Connect with us

اتر پردیش

تعاون اور ہم آہنگی سے ملتی ہےعملی زندگی میں کامیابی: پروفیسر ثوبان سعید

Published

on

لینگویج یونیورسٹی کے شعبۂ اردو میں نو وارد طلبہ کے لیےاستقبالیہ تقریب
(پی این این)
لکھنؤ: خواجہ معین الدین چشتی لینگویج یونیورسٹی کے شعبہ ٔ اردو میں نو وارد طلبہ کے لیے استقبالیہ تقریب کا انعقاد بزم ادب کی جانب سے کیا گیا۔ اس تقریب میں بی اے سال اول اور ایم سال اول کا استقبال کیا گیا ۔ اس استقبالیہ تقریب میںپی ایچ ڈی کے طالب علم اور بزم ادب کے سکریٹری محمد نسیم نے طلبہ اور اساتذہ کا خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ اگرچہ یہ تقریب کچھ تاخیر سے منعقد ہو رہی ہے مگر دیر آید درست آیدکے مصداق یہ ایک خوشگوار موقع ہے۔انھوں نے اپنے اسقبالیہ کلمات میں اردو زبان و ادب میں بی اے اور ایم اے کرنے والے طلبہ ان معنوں میں خوش نصیب ہیں کہ انھیں ادبی نگارشات کے توسط سے حیات و کائنات کے ایسے اسرار سےآگہی ہوتی ہے جو زندگی کے پر پیچ مراحل سے سرخرو گزرنے میں ان کی رہنمائی کر سکتے ہیں ۔
انھوں نے زبان اور کلچر کے ربط باہم کے تناظر میں اردو پڑھنے کی اہمیت کو بیان کیا اور نووارد طلبہ سے کہا کہ اس شعبے کی انفرادیت یہ ہے کہ یہاں کے اساتذہ کلاس روم کی تدریس کے ساتھ طلبہ کی تعلیمی اور اخلاقی تربیت میں ہر وقت ان کی رہنمائی کرتے ہیں۔محمد نسیم کے استقبالیہ کلمات کے بعد نو واردریسرچ اسکالرس ،ایم اے سال اول اور بی اے سال اول کے طلبہ نے اپنا تعارف پیش کیا اور کہا کہ اس یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم کے حصول کے بعد وہ ایک ذمہ دار شہری بننے کی کوشش کریں گے تاکہ اپنے سماج اور ملک کی ترقی و خوشحالی میں تعاون کر سکیں۔ ان طلبہ نے اساتذہ کو یہ یقین دلایا کہ وہ پوری محنت اور دیانت داری کے ساتھ تعلیم حاصل کریں گے تاکہ زبان اور کلچر کے تحفظ میں فعال کردار ادا کر سکیں۔
اس استقبالیہ تقریب میں شعبہ ٔ اردو کے صدر پروفیسر ثوبان سعیدپنے اپنے خطاب میں نو وارد طلبہ کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی کی زندگی محض کتابی علم تک محدود نہیں ہوتی بلکہ یہ انسانی شخصیت، سوچ اور صلاحیتوں کو نکھارنے کا سنہرا دور ہوتا ہے۔ انھوں نے طلبہ کو یقین دلایا کہ شعبۂ اردو کے اساتذہ اور سینئر طلبہ ہر مرحلے پر ان کی رہنمائی، مدد اور حوصلہ افزائی کے لیے موجود رہیں گے تاکہ تعلیمی سفر ان کے لیے آسان اور بامقصد بن سکے۔انھوں نے طلبہ کو مشورہ دیا کہ وہ یونیورسٹی کے ماحول سے بھرپور فائدہ اٹھائیں، نظم و ضبط اور وقت کی قدر کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں، خود اعتمادی کو مضبوط رکھیں اور مسلسل سیکھنے کا جذبہ پیدا کریں۔ پروفیسر ثوبان سعید نے اس بات پر زور دیا کہ عملی زندگی میں کامیابی اُسی کو ملتی ہے جو تعاون، ہم آہنگی اور اتفاق کے ساتھ آگے بڑھتا ہے۔ آخر میں انھوں نے طلبہ کے روشن، کامیاب اور باوقار مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔اس موقع پر پروفیسر فخر عالم نے استقبالیہ تقریب کے کامیاب انعقاد پر بزمِ ادب کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ شعبۂ اردو کی یہ روایت نہایت قابلِ قدر ہے کہ وہ ہر سال نو وارد طلبہ کے لیے اس نوعیت کے پروگرام منعقد کرتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بزمِ ادب محض ایک ادبی انجمن نہیںبلکہ یہ طلبہ کی فکری تربیت، تخلیقی صلاحیتوں کی آبیاری اور ادبی ذوق کی نشوونما کا اہم پلیٹ فارم ہے۔
پروفیسر فخر عالم نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ ایسی تقریبات طلبہ میں اعتماد، بیان کی مہارت، تخلیقی شعور اور علمی وابستگی کے جذبات کو مضبوط کرتی ہیں۔انھوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ شعبۂ اردو کے اساتذہ بزمِ ادب کی سرگرمیوں کے ذریعے طلبہ کو کلاس روم سے باہر ایک وسیع علمی فضا فراہم کرتے ہیںجہاں وہ اپنی صلاحیتوں کو آزما سکتے ہیں اور اپنی شخصیت کو بہتر طور پر نکھار سکتے ہیں۔ اس تقریب میں طلبہ نے غزلیں ،نظمیں ،مزاحیہ تقاریر،ادبی لطائف اور دیگر تخلیقی مظاہرے پیش کئے۔اس کے ساتھ ہی بزم ادب کے زیر اہتمام مقابلہ جاتی نشست منعقد ہوئی جس میں طلبہ نے بھرپور حصہ لیا۔اس تقریب کی نظامت ریسرچ اسکالر حسن اکبر اور شکریے کے کلمات ریسرچ اسکالر عبداللہ نے ادا کئے۔

