Connect with us

بہار

جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر میں عظیم الشان اجلاس ختم بخاری شریف کا انعقاد

Published

on

(پی این این)
مونگیر :جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر میں ہر سال کی طرح اس سال بھی ختمِ بخاری شریف کی عظیم الشان اور بابرکت تقریب خانقاہ رحمانی کی پرشکوہ مسجد میں منعقد ہوئی، جس کی صدارت جامعہ رحمانی مونگیر کے سرپرست امیرِ شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی ، سجادہ نشیں خانقاہ رحمانی مونگیر نے کی۔ اس موقع پر امیرِ شریعت نے جامعہ رحمانی سے اس سال فارغ ہونے والے طلبہ کو بخاری شریف کی آخری حدیث کا درس دے کر حدیث کے پڑھنے پڑھانے کی اجازت دی اور نہایت بصیرت افروز، فکر انگیز اور نصیحت آموز خطاب میں علم کے ساتھ عمل، اخلاص، تقویٰ اور خدمتِ دین کی تلقین کی۔ حضرت نے آیتِ کریمہ اِنَّ صَلَاتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ کی تشریح کرتے ہوئے زندگی کے ہر لمحے ہر کام میں رضاء الٰہی کے طلب و استحضار پر زور دیا اور نصیحت کی کہ اصل کامیابی اس وقت ملتی ہے جب انسان اپنی پوری زندگی کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے تابع کر دے۔
آپ سے قبل جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر کے شیخ الحدیث مولانا مفتی محمد اظہر مظاہری نے بخاری شریف کی ایک حدیث پڑھائی ،اور اپنی سند سے حدیثِ رسول ﷺ کی روایت، قرأت اور تدریس کی اجازت دی ساتھ ہی اکابرِ امت کی تشریحات کی روشنی میں حدیث شریف پر مکمل عمل پیرا ہونے کی خصوصی تاکید کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ رحمانی کے ناظمِ تعلیمات مولانا جمیل احمد مظاہری نے فرمایا کہ قرآنِ کریم کے بعد حدیثِ رسول ﷺ ہی شریعتِ اسلامیہ کی عملی اور مستند تعبیر ہے، جبکہ مفتی محمد جنید قاسمی نے اسلام و شریعت میں حدیثِ شریف کی حجیت پر جامع اور مدلل خطاب کرتے ہوئے منکرینِ حدیث کے شبہات کا علمی و تحقیقی جائزہ پیش کیا۔ اسی طرح ناظمِ تعلیمات برائے امور طلبہ مولانا محمد خالد رحمانی نے حدیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں اصلاحِ معاشرہ کے موضوع پر نہایت فکر انگیز گفتگو کی اور سماج میں پھیلی ہوئی اخلاقی و معاشرتی برائیوں کے سدِباب پر زور دیا اور ساتھ ہی مکمل پروگرام کی شاندار نظامت کی ۔
اجلاس کا آغاز جامعہ کے استاد مولانا قاری وسیم اختر قاسمی کی پرسوز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ بعد ازاں مولانا محمد دلشاد رحمانی، حافظ محمد انصار سلمہ (متعلمانِ جامعہ رحمانی مونگیر) اور معروف نعت خواں مولانا منظر قاسمی رحمانی نے بارگاہِ رسالت ﷺ میں نعتیہ کلام پیش کر کے محفل کو روحانیت سے معطر کر دیا۔ انجمن نادیۃ الادب کے صدر و استاذ حدیث جامعہ رحمانی مونگیر مولانا محمد نعیم رحمانی نے انجمن کے مختلف پروگراموں میں پوزیشن حاصل کرنے والے تمام طلبہ کو حضرت امیر شریعت کے دست مبارک سے انعام عطا کروایا ۔اختتامی مرحلے میں مولانا محمد برکت اللہ رحمانی کھگڑیا نے الوداعی ترانہ پیش کیا، جس سے مجلس پر رقت طاری ہو گئی اور حاضرین کی آنکھیں اشکبار ہو گئیں۔اخیر میں حضرت امیر شریعت کی دعاء سے پروگرام کا اختتام ہوا۔
جامعہ رحمانی میں 9 فروری سنہ 1966 ء میں دورہ حدیث شریف کا افتتاح ہوا تھا تب سے تسلسل کے ساتھ یہاں حدیث شریف کے پڑھنے پڑھانے کا کام جاری ہے۔یہ روحانی و علمی تقریب ہر اعتبار سے نہایت کامیاب رہی، جس میں جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر کے ذمہ داران، اساتذۂ کرام، کارکنان، طلبہ کے علاوہ بہار کے مختلف اضلاع اور ملک کے الگ الگ گوشوں سے جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر کے متعلقین، متوسلین اور معتقدین کی بڑی تعداد نے شرکت کر کے خوب استفادہ کیا۔

