Connect with us

اتر پردیش

خواجہ معین الدین چشتی لینگویج یونیورسٹی میں سردار ولبھ بھائی پٹیل کی جینتی پر’رن فار یونٹی‘ کا انعقاد

Published

on

(پی این این)
لکھنؤ:خواجہ معین الدین چشتی لینگویج یونیورسٹی میں سردار ولبھ بھائی پٹیل جینتی نہایت جوش و خروش اور قومی جذبے کے ساتھ منائی گئی۔ اترپردیش کی گورنر اور یونیورسٹی کی چانسلر آنندی بین پٹیل کی ہدایات کے مطابق شعبۂ جغرافیہ کے زیرِ اہتمام ” سردار پٹیل اور قومی یکجہتی ” کے عنوان سے ایک خصوصی پروگرام کا انعقاد کیا گیا، جس میں سردار ولبھ بھائی پٹیل کی قومی خدمات اور ان کی قیادت کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔پروگرام کے اختتام کے ” اتحاد دوڑ” (Run for Unity) کا انعقاد کیا گیا جس کا آغاز ابوالکلام آزاد اکیڈمک بلاک سے ہوا اور دوڑ کا اختتام یونیورسٹی کیمپس سے باہر واقع تھینکیو گیٹ پر ہوا۔ اس موقع پر وائس چانسلر پروفیسر اجے تنیجا نے ہری جھنڈی دکھا کر دوڑ کا آغاز کیا۔
اپنے خطاب میں پروفیسر اجے تنیجا نے سردار ولبھ بھائی پٹیل کی ہمہ جہت شخصیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا:“سردار ولبھ بھائی پٹیل نہ صرف ایک عظیم سیاست داں تھے بلکہ وہ جدید ہندوستان کے معماروں میں سے ایک تھے۔ اُن کی عملی سوچ، مضبوط ارادہ، اور غیر متزلزل عزم نے آزاد ہندوستان کی بنیادوں کو مستحکم کیا۔ اُنہوں نے جس تدبر اور جرأت مندی کے ساتھ مختلف ریاستوں کو ایک متحد ہندوستان کی شکل میں جوڑا، وہ تاریخ کا ناقابلِ فراموش کارنامہ ہے۔ اُن کی شخصیت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ سچا قائد وہی ہے جو قوم کو جوڑتا ہے، توڑتا نہیں۔”پروفیسر تنیجا نے طلبہ و طالبات کو پیغام دیتے ہوئے مزید کہا کہ قومی یکجہتی کا جذبہ صرف تقریروں یا تقریبات تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے عملی زندگی کا حصہ بنانا ہی سردار پٹیل کو سچا خراجِ عقیدت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ:“آئیے ہم سب مل کر سردار پٹیل کے خوابوں کا ہندوستان بنانے کے لیے عزم کریںاور ایسا ہندوستان جو متحد، مضبوط اور ترقی یافتہ ہو۔ یہی وکست بھارت 2047’ کا حقیقی مقصد ہے، اور اسی میں سردار پٹیل کے نظریات کی روح پوشیدہ ہے۔
اس موقع پرمہمان خصوصی ڈاکٹر منجول ترویدی نے” سردار ولبھ بھائی پٹیل کے ایک متحد و اکھنڈ بھارت کے تصور” کے موضوع پر اپنا کلیدی خطبہ پیش کیا۔ انھوںنے اپنے کلیدی خطبے کا آغاز سردار ولبھ بھائی پٹیل کی مختصر سیرت اور ان کے دورِ قیادت کے تاریخی پس منظر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کیا۔ انھوں نے کہا کہ سردار پٹیل نے جس عملی بصیرت، نظمِ عمل اور غیر متزلزل عزم کے ساتھ آزاد ہندوستان کے خطرے میں پڑے ہوئے سیاسی اور جغرافیائی تانے بانے کو جوڑاوہ کسی محض نظریاتی قائدے سے بڑھ کر ایک عہدِ عمل کی مثال ہے۔انھوں نے بتایا کہ پٹیل نے جہاں ضرورت پڑی سخت موقف اختیار کیا وہیں مذاکرات اور سمجھوتے کے ذریعے بھی بہت سی ریاستوں کو مرکز کے ساتھ جوڑا۔ اس توازن کو انھوں نے نرمی کے ساتھ مضبوطی قرار دیا۔
اس موقع پر ڈاکٹر راہل مشرا نے وکست بھارت پر تفصیل کے ساتھ گفتگو کی اور ان پالیسیوں کو بھی اجاگر کیا جن کے ذریعے نئے بھارت کی تعمیر ممکن ہوسکے گی۔پروفیسر حیدر علی نے بھی اس موضوع پر تفصیل کے ساتھ گفتگو کی ۔اس پروگرام کی نظامت ڈاکٹر پریا دیوی اور شکریے کے کلمات ڈاکٹر نلنی مشرا نے ادا کیا۔اس پروگرام کے آخر میں ہندوستان کو متحد رکھنے کا حلف بھی لیا گیا۔اس موقع پر تمام اساتذہ اور طلبہ کثیر تعداد میں موجود تھے۔

