اتر پردیش
ڈاکٹر لکشمی نے سر سید احمد خاں کو خراج عقیدت کے طور پر اپنی متاثر کن پینٹنگ اے ایم یو وائس چانسلر کو پیش کی
(پی این این)
علی گڑھ: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کی اسکول ٹیچر اور معروف آرٹسٹ ڈاکٹر لکشمی نے بانیئ درسگاہ سر سید احمد خاں ؒ کی زندگی اور وژن سے متاثر ہو کر ایک دلکش پینٹنگ تخلیق کی۔ یہ فن پارہ سر سید کی جدوجہد، عزم اور مشکلات کے باوجود یونیورسٹی کی بنیاد رکھنے کی ان کی انتھک کوششوں کو خوبصورت انداز میں پیش کرتا ہے۔
اے ایم یو اے بی کے ہائی اسکول (بوائز) کی ٹیچر ڈاکٹر لکشمی نے یہ پینٹنگ سر سید کے یوم پیدائش کے موقع پر اے ایم یو کی وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون کو پیش کی۔ ان کے ہمراہ یونیورسٹی کے دفتر رابطہ عامہ کی ممبر انچارج پروفیسر وبھا شرما بھی موجود تھیں۔
وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون نے ڈاکٹر لکشمی کے اس خوبصورت اقدام کو سراہتے ہوئے فن پارے اور فنکارہ دونوں کی ستائش کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ پینٹنگ سر سید کے وژن اور قومی تعمیر میں ان کے کردار کو نہایت خوبصورتی سے اجاگر کرتی ہے۔
اپنے تاثرات میں ڈاکٹر لکشمی نے سر سید کے اتحاد و ہم آہنگی کے پیغام کو یاد کرتے ہوئے ان کے الفاظ دہرائے کہ ”ہندو اور مسلمان اس قوم کی دو آنکھیں ہیں۔“ انہوں نے کہا کہ میں نے یہ پینٹنگ اس دور اندیش رہنما کو خراجِ عقیدت کے طور پر بنائی ہے، جس نے صبر، یقین اور مسلسل محنت کے ذریعے اس عظیم ادارے کی بنیاد رکھی۔ ڈاکٹر لکشمی نے مزید کہا کہ یہ فن پارہ اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ سر سید نے مشکلات، مخالفت اور تنقید کے باوجود اپنے مشن، تعلیم کے ذریعے قوم کو روشنی دینے سے قدم کبھی پیچھے نہیں ہٹائے۔ اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ان کے خواب کو آگے بڑھائیں اور اے ایم یو کو ملک کی صف اول کی یونیورسٹی بنائیں۔
اتر پردیش
اے ایم یو کا طلبا کیلئے ذہنی صحت بیداری ورکشاپ کی سیریز منعقد کرنے کا اعلان
(پی این این)
علی گڑھ: طلبہ کی ذہنی صحت کے سلسلہ میں ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) نے ”مائنڈ میٹرز: اسٹوڈنٹس ویلبیئنگ سیریز“کے عنوان سے ورکشاپ کی ایک سیریز منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ پہل ڈین آف اسٹوڈنٹس ویلفیئر (ڈی ایس ڈبلیو) کی جانب سے ایڈوانسڈ سینٹر فار ویمنس اسٹڈیز (اے سی ڈبلیو ایس) اور غیرسرکاری سماجی تنظیم انکلوزیو فیوچرز فاؤنڈیشن کے اشتراک سے کی جا رہی ہے۔
”ہر طالب علم صرف اچھے نمبر ہی نہیں بلکہ ایک صحت مند ذہن کا بھی حقدار ہے“ کے عنوان سے منعقد ہونے والی اس سیریز کا مقصد طلبہ کو ذہنی تندرستی، حوصلہ مندی اور جذباتی استحکام کے لیے عملی تربیت فراہم کرنا ہے۔ اسٹوڈنٹس کاؤنسلنگ سینٹر، فیکلٹی آف سوشل سائنسز اور جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج (جے این ایم سی)، اے ایم یو کے ماہرین اور کاؤنسلرز اپنی مہارت سے طلبہ و طالبات کو مستفید کریں گے۔
