دلی این سی آر
وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے یوم جمہوریہ کی تقریبات کے دوران چھترسال اسٹیڈیم میں لہرایاقومی پرچم
(پی این این)
نئی دہلی :دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے یوم جمہوریہ کی تقریبات کے دوران چھترسال اسٹیڈیم میں قومی پرچم لہرایا۔ انہوں نے کہا کہ دہلی میں بی جے پی حکومت کے گزشتہ 11 مہینوں میں عوامی بہبود کے لئے بہت سے فیصلے لئے گئے ہیں۔ سی ایم نے کہا کہ جب ہماری حکومت نے 11 ماہ قبل دہلی کی باگ ڈور سنبھالی تھی تو ہمیں بہت سے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے کہا کہ آیوشمان بھارت اسکیم کو بی جے پی حکومت کے قیام کے پہلے دن سے ہی قومی دارالحکومت میں لاگو کیا گیا تھا۔ اس اسکیم کے تحت اب تک 65 لاکھ افراد رجسٹرڈ ہوچکے ہیں۔ یوم جمہوریہ کی تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آیوشمان بھارت ملک اور دنیا کی سب سے بڑی صحت اسکیم ہے، جسے حکومت کے قیام کے پہلے ہی دن دہلی میں لاگو کیا گیا تھا۔ اس کے مستفید ہونے والوں کو10 لاکھ کا انشورنس کور ملتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہلی میں بی جے پی حکومت کے گزشتہ 11 مہینوں میں کئی عوامی فلاحی فیصلے لئے گئے ہیں، جن کا مقصد شہریوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لانا ہے۔ ریکھا گپتا نے کہا کہ جب ہماری حکومت نے 11 ماہ قبل دہلی کا چارج سنبھالا تو ہمیں بہت سے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا۔ سب سے بڑا چیلنج اس نظام میں برسوں سے جمع ہونے والی دھول اور رکاوٹیں تھیں۔ ہم نے اس صورتحال کو بدلنے اور دہلی کو ایک نئی سمت دینے کے لیے بہت سے معنی خیز اقدامات کیے ہیں۔ وزیر اعظم کے سب کا ساتھ، سب کا وکاس” کے اصول پر عمل کرتے ہوئے ہم نے گزشتہ 11 مہینوں میں عوامی بہبود کے لیے کئی فیصلے لیے ہیں۔وزیراعلیٰ نے قومی پرچم کی عزت کے لیے جانیں قربان کرنے والے آزادی پسندوں کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا، “میں ان شہیدوں کو سلام کرتی ہوں جنہوں نے ترنگے کی عزت کے لیے اپنی جانوں سے بڑھ کر قوم کو ترجیح دی اور ہمیں یہ جمہوریہ، عزت نفس اور آزادی دلائی۔ آئین ہندوستان کی روح ہے۔”وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پچھلے 77 سالوں سے، ہندوستان کے آئین نے انصاف، مساوات اور وقار کی روشنی کے طور پر ہماری رہنمائی کی ہے۔ ہندوستان آئین کی تشکیل سے لے کر قوم کی تعمیر تک تمام کوششوں کو یاد رکھتا ہے۔ یوم جمہوریہ کی تقریبات کے دوران وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے بھی چھترسال اسٹیڈیم میں پریڈ کا معائنہ کیا۔ انہوں نے ترقی یافتہ دہلی کے لیے روڈ میپ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ آئین ہندوستان کا ضمیر ہے اور پچھلے 77 سالوں سے ہندوستان کا آئین انصاف، مساوات اور وقار کی روشنی کے طور پر ہماری رہنمائی کر رہا ہے۔ ہماری دہلی حکومت ترقی یافتہ ہندوستان کے حصول کے عزم کے ساتھ وزیر اعظم نریندر مودی کے ویژن 2047 کے ساتھ ہم آہنگ ایک ترقی یافتہ دہلی کی تعمیر کے لیے مستقل اور تیزی سے کام کر رہی ہے۔