Connect with us

دیش

افغانستان کےوزیرخارجہ نے دارالعلوم دیو بند کاکیا دورہ

Published

on

(پی این این)
دیوبند:افغانستان کے وزیرخارجہ مولانا امیرخاں متقی کے پس منظرمیں میڈیاکے نمائندوں نے جب جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا ارشدمدنی سے گفتگوکی توانہوں نے کہا کہ افغانستان سے ہماراعلمی اورروحانی ہی تعلق نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ ہمارے تہذیبی اورثقافتی رشتہ بھی رہے ہیں انہوں نے کہا کہ بات یہیں تک محدودنہیں ہے بلکہ ہندوستان کی جنگ آزادی سے بھی افغانستان کا ایک خاص رشتہ رہاہے، آج کی نئی نسل ہوسکتااس بات سے واقف نہ ہولیکن یہ ایک تاریخ ہے کہ جنگ آزادی کے دوران دارالعلوم دیوبند کے صدرالمدرسین شیخ الہند مولانا محمودحسن ؒکی ایماپر افغانستان میں ہی ہمارے مجاہدین آزادی نے ایک جلاوطن حکومت قائم کی تھی جس کا صدر راجہ مہندرپرتاب سنگھ کو بنایاگیاتھا، مولانا برکت اللہ جیسی اہم شخصیت وزیراعظم اورمولانا عبیداللہ سندھیؒ وزیرخارجہ تھے، انہوں نے آگے کہاکہ افغان عوام نے بھی غیر ملکی تسلط سے اپنے وطن کو آزادکرانے کے لئے ہمارے اکابرین کاطریقہ کارہی اختیارکیا، ہم نے اس برطانوی قوم سے طویل جدوجہد کے بعد آزادی حاصل کی جس کے بارے میں کہا جاتاتھا کہ اس کی حکمرانی کاسورج غروب نہیں ہوتااورافغان عوام نے روس وامریکہ جیسی بڑی طاقتوں کو دھول چٹاکر آزادی حاصل کی ہے، مگر اس میں قدرمشترک یہ ہے کہ اس کے لئے انہوں نے وہی طریقہ کاراختیارکیا جو ہمارے بزرگوں نے ہندوستان کو آزادکرانے کے لئے اختیارکیا تھا۔
قابل ذکرہے کہ 1991 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ جب افغانستان کا کوئی وفدوزیرخارجہ مولانا امیرخاں متقی کی سربراہی میں ہندوستان کے دورہ پر ہے، اس دورہ کے پروگراموں میں دارالعلوم دیوبند کا بھی دورہ شامل تھا، اپنے دیوبند دورہ کے دوران مولانا امیرخاں متقی نے دارالعلوم سے اپنی نسبت اورعقیدت کااظہارکرتے ہوئے بارباراسے مادرعلمی اوررروحانی مرکزکہہ کرمخاطب کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ افغان وزیرخارجہ بنیادی طورپرایک عالم دین ہیں