پروگرام کے ابتدائی مرحلے میں اے ایم یو کے مختلف اسکولوں میں ورکشاپ منعقد کی جائیں گی۔ اس سلسلہ کی پہلی ورکشاپ 16 اپریل کو ایس ٹی ایس اسکول (منٹو سرکل) میں منعقد ہوگی، اس کے بعد 22 اپریل کو اے بی کے گرلز اسکول، 25 اپریل کو سینئر سیکنڈری اسکول (بوائز) اور 29 اپریل کو سینئر سیکنڈری اسکول (گرلز) میں سیشن منعقد کیے جائیں گے۔
ورکشاپ میں دماغی و ذہنی صحت سے متعلق آگہی، گراؤنڈنگ تکنیک، برین جم ایکسرسائز، مائنڈفُلنیس پریکٹس، کوگنیٹیو ری اسٹرکچرنگ، گائیڈیڈ امیجری، کوگنیٹیو ری ہیبیلیٹیشن اور گبرش میڈیٹیشن جیسے موضوعات شامل ہوں گے۔ورکشاپ کی تنظیمی ٹیم میں پروفیسر اطہر انصاری (ڈی ایس ڈبلیو)، پروفیسر صبوحی خان (ڈپٹی ڈی ایس ڈبلیو)، پروفیسر نبی اللہ خان (ڈپٹی ڈی ایس ڈبلیو)، پروفیسر عذرا موسوی (ڈائریکٹر، اے سی ڈبلیو ایس) اور ڈاکٹر جوہی گپتا (اسسٹنٹ پروفیسر، اے سی ڈبلیو ایس اور صدر، انکلوزیو فیوچرز فاؤنڈیشن) شامل ہیں۔
اتر پردیش
خواجہ معین الدین چشتی لینگویج یونیورسٹی میں مشن شکتی کے تحت شعری نشست کا انعقاد
(پی این این)
لکھنؤ:خواجہ معین الدین چشتی لینگویج یونیورسٹی میں مشن شکتی کے تحت ایک بامقصد اور فکرانگیز شعری نشست و کاویہ پاٹھ کا انعقاد وائس چانسلر پروفیسر اجے تنیجا کی زیرِ نگرانی ہائبرڈ ہال ابوالکلام آزاد اکیڈمک بلاک میں کیا گیا۔ اس ادبی پروگرام کا بنیادی مقصد خواتین کے حقوق، ان کی آزادی، خودمختاری، مساوات اور بااختیار بنانے کے پیغام کو شاعری اور نظموں کے ذریعے طلبہ تک مؤثر انداز میں پہنچانا تھا۔ اس نشست نے ادب کو سماجی بیداری کے ایک طاقتور وسیلے کے طور پر پیش کیا، جہاں اشعار اور نظموں کے ذریعے عورت کے وجود، اس کی شناخت، اس کے خواب اور اس کے حقوق کو نہایت دلنشیں انداز میں اجاگر کیا گیا۔
اس موقع پر شعبۂ ہندی کی استاذ ڈاکٹر آرادھنا آستھانہ نے شعری نشست اور کاویہ پاٹھ کی معنویت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کاویہ پاٹھ ہندوستانی ادبی روایت کا ایک نہایت اہم حصہ ہے، جو نئی نسل کو اپنی تہذیبی جڑوں، اخلاقی اقدار اور سماجی شعور سے جوڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شاعری میں عورت صرف حسن و محبت کی علامت نہیں بلکہ طاقت، حوصلے، مزاحمت اور خود شناسی کی علامت بھی ہے۔ ان کے مطابق زبان و ادب کے ذریعے خواتین کے وقار، خودمختاری اور سماجی بیداری کے پیغام کو زیادہ گہرائی اور اثر پذیری کے ساتھ پیش کیا جا سکتا ہے۔
پروگرام کے دوران ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر شویتا اگروال نے اپنے خطاب میں کہا کہ مشن شکتی محض خواتین کے تحفظ کی مہم نہیں بلکہ ان کے ذہنی، تعلیمی، تخلیقی اور قائدانہ استحکام کا ایک مؤثر پلیٹ فارم ہے۔ انہوں نے کہا کہ شاعری اور ادبی اظہار طالبات کو اپنی آواز بلند کرنے، اپنے تجربات بیان کرنے اور اپنی شناخت کو مضبوط بنانے کا حوصلہ دیتا ہے۔ ان کے مطابق جب عورت اپنی بات شعر اور نظم کے پیرائے میں پیش کرتی ہے تو وہ صرف احساسات کا اظہار نہیں کرتی بلکہ اپنے حق، اپنی آزادی اور اپنی خودمختاری کا اعلان بھی کرتی ہے۔
