Connect with us

دیش

پی ایم مودی نہیں جائیں گےبنگلہ دیش، طارق رحمان کی حلف برداری تقریب میں لوک سبھا اسپیکرکریں گے شرکت

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی :وزیر اعظم نریندر مودی بنگلہ دیش کے نو منتخب وزیر اعظم طارق رحمان کی تقریب حلف برداری میں شرکت نہیں کریں گے۔ ہندوستان کی جانب سے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا بنگلہ دیش جائیں گے۔ ان کے ساتھ سیکریٹری خارجہ وکرم مصری بھی ہوں گے۔ تقریب 17 فروری کو ڈھاکہ میں نیشنل پارلیمنٹ ہاؤس کے ساؤتھ پلازہ میں منعقد ہوگی۔واضح ہوکہ حلف برداری تقریب میں وزیر اعظم نریندر مودی کو مدعو کیا گیا تھا، لیکن وہ ممبئی میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے ساتھ دو طرفہ بات چیت اور دہلی میں مصنوعی ذہانت کے سربراہی اجلاس کی وجہ سے شرکت کرنے سےنہیں جاسکے۔
غورطلب ہے کہ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے حال ہی میں بنگلہ دیش کے 13ویں پارلیمانی انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی ہے۔ طارق رحمان 17 سال کی جلاوطنی کے بعد دسمبر 2025 میں لندن سے واپس آئے اور اب وزیراعظم کا عہدہ سنبھالنے کے لیے تیار ہیں۔ ان کے والد ضیاء الرحمن بی این پی کے بانی تھے اور ان کی والدہ خالدہ ضیاء سابق وزیر اعظم تھیں۔ 2008 میں بدعنوانی کے الزام میں ملک چھوڑنے والے رحمان نے انتخابات میں دو تہائی اکثریت حاصل کرکے تاریخ رقم کی۔ 2024 کی طلبہ تحریک کے بعد شیخ حسینہ کو اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد یہ پہلا الیکشن تھا۔ اپنی جیت کے بعد رحمان نے قومی اتحاد پر زور دیا اور کہا کہ وہ جمہوریت، امن و امان اور معاشی استحکام کو مضبوط کریں گے۔
واضح ہوکہ وزیر اعظم مودی نے 13 فروری کو فون پر طارق رحمان کو مبارکباد دی اور جمہوریت کے تحفظ کے لیے دی گئی تمام قربانیوں کو یاد کیا۔ عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس نے چین، پاکستان، سعودی عرب اور ملائیشیا سمیت 13 ممالک کے رہنماؤں کو مدعو کیا۔ ہندوستان کا ایک اعلیٰ سطحی وفد بھیجنے کا فیصلہ دونوں ملکوں کے درمیان ایک نئی شروعات کی علامت ہے۔ بی این پی نے ہمیشہ ہندوستان کے ساتھ متوازن تعلقات پر زور دیا ہے، اور رحمان نے کہا ہے کہ وہ کسی ایک ملک پر ضرورت سے زیادہ انحصار نہیں کریں گے، بلکہ ایک وسیع بین الاقوامی شراکت داری قائم کریں گے۔

دیش

ہرمز سےبحری جہازوں کے محفوظ گزرنے کیلئے ایران کے ساتھ رابطے میں ہےہندوستان: وزارت خارجہ

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی:وزارت خارجہ نے کہا کہ ہندوستان آبنائے ہرمز کے ذریعے اپنے جہازوں کے محفوظ گزرنے کو یقینی بنانے کے لیے ایران اور دیگر متعلقہ ممالک کے ساتھ رابطے میں ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ ہندوستان نےعلاقے میں سمندری سرگرمیوں سے متعلق مبینہ فائرنگ کے واقعہ کے بعد سختی سے تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی سفیر کو طلب کیا گیا اور سیکرٹری خارجہ کی سطح پر ہندوستان کے تحفظات سے آگاہ کیا گیا۔ وزارت خارجہ امور کے مطابق، ہندوستان نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اس کے بحری جہازوں کی حفاظت اور حفاظت اولین ترجیح ہے اور اس نے اسٹریٹجک لحاظ سے اہم آبی گزرگاہ کے ذریعے بلاتعطل آمدورفت پر زور دیا ہے۔
وزارت نے مزید کہا کہ ایران نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ہندوستان کے خدشات کو تہران میں حکام تک پہنچایا جائے گا، سفارتی مصروفیات جاری رہیں گی۔یہ حالیہ واقعات آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں رونما ہو رہے ہیں۔ خطے میں سیکیورٹی سے متعلق کچھ واقعات کے ظہور اور مغربی ایشیا میں بڑھتے ہوئے جغرافیائی سیاسی تناؤ نے میری ٹائم نیویگیشن کی حفاظت پر تشویش پیدا کردی ہے۔18 اپریل کو، بھارت سے منسلک دو جہاز سمنار ہیراڈ اور جگ ارناو کو مبینہ طور پر نشانہ بنایا گیا اور انہیں خلیج فارس کی طرف واپس جانے پر مجبور کیا گیا۔ہندوستان نے اسی دن ایرانی سفیر محمد فتحلی کو بھی طلب کر کے اپنے تحفظات سے باضابطہ طور پر آگاہ کیا تھا۔
خارجہ سکریٹری وکرم مصری کے ساتھ بات چیت کے دوران، ہندوستان نے صورت حال کی سنگینی کو اجاگر کیا اور تجارتی جہاز رانی کے لیے محفوظ راستے کی یقین دہانی پر زور دیا۔اس دن کے بعد، ایک ہندوستانی جھنڈے والے خام تیل کے ٹینکر، دیش گریما نے سخت حفاظتی ماحول کے باوجود آبنائے کو کامیابی سے منتقل کیا۔ان پیش رفتوں کے باوجود، سرکاری حکام نے اطلاع دی کہ ہندوستان میں بندرگاہ کی سرگرمیاں بغیر کسی رکاوٹ کے جاری ہیں۔ آبنائے ہرمز بین الاقوامی تیل اور گیس کی نقل و حمل کا تقریباً پانچواں حصہ بناتا ہے، جاری علاقائی کشیدگی کے درمیان اس کی کڑی نگرانی کی جاتی ہے۔