uttar pradesh

امروہہ: سماج وادی پارٹی نے انتخابات کی تیاریوں کابجایا بگل

Published

on

(پی این این)
امروہہ:سماج وادی پارٹی اسمبلی حلقہ امروہہ کا ایک اہم اور پرجوش کارکنان اجلاس شہر کے وسط میں واقع شہنائی اتسو منڈپ بینکٹ ہال میں منعقد ہوا، جس میں پارٹی عہدیداران، سیکٹر اور بوتھ سطح کے کارکنان، نوجوانوں اور حامیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اجلاس میں آئندہ 2027 اسمبلی انتخابات کی تیاریوں، تنظیمی مضبوطی اور عوامی رابطہ مہم کو مزید تیز کرنے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ پروگرام میں مہمانِ خصوصی رکن اسمبلی امروہہ و صدر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اتر پردیش حاجی محبوب علی اور نوجوان لیڈر و سابق ایم ایل سی پرویز علی نے خصوصی طور پر شرکت کرتے ہوئے کارکنان سے خطاب کیا۔
اجلاس کے آغاز پر پارٹی کارکنان نے مہمانان کا پُرجوش استقبال کیا۔ اس دوران “جئے سماج واد”، “اکھلیش یادو زندہ باد” اور “پی ڈی اے سماج کے حقوق کی آواز” جیسے نعروں سے پورا ہال گونج اٹھا۔ کارکنان میں خاصا جوش و خروش دیکھنے کو ملا اور نوجوان کارکنان کی بڑی تعداد اجلاس کا مرکز بنی رہی۔اپنے خطاب میں حاجی محبوب علی نے کارکنان کو سماج وادی پارٹی کی اصل طاقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی سیاسی جماعت کی کامیابی اس کے مخلص اور متحرک کارکنان سے وابستہ ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب اسمبلی انتخابات میں ایک سال سے بھی کم وقت باقی رہ گیا ہے، اس لیے ہر کارکن کو ابھی سے میدان میں اتر کر عوام کے درمیان جانا ہوگا۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی کے قومی صدر اور پی ڈی اے جن نائیک اکھلیش یادو کے پیغامات، سماج وادی پارٹی کی عوامی پالیسیوں اور موجودہ حکومت کی ناکامیوں کو گھر گھر پہنچایا جائے۔
حاجی محبوب علی نے موجودہ حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آج اتر پردیش کا عام آدمی شدید مشکلات کا شکار ہے۔ بجلی کی قلت، بڑھتی بے روزگاری، مہنگائی، کسانوں کے مسائل اور نوجوانوں کی مایوسی نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ غریب، مزدور، کسان، تاجر اور متوسط طبقہ سبھی پریشان ہیں لیکن حکومت عوامی مسائل کے حل کے بجائے صرف تشہیر میں مصروف ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں عوام خود کو بے سہارا محسوس کر رہی ہے جبکہ سماج وادی پارٹی ہی ایک ایسی جماعت ہے جو ہر طبقہ کی حقیقی آواز بن کر سامنے آ رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اکھلیش یادو نے ہمیشہ ترقی، تعلیم، صحت، روزگار اور سماجی انصاف کی سیاست کو فروغ دیا ہے۔ سماج وادی حکومت کے دور میں سڑکیں، میڈیکل کالج، ایکسپریس وے، لیپ ٹاپ اسکیم، ایمبولینس سروس اور عوامی فلاح کے متعدد منصوبے شروع کیے گئے تھے، جنہیں آج بھی لوگ یاد کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج ملک بھر کے غریب، پسماندہ، دلت، اقلیت اور محروم طبقات کی سب سے مضبوط آواز صرف اکھلیش یادو ہیں۔اس موقع پر نوجوان لیڈر اور سابق ایم ایل سی پرویز علی نے اپنے خطاب میں کہا کہ سماج وادی پارٹی کا ہر کارکن ایک مجاہد کی حیثیت رکھتا ہے جو ناانصافی، ظلم اور جبر کے خلاف ڈٹ کر کھڑا رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کارکنان نے ہمیشہ مشکل حالات میں بھی پارٹی کا پرچم بلند رکھا۔ پرویز علی نے کہا کہ موجودہ وقت میں نفرت اور تقسیم کی سیاست کو ختم کرنے کے لیے سماج وادی نظریہ کو مزید مضبوط کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کارکنان کو کسی بھی دباؤ یا خوف کے بغیر عوامی مسائل کے لیے آواز اٹھاتے رہنا چاہیے۔
اجلاس کے دوران متعدد مقامی عہدیداران اور کارکنان نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور تنظیم کو مزید مضبوط بنانے کا عزم دہرایا۔ بوتھ سطح پر تنظیم کو فعال کرنے، نوجوانوں اور خواتین کی زیادہ سے زیادہ شمولیت اور عوامی رابطہ مہم کو تیز کرنے پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔پروگرام کے اختتام پر پارٹی قیادت نے تمام کارکنان سے اتحاد، نظم و ضبط اور مستقل محنت کے ساتھ میدان میں کام کرنے کی اپیل کی۔ کارکنان نے بھی اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ آئندہ اسمبلی انتخابات میں سماج وادی پارٹی کو تاریخی کامیابی دلانے کے لیے پوری طاقت کے ساتھ کام کریں گے۔ اس موقع پر مسترام یادو ششیکانت گوئل ویربھان سنگھ یادو نرموج یادو نسیم۔خاں اقرار احمد انصاری ستار پردھان اقبال خاں نموج پوان ومپال سنگھ نفیس چودھری انذار حسین ساجد علی ریاض الحسن راجکمار یادو گڈو گھوسی رادھا لال ویر پال گرجر وغیرہ موجود رہی۔

