بہار
امیرِ شریعت کے ہاتھوں متعدد اہم کتابوں کا شاندار رسمِ اجرا
(پی این این)
پٹنہ:امارتِ شرعیہ بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈ و مغربی بنگال کے مرکزی دفتر میں منعقدہ اجلاسِ مجلسِ شوریٰ کے موقع پر ایک یادگار اور علمی اہمیت کی حامل نشست میں امیرِ شریعت مفکرِ ملت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی کے دستِ مبارک سے متعدد قیمتی اور علمی کتابوں کا باوقار رسمِ اجرا انجام پایا۔
اس موقع پر معروف عالمِ دین، صاحبِ قلم اور معہد عائشہ الصدیقہ خاتوپور بیگوسرائے کے بانی وناظم مولانا مفتی عین الحق امینی قاسمی کی دو اہم تصانیف کی رونمائی عمل میں آئی۔ پہلی کتاب “افکارِ ولی” ہے، جو امیرِ شریعت سابع مولانا محمد ولی رحمانی رحمہ اللہ تعالیٰ کے افکاروالفاظ، سیرت و کردار، منہج و اولیات اور دینی و سماجی خدمات پر مبنی تحقیقی اور فکری مضامین کا ایک نہایت گراں قدر اور بصیرت افروز مجموعہ ہے۔ کتاب امیر شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی نائب امیر شریعت مولانا محمد شمشاد رحمانی ،مفتی محمد خالد حسین نیموی اور پرفیسر ڈاکٹر شکیل احمد قاسمی کے کلمات عالیہ سے مزین ہے جس میں مؤلف کی کاوش اور امیر شریعت سابع سے غیر معمولی عقیدت ومحبت کو سراہا گیا ہے۔ یہ کتاب دینی قیادت، فکری رہنمائی اور ملت کے لیے مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتی ہے۔اس کتاب میں رحمانی کے روشن افکار اور ادھورے خواب کو بھی تفصیل سے بیان کیا گیا۔
اسی طرح دوسری کتاب “تذکرۂ مشفقِ ملت” ہے، جو سابق رکنِ شوریٰ امارتِ شرعیہ اور بیگو سرائے کی عظیم دینی وملی شخصیت مولانا محمدشفیق عالم قاسمی کی حیات، علمی خدمات، ملی جدوجہد اور دینی و سماجی کارناموں پر مشتمل ایک جامع اور مؤثر تذکرہ ہے۔ یہ کتاب اہلِ علم اور نئی نسل کے لیے ایک قیمتی تاریخی و اخلاقی سرمایہ ہے۔ اس کتاب کی تصنیف کے ذریعےمصنف نے مشفق ملت پر آنے والے دنوں میں کام کرنے والوں کے لئے مضبوط متن تیار کردیا ہے جس سے استفادہ کیا جاتا رہے گا ۔ اس تقریب میں ایک اور اہم تصنیف “حی علی الفلاح” کا بھی رسمِ اجرا ہوا، جو مفتی محفوظ الرحمن قاسمی (صدر مفتی و مہتمم جامعہ عربیہ سراج العلوم) کے علمی و اصلاحی افادات کو مرتب کر کے شائع کی گئی ہے۔ اس کتاب کی ترتیب و تدوین قاری محمد حیدر نے انجام دی ہے۔ یہ تصنیف دینی تربیت، فکری رہنمائی اور روحانی اصلاح کے حوالے سے نہایت مفید اور مؤثر کاوش ہے۔
امیرِ شریعت دامت برکاتہم نے اس موقع پر مصنفین، مرتبین اور معاونین کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ علمی و فکری سرمایہ امت کی امانت ہے، اور ایسی تصانیف آئندہ نسلوں کے لیے رہنمائی، بصیرت اور اصلاح کا ذریعہ بنتی ہیں۔ انہوں نے اہلِ علم کو تحقیق، تصنیف اور دینی خدمات کے میدان میں مزید سرگرم رہنے کی تلقین فرمائی۔اجلاس میں شریک مجلسِ شوریٰ کے معزز اراکین، علما، دانشوران اور مہمانانِ خصوصی نے ان کتابوں کو ملت کے لیے ایک اہم علمی سرمایہ قرار دیا اور امارتِ شرعیہ کی علمی و فکری خدمات کو سراہتے ہوئے مصنفین کو مبار بادی بھی پیش کی ۔اس اہم پروگرامز میں ان قیمتی علمی دستاویزوں کی رونمائی نہ صرف ایک خوش آئند پیش رفت ثابت ہوئی بلکہ ملتِ اسلامیہ کے فکری و دینی تسلسل کو مضبوط کرنے کی ایک اہم کڑی بھی سامنے آئی۔
بہار
