Connect with us

دلی این سی آر

پریم چنداور کبیرکاادبی سرمایہ ہندوستانی تہذیب کابیش قیمت ورثہ: پروفیسر مظہر آصف

Published

on

جامعہ پریم چند آرکائیوزاینڈلٹریری سنٹر،جامعہ ملیہ اسلامیہ میں پروفیسر صغیر افراہیم کاپریم چندیادگاری خطبہ
(پی این این)
نئی دہلی :پریم چند اور کبیرکاادبی سرمایہ ہندوستانی ادب کابیش قیمت ورثہ ہے۔یہ دونوں مایہ نازادیب ہندوستان کی مشترکہ تہذیب کے علمبردار ہیں۔ان کے ادب سے میری گہری دلچسپی اور خاص شغف ہے۔ان خیالات کااظہارجامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر پروفیسر مظہر آصف نے جامعہ پریم چند آرکائیوزاینڈ لٹریری سنٹر کے زیراہتمام منعقدہ نویں پریم چند یادگاری خطبے کے موقع پراپنے صدارتی خطبے میں کیا۔انھوں نے فرمایاکہ جامعہ کے اس ادبی مرکز جامعہ پریم چند آرکائیوزاینڈ لٹریری سنٹر کومزید فعال ہونے کی ضرورت ہے۔ یہاں تواتر کے ساتھ ادبی پروگرام کاانعقاد ہوناچاہیے۔پروفیسر مظہر آصف نے پریم چندکی ادبی خدمات پر بھرپور روشنی ڈالی اور موجود ہ عہد میں اس کی اہمیت پر اساتذہ طلبہ اور ریسرچ اسکالر ز کی توجہ مبذول کرائی۔
پریم چندیادگاری خطبہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے استاد سابق صدر شعبۂ اردو،ماہر پریم چندپروفیسر صغیرافراہیم نے پیش کیا۔اپنے خطبے میں پروفیسر صغیر افراہیم نے پریم چند کے فن کی امتیازی خصوصیات کو بیان کیا۔انھوں نے پریم چند کے فکشن کے موضوعات،اسلوب اورتکنیک پر روشنی ڈالی۔پروفیسر صغیر افراہیم نے پریم چند کے بیشتر ناولوں اور متعدد افسانوں کاتجزیہ پیش کرتے ہوئے فرمایاکہ پریم چند نے ہمارے فکشن کو نئے موضوعات،نئے اسالیب اور نئی فکری سمت عطا کی ہے۔ان کے ناولوں اور افسانوں کے متون پر نئے فن پارے تخلیق کیے گئے ہیں۔پریم چند نے اپنے بیانیہ کو پر اثر بنایااور دلکش مکالموں کے ذریعہ کرداروں کی ذہنی کشمکش کو پیش کیا۔انھوں نے یہ بھی فرمایاکہ پریم چند کی تمام افسانوی اور غیر افسانوی تحریریں اس کی گواہ ہیں کہ وہ تہذیب وتمدن کے ساتھ ساتھ جدید علوم وفنون خصوصاًفکشن کی ہیئت، ساخت اور فنی نکات متعارف کرانے کے خواہاں تھے۔
اس موقع پر مہمان خصوصی پروفیسر اقتدار محمدخاں ڈین فیکلٹی آف ہیومنیٹیزاینڈلنگویجزجامعہ ملیہ اسلامیہ نے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے پریم چند کے گہر ے رشتے کاذکر کیاکہ جامعہ کی خدمات کو پریم چند نے بے حد محبت سے سراہاتھااور اس ادار ے کو ہندوستان کاعظیم سیکولر ادارہ قرار دیاتھا۔انھوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ پریم چند کا افسانہ ’’کفن‘‘ پہلی بار رسالہ جامعہ میں شائع ہوا تھا۔اس جلسے کے مہمانان اعزازی پروفیسر کوثر مظہر ی صدر شعبۂ اردواور پروفیسر نیرج کمار صدرشعبۂ ہندی جامعہ ملیہ اسلامیہ نے بھی خطاب کیا۔ان دونوں مہمانان نے پریم چند کے فن کی خوبیوں اور ان کی ادبی خدمات کامفصل ذکر کیا۔پروفیسر کوثر مظہری نے اس خواہش کااظہار کیاکہ جامعہ کے اس مرکز میں پریم چند کے تعلق سے مختلف زبانوں کی تمام کتابوں کو جمع کیاجاناچاہیے تاکہ پریم چند کے محققین اور شیدائی یہاں رجوع کر سکیں۔