بہار

رمضان کوئز مقابلے کے فاتحین انعامات سے سرفراز

Published

on

(پی این این)
ارریہ :ارریہ شہر کا واحد اقلیتی، معروف ومشہور تعلیمی وتربیتی ادارہ آزاد اکیڈمی، آزاد نگر ارریہ کے وسیع وعریض اور جاذبِ نظر کیمپس میں سالانہ امتحان کے دوران اسلامک اور رمضان کوئز پروگرام کا انعقاد اکیڈمی کے پرنسپل الحاج عبیدالرحمن کی صدارت میں عمل میں آیا جبکہ حسن نظامت کی ذمہداری اسی اکیڈمی کے سائنس ٹیچر، اسلامی سکالر اور سینیئر صحافی ارشد انور الیف نے انجام دیا، اس کوز مقابلے میں تین گروپس حضرت فاطمۃ الزہرا، حضرت عائشہ اور حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے حصہ لیا۔ فاطمۃ الزہرا گروپ میں 15 طالبات حضرت عائشہ گروپ میں 18 طالبات اور حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ گروپ میں 11 طلباء شاملِ کوئز رہے۔مفتی تنزیل الرحمن استاد آزاد اکیڈمی اور ناظم کوئز ارشد انور الیف نے تینوں گروپوں سے 11 راؤنڈ میں سوالات کئے۔
اسلامک اور رمضان کوز مقابلہ میں فاطمۃ الزہرا گروپ کی منتشی نے فرسٹ پوزیشن، عائشہ گروپ کی نہاں آفرین اور حضرت علی گروپ کے نوید انجم نے مشترکہ طور پر سیکنڈ پوزیشن اور فاطمۃ الزہرا گروپ کی روشن پروین اور حضرت علی گروپ کے محمد ناصر نے مشترکہ طور پر تھرڈ پوزیشن حاصل کیں، کوئز کے اختتام پر تمام فاتحین کو یہاں کے اساتذہ کرام اور مہمانوں کے دست مبارک سے نقد کی شکل میں انعامات دیے گئے۔
تقسیم انعامات سے پہلے صدارتی کلمات کے تحت اس مقابلہ کے صدر اور ازاد اکیڈمی کے پرنسپل الحاج عبید الرحمن نے بچوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا مجھے بڑی مسرت ہو رہی ہے کہ ہمارے طلباء اور طالبات نے اس مقابلہ کے لیے بہت اچھی تیاریاں کیں اور خوب خوب محنت کر کے انعام کی حقدار ہوئیں انشاءاللہ ائندہ سال مزید اہتمام کے ساتھ پروگرام کرایا جائے گا جبکہ الحاج ارشد انور الیف نے بچوں اور بچیوں کو رغبت دیتے ہوئے کہا موجودہ حالات میں نئی نسل کے نونہالوں کو اسلامی معلومات فراہم کرانا ان کے عقیدے کو مضبوط بنانا نہایت ہی ضروری ہے اسی مقصد کے تحت گزشتہ 10 برسوں سے آزاد اکیڈمی میں اسکولی بچے اور بچیوں کو دینی اسلامی اور شرعی معلومات فراہم کی جا رہی ہیں ۔
اس شاندار اور پر وقار اسلامی اور رمضان کوئز مقابلہ میں آزاد اکیڈمی کے پرنسپل عبید الرحمن، مفتی تنزیل الرحمن، غلام سرور، مظہر الحق، مظہر عالم، خورشید انور، ریحان فضل، عباس غنی، ترنم جہاں، شازیہ ناز، غوثیہ فاطمہ، عنبر شاداب، عامر کریم، آفتاب، ارشد انور الیف، الحاج ارشد حسین، دیویا شالینی، منوج کمار منڈل، اساتذہ سمیت غیر تدریسی عملہ میں محمد پرویز اور محمد اسرافیل موجود تھے۔ اخیر میں علم ریاضی کے استاد غلام سرور نے اظہار تشکر پیش کیا اور تمام اساتذہ کرام طلبہ اور طالبات کو عید کی پیشگی مبارک باد پیش کیں اور یہاں کے طلبہ اور طالبات نے ملک کی سالمیت اور ترقی کے لئے دعائیں کیں۔

