Connect with us

دیش

ہندوستان میں آئی فون فیکٹریوں میں 1 لاکھ سے زائد خواتین کرتی ہیں کام

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی: الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ میں بڑے پیمانے پر روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے ساتھ، خواتین حکومت کے ‘ میک ان انڈیا’ اقدام سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والوں میں سے ابھری ہیں، مرکزی الیکٹرانکس اور آئی ٹی وزیر، اشونی وشنو نے پیر کو یہ اطلاع دی ۔ وزیر نے کہا کہ ہندوستان میں آئی فون مینوفیکچرنگ کی سہولیات میں ایک لاکھ سے زیادہ خواتین کام کرتی ہیں، جبکہ خواتین کارکنان بھی انتہائی پیچیدہ سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ پلانٹس میں اپنا حصہ ڈال رہی ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کو لے کر، وزیر نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کا ‘ میک ان انڈیا’ پروگرام الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ سیکٹر میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کرکے خواتین کو بااختیار بنا رہا ہے۔ “وزیراعظم شری نریندر مودیجی کا ‘ میک ان انڈیا’ خواتین کو بااختیار بنا رہا ہے۔ الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ خواتین کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کر رہی ہے۔وزیر کے مطابق ملک بھر میں الیکٹرونکس مینوفیکچرنگ پلانٹس میں نصف سے زیادہ افرادی قوت خواتین پر مشتمل ہے۔
فروری کے شروع میں، ویشنو نے کہا تھا کہ خواتین ‘ میک ان انڈیا’ پہل سے سب سے زیادہ مستفید ہوئی ہیں، جس نے لاکھوں براہ راست اور بالواسطہ ملازمتیں پیدا کی ہیں جبکہ بڑے پیمانے پر ہنر مندی کے مواقع بھی فراہم کیے ہیں۔دریں اثنا، صرف ایپل کے ماحولیاتی نظام نے ہندوستان میں تقریباً 2.5 لاکھ براہ راست ملازمتیں پیدا کی ہیں، جن سے فائدہ اٹھانے والوں میں سے تقریباً 70 فیصد خواتین ہیں۔ امریکی ٹیک کمپنی ایپل نے ہندوستان میں اپنے مینوفیکچرنگ فٹ پرنٹ کو نمایاں طور پر بڑھایا ہے۔
رپورٹس کے مطابق، کمپنی نے 2025 میں ملک میں آئی فون کی پیداوار میں تقریباً 53 فیصد اضافہ کیا، جو کہ ایک سال پہلے 36 ملین یونٹس کے مقابلے میں تقریباً 55 ملین یونٹس کو اسمبل کیا۔ ایپل فی الحال بھارت میں اپنے فلیگ شپ آئی فونز کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ مینوفیکچرنگ کو متنوع بنانے اور چین پر محصولات سے بچنے کی حکمت عملی کے طور پر تیار کرتا ہے۔عالمی سطح پر، ایپل ہر سال تقریباً 220-230 ملین آئی فونز تیار کرتا ہے، جس میں ہندوستان کا حصہ مسلسل بڑھتا ہے، جو بڑی حد تک حکومت کی پیداوار سے منسلک ترغیب (PLI) اسکیم سے چلتا ہے۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

دیش

معروف صحافی ’گل بوٹے‘ ممبئی کے مدیر فاروق سید نہیں رہے،ادبی وسماجی حلقہ سوگوار

Published

on

(پی این این)
ممبئی۔معروف صحافی، ادیب اور بچوں کے مقبول رسالہ “گل بوٹے” کے مدیر فاروق سید کا آج سانتا کروز کے بینز اسپتال میں انتقال ہوگیا ۔ فاروق سید کی موت سے ادبی وصحافتی حلقوں میں غم کا ماحول ہے۔
فاروق سید گزشتہ دو ماہ سے مسلسل علالت کا شکار تھے، رمضان المبارک میں وہ عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کے لئے مکہ مکرمہ گئےتھے۔ لیکن اسی دوران انھیں برین ہیمرج ہوگیا۔ وہ مکہ کے ایک اسپتال میں داخل کئے گئے جب ان کی طبیعت میں کچھ بہتر ہوئی تو وہ ممبئی واپس آگئے۔ ممبئی واپسی کے بعد انھیں ہارٹ اٹیک ہوا ، ان کے دل کا آپریشن بالا جی اسپتال میں کیا گیا۔ لیکن وہ سنبھل نہیں سکے۔ پھر انھیں سانتا کروز کے بینز اسپتال میں داخل کیا گیا۔ جہاں ان کی حالت مزید تشویشناک ہوگئی ، وہ وینٹی لیٹر پر منتقل کیے گئے اور بالآخر اس دنیائے فانی کو لبیک کہا۔
فاروق سید اردو صحافت اور بچوں کے ادب کی دنیا میں ایک معتبر اور محترم نام ہے۔ ان کے رسالہ گل بوٹے نے برسوں تک نئی نسل کی ادبی اخلاقی ، تربیت میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کی شگفتہ تحریریں نرم مزاجی ، ملن ساری اور علمی خدمات نے انھیں ادبی حلقوں میں بھی خاص مقام عطا کیا۔ ان کی رحلت سے صحافیوں، ادیبوں ، شاعروں اور ان کے چاہنے والوں میں غم کا ماحول ہے۔
اس موقع پر ادارہ روزنامہ سچ کی آواز فاروق سید کے اہل خانہ کے غم میں برابر کا شریک ہے۔ گروپ ایڈیٹر ڈاکٹر سید اصدر علی ، ریزینڈینٹ ایڈیٹر جمشید عادل علیگ نے فاروق سید کی رحلت پر گہرے رنج وغم کا اظہار کیا ہے اور اسے ذاتی خسارہ بتایا ہے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند کرے۔ آمین