اس موقع پر جامعہ پریم چندآرکائیوز اینڈلٹریری سنٹر کے ڈائرکٹرپروفیسر شہزاد انجم نے فرمایاکہ پریم چند کاجامعہ سے گہرارشتہ رہاہے۔ جامعہ کے بزرگوں نے اس ادار ے کانام پریم چند کے نام پر رکھا۔پریم چند کی تخلیقات رسالہ’’ جامعہ‘‘ میں چھپیں اور ان کے کئی ناول مکتبہ جامعہ سے شائع ہوئے۔پریم چند نے 8مارچ 1936عیسوی کو جامعہ میں’’ہندوستانی سبھا‘‘کاقیام کیا۔اس موقعے پر انہوںنے ہندی او ر اردو کے ادیبوں کو جمع کیااور ان سے یہ فرمایاکہ ہندی اور اردو کے ادیبوں کو ایک ساتھ جمع ہوناچاہیے۔ایک دوسرے کی تخلیقات اور تحریروں کو پڑھنااو ر سنناچاہیے۔اس سے آپسی رنجشیں اور کدورتیں دور ہوں گی اور ملک میںخوشگوار محبت کی فضاقائم ہوگی۔پروفیسر شہزاد انجم نے مزید فرمایاکہ اس سینٹر کی خدمات بیش بہاہیں۔اسے مزید فعال کیاجائے گااور اسے ادیبوں کاایک بڑامرکز بنایاجائے گا،جہاں تمام زبانوں کے ادیبوں،اساتذہ،ریسرچ اسکالرز اور طلبہ اور طالبات کو اظہار خیال کاموقع ملے گااور پریم چند کے خوابوں کی تعبیر کی جائے گی۔جلسے کاآغاز جامعہ کی روایت کے مطابق تلاوت کلام پاک سے ہواجسے ڈاکٹرمحمد شاہ نواز فیاض نے پیش کیا۔منشی پریم چند اورخطیب پروفیسر صغیر افراہیم کاتعارف محترمہ شردھاشنکر صاحبہ نے پیش کیاجبکہ جلسے کے آخر میں محترمہ اسگندھارائے نے وائس چانسلر پروفیسر مظہر آصف،جامعہ کے رجسٹرار پروفیسر محمد مہتاب عالم،ڈین پروفیسر اقتدار محمد خاں،مہمانان اعزازی پروفیسر کوثر مظہری،پروفیسر نیرج کمار،جامعہ کے تمام اراکین،لائبریرین، اساتذہ،ریسرچ اسکالرز،طلبہ و طالبات اور سینٹر کے تمام ملازمین کاشکریہ اداکیا،جن کے بھر پور تعاون سے یہ جلسہ کامیاب ہوا۔اس جلسے میں خصوصی طور پر پروفیسر مشتاق احمد گنائی،ڈاکٹرمحی الدین زور (کشمیر)،پروفیسر شہپر رسول،ڈاکٹر سہیل احمد فاروقی،پروفیسر سرور الہدی،پروفیسر ممتاز احمد،ڈاکٹرمشتاق احمد تجاوری،ڈپٹی لائبریرین سفیان احمد،ڈاکٹرخالد مبشر،ڈاکٹر محمد عامر،ڈاکٹر مشیر احمد،ڈاکٹر سید تنویر حسین،ڈاکٹرمحمدمقیم،ڈاکٹر جاوید حسن،ڈاکٹر راہین شمع،ڈاکٹرمحمدآدم،ڈاکٹر ثاقب عمران،ڈاکٹر شاداب تبسم،ڈاکٹر نوشاد منظر،ڈاکٹر مخمور صدری،ڈاکٹر ثاقب فریدی،ڈاکٹر راحت افزا،ڈاکٹر خان محمد رضوان اور بڑی تعداد میںہندی،اردواور دیگر زبانوں کے ریسرچ اسکالرزاور طلبہ وطالبات نے شرکت کی۔