Continue Reading

بہار

دربھنگہ :عید، رام نومی اور چیتی درگا پوجا کے پیش نظر انتظامیہ الرٹ

Published

on

(پی این این)
جالے: عید، رام نومی اور چیتی درگا پوجا کو پُرامن، محفوظ اور باہمی ہم آہنگی کے ساتھ مکمل کرانے کے لیے سمری تھانہ احاطہ میں امن کمیٹی کی ایک اہم میٹنگ منعقد ہوئی، جس میں سیکورٹی انتظامات، انتظامی تیاریوں اور پوجا کمیٹیوں کے ساتھ تال میل کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
صدر ایس ڈی پی او ایس کے سمن نے ہدایت دی کہ حساس اور بھیڑ بھاڑ والے علاقوں کی نشاندہی کر کے وہاں خصوصی چوکس رہیں۔ انہوں نے کہا کہ تہوار کے دوران کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے بچنے کے لیے پولیس فورس کی مناسب تعیناتی یقینی بنائی جائے گی۔ ساتھ ہی ڈی جے چلانے والوں کو نوٹس دے کر تیز آواز والے باجے پر مکمل پابندی عائد کرنے کا حکم دیا گیا۔
تھانہ صدر اروند کمار نے کہا کہ پوجا مقامات پر تعینات مجسٹریٹ اور پولیس افسران اپنے اپنے علاقوں میں مسلسل گشت کرتے رہیں گے اور حالات پر نظر رکھیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تیز آواز والے ڈی جے پر مکمل پابندی رہے گی اور دفعہ 109 کے تحت سیکڑوں افراد پر باؤنڈ ڈاؤن کی کارروائی کی جائے گی۔
میٹنگ میں یہ بھی فیصلہ لیا گیا کہ رام نومی جلوس کے راستوں، پوجا مقامات اور عید کی نماز کے اہم مقامات پر خصوصی سیکورٹی انتظامات کیے جائیں گے۔ اہم چوک چوراہوں، جلوس کے راستوں اور بھیڑ بھاڑ والے علاقوں میں سی سی ٹی وی کے ساتھ ساتھ ڈرون کے ذریعے نگرانی کی جائے گی، جبکہ پولیس کنٹرول روم کو بھی فعال رکھا جائے گا تاکہ اطلاعات کی فوری نگرانی اور تال میل برقرار رکھا جا سکے۔
اجلاس میں سوشل میڈیا پر کڑی نظر رکھنے کی بھی ہدایت دی گئی اور کہا گیا کہ کسی بھی افواہ یا اشتعال انگیز پوسٹ کے ذریعے سماجی ہم آہنگی کو خراب کرنے والوں کے خلاف فوری قانونی کارروائی کی جائے گی۔ 19 مارچ کو سیمری درگا استھان سے نکلنے والی کلش شوبھا یاترا کے سلسلے میں بھی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔اس کے ساتھ ہی صحت اور بجلی محکمہ کو ہدایت دی گئی کہ تہوار کے دوران صفائی، پینے کے پانی، روشنی اور ٹریفک نظام کی بہتر انتظامی سہولتیں یقینی بنائی جائیں۔
میٹنگ میں امن کمیٹی کے ارکان مکھیا دنیش مہتو، منوج سنگھ، سرپنچ اشوک پاسوان، کلیم الدین راہی، گوپال سنہا، پردیومن شریواستو، امجد عباس، لالن پاسوان، رام بابو ساہ، قیصر خان، محمد اجالے، ستو ٹھاکر سمیت دیگر افراد موجود تھے، جبکہ ریونیو افسر منوج کمار، داروغہ دھرمیندر کمار، مہیش کمار، للت سہنی، اصغر علی، سوجیت کمار، سنیل ساہ اور مہیش دوبے بھی شریک تھے۔

