Connect with us

دلی این سی آر

امیر جماعتِ اسلامی ہند کی کابل اسپتال پر حملے کی شدید مذمت، شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی: جماعتِ اسلامی ہند کے امیر، سید سعادت اللہ حسینی نے افغانستان کے دارالحکومت کابل میں اسپتال پر مبینہ پاکستانی فضائی حملے کی سخت مذمت کی ہے۔
میڈیا کو جاری اپنے بیان میں سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ ’’ ہم کابل میں اسپتال پر پاکستان کی جانب سے مبینہ فضائی حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں، جس میں 400 سے زائد افراد جاں بحق اور 250 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔ ہم متاثرین کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں اور اس المناک وقت میں افغانستان کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق یہ حملہ رات کے وقت ہوا اور اس نے اس طبی مرکز کو بری طرح تباہ کر دیا جہاں بڑی تعداد میں کمزور اور زیرِ علاج مریض موجود تھے۔ اسپتال دیکھ بھال اور تحفظ کی جگہ ہوتے ہیں، اور ایسے اداروں پر کسی بھی قسم کا حملہ بین الاقوامی انسانی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ ایسے حملوں میں قیمتی جانوں کا ضیاع، خصوصاً اُن افراد کا جو پہلے ہی تکلیف میں تھے اور علاج کے مراحل سے گزر رہے تھے، یہ جنگ کے نتیجے میں ہونے والے شدید انسانی بحران کو ظاہر کرتا ہے۔‘‘
امیر جماعت نے مزید کہا کہ ’’ یہ افسوسناک واقعہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تیزی سے بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران پیش آیا ہے، دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان جاری تنازعہ، جو ایک طویل اور حساس سرحد کے حامل ہیں، پورے خطے کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیل سکتا ہے۔ شہری ڈھانچے کی تباہی اور ہلاکتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اس بات کو واضح کرتی ہے کہ دونوں فریقین کی جانب سے تحمل کے مظاہرے اور کشیدگی کو کم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ “دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان جنگ کو ہر حال میں ٹالا جانا چاہیے اور کسی بھی صورت اسے بھڑکنے نہیں دینا چاہیے۔ خطے کا امن اور استحکام انتہائی اہم ہے، اور کشیدگی میں اضافہ پورے علاقے کے لیے سنگین نتائج لا سکتا ہے۔ مسائل اور اختلافات کو طاقت یا جنگ کے بجائے بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ ہم پاکستان اور افغانستان دونوں سے اپیل کرتے ہیں کہ انتہائی تحمل کا مظاہرہ کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو مزید بے گناہ جانوں کے ضیاع کا سبب بنیں۔”
انہوں نے کہا کہ ہم عالمی برادری سے اپیل کرتے ہیں کہ ” واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کو یقینی بنائیں۔ خطے میں کشیدگی کو کم کرنے اور امن بحال کرنے کے لیے نئی اور سنجیدہ سفارتی کوششوں کی فوری ضرورت ہے۔ پائیدار امن، جنگ اور تصادم سے نہیں ، انصاف، انسانی وقار کے احترام اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری سے ہی قائم ہو سکتا ہے، ۔‘‘

 

