Connect with us

اتر پردیش

خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کی گئی رمضان المبارک کے دوسرے جمعہ کی نماز

Published

on

(پی این این)
دیوبند:ماہِ مبارک کے دوسرے جمعہ کو روزہ داروں نے دیوبند کی متعدد مساجد میں پہنچ کر نماز جمعہ ادا کی ۔مسجد رشید کے باہر نماز جمعہ کے بعد بھیم آرمی آزاد سماج پارٹی کارکنان نے نمازیوں پر پھول بر ساکرانکا استقبال کیا اور اتحاد کی مثال پیش کی۔ دارالعلوم دیوبند کی مسجد چھتہ میں نماز جمعہ کے بعد جمعیۃ علماء ہند کے قائد اور معروف عالم دین مولانا سید ارشد مدنی نے اپنے خطاب کے دوران اللہ کی رحمت و مغفرت پر روشنی ڈالی۔انہوں نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی امت دنیا میں آنے والی سب سے آخری امت ہے، لیکن قیامت کے دن یہ امت سب سے آگے ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بس ایک فکر کرنی ہے کہ ہمیں رزق حلال کی تلاش کرتے رہنا چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ جو ہم کماتے ہیں اور خرچ کرتے ہیں اس کا ہمیں جواب دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ قیامت کے دن جس کا نامہ اعمال داہنے ہاتھ میں ہوگا سمجھو وہ کامیاب ہے اور جس کا نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں ہوگا اس کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جمعہ کا دن خاص ہے اور اس میں مومن کو کوئی بھی لمحہ ضائع نہیں کرنا چاہئے ۔ اللہ کو یاد کرتے ہوئے اپنے دل میں آخرت کے خوف کو رکھنا چاہئے۔ انہوں نے دوسرے عشرہ کی فضیلت بیان کرتے ہوئے کہاکہ یقینا انسان بڑاگناہ گار ہے لیکن اللہ رحمت و مغفرت بہت بڑی ہے اسلئے ہمیںگناہوں سے اجتناب کرکے اللہ کی رحمت طلب کرنی چاہئے،اللہ تعالیٰ بہت بڑارحمت و مغفرت کرنے والا ہے۔مولانا مدنی نے کہاکہ رمضان کادوسراعشرہ مغفرت ہے اسلئے ہمیںاللہ کی عبادت و ریاضت کے ذریعہ اللہ کو راضی کرنا چاہئے اور اپنی مغفرت کرانی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک اورجمعہ دونوں بڑے قیمتی ہیں اسلئے اس پورے ماہ میں اور خاص طور پر جمعہ کے روز زیادہ سے زیادہ عبادت میں مشغول رہنا چاہئے۔
مولانا ارشد مدنی نے کثرت سے عبادت اور ذکر واذکار کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ انسانیت کے کام آنے والوں اور نیکی کے راستہ پر چلنے والوں کو ہی اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اجر عظیم سے نوازتے ہیں ۔دارالعلوم دیوبند کی مسجد رشید میں معروف عالم دین مولانا مفتی سید عفان منصورپوری نے نماز جمعہ ادا کرائی ،بعد ازیںمفتی عفان منصورپوری نے اپنے خطاب کے دوران کہاکہ یکھتے دیکھتے ماہ مبارک رمضان کا پہلا عشرہ رخصت ہورہاہے ۔ اس عشرے میں ہمیں اپنا جائزہ لینے کی ضرورت ہے ، ان دنوں میں اگر ہمارے اندر کوئی تبدیلی آئی ہے تو یہ عشرہ ہمارے لئے کامیابی کا ذریعہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان دنوںمیں بھی ہمارے اندر کوئی تبدیلی نہیں آئی تو آنے والے دنوں کو غنیمت جانتے ہوئے اپنی آخرت کی فکر کرنی ہوگی ۔ مفتی عفان منصورپوری نے کہا کہ رمضان کا قرآن کریم کے ساتھ مقدس رشتہ ہے ، ہمیں چاہئے کہ ہم اس میں زیادہ سے زیادہ قرآن کریم کی تلاوت کریں ۔ ایک دن میں کم از کم تین سپاروں کی تلاوت لازمی ہونی چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک میں ہمیں اس چیز پر بھی غور کرنا ہوگا کہ ہم گناہوں سے کتنی دور ہوئے ہیں۔
دارالعلوم وقف دیوبند کی اطیب المساجد میں پیش امام نے مرکزی جامع مسجد میں حافظ رافعہ نے دارالعلوم وقف کے قریب واقع سید کالونی کی مسجد صغیر مسجد میں دارالعلوم وقف کے استاذمفتی عارف قاسمی نے نماز دوگانہ ادا کرائی۔ اس کے علاوہ جامع مسجد پٹھانپورہ ،مسجد خانقاہ،مسجد عالی شان،مسجد کمال شاہ،قاضی مسجد اور قدیم مسجد سمیت سبھی مساجد میں نہایت عقیدت واحترام کے ساتھ نماز جمعہ ادا کی گئی اور ملک کی ترقی ،خوشحالی اور امن وسلامتی کی دعائیں کی گئیں۔وہیں دوسری جانب دیوبند کے قرب وجوار و دیہی علاقوں کی مساجد میں بھی نماز جمعہ اداکی گئی۔نماز کے بعد روزہ داروں اور عقیدت مندوں نے دیوبند کے بازاروں میں پہنچ کر جم کر خریداری کی ،جس سے بازاررونق رہے۔میونسپل بورڈ کی جانب سے مساجد کے آس پاس صفائی اور چونا چھڑکنے کا اہتمام کیا گیا۔