گزشتہ 11 مہینوں میں دہلی حکومت کے کام کا ذکر کرتے ہوئے، انہوں نے کہا، “جب ہماری حکومت نے تقریباً 11 مہینے پہلے دہلی کا چارج سنبھالا تھا، تو ہمیں بہت سے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ لیکن سب سے بڑا چیلنج سسٹم میں برسوں سے جمع دھول اور رکاوٹیں تھیں۔ ان مختصر 11 مہینوں میں، ہم نے اس صورتحال کو بدلنے اور دہلی کو ایک نئی سمت دینے کے لیے بہت سے معنی خیز اقدامات کیے ہیں۔”
انہوں نے کہا، “آج 50,000 سے زیادہ لوگ اٹل کینٹین میں روزانہ کھانا کھا رہے ہیں۔ ہم اس ہدف کو روزانہ 100,000 کھانے تک بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ دہلی میں کوئی بھی بھوکا نہ سوئے۔ دہلی حکومت کی جانب سے، ہم مودی جی کے ڈیجیٹل انڈیا پہل کے مطابق دہلی کے تمام اسپتالوں کو ڈیجیٹل کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔”دہلی میں 300 سے زیادہ آیوشمان آروگیہ مندر، جو بنیادی صحت کی دیکھ بھال کے مراکز ہیں، کھولے گئے ہیں۔ ہمارا مقصد دہلی میں بہترین صحت کے بنیادی ڈھانچے کو یقینی بنانا اور صحت کی دیکھ بھال کے بہترین آلات کے ذریعے دہلی کو AAA ہیلتھ ماڈل میں آگے بڑھانا ہے، یعنی اعلی درجے کی، سستی، اور قابل رسائی صحت کی دیکھ بھال۔سی ایم نے کہا، “اسے تیار کیا جانا چاہیے۔ دہلی میں کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کو بڑھانے کے لیے، ہم نے منڈکا میں ایک نئی دہلی اسپورٹس یونیورسٹی پر کام شروع کیا ہے۔ جو دہلی کی پہلی بین الاقوامی معیار کے مطابق بنائی گئی ہے، جو دہلی میں کھیلوں کی بہتر سہولیات لائے گی۔ دہلی کی اچھی سڑکوں، بہتر پبلک ٹرانسپورٹ، صاف پانی، اور جدید شہری سہولیات کو ذہن میں رکھتے ہوئے، دہلی حکومت نے اس کی سرمایہ کاری کو دوگنا کر دیا ہے۔” 2025-26 میں 100% پبلک ٹرانسپورٹ بسیں تین سال کے اندر الیکٹرک فلیٹ میں تبدیل ہو جائیں گی۔
سی ایم ریکھا گپتا نے کہا، “ہم نے دہلی میں کام کرنے والے ٹمٹم کارکنوں کو سماجی اور صحت کی حفاظت کے دائرے میں لانے کے لیے گِگ ورکر ویلفیئر بورڈ تشکیل دیا ہے۔ ہم نے کچی بستیوں میں 700 کروڑ روپے فراہم کیے ہیں، جس کے ذریعے نئے بیت الخلا، گلیاں، نالیاں، فٹ پاتھ، پارکس وغیرہ بنائے جا رہے ہیں۔وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ مرکزی حکومت کے تعاون سے دوارکا ایکسپریس وے، یو ای آر-2، اور دہلی-دہرا دون ایکسپریس وے جیسی سڑکیں تعمیر کی گئی ہیں، جس سے دہلی کے رابطے میں خاطر خواہ بہتری آئے گی اور دہلی کی بھیڑ میں کمی آئے گی۔ہم نے دہلی میں 10 نئے گائے پناہ گاہیں بنانے کی تیاری کی ہے، جس میں جدید ترین سہولیات کے ساتھ بائیو گیس پلانٹ اور گاؤں کی زندگی کے تجربات شامل ہوں گے۔ ہم نے آوارہ کتوں کے لیے جدید ترین اور محفوظ پناہ گاہیں بنانے پر بھی کام شروع کر دیا ہے۔ دہلی کو سبز توانائی سے جوڑنے کے لیے ہم نے اپنی تمام سرکاری عمارتوں پر سولر پلانٹ بھی لگائے ہیں۔
دلی این سی آر
ایران کے سپریم لیڈر کی شہادت عالم اسلام کا عظیم سانحہ:مفتی محمد مکرم احمد
(پی این این)