دربھنگہ میں کمسن بچی کے ساتھ درندگی کے بعد قتل،علاقہ میں کشیدگی ،پولیس پرپتھراؤ
(پی این این)
جالے:دربھنگہ میں 6 سالہ کمسن بچی کے ساتھ پیش آئے انسانیت سوز واقعہ نے پورے علاقے کو دہلا کر رکھ دیا ہے۔ یونیورسٹی تھانہ حلقہ کے تحت بیلا علاقے میں ہفتہ کی رات نابالغ بچی کے ساتھ مبینہ زیادتی کے بعد اسے بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔پولیس کے مطابق متاثرہ بچی اصل میں قادِرآباد کی رہنے والی تھی اور اپنے نانیہال بیلا آئی ہوئی تھی۔ ہفتہ کی شام سے وہ اچانک لاپتہ ہوگئی، جس کے بعد اہل خانہ اور رشتہ داروں نے مسلسل تلاش شروع کی۔ کافی دیر بعد گاؤں کے باہر تالاب کے قریب دیوار کے پاس بچی کی خون آلود لاش برآمد ہوئی۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی علاقے میں سنسنی پھیل گئی۔
لاش ملنے کے بعد مشتعل عوام اور اہل علاقہ بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے۔ لوگوں نے سندرپور بیلا مندر کے قریب مرکزی سڑک کو جام کرتے ہوئے انصاف کا مطالبہ کیا اور ملزم کو سخت ترین سزا دینے کی اپیل کی۔احتجاج کے دوران حالات اس وقت مزید بگڑ گئے جب مشتعل بھیڑ نے پولیس پر پتھربازی شروع کر دی۔ جواب میں پولیس نے حالات پر قابو پانے کے لیے لاٹھی چارج کیا۔ جھڑپ کے دوران پولیس اہلکاروں سمیت کئی افراد زخمی ہوئے۔ اس دوران ایک آٹو کو بھی آگ کے حوالے کیے جانے کی خبر سامنے آئی۔ کشیدگی کے پیش نظر موقع پر پانچ تھانوں کی پولیس فورس تعینات کر دی گئی۔
پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اس معاملے میں مرکزی ملزم وکاس مہتو (22 سال) کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق ملزم کے کپڑوں پر خون کے دھبے پائے گئے ہیں اور اس سے سخت پوچھ گچھ جاری ہے۔ معاملے میں مزید ممکنہ پہلوؤں کی بھی جانچ کی جا رہی ہے۔
واقعے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ایس ایس پی جگوناتھ ریڈی جلاریڈی خود موقع پر پہنچے اور بتایا کہ لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے ڈی ایم سی ایچ بھیج دیا گیا ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ کیس کی ہر پہلو سے تفتیش کی جا رہی ہے اور ملزم کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ شواہد اکٹھا کرنے کے لیے ایف ایس ایل ٹیم کو بھی طلب کر لیا گیا ہے۔
ادھر صدر ایس ڈی پی او گورو کمار نے میڈیا کو بتایا کہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے اور پولیس پوری سنجیدگی سے تحقیقات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے، دیگر پہلوؤں پر بھی جانچ جاری ہے اور جلد ہی عدالت میں مضبوط چارج شیٹ پیش کی جائے گی۔
متاثرہ بچی کے والدین کا رو رو کر برا حال ہے۔ بچی کی والدہ نے کہا کہ ہماری بیٹی ہمارے نانیہال میں خوشی سے آئی تھی، ہمیں کیا معلوم تھا کہ وہ واپس نہیں لوٹے گی۔ ہمیں انصاف چاہیے، ایسی سزا چاہیے کہ کوئی اور بیٹی اس طرح کا شکار نہ بنے۔ بچی کے والد نے بھی مطالبہ کیا کہ ملزم کو فوری طور پر سخت ترین سزا دی جائے اور متاثرہ خاندان کو مکمل انصاف فراہم کیا جائے۔فی الحال علاقے میں کشیدگی برقرار ہے اور متاثرہ خاندان انصاف کا منتظر ہے۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ ملزم کو ایسی سزا دی جائے جو آئندہ کے لیے مثال بن سکے۔
بہار
نتیش کمار نے کچّی درگاہ–بدوپور 6 لین گنگا پل کو تیزی سے مکمل کرنے کی دی ہدایت
(پی این این)