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

دلی این سی آر

نئی راہداری دسمبر تک ہو جائے گی مکمل،عوام کو ٹریفک سے ملے گی نجات :وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی :وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے دہلی میٹرو اور متعلقہ سڑک اور فلائی اوور پروجیکٹوں کا جائزہ لیتے ہوئے اعلان کیا کہ شہر کو دسمبر 2026 تک کئی بڑے تحائف ملے گا۔دہلی سکریٹریٹ میں منعقدہ میٹنگ میں دہلی میٹرو ریل کارپوریشن (DMRC) کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ پروجیکٹوں کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ پبلک ٹرانسپورٹ کا جدید اور مضبوط نظام حکومت کی ترجیح ہے جس سے ٹریفک کی بھیڑ اور آلودگی میں کمی آئے گی۔
عہدیداروں نے بتایا کہ دہلی میٹرو کا موجودہ نیٹ ورک 416 کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے، جس میں 303 اسٹیشن اور 12 لائنیں ہیں۔ مزید برآں، 104.45 کلومیٹر کا نیا نیٹ ورک اور 81 اسٹیشن زیر تعمیر ہیں۔ فیز IV کے تحت کام تیزی سے جاری ہے، جس میں جسمانی پیشرفت تقریباً 79.57 فیصد اور مالیاتی پیشرفت 80.60 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔وزیر اعلیٰ کے مطابق کرشنا پارک کی توسیع دیپالی چوک تک، مجلس پارک سے آر کے۔ آشرم اور تغلق آباد سے ایروسٹی جیسی بڑی راہداریوں کو دسمبر 2026 تک مکمل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ یہ پروجیکٹ دہلی کے بہت سے علاقوں کو بہتر رابطہ فراہم کریں گے اور سفر کے وقت میں نمایاں کمی کریں گے۔
بقیہ فیز IV کوریڈورز پر بھی کام شروع ہو چکا ہے لاجپت نگر سے ساکیت جی بلاک، اندرلوک سے اندرا پرستھا، اور رتلہ سے کنڈلی مارچ 2029 کی ٹارگٹ تکمیل کی تاریخ کے ساتھ۔ مزید برآں، نئے روٹس جیسے R.K. آشرم مارگ تا اندرا پرستھ اور ایروسٹی تا IGI ایرپورٹ ٹرمینل-1 مرحلہ V(A) کے تحت تیار کیا جا رہا ہے۔میٹرو کے ساتھ ساتھ کئی اہم فلائی اوور پراجیکٹس بھی زیر تکمیل ہیں۔ آزاد پور سے تریپولیا چوک تک ڈبل ڈیکر فلائی اوور (2.16 کلومیٹر) 73% مکمل ہو چکا ہے۔ جمنا وہار تا بھجن پورہ فلائی اوور 85 فیصد مکمل ہو چکا ہے۔ ایم بی روڈ پر ساکیت گیٹ سے سنگم وہار تک 6 لین فلائی اوور کی تعمیر جاری ہے۔
وزیرآباد سے ڈی این ڈی تک 19.2 کلومیٹر طویل ایلیویٹڈ روڈ کی تجویز پیش کی گئی ہے، مستقبل کے پیش نظر۔ طرابلس گیٹ سے برف خانہ تک ایک نیا فلائی اوور بھی تجویز کیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ میٹرو اور سڑک کے نیٹ ورک کی توسیع دہلی کی لائف لائن” کو مزید مضبوط کرے گی، سفر کو آسان بنائے گا، ٹریفک کی بھیڑ کو کم کرے گا، اور نمایاں طور پر آلودگی میں کمی آئے گی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام پراجیکٹس کو مقررہ مدت میں مکمل کیا جائے اور باقاعدگی سے مانیٹرنگ کی جائے۔

Continue Reading

دلی این سی آر

مودی حکومت عوامی غصے کو دبانے کیلئے سوشل میڈیا کوکررہی ہے کنٹرول :کجریوال

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی:عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے آئی ٹی قوانین میں ترمیم کر کے سوشل میڈیا پر سختی کرنے کی تیاری کر رہی مودی حکومت پر شدید حملہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کی مقبولیت تیزی سے کم ہو رہی ہے اور ملک کے لوگ سوشل میڈیا پر اپنی مایوسی اور غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔ اسی لیے حکومت اب عوام کے غصے کو دبانے کے لیے سوشل میڈیا کو ہی کنٹرول کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم مودی کو یہ سمجھنا ہوگا کہ عوام کے اندر بڑھتے ہوئے غصے کو اس طرح کے قوانین کے ذریعے دبایا نہیں جا سکتا۔
اروند کیجریوال نے ایکس (ٹوئٹر) پر کہا کہ وزیراعظم کی مقبولیت تیزی سے گر رہی ہے۔ ملک کو کئی چیلنجز درپیش ہیں، لیکن وزیراعظم ان کا مقابلہ کرنے میں ناکام ہیں۔ عوام کا غصہ ہر گلی اور ہر محلے میں سنائی دے رہا ہے، اور ملک کا نوجوان سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی مایوسی اور غصے کا اظہار کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسائل کا حل تلاش کرنے کے بجائے سوال اٹھانے والوں اور حکومت پر تنقید کرنے والوں کو گرفتار کیا جا رہا ہے۔ اب حکومت نے سوشل میڈیا کو ہی قابو میں کرنے کا منصوبہ بنا لیا ہے۔ مودی جی کو سمجھنا چاہیے کہ عوام کے اندر بڑھتے ہوئے غصے کے سیلاب کو اس طرح کے قوانین سے نہیں روکا جا سکتا۔
اروند کیجریوال نے گجرات کے وڈودرا سینٹرل بس اسٹیشن کے اوپری حصے کے گرنے کے واقعے پر بھی بی جے پی حکومت کو نشانہ بنایا ہے ۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ وڈودرا سینٹرل بس اسٹیشن کے اوپری حصے کا بھاری بھرکم ڈھانچہ ٹوٹ کر نیچے گر گیا، جس کے ملبے تلے دب کر ایک شخص کی موت ہو گئی۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت کے بنائے ہوئے نہ پل مضبوط ہیں، نہ سڑکیں، نہ ایئرپورٹ اور نہ ہی بس اسٹیشن۔