نئی دہلی :شاہی امام مسجد فتح پوری دہلی مفکر ملت مولانا ڈاکٹر مفتی محمد مکرم احمد نے جمعہ کی نماز سے قبل خطاب میں مسلمانوں سے اپیل کی کہ اخیر عشرہ میں شب بیداری کریں اور شب قدر کو طاق راتوں میں تلاش کریں اور اعتکاف بھی کریں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اخیر عشرہ میں خود بھی شب بیداری فرماتے تھے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بھی اس کی تاکید فرماتے تھے انہوں نے کہا کہ زکوٰۃ اور صدقات سے مستحق طلبہ کی ضرور مدد کریں جو عصری علوم حاصل کر رہے ہیں لوگ ہم سے معلوم کرتے ہیں کہ کیا ہم زکوٰۃ کی رقم اسکول و کالج میں پڑھنے والے مسلم مستحق طلبہ و طالبات کو دے سکتے ہیں۔ مفتی مکرم نے کہا کہ عصری علوم کے طلبہ کے تعلیمی مصارف بہت زیادہ ہوتے ہیں لہٰذا ان کی زکوٰۃ سے مدد کر سکتے ہیں اس میں بھی ثواب ہے۔
مفتی مکرم نے مشرق وسطی میں امن کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور اسرائیل و امریکی حملوں کی شدید مذمت کی جن کے باعث اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر کی شہادت ہوئی انہوں نے کہا سپریم لیڈر کی ہلاکت عالم اسلام کا ایک عظیم سانحہ ہے ۔ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات جاری تھے اور 2مارچ بھی مذاکرات کے لیے مقرر تھی لیکن 28 فروری کو اچانک بغیر اعلان جنگ کے بزدلانہ طور پر سپریم لیڈر پر حملہ کر دیا گیا جس میں ان کے ساتھ کچھ اعلیٰ افسران بھی ہلاک ہو گئے اور سپریم لیڈر کے اہل خانہ بھی ہلاک ہو گئے اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ اسرائیل نے حملہ کر کے اقوام متحدہ کے اصولوں اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی کی ہے اقوام متحدہ اور عالمی برادری کو اس پر ایکشن لینا چاہیے اسرائیل نے ایک ایلیمنٹری اسکول (پرائمری اسکول) پر حملہ کر دیا جس میں 160 طالبات کی ہلاکت ہو گئی اور 90کے قریب بچے زخمی ہیں اورحالات مزید خراب ہوتے جا رہے ہیں ہم عالمی برادری اور اقوام متحدہ سے اپیل کرتے ہیں کہ سنجیدہ عملی اقدامات کر کے حالات کو مزید خراب ہونے سے بچایا جائے نیز مذاکرات سے مسائل کو حل کیا جائے ۔
دلی این سی آر
عام آدمی پارٹی کا بی جے پی حکومت کے خلاف زبردست احتجاج
(پی این این)
نئی دہلی:عام آدمی پارٹی نے جمعہ کے روز اپوزیشن کے ارکانِ اسمبلی کو اسمبلی احاطے میں داخل ہونے سے روکنے پر بی جے پی حکومت کی آمریت کے خلاف زبردست احتجاج اور نعرے بازی کی۔ پارٹی کے دہلی پردیش صدر سوربھ بھاردواج کی قیادت میں اسمبلی کے باہر ہونے والے اس احتجاج کے دوران کارکنان کا جوش و خروش دیدنی تھا۔ جب اروند کیجریوال خصوصی اختیارات کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کے لیے اسمبلی پہنچے تو کارکنان نے کیجریوال تم ڈٹے رہو، ہم تمہارے ساتھ ہیں کے نعرے لگا کر ان کا حوصلہ بڑھایا۔ اس موقع پر سوربھ بھاردواج نے کہا کہ کمیٹی کی کارروائی کی لائیو اسٹریمنگ نہ کرنے کے پیچھے بی جے پی حکومت کا خوف ہے کہ کہیں کیجریوال کوئی سچ نہ بول دیں۔ ملک کی تاریخ میں پہلی بار کسی اسمبلی کی کمیٹی نے اپنے ہی سابق اسپیکر اور وزیر اعلیٰ کو طلب کیا ہے۔