دلی این سی آر

6مارچ کو خصوصی اختیارات کمیٹی کے سامنے پیش ہوں گے کجریوال

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی:عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اور دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال دہلی اسمبلی احاطے میں واقع پھانسی گھر معاملے میں خصوصی اختیارات کمیٹی کے سامنے پیش ہوں گے۔ ہولی کے بعد 6 مارچ کو وہ خود دوپہر 3 بجے اسمبلی میں کمیٹی کے روبرو حاضر ہو کر ان کے سوالات کے جواب دیں گے۔ اس سلسلے میں منگل کو انہوں نے خط لکھ کر اسمبلی کمیٹی کو مطلع کر دیا ہے۔ انہوں نے کمیٹی سے مکمل کارروائی کی براہِ راست نشریات کرنے، اپنے قانونی حقوق، اعتراضات اور دعوؤں کو محفوظ رکھنے کی گزارش کی ہے۔
اروند کیجریوال نے خصوصی اختیارات کمیٹی کو لکھے گئے خط کی نقل سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ دہلی آلودگی سے نبرد آزما ہے، سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں، جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر لگے ہیں، اسپتالوں میں دوائیں دستیاب نہیں ہیں اور دہلی اسمبلی نے پھانسی گھر پر سوال پوچھنے کے لیے مجھے طلب کیا ہے۔ میں نے خصوصی اختیارات کمیٹی کو خط لکھ کر اطلاع دے دی ہے کہ ان کے سمن کے مطابق میں 6 مارچ کو حاضر رہوں گا۔ شفافیت کو مدنظر رکھتے ہوئے میری کمیٹی سے گزارش ہے کہ کارروائی کی براہِ راست نشریات کی جائیں۔
دہلی اسمبلی کی خصوصی اختیارات کمیٹی کو خط لکھتے ہوئے اروند کیجریوال نے کہا ہے کہ مجھے دہلی اسمبلی کے طریقۂ کار اور قواعدِ کار کے ضابطہ 172 اور 220 کے تحت 18 فروری 2026 کو جاری کیا گیا سمن موصول ہو گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں 6 مارچ 2026 کو دوپہر 3 بجے اس نوٹس کی تعمیل میں خصوصی اختیارات کمیٹی کے سامنے مقررہ مقام پر ذاتی طور پر پیش ہوں گا۔انہوں نے واضح کیا کہ میری یہ پیشی میرے قانونی اور آئینی حقوق پر کسی بھی منفی اثر کے بغیر ہوگی۔ میرے تمام قانونی اقدامات، اعتراضات اور دعوے مکمل طور پر محفوظ رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ شفافیت اور عوامی جوابدہی کے مفاد میں میرا مطالبہ ہے کہ اس معاملے میں کمیٹی کی کارروائی کو لائیو اسٹریم کیا جائے۔

Continue Reading

دلی این سی آر

مسلم پرسنل لا بورڈ نے کی امریکہ ۔اسرائیل کی ایران کے خلاف کھلی جارحیت کی شدید مذمت