اتر پردیش

رام پور ضلع میں مردم شماری کے پہلے مرحلے کاکام مکمل

Published

on

صدام حسین فیضی
رام پور:ضلع میں مردم شماری 2027 کے پہلے مرحلے کے کامیاب نفاذ کے لیےوکاس بھون آڈیٹوریم میں ضلع سطح کے افسران اور ان کے ماتحتوں کے لیے ایک روزہ تربیت کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔اس موقع پر ضلع مجسٹریٹ چیف مردم شماری افسر اجے کمار دویدی نے مردم شماری کے کام کو منظم اور بروقت مکمل کرنے کے لیے اہم ہدایات فراہم کیں۔ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے بتایا کہ مردم شماری 2027 کے تحت ضلع میں تحصیل سطح پر 15 اپریل سے 5 مئی تک تربیتی پروگرام منعقد کیے جائیں گے جس کے بعد 7 مئی سے 21 مئی تک خود گنتی کی جائے گی جب کہ شمار کنندگان 20 جون سے 26 مئی تک ہاؤس لسٹ کریں گے۔انہوں نے ضلع کے مکینوں سے اپیل کی کہ وہ مردم شماری کے اہم قومی کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور سواگانوسانہ پورٹل کے ذریعے گھر بیٹھے اندراج کر کے تعاون کریں۔
ضلع مجسٹریٹ نے ہدایت دی کہ 10 اپریل تک ڈسٹرکٹ بیسک ایجوکیشن آفیسر اور بلاک ایجوکیشن آفیسرس تمام چارج افسران کو اساتذہ اور متعلقہ اہلکاروں کی فہرست فراہم کریں تاکہ وہ شمار کنندگان اور سپروائزر کے طور پر کام کریں۔اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے کہ فہرست میں شامل اہلکار 31 مارچ 2027 سے پہلے ریٹائر نہ ہوں اور خواتین اہلکار زچگی یا بچوں کی دیکھ بھال کی چھٹی پر نہ ہوں۔ہاؤس لسٹنگ بلاکس کی نقشہ سازی اور تشکیل کے سلسلے میں ہدایات دیتے ہوئے ضلع مجسٹریٹ نے کہا کہ حکومتی ہدایات کے مطابق اس کام کو تیزی سے مکمل کیا جائے۔انہوں نے یہ بھی ہدایت کی کہ تحصیل کی سطح پر ٹریننگ 15 اپریل سے شروع ہو کر 30 اپریل تک مکمل کی جائے تاکہ تمام اہلکاروں کو آئندہ کاموں کے لیے اچھی طرح سے تربیت دی جا سکے۔
تربیتی مقامات کے بارے میں انہوں نے ہدایت کی کہ ایل ای ڈی پروجیکٹر، انٹرنیٹ، پاور بیک اپ، پینے کے پانی اور اسنیکس کے مناسب انتظامات کو یقینی بنایا جائے۔ متعلقہ سب ڈویژنل مجسٹریٹ سب ڈسٹرکٹ مردم شماری افسر کو ضروری انتظامات اور ٹینڈر کا عمل وقت پر مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی۔ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے بتایا کہ ٹریننگ کے دوران ڈسٹرکٹ بیسک ایجوکیشن آفیسر باقاعدگی سے مقامات کا معائنہ کریں گے اور بلاک ایجوکیشن آفیسرز اپنے اپنے علاقوں میں تربیتی مراکز میں موجود رہیں گے تاکہ ماتحت عملے کی حاضری کو یقینی بنایا جا سکے۔ سب ڈویژنل مجسٹریٹ سب ڈسٹرکٹ مردم شماری افسر ذاتی طور پر تربیتی مراکز کا معائنہ بھی کریں گے اور روزانہ کی بنیاد پر افسران کی حاضری کا تعین کریں گے۔
میٹنگ میں چیف ڈیولپمنٹ آفیسر گلاب چندرا، ضلع مردم شماری آفیسرایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سندیپ کمار ورما، تمام سب ڈویژنل مجسٹریٹس، تحصیلدار، ایگزیکٹیو آفیسرز اور دیگر متعلقہ افسران موجود تھے۔