Continue Reading

دلی این سی آر

نوئیڈا میں یوپی روڈ ویز کے بس کےکرایہ میں ہوا اضافہ

Published

on

(پی این این)
نوئیڈا: اتر پردیش میں ٹول ٹیکس کی شرحوں میں اضافے کی وجہ سے نوئیڈا اور گریٹر نوئیڈا ڈپو سے چلنے والی روڈ ویز بسوں کے کرایوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔ کرایوں میں 1 روپے سے 6 روپے تک اضافہ کیا گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں، مسافروں کو اپنے سفر کے لئے زیادہ ادائیگی کرنا پڑے گینوئیڈا اور گریٹر نوئیڈا ڈپو میں 305 بسیں ہیں۔ تمام عام اور سی این جی سے چلنے والی بسیں ہیں۔ ڈپو سے کئی شہروں کو بسیں چلتی ہیں۔ تاہم، ڈپو سے لکھنؤ کے علاوہ کسی اور شہر کے لیے لمبی دوری کی بسیں نہیں ہیں۔
ڈپو سے موصولہ اطلاع کے مطابق 50 سے زائد بسوں کے کرایوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔ یہ بسیں ڈپو سے ایٹا، کاس گنج، بندایو، بریلی، کالا گڑھ وغیرہ شہروں کے لیے چلتی ہیں۔ اتر پردیش ٹرانسپورٹ کارپوریشن، گوتم بدھ نگر کے ریجنل منیجر منوج کمار نے بتایا کہ تمام روٹس پر کرایوں میں اضافہ نہیں کیا گیا ہے۔ صرف چند روٹس پر کرایوں میں اضافہ ہوا ہے۔ بسوں کے کرایوں میں اضافہ ٹول کی شرح میں اضافے کی وجہ سے ہوا ہے۔ یہ ایک مرکزی نظام ہے جو ٹول کی شرح بڑھنے پر خود بخود لاگو ہوتا ہے۔ اس لیے اس کا مسافروں پر کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا۔
نوئیڈا اور گریٹر نوئیڈا ڈپو سے کئی شہروں کے لیے بسیں چلتی ہیں۔ اس میں آگرہ، متھرا، بلند شہر، ایٹا، کاس گنج، بندایو، کالا گڑھ، ہریدوار، کوٹ دوار، دہرادون، لکھنؤ، میرٹھ، بریلی، سہارنپور اور دیگر شہروں کے لیے بسیں شامل ہیں۔ ڈپو کے پاس اپنی ایئر کنڈیشنڈ بسیں نہیں ہیں۔ دوسرے ڈپووں سے ایئر کنڈیشنڈ بسیں نوئیڈا ڈپو سے گزرتی ہیں۔ اس میں آگرہ، لکھنؤ، گورکھپور اور دیگر جیسے شہروں کے لیے ایئر کنڈیشنڈ بسیں شامل ہیں۔اس سے پہلے اپریل 2023 میں یوپی روڈ ویز کے بس کرایوں میں اضافہ کیا گیا تھا۔ یہ فیصلہ ٹول کی شرح میں اضافے کے بعد لیا گیا تھا۔
نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا (NHAI) نے ٹول کی شرحوں میں اضافہ کیا ہے۔ جس کے بعد بسوں کے کرایوں میں ایک روپیہ فی ٹول اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ایسے میں اگر کسی روٹ پر ٹول بوتھ ہے تو مسافر پر ایک روپیہ اضافی کرایہ ڈالا جاتا ہے۔ اگر کسی روٹ پر ٹول بوتھ نہیں ہے تو اس روٹ پر روڈ ویز کی بسوں کے کرایہ میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔ اس سے پہلے یوپی روڈ ویز نے فروری میں کرایوں میں اضافہ کیا تھا۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network