Continue Reading

دیش

وکیل تبسم ظفر بنیں گی جموں وکشمیر کی پہلی خاتون جج، کولیجیئم نے کی سفارش

Published

on

(پی این این )
سری نگر:جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے کولیجیئم نے عدالتِ عالیہ میں ججوں کی تقرری کے لیے 11 ناموں کی سفارش کی ہے، جن میں پہلی بار ایک کشمیری خاتون وکیل کا نام بھی شامل ہے۔ رپورٹ کے مطابق تجویز کردہ افراد میں 10 وکلاء اور ایک عدالتی افسر شامل ہیں۔ ان ناموں میں اسسٹنٹ سالیسٹر جنرل، ڈپٹی سالیسٹر جنرل اور سابق ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل جیسے سینئر قانونی ماہرین بھی شامل ہیں۔
اہم بات یہ ہے کہ فہرست میں شامل خاتون وکیل تبسم ظفر ہیں، جن کی تقرری کی منظوری کی صورت میں وہ جموں و کشمیر ہائی کورٹ کی پہلی کشمیری خاتون جج بن جائیں گی۔ دیگر سفارش کردہ وکلاء میں وشال شرما، نامگیال وانگچک، جہانگیر اقبال گنائی، پون کمار کنڈل، طاہر مجید شمسی، انوپم رائنا، وکرم کمار شرما، امیت گپتا اور پرونَو کوہلی شامل ہیں، جبکہ یش پال بورنی واحد عدالتی افسر ہیں جنہیں اس فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اس انتخابی عمل میں میرٹ، دیانتداری، پیشہ ورانہ صلاحیت اور بار میں مقام کو بنیادی معیار بنایا گیا، جبکہ علاقائی اور سماجی نمائندگی کو بھی مدنظر رکھا گیا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ہائی کورٹ اپنی منظور شدہ تعداد کے مقابلے میں ججوں کی کمی کا سامنا کر رہا ہے، اور ان تقرریوں سے خالی آسامیوں کو پُر کرنے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔

Continue Reading

دیش

ممبئی سے حج 2026 کا باضابطہ آغاز، عازمینِ کرام کی روانگی 18 اپریل سے

Published

on

(پی این این)
ممبئی:فریضۂ حج کی ادائیگی کے لیے ہندوستانی عازمینِ کرام کے روح پرور سفر کا باضابطہ آغاز 18 اپریل 2026 بروز ہفتہ سے ہو رہا ہے۔ ممبئی سمیت ملک کے دیگر اہم امبارکیشن پوائنٹس سے پہلی حج پروازیں اڑان بھریں گی، جس کے ساتھ ہی حج سیزن 2026 کا باقاعدہ آغاز ہو جائے گا۔ یہ مقدس سفر ہر سال کی طرح اس بار بھی لاکھوں مسلمانوں کے لیے عقیدت، محبت اور روحانی وابستگی کا مظہر بن کر سامنے آ رہا ہے۔
ممبئی کو تاریخی طور پر ہندوستان میں حج کا مرکزی درجہ حاصل رہا ہے۔ ایک دور تھا جب یہاں سے عازمینِ حج بحری جہازوں کے ذریعے ہفتوں پر محیط سفر کرتے ہوئے حجاز مقدس پہنچتے تھے۔ یہ سفر نہ صرف طویل بلکہ صبر آزما بھی ہوتا تھا، مگر اس میں روحانیت، اجتماعی عبادت اور اخوت کا ایک منفرد رنگ پایا جاتا تھا۔ 1996 میں حکومت ہند نے باضابطہ طور پر بحری جہازوں کے ذریعے حج سفر کو بند کر دیا، جس کے بعد سے مکمل طور پر فضائی سفر ہی کو اختیار کیا گیا۔ اس تبدیلی سے اگرچہ وقت کی بچت اور سہولت میں اضافہ ہوا، لیکن پرانے عازمین آج بھی بحری سفر کی یادوں کو ایک خاص جذباتی وابستگی کے ساتھ یاد کرتے ہیں۔
حج 2026 کے لیے ممبئی امبارکیشن پوائنٹ سے تقریباً 90 پروازوں کا شیڈول تیار کیا گیا ہے، جن کے ذریعے ہزاروں عازمین کو مرحلہ وار سعودی عرب روانہ کیا جائے گا۔ حج کمیٹی آف انڈیا کے مطابق اس سال بھارت کا مجموعی حج کوٹہ تقریباً ایک لاکھ 22 ہزار 500 مقرر کیا گیا ہے، جبکہ درخواستوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ رہی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ فریضۂ حج کے لیے عوام میں کس قدر جوش و خروش پایا جاتا ہے۔ اس بڑے آپریشن کے لیے سعودی ایئر لائن، فلائی ڈیل اور اکاسا ایئر سمیت مختلف فضائی کمپنیوں کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔
18 اپریل کو ممبئی سے دو خصوصی پروازیں روانہ ہوں گی، جن میں سینکڑوں عازمین سوار ہوں گے۔ اسی روز دہلی، سری نگر، گوہاٹی، کولکاتا اور وجے واڑہ سے بھی حج پروازوں کا آغاز ہوگا۔ اطلاعات کے مطابق دہلی سے دو، سری نگر سے تین جبکہ دیگر مراکز سے ایک ایک پرواز روانہ کی جائے گی۔ اس طرح پہلے ہی دن ملک بھر سے بڑی تعداد میں عازمین حرمین شریفین کے مقدس سفر پر روانہ ہوں گے۔
حج آپریشن کو دو مرحلوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلے مرحلے کے تحت 18 اپریل سے 3 مئی تک عازمین کو مدینہ منورہ پہنچایا جائے گا، جہاں وہ روضۂ رسول ﷺ پر حاضری اور مسجد نبویؐ میں عبادت کی سعادت حاصل کریں گے۔ دوسرے مرحلے کا آغاز 5 مئی سے ہوگا، جس میں عازمین کی پروازیں جدہ کے لیے روانہ ہوں گی، جہاں سے وہ مکہ مکرمہ جا کر مناسکِ حج ادا کریں گے اور بعد ازاں مدینہ منورہ کی زیارت کریں گے۔ ممبئی سے آخری حج پرواز 20 مئی 2026 کو روانہ ہوگی، جو ملک بھر سے روانہ ہونے والی آخری پرواز بھی ہوگی۔
حج حکام کے مطابق اس سال انتظامات کو مزید بہتر اور منظم بنایا گیا ہے۔ عازمین کو پیشگی اطلاع فراہم کر دی گئی ہے اور امیگریشن، سیکیورٹی، طبی سہولیات اور رہائش کے مکمل انتظامات کیے گئے ہیں۔ حج کمیٹی آف انڈیا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر شاہنواز سی نے کہا ہے کہ انتظامیہ کی اولین ترجیح عازمین کو سہل اور محفوظ سفر فراہم کرنا ہے۔
عازمین کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنی پرواز کی تصدیق “حج سہولت” ایپ یا سرکاری پورٹل پر کریں اور دستخط شدہ رسید ساتھ رکھیں۔ امبارکیشن پوائنٹ پر کم از کم 24 گھنٹے قبل رپورٹ کرنا لازمی ہوگا، جبکہ براہِ راست ایئرپورٹ جانے والوں کو 6 گھنٹے پہلے پہنچنا ہوگا۔ پاسپورٹ، ہیلتھ سرٹیفکیٹ، ادائیگی کی رسید اور دیگر ضروری دستاویزات ساتھ رکھنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
مرد و خواتین کے قیام میں اہم تبدیلی حج 2026 میں ایک نمایاں تبدیلی مرد و خواتین عازمین کے قیام کے حوالے سے کی گئی ہے۔ اس سال مردوں اور خواتین کے کمروں کو مکمل طور پر الگ رکھا جائے گا، حتیٰ کہ میاں بیوی یا محرم کے ساتھ سفر کرنے والوں کے لیے بھی علیحدہ کمروں کا انتظام ہوگا۔ انتظامیہ کے مطابق یہ قدم نظم و ضبط اور سہولت کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے، تاہم بعض حلقوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس سے خصوصاً معمر عازمین کو دشواری ہو سکتی ہے۔
اسمارٹ واچ اور جدید سہولیات اس سال عازمین کو اسمارٹ واچ بھی فراہم کی جا رہی ہے تاکہ ہجوم میں ان کی نگرانی کی جا سکے اور گمشدگی کے مسائل پر قابو پایا جا سکے۔ تاہم اس سہولت کے استعمال کے لیے مناسب تربیت نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں، کیونکہ دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے کئی عازمین جدید ٹیکنالوجی سے پوری طرح واقف نہیں ہوتے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network