Continue Reading

دیش

ملک میں آنے والا ہے سب سے بڑا اقتصادی طوفان،اڈانی،امبانی اور نریندر پر نہیں پڑے گا اثر، عام آدمی ہوگا شکار، راہل گاندھی کا اندیشہ

Published

on

(پی این این)
رائے بریلی۔ملک کے جوحالات بن رہے ہیں۔ مہنگائی جس طرح بڑھ رہی ہے اور مزید بڑھنے والی ہے۔ وہ ایک بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہے۔ مشرق وسطیٰ میں ٹکرائو کی وجہ سے جو حالات پیدا ہوئے ہیں۔ حکومت اس سمت سنجیدگی سے دھیان نہیں دے رہی ہے۔
ملک میں ایک بڑا اقتصادی طوفان آنے والا ہے۔جس کا اڈانی، امبانی اور نریندر مودی پر اثر نہیں پڑے گا بلکہ عام آدمی اس کا شکار ہوگا۔مذکورہ اندیشہ راہل گاندھی نے اپنے حلقہ انتخاب رائے بریلی میں میڈیا سے گفتگو کے دوران کہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’نریندر مودی نے جس طرح سے ملک کی معیشت کا ڈھانچہ بدلا ہے، وہ آنے والے معاشی طوفان میں ٹک نہیں پائے گا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس معاشی طوفان کا خمیازہ ملک کے نوجوانوں، کسانوں، چھوٹے تاجروں کو بھگتنا پڑے گا۔‘‘
یہ بیان لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے آج رائے بریلی میں نامہ نگاروں کے کچھ سوالوں کے جواب میں دیا۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’’معاشی طوفان کا اثر اڈانی-امبانی اور نریندر پر نہیں پڑے گا، کیونکہ وہ اپنے محلوں میں بیٹھے رہیں گے۔ یہ جھٹکا بہت برا ہوگا، آنے والا وقت بہت مشکل ہوگا۔‘‘
کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی کا کہنا ہے کہ پی ایم مودی کوئی ٹھوس قدم اٹھانے کی جگہ ملک کی عوام سے کہہ رہے ہیں، کوئی بھی بیرون ملک سفر نہ کرے، جبکہ وہ خود دنیا بھر کا دورہ کر رہے ہیں۔ موجودہ مسائل کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’وزیر اعظم مودی کو یہ سمجھنا چاہیے کہ اصل مسئلہ بے روزگاری اور مہنگائی ہے۔ آنے والے وقت میں کھاد کا مسئلہ پیدا ہونے والا ہے۔ لیکن پتہ نہیں نریندر مودی کس دنیا میں جی رہے ہیں، مذاق بنا رکھا ہے۔‘‘
کانگریس نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر راہل گاندھی کے ذریعہ نامہ نگاروں کے سامنے دیے گئے بیانات کی 2 ویڈیوز شیئر کی ہیں، جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کانگریس رکن پارلیمنٹ کار میں بیٹھے ہیں اور ملک کے حالات پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’ملک کے مزدوروں، کسانوں، نوجوانوں، غریبوں اور چھوٹے کاروباریوں کی حفاظت کرنے کی ذمہ داری نریندر مودی کی ہے۔ ہم لگاتار نریندر مودی سے کہہ رہے ہیں کہ طوفان آنے والا ہے۔ آپ ٹھوس قدم اٹھائیے اور ملک کو محفوظ کیجیے، لیکن وہ کچھ الگ ہی کر رہے ہیں۔‘‘

Continue Reading

دیش

ائماکرائم ومؤذنین کی اجرت یکم جون سے بند،بنگال کے وزیر اعلیٰ سوبھیندو کا اعلان

Published

on

(پی این این)
کولکاتہ۔بنگال میں بی جے پی اقتدار میں آنے کے بعد نئے نئے فیصلے اور اعلانات کررہی ہے۔ بیف بند کرنے کے بعد اب سوبھیندو سرکار نے کئی اہم فیصلے کئے ہیں۔ انھوں نے اعلان کیا ہے کہ اب ائما کرام اور مؤذنین کی اجرت بند کی جائے گی۔ جو بنگال سرکار کے ذریعہ دی جارہی تھی۔ انھوں نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ ممتا حکومت کی بدعنوانیوں کی وہ گہرائی سے جانچ کرائیں گے۔ اور ہائی کورٹ کے جج کی قیادت میں یہ جانچ ہوگی۔انھوں نے کہا کہ امام ،موذن اور پوجاریوں کو دی جانے والی اجرت یکم جون سے بند کردی جائے گی۔ ساتھ ہی ساتھ خواتین کو انّا پورنا منصوبہ کے تحت 3000 روپیہ ماہانا، مفت بس سروس کا آغاز ہوگا۔ انھوں نے ساتویں پے کمیشن تشکیل کرنے اور او بی سی فہرست میں تبدیلی لانے کےلئے کئی فیصلے کئے۔
غورطلب ہے کہ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے اپنے دور میں امام ، موذن اور پوجاریوں کی اجرت پانچ سو روپیہ بڑھانے کا اعلان کیا تھا جس کے تحت مسجدوں کے امام کو تین ہزار روپے، موذن اور پوجاریوں کو دو ہزار روپے دیئے جارہے تھے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network