حاجی پور:وزیرِ اعلیٰ نتیش کمار کچّی درگاہ–بدوپور 6 لین گنگا پل منصوبہ کے تعمیراتی کام کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر افسران نے معزز وزیرِ اعلیٰ کو آگاہ کیا کہ اس منصوبہ پر تعمیراتی کام تیز رفتاری سے جاری ہے اور باقی ماندہ کام کو اپریل ماہ تک مکمل کر لیا جائے گا۔معائنہ کے دوران معزز وزیرِ اعلیٰ نے افسران کو ہدایت دی کہ منصوبہ کے باقی ماندہ تعمیراتی کاموں کو جلد از جلد مکمل کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ رسائی راستہ (اپروچ روڈ) کا تعمیراتی کام بھی مکمل کرنے کی ہدایت دی تاکہ آمد و رفت بلا رکاوٹ اور ہموار طریقے سے ممکن ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ کچّی درگاہ–بدوپور 6 لین گنگا پل منصوبہ کی تکمیل سے اس علاقے کے لوگوں کو راجدھانی پٹنہ سے بلا تعطل سڑک رابطہ حاصل ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اس منصوبہ کے مکمل ہونے سے اس علاقے میں زراعت، صنعت اور دیگر کاروباری سرگرمیوں کو مزید فروغ ملے گا۔ ہنگامی طبی حالات میں مریضوں کو علاج کے لیے پٹنہ پہنچنے میں بھی بڑی سہولت حاصل ہوگی۔ معزز وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ کچّی درگاہ–بدوپور 6 لین گنگا پل منصوبہ کے پہلے مرحلے کے افتتاح کے بعد پٹنہ سے راگھوپور تک رابطہ بحال ہو چکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ اس منصوبہ کے تعمیراتی کام کا باقاعدہ معائنہ کرتے رہے ہیں اور اسے جلد مکمل کرنے کے لیے افسران کو مسلسل ہدایات دیتے رہے ہیں۔ وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ اس منصوبہ کی تکمیل سے مہاتما گاندھی پل پر ٹریفک کا بوجھ کم ہوگا اور شمالی بہار و جنوبی بہار کے درمیان رابطہ کے لیے لوگوں کو ایک متبادل راستہ دستیاب ہوگا، جس سے آمد و رفت مزید آسان ہو جائے گی۔ اس پل کی تعمیر سے پٹنہ شہر کے باہر سے ہی لوگ شمالی بہار کے مختلف مقامات تک آسانی سے سفر کر سکیں گے۔
انہوں نے کہا کہ آمس–دربھنگہ ایکسپریس وے کو کچّی درگاہ–بدوپور 6 لین گنگا پل منصوبہ سے جوڑا جائے گا، جس سے سمستی پور، دربھنگہ اور مدھوبنی جانے والے لوگوں کو خاصی سہولت حاصل ہوگی اور وقت کی بچت بھی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں معیاری سڑکوں اور پلوں کی مسلسل تعمیر کے ذریعے آمد و رفت کو مزید سہل بنایا جا رہا ہے۔قابلِ ذکر ہے کہ وزیرِ اعلیٰ نے 23 جون 2025 کو کچّی درگاہ (پٹنہ) سے راگھوپور دیارا (ویشالی) تک نو تعمیر سڑک حصے کا افتتاح کیا تھا۔ پٹنہ ضلع میں واقع قومی شاہراہ نمبر 30 پر واقع کچّی درگاہ اور ویشالی ضلع میں واقع قومی شاہراہ نمبر 103 پر واقع بدوپور کے درمیان دریائے گنگا پر کل 19.76 کلومیٹر طویل 6 لین گرین فیلڈ پل منصوبہ تعمیر کیا جا رہا ہے۔ اس منصوبہ کے تحت 9.76 کلومیٹر طویل پل اور 10 کلومیٹر طویل رسائی راستوں کی تعمیر شامل ہے۔ پہلے مرحلے میں کچّی درگاہ، پٹنہ سے راغھوپور دیارا، ویشالی (کل لمبائی 4.57 کلومیٹر) کا افتتاح ہو چکا ہے۔ دوسرے مرحلے میں حاجی پور–مہنار سڑک (این ایچ-122 بی) سے چک سکندر (این ایچ-322) تک، جبکہ تیسرے مرحلے میں راگھوپور دیارا سے حاجی پور–مہنار سڑک (این ایچ-122 بی) تک تعمیراتی کام جاری ہے۔