اتر پردیش

اسمارٹ میٹر صارفین کیلئے بن گئے درد سر ،عوام کاایس ڈی او آفس میں ہنگامہ

Published

on

(پی این این)
دیوبند:محکمہ بجلی لوگوں کے گھروں میں اسمارٹ میٹر لگانے کی مہم شروع کر رہا ہے۔ تاہم ا سمارٹ میٹرز کی تنصیب کے بعد صارفین کو صرف مشکلات کا سامنا ہے۔ جیسے ہی بیلنس نیگیٹیو ہوتاہے،ا سمارٹ میٹر ان کے گھروں میںا ندھیرا کر دیتے ہیں، جس سے بہت زیادہ تکلیف ہوتی ہے۔ اس مسئلے سے دوچار درجنوں مرد و خواتین ایس ڈی او آفس پہنچ گئے اور ہنگامہ کیا۔
دیوبند میں جن صارفین نے اسمارٹ میٹر لگائے ہیں ان کا کہنا ہے کہ یہ اسمارٹ میٹر ان کے لیے درد سر بن گئے ہیں۔ ان کے مسائل حل کرنا بھول جائیں، ان کی بات سننے والا بھی کوئی نہیں۔ جیسے ہی بل منفی نشان پر پہنچتا ہے، بجلی خود بجو کٹ ہوجاتی ہے، انہیں لکھنؤ فون کرنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔ بل ادا کرنے کے بعد بھی دو دن تک ان کے گھروں میں اندھیرا رہتا ہے۔ ان خدشات کو اجاگر کرنے کے لیے مرد و خواتین کی بڑی تعداد ریلوے روڈ پر واقع ایس ڈی او آفس پہنچ گئی اور زبردست ہنگامہ کیا۔
احتجاج کرنے والی کئی خواتین نے الزام لگایا کہ انہیں بل ادا کیے آٹھ دن بھی نہیں ہوئے تھے کہ بجلی کی سپلائی دوبارہ منقطع کر دی گئی۔ کچھ خواتین نے بتایا کہ ان کے گھر کی بجلی ان کے موبائل فون سے منسلک ہو گئی ہے۔ ان کے پاس اسمارٹ فون بھی نہیں تھے تو ان کا مسئلہ کیسے حل ہوتا؟ ایس ڈی او سنتوش کمار نے ناراض صارفین کو پرسکون کیا اور انہیں یقین دلایا کہ ان کے مسائل کو جلد حل کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ اسمارٹ میٹرز کی تنصیب کے بعد کم پڑھے لکھے اور معاشی طور پر کمزور صارفین کو زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ واضح رہے کہ اگر وہ اسمارٹ میٹرز کی تنصیب کے بعد بلاتعطل بجلی کی فراہمی چاہتے ہیں تو انہیں یو پی سی ایل اسمارٹ میٹر ایپ پر بیلنس ان پلس رکھنا ہوگا۔ جیسے ہی بیلنس منفی میں جاتا ہے، بجلی کی سپلائی خود بخود بند ہو جاتی ہے جس سے صارفین کے گھر اندھیرے میں ڈوب جاتے ہیں۔