اسی سلسلے میں لیگل اسٹڈیز کے ڈاکٹر انشل پانڈے نے اپنے بیان میں کہا کہ مشن شکتی خواتین کے قانونی حقوق، سماجی تحفظ اور انصاف تک رسائی کے شعور کو فروغ دینے کی ایک مضبوط مہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ شاعری ہمیشہ سے ظلم، ناانصافی اور سماجی نابرابری کے خلاف ایک توانا آواز رہی ہے۔ ادب اور قانون کا باہمی رشتہ معاشرے میں برابری، انصاف، احترامِ نسواں اور انسانی وقار کے تصور کو مضبوط کرتا ہے۔ ان کے مطابق جب حقوق کی زبان شاعری کے آہنگ سے ملتی ہے تو اس کا اثر دل و دماغ دونوں پر دیرپا ہوتا ہے۔
شعبۂ اردو کے ڈاکٹر ظفر النقی نے کہا کہ اردو شاعری کی روایت میں عورت کے کردار کو ہمیشہ ایک خاص مقام حاصل رہا ہے۔ کلاسیکی اور جدید اردو شاعری میں عورت کبھی محبت کی علامت، کبھی صبر و استقامت کی مثال اور کبھی مزاحمت، خودداری اور بیداری کی آواز کے طور پر سامنے آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیض، پروین شاکر، کشور ناہید اور فہمیدہ ریاض جیسے شعرا و شاعرات نے عورت کے احساسات، اس کے مسائل اور اس کے حقوق کو شاعری کا موضوع بنا کر سماج میں بیداری پیدا کی۔ ان کے مطابق اس طرح کی شعری نشستیں طلبہ میں زبان و ادب سے شغف پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ خواتین کے حقوق کے تئیں حساسیت، احترام اور سماجی ذمہ داری کے شعور کو بھی فروغ دیتی ہیں۔
اتر پردیش
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں بی ایس سی اور بی اے پروگراموں کے داخلہ امتحانات منعقد
(پی این این)
علی گڑھ: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) نے بیچلر آف سائنس (بی ایس سی)، بی ایس سی ایگریکلچر، بیچلر آف آرٹس (بی اے) اور بی اے فارین لینگویجز کورس میں داخلے کے لیے ملک بھر کے مختلف مراکز پر داخلہ امتحانات خوش اسلوبی کے ساتھ منعقد کئے۔
بی ایس سی اور بی ایس سی ایگریکلچر کے لیے صبح کے سیشن میں ہونے والے امتحان میں کل 9,339 درخواست دہندگان میں سے 7,828 امیدوار شریک ہوئے۔ یہ امتحانات علی گڑھ، لکھنؤ، کولکاتا، سری نگر، پٹنہ، کوژی کوڈ، امپھال اور کھاناپارہ (گوہاٹی) سمیت مختلف مراکز پر منعقد ہوئے۔بی اے اور بی اے فارین لینگویجز پروگراموں کے لیے 6,264 امیدواروں نے درخواست دی تھی، جن کے داخلہ امتحانات دوپہر 3 بجے سے شام 5 بجے تک منعقد ہوئے۔
کنٹرولر امتحانات ڈاکٹر مجیب اللہ زبیری نے امتحانات کے پُرامن اور منظم انعقاد پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تمام مراکز پر امتحانات خوش اسلوبی سے مکمل ہوئے۔ انھوں نے بتایا کہ سینئر اساتذہ کو مبصرین کے طور پر تعینات کیا گیا تھا، جبکہ علی گڑھ سے باہر کے مراکز پر نگراں مقرر کیے گئے تھے تاکہ بہتر تال میل کو یقینی بنایا جا سکے۔ امتحان میں شریک طلبہ اور ان کے والدین کی رہنمائی کے لیے یونیورسٹی کیمپس میں اہم مقامات پر نیشنل سروس اسکیم (این ایس ایس) کے خصوصی امدادی کیمپ بھی قائم کیے گئے تھے۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر1 year agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار5 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
بہار11 months agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ1 year agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ1 year agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