اورانہوں نے پاکستان سے اس مدرسہ سے تعلیم حاصل کی ہے جس کا سنگ بنیادعظیم مجاہدآزادی مولانا حسین احمد مدنی ؒ کے ایک شاگردمولانا عبدالحق ؒنے رکھاتھا، اسی خاص تعلق کے بناپر دیوبند پہنچنے کے بعد افغانستان کے وزیرخارجہ نے جمعیۃعلماء ہندکے صدراوردارالعلوم دیوبندکے صدرالمدرسین مولانا ارشدمدنی سے خصوصی ملاقات بھی کی۔
میڈیاکی طرف سے پوچھے گئے سوالوں کے جواب میں مولانا مدنی نے یہ بھی کہا کہ دارالعلوم دیوبند کی شہرت عالمگیرہے اوریہاں پوری دنیا سے طلباتعلیم حاصل کرنے آتے ہیں ان میں افغانستان کے طلبابھی شامل ہیں، چنانچہ غیر ممالک سے اورخاص طورسے اسلامی ملکوں سے جو لوگ ہندوستان آتے ہیں وہ دارالعلوم دیوبند کو بھی دیکھنے کے خواہش مندرہتے ہیں، انہوں نے کہا کہ افغانستان کے وزیرخارجہ کا دیوبند دورہ اسی سلسلہ کی ایک کری ہے تاہم اس کے پیچھے علمی، روحانی، ثقافتی اورتہذیبی عوامل بھی کارفرماہیں، ایک اورسوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ ہم پرامید ہیں کہ اس دورہ سے ہندوستان اورافغانستان کے درمیان باہمی تعلقات مزیدمستحکم ہوں گے، ہندوستان کے وزیرخارجہ نے کابل میں ہندوستانی سفارت خانہ کو فعال کرنے کا اعلان کیاہے، اس سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلیمی اورتجارتی رشتوں میں بھی مزیدتیزی آئے گی، مولانا مدنی نے یہ امیدبھی ظاہر کی ہے کہ ہندوستان اورافغانستان کے قریب آنے سے پورے خطہ میں امن واستحکام کے قیام میں مددملے گی۔
قابل ذکر ہے کہ دورہ کے درمیان ایک اجلاس عام بھی ہونا تھا، مولوی امیرخاں متقی کو دیکھنے اورسننے کے لئے بڑی تعدادمیں لوگ باہر سے بھی آئے تھے مگر افغانستان کے وفدکے ہمراہ دہلی سے وزارت خارجہ کی جو ٹیم آئی تھی اس نے سیکورٹی کا حوالہ دیکر دورہ کو مختصرکرادیا چنانچہ اجلاس عام نہیں ہوسکا اس سے لوگوں کو سخت مایوسی ہوئی، دارالعلوم کے دورہ سے افغانستان کے وزیرخارجہ بہت خوش نظرآئے جس طرح یہاں ان کا والہانہ استقبال ہوااورمہمان نوازی کی گئی اس کی ستائش انہوں نے میڈیا کے ساتھ گفتگوکرتے ہوئے بھی کی اور اس کے لئے انہوں نے علماء دیوبند، تمام طلبااورعوام کا شکریہ بھی اداکیا۔