Continue Reading

اتر پردیش

سابق ایم ایل سی حاجی اقبال مفرور اقتصادی مجرم قرار، 5ہزار کروڑ کی جائیدادیں ضبط

Published

on

(پی این این)
دیوبند:بہوجن سماج پارٹی کے سابق ایم ایل سی حاجی محمد اقبال کو مفرور اقتصادی مجرم قرار دے دیا گیا ہے۔ لکھنؤ کی ایم پی، ایم ایل اے خصوصی عدالت نے اس سلسلے میں اہم حکم جاری کیا، جس کے بعد ان کے خلاف قانونی کارروائی مزید تیز ہو گئی ہے۔ حاجی اقبال کے خلاف سہارنپور میں پہلے ہی پولیس اور ضلع انتظامیہ کی جانب سے مختلف مقدمات میں سخت کارروائیاں جاری ہیں۔
اطلاعات کے مطابق فروری 2026 میں تقریباً 275 کروڑ روپے مالیت کی 50 جائیدادیں قرق کی جا چکی ہیں، جبکہ اس سے قبل 203 کروڑ روپے کی 184 جائیدادوں کی نشاندہی کر کے ان پر بھی کارروائی عمل میں لائی گئی تھی۔ ذرائع کے مطابق گینگ سے وابستہ کئی بے نامی جائیدادوں کی بھی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے بھی حاجی اقبال کی ملک اور بیرون ملک جائیدادوں کے خلاف سخت قدم اٹھاتے ہوئے اب تک پانچ ہزار کروڑ روپے سے زائد مالیت کی املاک ضبط کر لی ہیں، جبکہ مزید تقریباً ایک ہزار کروڑ روپے کی جائیدادوں پر بھی کارروائی کی تیاری کی جا رہی ہے۔
حاجی اقبال اور ان کے قریبی افراد کے خلاف گینگسٹر ایکٹ، غیر قانونی کان کنی، زمینوں پر قبضہ، دھوکہ دہی اور دیگر سنگین الزامات کے تحت مختلف تھانوں میں مقدمات درج ہیں۔ فروری میں تحصیل انتظامیہ نے مرزا پور اور بہٹ پولیس کے ساتھ مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے تقریباً 275 کروڑ روپے مالیت کی زمینوں کو قرق کیا تھا، جن میں شیرپور پیلو، شاہ پور گاڑہ، مرزا پور، علی اکبر پور اور روشن پور پیلو کے علاقے شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق حاجی اقبال ان کے بیٹوں اور قریبی ساتھیوں کے خلاف سال 2022 میں گینگسٹر ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا، جس کی بنیاد پر ان کی منقولہ و غیر منقولہ جائیدادوں کی مسلسل نشاندہی اور ضبطی کی کارروائی جاری ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل بھی ضلع انتظامیہ اور پولیس حاجی اقبال گینگ کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں انجام دے چکی ہے، جن میں سینکڑوں کروڑ روپے مالیت کی جائیدادیں اور سینکڑوں بیگھہ اراضی پہلے ہی ضبط کی جا چکی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ غیر قانونی ذرائع سے حاصل کی گئی دولت کے خلاف کارروائی آئندہ بھی جاری رہے گی۔

