Connect with us

اتر پردیش

اسمارٹ میٹر صارفین کیلئے بن گئے درد سر ،عوام کاایس ڈی او آفس میں ہنگامہ

Published

on

(پی این این)
دیوبند:محکمہ بجلی لوگوں کے گھروں میں اسمارٹ میٹر لگانے کی مہم شروع کر رہا ہے۔ تاہم ا سمارٹ میٹرز کی تنصیب کے بعد صارفین کو صرف مشکلات کا سامنا ہے۔ جیسے ہی بیلنس نیگیٹیو ہوتاہے،ا سمارٹ میٹر ان کے گھروں میںا ندھیرا کر دیتے ہیں، جس سے بہت زیادہ تکلیف ہوتی ہے۔ اس مسئلے سے دوچار درجنوں مرد و خواتین ایس ڈی او آفس پہنچ گئے اور ہنگامہ کیا۔
دیوبند میں جن صارفین نے اسمارٹ میٹر لگائے ہیں ان کا کہنا ہے کہ یہ اسمارٹ میٹر ان کے لیے درد سر بن گئے ہیں۔ ان کے مسائل حل کرنا بھول جائیں، ان کی بات سننے والا بھی کوئی نہیں۔ جیسے ہی بل منفی نشان پر پہنچتا ہے، بجلی خود بجو کٹ ہوجاتی ہے، انہیں لکھنؤ فون کرنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔ بل ادا کرنے کے بعد بھی دو دن تک ان کے گھروں میں اندھیرا رہتا ہے۔ ان خدشات کو اجاگر کرنے کے لیے مرد و خواتین کی بڑی تعداد ریلوے روڈ پر واقع ایس ڈی او آفس پہنچ گئی اور زبردست ہنگامہ کیا۔
احتجاج کرنے والی کئی خواتین نے الزام لگایا کہ انہیں بل ادا کیے آٹھ دن بھی نہیں ہوئے تھے کہ بجلی کی سپلائی دوبارہ منقطع کر دی گئی۔ کچھ خواتین نے بتایا کہ ان کے گھر کی بجلی ان کے موبائل فون سے منسلک ہو گئی ہے۔ ان کے پاس اسمارٹ فون بھی نہیں تھے تو ان کا مسئلہ کیسے حل ہوتا؟ ایس ڈی او سنتوش کمار نے ناراض صارفین کو پرسکون کیا اور انہیں یقین دلایا کہ ان کے مسائل کو جلد حل کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ اسمارٹ میٹرز کی تنصیب کے بعد کم پڑھے لکھے اور معاشی طور پر کمزور صارفین کو زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ واضح رہے کہ اگر وہ اسمارٹ میٹرز کی تنصیب کے بعد بلاتعطل بجلی کی فراہمی چاہتے ہیں تو انہیں یو پی سی ایل اسمارٹ میٹر ایپ پر بیلنس ان پلس رکھنا ہوگا۔ جیسے ہی بیلنس منفی میں جاتا ہے، بجلی کی سپلائی خود بخود بند ہو جاتی ہے جس سے صارفین کے گھر اندھیرے میں ڈوب جاتے ہیں۔