Continue Reading

uttar pradesh

نواز گرلز پبلک اسکول میں طالبات کی حوصلہ افزائی کے لئے ’انڈیا ان ون فریم‘ کی تھیم پر اعزازی تقریب کا انعقاد

Published

on

(پی این این)
دیوبند:نواز گرلز پبلک اسکول دیوبند کے بانی و سرپرست ڈاکٹر نواز دیوبندی نے کہا کہ گزشتہ سالوں کی طرح امسال بھی ادارہ کا رزلٹ صد فیصد رہا ہے۔ نواز گرلز پبلک اسکول دیوبند میں جن طالبات نے دسویں جماعت اور بارہویں میں سب سے زیادہ نمبر لے کر نمایاں کامیابی حاصل کی ہے ان طالبات کی حوصلہ افزائی کے لئے آنے والی 26 مئی کی شام کو ’انڈیا ان ون فریم‘ کی تھیم پر ایک اعزازی تقریب کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ جس میں طالبات کو اعزازی اسناد، انعامات اور تحائف سے نوازا جائیگا۔
انہوں نے بتایا کہ ’انڈیا ان ون فریم‘ کی تھیم کے مطابق سماج کو اتحاد اور بھائی چارہ کا پیغام دینے کے مقصد سے اس اعزازی تقریب میں ہندو، مسلم، سکھ اور عیسائی مذہب سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں کو مدعو کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر نواز دیوبندی نے کہاکہ اس اعزازی تقریب میں ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے معروف کوی ڈاکٹر ہری اوم پنوار، مسلم مذہب سے تعلق رکھنے والے مولانا آزاد یونیورسٹی جودھپور کے سابق وائس چانسلر پروفیسر اختر الواسع، سکھ مذہب سے تعلق رکھنے والے کیندر یہ ودیالیہ دہرادون کے سابق پرنسپل اور رائٹر ڈاکٹر اندر جیت سنگھ اور عیسائی مذہب سے تعلق رکھنے والے سیکر یڈ ہارٹ چرچ سہارنپور کے پادری فادر جون چیمین مہمان خصوصی کے طور پر جبکہ ایس ڈی ایم دیوبند وجے سنگھ، سی او دیوبند ابھیتیش سنگھ، نگر پالیکا پریشد دیوبند کے چیئر مین وپن گرگ اور سماجی و ادبی تنظیم محفل یاراں کے صدر ایس پی سنگھ بٹو مہمان ذی وقار کے طور پر شرکت کریں گے۔
ڈاکٹر نواز دیوبندی نے ادارہ میں زیر تعلیم بچیوں کے والدین اور سرپرستان سے پروگرام میں شرکت کر طالبات کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی کرنے کی اپیل کی۔