Continue Reading

اتر پردیش

اے ایم یو میں حج تربیتی ورکشاپ کا اہتمام

Published

on

(پی این این)
علی گڑھ :علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے کلچرل ایجوکیشن سینٹر اور حج ویلفیئر سوسائٹی آف انڈیا کے زیر اہتمام اے ایم یو کے کینیڈی ہال میں ایک روزہ حج ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔مہمانِ خصوصی اے ایم یو کے پرو وائس چانسلر پروفیسر ایم محسن خان نے اپنے حج کے تجربات بیان کرتے ہوئے عازمین حج کو تلقین کی کہ جو افراد بزرگ حجاج کے ساتھ جا رہے ہیں وہ ان کا خاص خیال رکھیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عازمین اپنے ملک اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے لیے دعائیں کریں۔ ساتھ ہی انہوں نے تمام عازمین کا شکریہ بھی ادا کیا۔
ورکشاپ میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں تعینات رہنے والے ہندوستانی کوآرڈینیٹر الحاج مونس خان نے حج کے دوران پیش آنے والی مشکلات اور احتیاطی تدابیر کو پروجیکٹر کے ذریعے بڑی اسکرین پر علی گڑھ، ہاتھرس، ایٹہ اور کاس گنج کے عازمین حج کو تفصیل سے سمجھایا۔ انہوں نے بتایا کہ کسی بھی پریشانی کی صورت میں ہندوستانی حکومت کی جانب سے قائم کیے گئے کیمپوں سے رابطہ کریں، جہاں 24 گھنٹے عملہ، خدمت کے لیے موجود رہتا ہے۔ ان کیمپوں پر ہندوستانی پرچم لگا ہوتا ہے اور عملہ بھی پرچم والی شرٹ پہنے ہوتا ہے، جس سے انہیں آسانی سے پہچانا جا سکتا ہے۔
مونس خان نے تصاویر اور ویڈیوز کے ذریعے راستوں کی معلومات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ 40 سے 50 لاکھ سے زائد حجاج میں اکثر لوگ سعودی قوانین سے ناواقفیت کے باعث مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں، جبکہ وہاں کے قوانین بہت سخت ہیں۔ انہوں نے منیٰ، عرفات، مزدلفہ اور جمرات جیسے مقامات کو بھی بڑی اسکرین پر دکھا کر وضاحت کی۔ انہوں نے تاکید کی کہ حجاج اپنی اسمارٹ واچ ہر وقت ہاتھ میں باندھے رکھیں اور شناختی کارڈ گلے میں ضرور پہنیں۔
حج ویلفیئر سوسائٹی کے صدر حاجی توفیق احمد خان نے پروجیکٹر کے ذریعے حج کے پانچ اہم دنوں کے تمام ارکان اور دینی معلومات سے حجاج کو آگاہ کیا۔ اس کے ساتھ علی گڑھ کے حج ٹرینر عبدالشاکر نے فضائی سفر اور دورانِ حج پیش آنے والی چھوٹی بڑی مشکلات کے بارے میں بتایا، نیز بیرونِ ملک سفر کے دوران پیش آنے والی دشواریوں پر بھی روشنی ڈالی۔
ڈاکٹر ذوالفقار، سابق حج آفیسر نے کہا کہ عازمینِ حج کو چاہیے کہ وہ نُسُک (Nusuk) ایپ کے ذریعے ریاض الجنہ کی بکنگ پہلے سے کر لیں، اور ہر حاجی کے اسمارٹ فون میں حج سہولت ایپ کا ہونا لازمی ہے۔اس موقع پر حاجی شبیر، محمد عدنان، حاجی املاک، حاجی اخلاق سمیت دیگر افراد بھی موجود تھے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network