سوربھ بھاردواج نے کہا کہ گزشتہ 10-11 سال تک عام آدمی پارٹی نے بھی دہلی اسمبلی کی کمیٹیاں چلائی ہیں اور بی جے پی سے بہتر طریقے سے چلائی ہیں۔ آج بھی بی جے پی کے دور میں جو چند کمیٹیوں کی میٹنگیں ہوتی ہیں، ان میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جن لوگوں کو بلایا جاتا ہے وہ عموماً اپنے ساتھ ایک دو افراد ضرور لاتے ہیں۔ اگر کسی افسر کو بلایا جاتا ہے تو اس کے ساتھ کئی بار دس دس لوگ بھی آ جاتے ہیں اور ہمیشہ انہیں کمیٹی کے اندر آنے کی اجازت دی جاتی رہی ہے۔ جب بھی عام آدمی پارٹی کی حکومت نے کسی خاص معاملے پر کمیٹی کی میٹنگ بلائی تو باقاعدہ میڈیا کو دعوت دے کر بلایا گیا۔سوربھ بھاردواج نے بتایا کہ وہ خصوصی اختیارات کمیٹی اور عرضی کمیٹی کے چیئرمین رہ چکے ہیں۔ اس دوران ہم نے باقاعدہ میڈیا کو مدعو کیا اور کہا کہ وہ پوری کارروائی دیکھیں اور عوام تک پہنچائیں کیونکہ یہی جمہوریت میں شفافیت ہوتی ہے۔ کمیٹی ایک طرح کا منی ہاؤس ہوتی ہے۔ ایسے میں لائیو اسٹریمنگ سے اتنا خوف ہونا حیران کن ہے۔ اگر بی جے پی حکومت لائیو اسٹریمنگ نہیں کرنا چاہتی تھی تو کم از کم صحافیوں کو ہی بلا لیتی۔ لیکن میڈیا کو اسمبلی احاطے میں بھی داخل ہونے نہیں دیا جا رہا ہے اور نہ ہی ارکانِ اسمبلی کو اندر آنے دیا جا رہا ہے۔
سوربھ بھاردواج نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ خوف اروند کیجریوال کو نہیں بلکہ بی جے پی کے لوگوں کو لگ رہا ہے۔ اروند کیجریوال تو خود کہہ رہے ہیں کہ وہ آ رہے ہیں اور ان کے جواب پوری میڈیا کو دکھائے جائیں، انہیں کسی چیز کا خوف نہیں ہے۔ لیکن بی جے پی کو ڈر ہے کہ نہ جانے کیجریوال کیا سچ بول دیں اور اگر وہ بات میڈیا تک پہنچ گئی تو کیا ہوگا۔ یہ بڑی عجیب بات ہے۔سوربھ بھاردواج نے بتایا کہ اسمبلی کے اندر ایک ٹینٹ لگا ہوا ہے جس میں کبھی وزیر اعلیٰ، کبھی امت شاہ اور کبھی اوم برلا مہمانِ خصوصی ہوتے ہیں۔ کیا امت شاہ کو معلوم ہے کہ اس ٹینٹ کا ٹینڈر کس نے دیا؟ اس میں ایل ون، ایل ٹو اور ایل تھری کون تھے؟ اگر اس ٹینٹ کی جانچ ہوگی تو کیا وہ امت شاہ کو بھی بلائیں گے کہ چونکہ وہ وہاں مہمانِ خصوصی تھے اس لیے آ کر گواہی دیں؟ اس طرح کی کارروائی انتہائی بے معنی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہے کہ دنیا میں پہلی بار کوئی کمیٹی بن رہی ہو۔ گزشتہ 70-75 برسوں سے ملک کی ہر ریاست میں اسمبلی کمیٹیاں موجود ہیں اور وہ اپنا کام کرتی رہی ہیں۔ لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا اور نہ ہی ہم نے کبھی سنا کہ کسی کمیٹی نے اپنے ہی سابق اسپیکر یا سابق وزیر اعلیٰ کو طلب کیا ہو۔ یہ جو کچھ کیا جا رہا ہے وہ نہایت عجیب و غریب ہے۔ اروند کیجریوال کو اس سے کوئی خوف نہیں ہے، وہ تو سب کے سامنے بیان دینے کے لیے تیار تھے۔ اب صاف نظر آ رہا ہے کہ ڈر کس کو لگ رہا ہے۔سوربھ بھاردواج نے مزید کہا کہ کوئی بڑا لیڈر جب کہیں آتا ہے تو اس کے ساتھ اس کے حامی بھی آتے ہیں، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ زمین پر اس کے حامی موجود ہیں اور جمہوریت میں یہ بالکل معمول کی بات ہے۔ یہ حامی اسمبلی کے اندر جانے کے لیے نہیں آئے تھے، لیکن جو ارکان اسمبلی اندر جانے کے لیے آئے تھے انہیں بھی باہر روک دیا گیا۔ یہ بڑی حیرت کی بات ہے۔ آخر بی جے پی کو مجھ سے کیا خوف ہے اور میں ان کی سلامتی کے لیے کیسے خطرہ ہو سکتا ہوں؟ میرے پاس نہ کوئی ہتھیار ہے اور نہ ہی میں نے کبھی کسی کے ساتھ تشدد کیا ہے۔ اس لیے بی جے پی کا اس طرح کا خوف بے بنیاد ہے۔