uttar pradesh

رامپور:عید الاضحٰی کو لےکر تھانہ ٹانڈہ میں میٹنگ

Published

on

(پی این این)
رام پور: تھانہ ٹانڈہ میں میٹنگ کا انعقاد عمل میں آیا۔میٹنگ کا مقصد بیان کرتے ہوئے انسپکٹر کوتوالی سندیب مشرا نے کہا کہ سالہائے گذشتہ کی طرح اس سال بھی آپ لوگوں کو بتلاناہے کہ عید کو بھائ چارگی کے ساتھ مناناہے اور کوئ انہونی گھٹنا نہ پیش آنے پائے۔جن جانوروں کی قربانی پر حکومت کی جانب سے پابندی عائدہے ان کے قریب نہ جائیں۔ صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھیں اور کسی قسم کی پریشانی آے تو مجھ سے زبانی یا تحریری طور پر رابطہ کریں ہر ممکن اس کی مدد کی جائے گی۔
اس کے بعد امام جامع مسجد ٹانڈہ مولانا جلیس احمد نے اپنی مختصر تقریر میں عیدالاضحیٰ کے تعلق سے کہا کہ ایسا کوئی کام ہماری جانب سے نہ ہونے پائے کہ جس سےانتظامیہ کو شکایت کا موقع ملے مذہب اسلام نے ہرایک چیز کے اصول بیان کئے ہیں۔ ہمیں ان ہی اصولوں کو اپناتے ہوئے آنے والے دنوں میں قربانی کے اس عمل کو کرنا ہے۔ قربانی کے بعد اس کے باقیات کو کسی محفوظ مقام پر کہ جس کا انتظام نگر پالیکا پریشد ٹانڈہ کی جانب سے کیا جاتا ہے اس وہاں دفن کرائیں ادھر ادھر جانوروں کے باقیات اور گوشت کو نہ ڈالیں برادران وطن کا ہر حال میں خیال رکھیں ہمارے اس عمل سے کسی کو کوئ تکلیف نہ پہنچے یہی اسلام تعلیم ہے۔
میٹنگ کو سابق چیئرمین مقصود احمد لالہ،حاجی شکیل احمد،حاجی عبد الصمد،حاجی عبد الرشید حافظ محمد عمر،مولانا محمد اسلام،عقیل احمد نیتا،شریف جمیل،حاجی مشرف علی،بھورا ممبر،امتیاز پہلوان،احمد نبی سیفی،سلم کاسگر،افسر نیتا،حاجی رئیس احمدنے خطاب کر امن اور بھائی چارہ کی اپیل کی۔

Continue Reading

uttar pradesh

خواتین کی فلاح و بہبود گی کے لیے بہتر اور سنجیدگی سے انجام دیں خدمات:پروفیسر اسلم جمشید پوری

Published

on

(پی این این)
میرٹھ:بلا شبہ کسی بھی ادارے کا قیام کوئی معمولی عمل نہیں بلکہ یہ ایک بہت بڑا کام ہوتاہے اور اس سے بھی بڑا کام ہوتا ہے کسی بھی ادارے یا تنظیم کو کا میابی کے ساتھ چلا نے کا۔یہ الفاظ تھے معروف ادیب و ناقد اور صدر شعبہئ اردو پروفیسر اسلم جمشید پوری کے جو آج یہاں شعبہئ اردو میں مجلس النساء کے پہلے سر وے ٹیم کوروانہ کرتے وقت ادا کر رہے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں آپ کو مبار باد دیتا ہوں اور آپ کی کامیابی کے لیے دعا گو ہوں مجھے امید ہے کہ آپ خوا تین کی فلاح و بہبود گی کے لیے بہترین کام انجام دیں گی اور سنجیدگی کے ساتھ اس تنظیم کی ممبر شپ کو وسعت دیں گی۔
واضح ہو کہ شعبہئ اردو، چودھری چرن سنگھ یو نیورسٹی میں پچھلے دنوں ”مجلس النساء“ کا قیام عمل میں آ یا تھا۔جس کا مقصد خواتین میں تعلیمی بیداری، فلاحی کاموں میں حصہ داری،نئی نسل میں اچھے اخلاق، صبر و تحمل،غریبوں کی کفالت،نیز بچیوں میں تعلیم و ہنر مندی کا ذوق و شوق پیدا کرنا، خواتین کے درمیان محبت، یکجہتی اور تعاون کے جذبہ کو فروغ دینا نیز انہیں سلائی، کڑھائی،بنائی یادیگر فنون سکھا کر خود کفیل بناناہے۔
مجلس النساء کی ٹیم نے آج میرٹھ کے شیام نگر اور ا س کے آس پاس کے علاقوں کا دورہ کیا اور گھر گھر جاکر خواتین کے مسائل سنے جس سے ان کی تعلیمی حالات، مالی مشکلات،خود کفالت کے لیے مدد کی درخواست اور بہت سے مسائل سر وے ٹیم کے سامنے آئے۔سروے ٹیم میں صدر ڈاکٹر شاداب علیم، نائب صدر عفت ذکیہ، جنرل سیکریٹری سیدہ مریم الٰہی، سیکریٹری فرحت اختر اور پریس سیکریٹری طاہرہ پروین نے شر کت کی اور کم از کم بیس گھروں میں جا کر وہاں کے تعلیمی مسائل، مالی مشکلات اور گھریلوں مسائل کے حالات سنیں۔ حالات سننے کے بعد سر وے ٹیم نے ان کے مسائل کا حل اور ہر طرح سے ان کی مدد کا وعدہ کیا۔اس مو قع پر رضوان احمد، شبنم، کوثر، شاہانہ، معراج بانو،ثمینہ، اسما، غزالہ، عائشہ، پروین، شاہینہ وغیرہ سمیت دیگر خواتین موجود رہیں۔