معائنہ کے دوران جنتا دل یونائیٹڈ کے قومی کارگزار صدر و رکنِ پارلیمنٹ سنجے کمار جھا، محکمۂ تعمیرِ سڑک کے سکریٹری پنکج کمار پال، وزیرِ اعلیٰ کے سکریٹری کمار روی، وزیرِ اعلیٰ کے سکریٹری ڈاکٹر چندر شیکھر سنگھ، بہار اسٹیٹ روڈ ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر ترشت کپِل اشوک، پٹنہ ضلع کے ضلع مجسٹریٹ ڈاکٹر تیاگ راجن ایس ایم، ویشالی ضلع کی ضلع مجسٹریٹ ورشا سنگھ، پٹنہ کے سینئر پولیس سپرنٹنڈنٹ کارتکیہ کے شرما، ویشالی ضلع کے پولیس سپرنٹنڈنٹ وکرم سہاگ سمیت دیگر اعلیٰ افسران موجود تھے۔
بہار
امارت شرعیہ کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں قضاۃ :امیر شریعت
(پی این این)
پھلواری شریف:مرکزی دفتر امارت شرعیہ کے المعہد العالی کے کانفرنس ہال میں مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی مد ظلہ العالی امیر شریعت بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈومغربی بنگال کی صدارت میں امارت شرعیہ بہار اڈیشہ، جھارکھنڈ ومغربی بنگال کے جملہ قضاۃ کرام کی ایک خصوصی نشست منعقد ہوئی، امیر شریعت نے اس اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ امارت شرعیہ کوئی ادارہ یاتنظیم نہیں، بلکہ یہ ایک اسلامی فکر ہے، ہم سب کو فکر امارت سے ہم آہنگ ہونا چاہیے، اس کے لئے فکر امارت سے متعلق کتابوں کا مطالعہ کرنا چاہیے، آپ نے یہ بھی فرمایا کہ عہدہ سے عزت یاذلت نہیں ملتی بلکہ عزت اور وقار کا مدار کام اور لوگوں کے لئے نفع بخش ہونے پر ہے، ہر کوئی آپ کی عزت کرے یہ کوئی ضروری نہیں، اللہ کے نبی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی لوگوں نے بُرا بھلا کہا، لیکن اس کی وجہ سے آپؐ کی عزت وعظمت اور تقدس پر ذرہ برابر کوئی فرق نہیں پڑا، اس لئے ہم سب کو بھی اپنے کاموں میں مخلص ہونا چاہئے اور لوگوں کے لیے نفع بخش بننے کی کوشش کرنی چاہیے۔ امیر شریعت نے قضاء کی اہمیت وضرورت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ قضاء کے ذریعہ عدل وانصاف قائم ہوتا ہے اور عدل وانصاف ہی کے ذریعہ امن وامان قائم ہوتا ہے، امیر شریعت دامت برکاتہم نے تمام قضاۃ کے کاموں کو سراہتے ہوئے فرمایا کہ یقینا آپ لوگ مبارک باد کے مستحق ہیں، آپ لوگ امارت شرعیہ کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔
حضرت مولانا محمدشمشاد رحمانی قاسمی نائب امیر شریعت بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈ ومغربی بنگال نے فرمایا کہ یقینا آپ تمام لوگ علم وفضل ہے، آپ لوگوں سے بہت سارا کام لیا جاتا، ہر شعبہ کی نظر آپ ہی لوگوں پر ٹکی ہوتی ہے اور ہر شخص آپ سے امید لگائے بیٹھا ہوا ہے اور آپ سے امید بھی ہونی چاہئے اس لئے آپ اس کے لائق بھی ہیں جو لوگ جتنا کام کرکے گزر جاتے ہیں وہی لوگ اصل قابل تعریف ہیں اور وہی ان کے لئے سرمایہ ہے، امارت شرعیہ کا نظام قضاء مزید مضبوط اور مستحکم ہو رہا ہے، جس میں حضرات قضاۃ کا جہد مسلسل اور سعی پیہم کا عنصر غالب ہے۔
حضرت مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی ناظم امارت شرعیہ وصدر مفتی امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈ ومغربی بنگال نے قضاۃ کرام کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ سب اپنے معمولات میں کتابوں کے مطالعہ کو ضرور شامل رکھیں، خاص طور پر عائلی مسائل سے متعلق کتابوں کا مطالعہ ضرور کرتے رہیں، مزید انہوں نے کہا کہ آپ سب کی محنتوں اور کوششوں سے الحمد للہ امارت شرعیہ کامیابی وکامرانی کی راہ پر گامزن ہے، اللہ تعالیٰ ہم سب کو ادارہ کے لیے نفع بخش بنائے اور آپ سب کو صحت وسلامتی کے ساتھ رکھے۔