دلی این سی آر
6مارچ کو خصوصی اختیارات کمیٹی کے سامنے پیش ہوں گے کجریوال
(پی این این)
نئی دہلی:عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اور دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال دہلی اسمبلی احاطے میں واقع پھانسی گھر معاملے میں خصوصی اختیارات کمیٹی کے سامنے پیش ہوں گے۔ ہولی کے بعد 6 مارچ کو وہ خود دوپہر 3 بجے اسمبلی میں کمیٹی کے روبرو حاضر ہو کر ان کے سوالات کے جواب دیں گے۔ اس سلسلے میں منگل کو انہوں نے خط لکھ کر اسمبلی کمیٹی کو مطلع کر دیا ہے۔ انہوں نے کمیٹی سے مکمل کارروائی کی براہِ راست نشریات کرنے، اپنے قانونی حقوق، اعتراضات اور دعوؤں کو محفوظ رکھنے کی گزارش کی ہے۔
اروند کیجریوال نے خصوصی اختیارات کمیٹی کو لکھے گئے خط کی نقل سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ دہلی آلودگی سے نبرد آزما ہے، سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں، جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر لگے ہیں، اسپتالوں میں دوائیں دستیاب نہیں ہیں اور دہلی اسمبلی نے پھانسی گھر پر سوال پوچھنے کے لیے مجھے طلب کیا ہے۔ میں نے خصوصی اختیارات کمیٹی کو خط لکھ کر اطلاع دے دی ہے کہ ان کے سمن کے مطابق میں 6 مارچ کو حاضر رہوں گا۔ شفافیت کو مدنظر رکھتے ہوئے میری کمیٹی سے گزارش ہے کہ کارروائی کی براہِ راست نشریات کی جائیں۔
دہلی اسمبلی کی خصوصی اختیارات کمیٹی کو خط لکھتے ہوئے اروند کیجریوال نے کہا ہے کہ مجھے دہلی اسمبلی کے طریقۂ کار اور قواعدِ کار کے ضابطہ 172 اور 220 کے تحت 18 فروری 2026 کو جاری کیا گیا سمن موصول ہو گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں 6 مارچ 2026 کو دوپہر 3 بجے اس نوٹس کی تعمیل میں خصوصی اختیارات کمیٹی کے سامنے مقررہ مقام پر ذاتی طور پر پیش ہوں گا۔انہوں نے واضح کیا کہ میری یہ پیشی میرے قانونی اور آئینی حقوق پر کسی بھی منفی اثر کے بغیر ہوگی۔ میرے تمام قانونی اقدامات، اعتراضات اور دعوے مکمل طور پر محفوظ رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ شفافیت اور عوامی جوابدہی کے مفاد میں میرا مطالبہ ہے کہ اس معاملے میں کمیٹی کی کارروائی کو لائیو اسٹریم کیا جائے۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر1 year agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
بہار3 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
بہار9 months agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ1 year agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
دلی این سی آر1 year agoکجریوال کاپجاری اور گرنتھی سمان اسکیم کا اعلان