Continue Reading

uttar pradesh

سہارنپور میں جلد دوڑیں گی الیکٹرک بسیں

Published

on

(پی این این)
دیوبند: شہر اور دیہی علاقوں کو جدید، آرام دہ اور آلودگی سے پاک عوامی ٹرانسپورٹ سہولت فراہم کرنے کی سمت میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ طویل انتظار کے بعد لکھنؤ سے سہارنپور کے لیے25 الیکٹرک بسوں کی منظوری مل گئی ہے، جس کے بعد جلد ہی ضلع میں الیکٹرک بس سروس شروع ہونے کی امید بڑھ گئی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ نے ان بسوں کے لیے مختلف روٹس بھی مقرر کر دیے ہیں، جبکہ اسمارٹ سٹی منصوبہ کے تحت مانکمؤ میں الیکٹرک چارجنگ اسٹیشن بھی تیار کر لیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق شہر میں الیکٹرک بس سروس شروع کرنے کی تجویز گزشتہ دو برسوں سے زیر التوا تھی، تاہم سرکاری منظوری اور دیگر تکنیکی کارروائیوں کے مکمل ہونے کے بعد اب اس منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے کی تیاری تیز کر دی گئی ہے۔ ابتدائی مرحلہ میں ۵۲ الیکٹرک بسوں کو شروع کیا جائے گا، جس سے روزانہ سفر کرنے والے ہزاروں مسافروں کو سہولت حاصل ہوگی۔
میونسپل کمشنر شپو گیری نے بتایا کہ ضلع میں الیکٹرک بسوں کے آپریشن کے لیے حکومت سے منظوری موصول ہو چکی ہے اور تمام روٹس بھی حتمی شکل دے دیے گئے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جلد ہی عوام کو اس جدید سفری سہولت کا فائدہ ملنا شروع ہو جائے گا۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کے مطابق یہ الیکٹرک بسیں ان راستوں پر چلائی جائیں گی جہاں مسافروں کی تعداد زیادہ رہتی ہے، تاکہ شہر اور دیہی علاقوں کے درمیان رابطہ مزید مضبوط ہو سکے۔ طے شدہ روٹس کے مطابق بسیں گھنٹہ گھر سے کورٹ روڈ، حسن پور چنگی اور کانشی رام کالونی کے راستہ رامپور منیہاران تک چلیں گی۔ اس کے علاوہ گھنٹہ گھر سے گاگلہیڑی ہوتے ہوئے چھٹمل پور تک، گھنٹہ گھر سے سرکاری میڈیکل کالج اور سرساوہ کے راستہ یمنا برج ہریانہ-یوپی بارڈر تک بھی الیکٹرک بس سروس فراہم کی جائے گی۔
اسی طرح گھنٹہ گھر سے مانکمؤ کے راستہ نکوڑ، گھنٹہ گھر سے کلسیہ ہوتے ہوئے بہٹ اور گھنٹہ گھر سے ماں شاکمبھری یونیورسٹی پنوارکا تک بھی الیکٹرک بسیں چلائی جائیں گی۔ واضح رہے کہ الیکٹرک بسوں کے آغاز سے نہ صرف عوام کو آرام دہ اور کم خرچ سفری سہولت میسر آئے گی بلکہ فضائی آلودگی میں بھی کمی آئے گی۔ شہریوں کا ماننا ہے کہ اس منصوبہ سے دیہی علاقوں کے لوگوں کو شہر سے جوڑنے میں بڑی مدد ملے گی اور روزمرہ سفر پہلے کے مقابلہ زیادہ آسان ہو جائے گا۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network