Continue Reading

اتر پردیش

اے ایم یو میں سر سید اور علی گڑھ تحریک کی عصری اہمیت پر لیکچر کاانعقاد

Published

on

(پی این این)
علی گڑھ:علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے انڈرگریجویٹ ہسٹری کلب نے بانیئ درسگاہ سر سید احمد خاں کے یوم وفات کے موقع پر ’سر سید احمد خان اور علی گڑھ تحریک کی عصری اہمیت‘ موضوع پر شعبہ سیاسیات کے پروفیسر محمد محب الحق کے ایک لیکچر کا اہتمام کیا۔پروفیسر محب الحق نے اپنے خطاب میں نوآبادیاتی دور میں ہندوستانی معاشرے، خصوصاً مسلمانوں کو درپیش سماجی، سیاسی اور تعلیمی چیلنجوں سے نمٹنے میں سر سید کے انقلابی کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے جدید تعلیم و سائنسی فکر کے فروغ اور ادارہ جاتی ترقی کے سلسلہ میں سر سید کی کوششوں پر روشنی ڈالتے ہوئے موجودہ دور میں ان کے افکار کی اہمیت کو بھی واضح کیا۔
اس سے قبل ڈاکٹر انیسہ اقبال صابر نے استقبالیہ کلمات میں علم کی طاقت پر سر سید کے یقین کا ذکر کرتے ہوئے طلبہ کو ان کے ورثے کا تنقیدی جائزہ لینے کی ترغیب دی۔ شعبہ کے چیئرمین پروفیسر حسن امام نے مہمان مقرر کا مقرر کیااور اپنے اختتامی کلمات میں تعلیم، تنقیدی فکر اور سماجی اصلاح کے فروغ میں سر سید کے وژن کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ پروگرام میں فیکلٹی اراکین بشمول ڈاکٹر فضیلہ شہنواز اور ڈاکٹر محمد نفیس موجود تھے۔ نظامت کے فرائض محمد سمیر نے انجام دیے، جبکہ اظہارِ تشکر دانش اسلم نے کیا۔تقریب میں شعبہ کے انڈرگریجویٹ طلبہ کی جانب سے تیار کردہ سر سید احمد خاں کی زندگی اور خدمات پر مبنی ایک دستاویزی فلم بھی پیش کی گئی۔

Continue Reading

اتر پردیش

اسمارٹ میٹر صارفین کیلئے بن گئے درد سر ،عوام کاایس ڈی او آفس میں ہنگامہ

Published

on

(پی این این)
دیوبند:محکمہ بجلی لوگوں کے گھروں میں اسمارٹ میٹر لگانے کی مہم شروع کر رہا ہے۔ تاہم ا سمارٹ میٹرز کی تنصیب کے بعد صارفین کو صرف مشکلات کا سامنا ہے۔ جیسے ہی بیلنس نیگیٹیو ہوتاہے،ا سمارٹ میٹر ان کے گھروں میںا ندھیرا کر دیتے ہیں، جس سے بہت زیادہ تکلیف ہوتی ہے۔ اس مسئلے سے دوچار درجنوں مرد و خواتین ایس ڈی او آفس پہنچ گئے اور ہنگامہ کیا۔
دیوبند میں جن صارفین نے اسمارٹ میٹر لگائے ہیں ان کا کہنا ہے کہ یہ اسمارٹ میٹر ان کے لیے درد سر بن گئے ہیں۔ ان کے مسائل حل کرنا بھول جائیں، ان کی بات سننے والا بھی کوئی نہیں۔ جیسے ہی بل منفی نشان پر پہنچتا ہے، بجلی خود بجو کٹ ہوجاتی ہے، انہیں لکھنؤ فون کرنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔ بل ادا کرنے کے بعد بھی دو دن تک ان کے گھروں میں اندھیرا رہتا ہے۔ ان خدشات کو اجاگر کرنے کے لیے مرد و خواتین کی بڑی تعداد ریلوے روڈ پر واقع ایس ڈی او آفس پہنچ گئی اور زبردست ہنگامہ کیا۔
احتجاج کرنے والی کئی خواتین نے الزام لگایا کہ انہیں بل ادا کیے آٹھ دن بھی نہیں ہوئے تھے کہ بجلی کی سپلائی دوبارہ منقطع کر دی گئی۔ کچھ خواتین نے بتایا کہ ان کے گھر کی بجلی ان کے موبائل فون سے منسلک ہو گئی ہے۔ ان کے پاس اسمارٹ فون بھی نہیں تھے تو ان کا مسئلہ کیسے حل ہوتا؟ ایس ڈی او سنتوش کمار نے ناراض صارفین کو پرسکون کیا اور انہیں یقین دلایا کہ ان کے مسائل کو جلد حل کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ اسمارٹ میٹرز کی تنصیب کے بعد کم پڑھے لکھے اور معاشی طور پر کمزور صارفین کو زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ واضح رہے کہ اگر وہ اسمارٹ میٹرز کی تنصیب کے بعد بلاتعطل بجلی کی فراہمی چاہتے ہیں تو انہیں یو پی سی ایل اسمارٹ میٹر ایپ پر بیلنس ان پلس رکھنا ہوگا۔ جیسے ہی بیلنس منفی میں جاتا ہے، بجلی کی سپلائی خود بخود بند ہو جاتی ہے جس سے صارفین کے گھر اندھیرے میں ڈوب جاتے ہیں۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network