دیش

میوات ماب لنچنگ کے ملزم کی پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ میں ضمانت عرضی خارج

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی :پلوَل ضلع ہریانہ کے ایک نہایت حساس موب لنچنگ مقدمہ میں پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ نے ملزم نربیر عرف نرویر کی ضمانت کی عرضی مسترد کر دی ہے۔ جسٹس سوریہ پرتاپ سنگھ نے کریمنل کیس نمبر /2025 68227 کی سماعت کرتے ہوئے یہ فیصلہ صادر کیا ہے۔ آج عدالت میں جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی کی طرف سے مقرر کردہ وکیل ایڈوکیٹ روزی خاں نے جم کر بحث کی جو ماب لنچنگ میں شہید یوسف اور متاثرہ ڈرائیور روی کی طرف سے ہائی کورٹ میں اس مقدمے میں تعاون کررہی ہیں ۔
واضح ہو کہ 24 جنوری 2025 کو گاؤں اورنگ آباد میں دو گائے اور ایک بچھڑے کو ایک منی ٹرک کے ذریعے لے جایا جا رہا تھا۔ اسی دوران ایک ہجوم نے ٹرک ڈرائیور ’روی‘ اور ’یوسف‘ کو گھیر کر مبینہ طور پر شدید تشدد کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں شدید زخموں کے باعث ’یوسف‘ کی موت واقع ہوگئی۔اس سلسلے میں تھانہ منڈکٹی، ضلع پلوَل میں ایف آئی آر درج کرائی گئی ۔ اس مقدمہ میں کل نو ملزمان نامزد ہیںاور بقید ہیں۔
ملزم نربیر نے BNSS کی دفعہ 483 کے تحت ہائی کورٹ میں اپنی ضمانت عرضی دائر کی تھی۔ دفاعی فریق کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ ملزم کا نام ایف آئی آر میں شامل نہیں ہے اور اگرچہ CCTV فوٹیج میں اس کی موجودگی نظر آتی ہے، لیکن وہ مارپیٹ میں براہ راست ملوث دکھائی نہیں دیتا۔
دوسری طرف جمعیۃ علماء ہند کی طرف سے مقرر کردہ وکیل روزی خاں نے مضبوط دلائل کے ساتھ ضمانت کی مخالفت کی۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر دستیاب شواہد کی روشنی میں بادی النظر میں ملزم کی شمولیت ظاہر ہوتی ہے اور جرم کی نوعیت انتہائی سنگین ہے، اس لیے ضمانت نہیں دی جاسکتی۔
اس حساس مقدمہ کی قانونی پیروی جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی کی سرپرستی میں انجام دی جا رہی ہے۔ضلع و سیشن عدالت پلوَل میں جمعیۃ کی جانب سے ایڈوکیٹ ایشور سنگھ سورین مقدمہ کی پیروی کر رہے ہیں، جبکہ ہائی کورٹ چندی گڑھ میں ملزم کی ضمانت کی مخالفت کے لیے ایڈوکیٹ روزی خاں پیش ہوئیں۔ پورے مقدمہ کی قانونی حکمتِ عملی جمعیۃ علماءہند کے قانونی امور کے ذمہ دار نیاز احمد فاروقی کی رہنمائی میں مرتب کی جا رہی ہے۔ جب کہ جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمد حکیم الدین قاسمی اور ریاستی جمعیۃ علماء کے ذمہ داروں بالخصوص مولانا یحیٰ کریمی ناظم اعلی جمعیۃعلماء ہریانہ، پنجاب و ہماچل وغیرہ نے اس سانحہ کے بعد اہل خانہ سے ملاقات کرکے ہر ممکن تعاون کی یقین دہائی کرائی تھی بعد یہ مقدمہ اس وقت ضلع و سیشن عدالت پلوَل میں زیرِ سماعت ہے اور گواہی کا مرحلہ جاری ہے۔ تمام نو ملزمان عدالتی حراست میں ہیں۔