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی:آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف کی گئی مشترکہ اور کھلی جارحیت کی سخت اور دوٹوک الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔ بورڈ اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ فوری طور پر جنگ بندی کے لیے مؤثر اور عملی اقدامات کرے اور خطے کو تباہ کن جنگ سے بچائے۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے اپنے پریس بیان میں کہا کہ ایران کے نیوکلیئر پروگرام کے سلسلے میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہو چکی تھی۔ ان مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کرنے والے عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی کے مطابق ایران امریکہ کی تقریباً تمام شرائط تسلیم کرنے پر آمادہ ہو چکا تھا۔ اس کے باوجود امریکہ کی جانب سے اچانک مذاکرات ختم کرنے کا اعلان اور فوراً بعد اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر حملہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ مذاکرات محض ایک حربہ تھے، سنجیدہ سفارتی عمل نہیں۔
ڈاکٹر الیاس نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اسے ملتِ اسلامیہ کے لیے عظیم سانحہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ کسی خود مختار ملک کی مرکزی قیادت کو دورانِ جنگ نشانہ بنانا اور قیادت کی تبدیلی کی کھلی بات کرنا بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس جنگ نے پورے مشرقِ وسطیٰ کو عدم استحکام کی آگ میں جھونک دیا ہے۔ ایک طرف متعدد یورپی ممالک امریکہ کی حمایت میں کھڑے ہیں، تو دوسری جانب روس اور چین ایران کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔ اگر فوری اور مؤثر سفارتی مداخلت نہ کی گئی تو یہ تصادم وسیع عالمی جنگ کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔ طویل جنگ نہ صرف انسانی المیے کو گہرا کرے گی بلکہ عالمی معیشت کو بھی شدید نقصان پہنچائے گی، جس کا سب سے زیادہ بوجھ ترقی پذیر اور کمزور ممالک کو اٹھانا پڑے گا۔
ڈاکٹر الیاس نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے نازک اور فیصلہ کن مرحلے پر ہمارا ملک ایک متوازن اور باوقار ثالثی کردار ادا کر سکتا تھا، مگر موجودہ طرزِ عمل سے ملک کی خارجہ پالیسی کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر سرکاری سطح پر تعزیت کا اظہار نہ کیا جانا ہماری اخلاقی اور سفارتی روایت کے منافی ہے۔آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ ایک بار پھر ملک کے حکمرانوں، اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے اپیل کرتا ہے کہ وہ فوری، سنجیدہ اور عملی اقدامات کے ذریعے اس جنگ کو روکے۔ بصورتِ دیگر یہ آگ کسی ایک خطے تک محدود نہیں رہے گی اور پوری دنیا اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکے گی۔

Continue Reading

دلی این سی آر

دہلی میں بھی پارہ 35کے پار

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی :دہلی میں اس بار فروری معمول سے زیادہ گرم رہا ہے۔ موسم کا یہ انداز مارچ میں بھی جاری رہنے کا امکان ہے۔صبح سے ہی تیز دھوپ ہے جس کی وجہ سے زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ آئیے جانتے ہیں کہ ہولی، 4 مارچ کو موسم کیسا رہے گا۔محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ دہلی میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 4 مارچ کو ہولی کے دن 35 ڈگری سیلسیس یا اس سے زیادہ تک پہنچ سکتا ہے۔ دریں اثنا،صفدرجنگ آبزرویٹری، دہلی میں زیادہ سے زیادہ اور کم سے کم درجہ حرارت معمول سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔اس سال دہلی میں فروری معمول سے زیادہ گرم رہا ہے۔
توقع ہے کہ موسم کا یہ انداز مارچ میں بھی جاری رہے گا۔ اتوار کی صبح سے ہی تیز دھوپ چھائی رہی جس کی وجہ سے زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت میں تیزی سے اضافہ ہوا۔اتوار کو صفدرجنگ میٹرولوجیکل اسٹیشن پر زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 30.7 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا جو معمول سے 4.6 ڈگری زیادہ ہے۔ کم از کم درجہ حرارت 15.4 ڈگری سیلسیس رہا جو معمول سے 2.9 ڈگری زیادہ ہے۔ اگلے تین دنوں میں ہوا کی رفتار 15 سے 25 کلومیٹر فی گھنٹہ تک رہنے کی توقع ہے۔ پیر کو زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 30 سے 32 ڈگری سیلسیس کے درمیان رہنے کا امکان ہے اور کم سے کم درجہ حرارت 14 سے 16 ڈگری سیلسیس کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔
ہوا کی رفتار میں اضافہ سے دہلی کے باشندوں کو آلودہ ہوا سے کافی راحت ملی ہے۔ سنٹرل پولوشن کنٹرول بورڈ کے مطابق، اتوار کو دہلی کا اوسط ایئر کوالٹی انڈیکس 191 رہا۔ ایک دن پہلے، ہفتہ کو، یہ 248 تھا۔اس سال ہولی پچھلے سال کے مقابلے دس دن پہلے منائی جائے گی۔ اس کے باوجود موسم گزشتہ سال کی طرح گرم رہنے کی توقع ہے۔ محکمہ موسمیات کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پچھلے سال ہولی کے دن یعنی 14 مارچ کو زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 36.2 ڈگری تھا۔ اس بار بھی ہولی کے دن زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 35 ڈگری تک پہنچنے کا امکان ہے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network