Continue Reading

بہار

عقیدت و احترام کے ساتھ ادا کی گئی جمعۃ الوداع کی نماز

Published

on

(پی این این)
سیتامڑھی:ماہِ رمضان المبارک کے آخری جمعہ یعنی الوداع جمعہ کے موقع پر سیتامڑھی میں مسلمانوں نے بڑے جوش و خروش اور عقیدت کے ساتھ نماز ادا کی۔ اس موقع پر ہر عمر کے لوگوں میں خاصا جوش دیکھا گیا، خصوصاً بچوں میں الوداع جمعہ کی نماز کو لے کر خاصا جذبہ نظر آیا۔اس کے ساتھ ہی مسلم معاشرے میں عیدالفطر کی تیاریوں میں بھی تیزی آ گئی ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ عیدالفطر 20 مارچ یا 21 مارچ کو منائی جا سکتی ہے۔
الوداع جمعہ کی نماز کے موقع پر علما نے بتایا کہ اسلام میں جمعہ کا دن بہت اہمیت رکھتا ہے اور ماہِ رمضان میں اس کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ جمعہ کو چھوٹی عید کا درجہ حاصل ہے۔ اس سال ماہِ رمضان میں مسلمانوں کو چار جمعہ ادا کرنے کا موقع ملا، جبکہ رمضان کے آخری جمعہ کو الوداع جمعہ کہا جاتا ہے۔اس موقع پر مولانا محمد مظہر قاسمی نے بتایا کہ الوداع جمعہ دراصل رمضان المبارک 2026 کی رخصتی کی علامت ہے۔ رمضان کے آخری جمعہ کو مسلمان خوشی اور عقیدت کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔
نماز کے لیے لوگ نئے کپڑے پہن کر مساجد پہنچے۔ خاص طور پر بچوں نے رنگ برنگے نئے لباس پہن کر مختلف مساجد میں نماز ادا کی، جس سے ایک خوشگوار اور روحانی ماحول دیکھنے کو ملا۔ بزرگوں کے ساتھ بچے بھی جوق در جوق مساجد کی طرف جاتے نظر آئے۔الوداع جمعہ کے موقع پر معاشرے میں امن، بھائی چارہ اور باہمی محبت کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔
اس موقع پر مدرسہ رحمانیہ مہسول کے سابق صدر محمد ارمان علی، فیاض عالم عرف سونو بابو، محمد بشارت کریم گلاب، حاجی محمد حشمت حسین، مولانا محمد سہراب، امام خورشید عالم، عبدالودود، محمد جوہر علی تاج، ارشد سلیم، حافظ محمد نظام، محمد مرتضیٰ، محمد علیم اللہ، محمد افروز عالم، توقیر انور عرف سکند، محمد مظہر علی راجہ، حاجی عبداللہ رحمانی، محمد جنید عالم، محمد سہیل اختر، عطااللہ رحمانی سمیت سینکڑوں افراد موجود تھے۔
اس دوران مدرسہ رحمانیہ مہسول کی مسجد کے امام مولانا محمد مظہر قاسمی نے اپنے خطاب میں کہا کہ مسلمان عام دنوں کے مقابلے میں ماہِ رمضان میں زیادہ عبادت کرتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ شریعت میں الوداع جمعہ کی کوئی الگ یا خصوصی فضیلت بیان نہیں کی گئی ہے، تاہم چونکہ یہ عیدالفطر سے پہلے آنے والا آخری جمعہ ہوتا ہے، اس لیے خود بخود اس کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ عظمت، برکت، رحمت اور مغفرت کا بابرکت مہینہ رمضان اب ہم سے رخصت ہونے والا ہے اور دوبارہ آئندہ سال ہی نصیب ہوگا۔ رمضان کے آخری عشرے کو خاص اہمیت حاصل ہے کیونکہ اسے مغفرت کا عشرہ کہا جاتا ہے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network