مفتی محمد انظار عالم قاسمی صدر قاضی شریعت امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈ ومغربی بنگال نے سب سے پہلے کار قضاء میں جو خامیاں اور کمیاں رہ جاتی ہیں ان پر تفصیل سے گفتگو کی اور تمام قضاۃ کرام کو ہدایت کی کہ کار قضاء ایک نہایت حساس اور اہم فریضہ ہے، جس میں کوتاہی پر عندالناس جواب دہ ہونے کے ساتھ ساتھ عند اللہ جواب دہ ہونا پڑے گا، لہٰذا ہم سب کو چاہئے کہ کتاب وسنت اور اپنے اکابر کے ضابطے کے مطابق کارقضاء انجام دیں، مرکزی دارالقضاء سے جو ہدایت دی جائے اس پر ضرور عمل کی کوشش کریں، نیز یہ فرمایا کہ ہم سب کی شخصیت اور ہم سب کی عزت ادارہ کی وجہ سے ہے، اس لئے اپنے ذاتی مفاد پر ادارہ کے مفاد کو ترجیح دیں اور اپنے کسی مفاد کی وجہ سے ادارہ کو نقصان پہونچانے سے پرہیز کریں، قاضی کی اس بات پر نائب امیر شریعت اور ناظم نے پرزور تائید کی۔
مولانا ابوالکلام شمسی معاون ناظم امارت شرعیہ نے کہا کہ امارت کے اسکول کی تعمیر وترقی میں قضاۃ کرام بہت اہم کردار نبھاتے ہیں، مزید قضاۃ کرام اگر اس طرف توجہ دیں تو یہ کام اور مضبوط ہوگا، ان شاء اللہ، مولانا ارشد علی رحمانی قاضی شریعت مہدولی، دبھنگہ نے تنظیم کو بنانے کے تعلق سے کہا کہ ہم سب کو جتنی محنت کرنی پڑے کرکے تنظیم امارت شرعیہ کو مستحکم بنانا چاہئے۔ایجنڈوں پر بحث میں قضاۃ کرام نے پورا پورا حصہ لیا اور امیر شریعت سے کھل کر تبادلۂ خیال کیا اور کار قضاء سے متعلق پیش آمدہ پریشانیوں کو بیان کیا۔
مفتی محمد سہیل اختر قاسمی، مولانا محمد مجیب الرحمن قاسمی دربھنگوی، مولانا مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی مولانا مفتی محمدسہراب ندوی، مفتی محمد انور قاسمی، مولانا سعود عالم قاسمی، مولانا ارشد قاسمی پورنیہ، مولانا ارشد قاسمی گوگری، مولانا ارشد قاسمی کشن گنج اور مولانا رضی احمد ندوی نے زیر بحث ایجنڈوں پرکئی تجاویز پیش کئے،ان کے علاوہ مولانا مجیب الرحمن قاسمی بھاگلپوری، مولانا امتیاز احمد قاسمی، قاضی ضمیر الدین قاسمی، قاضی صبغۃ اللہ قاسمی، مولانا راشد انور قاسمی، مولانا شمس الحق قاسمی نے نظام قضاء کو وسیع تر کرنے اور مسائل ومعاملات کو حل کرنے کے لئے مختلف تدابیر بیان کیے۔
اجلاس کی نظامت مفتی وصی احمد قاسمی نائب قاضی شریعت نے کی، مولانا عبداللہ انس مرکزی دارالقضاء کی تلاوت اور مولانا ابوداؤد قاسمی دارالقضاء رانچی کی نعت شریف سے مجلس کا آغاز ہوا، اس اجلاس میں ڈاکٹر سید یاسر حبیب سکریٹری مولانا سجاد میموریل ہاسپیٹل، ڈاکٹر سید نثار احمد ، ایس ایم شرف ، اے ڈی ایم عبد الوہاب ، عرفان الحسن انچارج بیت المال، حاجی احسان الحق نے شرکت کی۔اس نشست میں کئی اہم تجاویز پاس ہو ئیں، اخیر میں امیر شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی مدظلہ کی دعا اور کلمات تشکر کے ساتھ مجلس اختتام پذیر ہوئی۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر1 year agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر1 year agoکجریوال کاپجاری اور گرنتھی سمان اسکیم کا اعلان
-
بہار9 months agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ1 year agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
بہار3 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