Continue Reading

uttar pradesh

دیوبند:شاہ ولی اللہ اسلامک اکیڈمی میںپیغام حج و قربانی کے عنوان سے پروگرام کاانعقاد

Published

on

(پی این این)
دیوبند:شاہ ولی اللہ اسلامک اکیڈمی جامع مسجد حوضوالی لوہیا بازار میں محفل پیغام حج و قربانی کے عنوان سے منعقد کی گئی ۔محفل میں بطور مہمان خصوصی جامعہ مظاہر علوم جدید سہارنپور کے شیخ القراء مولانا قاری محمد مسعود مظاہری فلاحی نے شرکت کی ۔
اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے عید الاضحی کے موقع پر قربانی میں احتیاط حالات حاضرہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اکابر علماء دیوبند کی ممانعت کی وجہ سے کوئی شخص بھی ممنوعہ جانور کی قربانی نہیں کرتا اور نہیں کسی کو کرنی چاہیے ۔آپ نے کہا خوش دلی اور اخلاص کے ساتھ ہر صاحب استطاعت کو قربانی کا اہتمام کرنا چاہتے ۔محفل کی صدارت معروف عالم دین مفسر قرآن مفتی ظہیر احمد قاسمی علیگ نے کی ۔
اس موقع پر سابق ممبر اقلیتی کمیشن حکومت اترپردیش مفتی ذوالفقار علی قاسمی مولانا محمد جمشید قاسمی شیخ الحدیث معہد البنات اسلامی مفتی حکیم عبدالستار قاسمی مولانا محمد مسیح اللہ مظاہری سینئر ایڈوکیٹ محبوب عالم انصاری نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔محفل پیغام حج و قربانی کی نظامت بانی اکیڈمی الحاج قاری محمد خالد بشیر قاسمی نقشبندی نے کی اور اکیڈمی کی جانب سے عیدالاضحی اور احتیاطی تدابیر کے عنوان سے گائیڈ لائن چارٹ پیش کیا جسکو علماء کرام ودانشوران کی منظوری کے بعد جاری کیا گیا اور عوام الناس سے اپیل کی گئی کہ حکومتی قوانین کے ساتھ ملی تنظیموں و علمی اداروں کی جانب سے شائع کی جارہی ہدایات پر مکمل عمل پیرا ہوں۔
محفل میں ہندوستانی عازمین حج کے نام ایک پیغام بھی جاری کیا گیا جس میں بیرون ملک سفر حج کے دوران اپنے وطن کی بہترین نمائیندگی کرنے دوران حج مناسک کو صبر و سکون کے ساتھ ادا کرنے اور وطن عزیز و ملت اسلامیہ ہند کو اپنی خصوصی دعاؤں میں یاد رکھنے کی درخواست کی گئی ہے ۔اکیڈمی کی جانب سے شائع کے گ خطبہ حجہ الوداع کا اجراء بھی عمل میں آیا ۔
آخیر میں اکیڈمی کی جانب سے علماء کرام ائمہ مساجد اور بزرگ شخصیات کو شدید گرمی کے موسم میں دھوپ سے حفاظت کے لئے بطور گفٹ چھاتے بھی تقسیم کئے گئے ۔ محفل میں مولانا اشارت علی قاسمی قاری محمد ظریف قاری محمد غفران صحافی سہیل احمد خان سماجی کارکن محمد شعبان محمد عبداللہ خاص طور پر شریک رہے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network