ہے۔ ان کے رسالہ گل بوٹے نے برسوں تک نئی نسل کی ادبی اخلاقی ، تربیت میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کی شگفتہ تحریریں نرم مزاجی ، ملن ساری اور علمی خدمات نے انھیں ادبی حلقوں میں بھی خاص مقام عطا کیا۔ ان کی رحلت سے صحافیوں، ادیبوں ، شاعروں اور ان کے چاہنے والوں میں غم کا ماحول ہے۔
اس موقع پر ادارہ روزنامہ سچ کی آواز فاروق سید کے اہل خانہ کے غم میں برابر کا شریک ہے۔ گروپ ایڈیٹر ڈاکٹر سید اصدر علی ، ریزینڈینٹ ایڈیٹر جمشید عادل علیگ نے فاروق سید کی رحلت پر گہرے رنج وغم کا اظہار کیا ہے اور اسے ذاتی خسارہ بتایا ہے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند کرے۔ آمین
دیش
ملک میں آنے والا ہے سب سے بڑا اقتصادی طوفان،اڈانی،امبانی اور نریندر پر نہیں پڑے گا اثر، عام آدمی ہوگا شکار، راہل گاندھی کا اندیشہ
(پی این این)
رائے بریلی۔ملک کے جوحالات بن رہے ہیں۔ مہنگائی جس طرح بڑھ رہی ہے اور مزید بڑھنے والی ہے۔ وہ ایک بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہے۔ مشرق وسطیٰ میں ٹکرائو کی وجہ سے جو حالات پیدا ہوئے ہیں۔ حکومت اس سمت سنجیدگی سے دھیان نہیں دے رہی ہے۔
ملک میں ایک بڑا اقتصادی طوفان آنے والا ہے۔جس کا اڈانی، امبانی اور نریندر مودی پر اثر نہیں پڑے گا بلکہ عام آدمی اس کا شکار ہوگا۔مذکورہ اندیشہ راہل گاندھی نے اپنے حلقہ انتخاب رائے بریلی میں میڈیا سے گفتگو کے دوران کہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’نریندر مودی نے جس طرح سے ملک کی معیشت کا ڈھانچہ بدلا ہے، وہ آنے والے معاشی طوفان میں ٹک نہیں پائے گا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس معاشی طوفان کا خمیازہ ملک کے نوجوانوں، کسانوں، چھوٹے تاجروں کو بھگتنا پڑے گا۔‘‘
یہ بیان لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے آج رائے بریلی میں نامہ نگاروں کے کچھ سوالوں کے جواب میں دیا۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’’معاشی طوفان کا اثر اڈانی-امبانی اور نریندر پر نہیں پڑے گا، کیونکہ وہ اپنے محلوں میں بیٹھے رہیں گے۔ یہ جھٹکا بہت برا ہوگا، آنے والا وقت بہت مشکل ہوگا۔‘‘
کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی کا کہنا ہے کہ پی ایم مودی کوئی ٹھوس قدم اٹھانے کی جگہ ملک کی عوام سے کہہ رہے ہیں، کوئی بھی بیرون ملک سفر نہ کرے، جبکہ وہ خود دنیا بھر کا دورہ کر رہے ہیں۔ موجودہ مسائل کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’وزیر اعظم مودی کو یہ سمجھنا چاہیے کہ اصل مسئلہ بے روزگاری اور مہنگائی ہے۔ آنے والے وقت میں کھاد کا مسئلہ پیدا ہونے والا ہے۔ لیکن پتہ نہیں نریندر مودی کس دنیا میں جی رہے ہیں، مذاق بنا رکھا ہے۔‘‘
کانگریس نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر راہل گاندھی کے ذریعہ نامہ نگاروں کے سامنے دیے گئے بیانات کی 2 ویڈیوز شیئر کی ہیں، جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کانگریس رکن پارلیمنٹ کار میں بیٹھے ہیں اور ملک کے حالات پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’ملک کے مزدوروں، کسانوں، نوجوانوں، غریبوں اور چھوٹے کاروباریوں کی حفاظت کرنے کی ذمہ داری نریندر مودی کی ہے۔ ہم لگاتار نریندر مودی سے کہہ رہے ہیں کہ طوفان آنے والا ہے۔ آپ ٹھوس قدم اٹھائیے اور ملک کو محفوظ کیجیے، لیکن وہ کچھ الگ ہی کر رہے ہیں۔‘‘
دیش
ائماکرائم ومؤذنین کی اجرت یکم جون سے بند،بنگال کے وزیر اعلیٰ سوبھیندو کا اعلان
(پی این این)
کولکاتہ۔بنگال میں بی جے پی اقتدار میں آنے کے بعد نئے نئے فیصلے اور اعلانات کررہی ہے۔ بیف بند کرنے کے بعد اب سوبھیندو سرکار نے کئی اہم فیصلے کئے ہیں۔ انھوں نے اعلان کیا ہے کہ اب ائما کرام اور مؤذنین کی اجرت بند کی جائے گی۔ جو بنگال سرکار کے ذریعہ دی جارہی تھی۔ انھوں نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ ممتا حکومت کی بدعنوانیوں کی وہ گہرائی سے جانچ کرائیں گے۔ اور ہائی کورٹ کے جج کی قیادت میں یہ جانچ ہوگی۔انھوں نے کہا کہ امام ،موذن اور پوجاریوں کو دی جانے والی اجرت یکم جون سے بند کردی جائے گی۔ ساتھ ہی ساتھ خواتین کو انّا پورنا منصوبہ کے تحت 3000 روپیہ ماہانا، مفت بس سروس کا آغاز ہوگا۔ انھوں نے ساتویں پے کمیشن تشکیل کرنے اور او بی سی فہرست میں تبدیلی لانے کےلئے کئی فیصلے کئے۔
غورطلب ہے کہ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے اپنے دور میں امام ، موذن اور پوجاریوں کی اجرت پانچ سو روپیہ بڑھانے کا اعلان کیا تھا جس کے تحت مسجدوں کے امام کو تین ہزار روپے، موذن اور پوجاریوں کو دو ہزار روپے دیئے جارہے تھے۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر1 year agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
بہار6 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار12 months agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
دلی این سی آر9 months agoاردو اکادمی دہلی کے تعلیمی و ثقافتی مقابلے میں کثیر تعداد میں اسکولی بچوں نےلیا حصہ
-
محاسبہ1 year agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