Continue Reading

دیش

متبادل رہائش کے بغیر انہدامی کارروائی نہیں،ہلدوانی ریلوے کالونی معاملہ میں سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی:ہلدوانی کے ریلوے کالونی سے متعلق طویل عرصے سے جاری مقدمے میں سپریم کورٹ آف انڈیا نے آج ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ متعلقہ زمین ریلوے کی ملکیت ہے اور اس کے استعمال کا فیصلہ کرنے کا حق ریلوے کے پاس ہے ، تاہم عدالت نے اس معاملے کے انسانی پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے ریاستی حکومت، ریلوے اور ضلعی انتظامیہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ بے دخلی سے متاثر ہونے والے خاندانوں کی شناخت کرکے انہیں منظم طریقے سے بازآبادکاری کے عمل میں شامل کیا جائے تاکہ کوئی بھی خاندان بے یار و مددگار نہ رہ جائے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ اپریل میں اگلی سماعت ہوگی ، اس وقت کوئی انہدامی کارروائی نہ کی جائے ۔
عدالت نے یہ فیصلہ جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی کی ہدایت پر متاثرہ کالونی کے29 /افراد کی طرف سے دائر کردہ ایس ایل پی نمبر 804/2023مقدمہ کی سماعت کرتے ہوئے دیا ہے۔واضح ہو کہ جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی کی قیادت میں ریلوے کالونی کے متاثرہ خاندانوں کی جانب سے جنوری 2023 کو دائر کیا تھا جس پر عدالت نے 5 ؍ جنوری 2023 کو ابتدائی مرحلے میں ہی اسٹے جاری کیا تھا۔ آج کورٹ میں جمعیۃ علماء ہند کی طرف سے سینئر وکیل روؤف رحیم، ایڈوکیٹ منصور علی خاں اور ایڈوکیٹ روبینہ جاوید موجود تھیں جب کہ مرکزی دفتر جمعیۃ علماء ہند کی طرف سے مقدمے کی نگرانی ایڈوکیٹ مولانا نیاز احمد فاروقی سکریٹری جمعیۃ علماء ہند کر رہے تھے۔
آج عدالت عظمیٰ نے سماعت کے دوران یہ بھی کہا کہ چوں کہ یہ معاملہ بڑی آبادی سے جڑا ہوا ہے اور ہزاروں خاندان اس سے متاثر ہو سکتے ہیں، اس لیے انتظامیہ کو ذمہ داری کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔ عدالت نے ہدایت دی کہ نینی تال ضلع انتظامیہ اور ہلدوانی کی مقامی انتظامیہ کیمپ لگائے، جن کے ذریعے متاثرہ خاندانوں کا رجسٹریشن کیا جائے اور اہل افراد کو پردھان منتری آواس یوجنا (EWS) کے تحت درخواست دینے کا موقع فراہم کیا جائے۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا کہ رمضان المبارک اور عید کے پیش نظر رجسٹریشن کیمپ 19 مارچ کے بعد لگائے جائیں تاکہ لوگ سکون کے ساتھ اس عمل میں شریک ہو سکیں اور ان کو رمضان میں کسی طرح پریشان نہ کیا جائے۔ عدالت نے ہدایت دی کہ ایک ہفتہ تک کیمپ چلا کر اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ہر متاثرہ خاندان کا ذمہ دار فرد وہاں آکر اندراج کرائے اور ہاؤسنگ اسکیموں کے فارم جمع کرا سکے۔
یہ بھی فیصلہ ہوا کہ بے دخلی کی صورت میں ریلوے اور ریاستی حکومت مشترکہ طور پر منتقل ہونے والے خاندانوں کو چھ ماہ تک ماہانہ مالی امداد فراہم کریں گے۔ مرکزی حکومت کی طرف سے عدالت کو بتایا گیا کہ ریلوے لائن کی توسیع ناگزیر ہے اور یہ زمین ریلوے کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہے، کیوں کہ آگے پہاڑی علاقہ شروع ہو جاتا ہے اور توسیع کے امکانات محدود ہیں۔ دوسری طرف جمعیۃ کے وکیل کی جانب سے یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ علاقے میں تقریباً پچاس ہزار افراد رہتے ہیں اور ایک ساتھ ہزاروں خاندانوں کی بازآبادکاری عملی طور پر آسان نہیں، نیز یہ بھی کہا گیا کہ ریلوے نے مکمل توسیعی منصوبہ واضح نہیں کیا۔ عدالت نے اس بحث کے دوران واضح کیا کہ کسی بھی صورت میں زمین کے استعمال کا آخری فیصلہ قبضہ کرنے والے افراد نہیں بلکہ متعلقہ ادارہ ہی کرے گا، تاہم حکومت کو انسانی بنیادوں پر مؤثر بازآبادکاری یقینی بنانا ہوگی۔

Continue Reading

دیش

2025میں1.62 کروڑ سے زائدسیاحوں نے جموں وکشمیر کا کیا دورہ

Published

on

(پی این این)
سری نگر: حکومت نے قانون ساز اسمبلی کو مطلع کیا کہ 2025 میں اب تک 1.62 کروڑ سے زیادہ سیاح جموں و کشمیر کا دورہ کر چکے ہیں، انتظامیہ سیاحت کے شعبے کی مسلسل بحالی اور ترقی کے لیے ایک منظم روڈ میپ پر عمل پیرا ہے۔ایم ایل اے جاوید حسن بیگ کی طرف سے سیاحوں کی آمد کے حوالے سے پیش کردہ ایک سوال کے جواب میں محکمہ سیاحت نے کہا کہ سیاحوں کا ڈیٹا منزل کے لحاظ سے رکھا جاتا ہے اور گزشتہ تین سالوں کی تفصیلات کے ساتھ ساتھ 2019 سے پہلے کی مدت کا موازنہ بھی مرتب کیا گیا ہے۔
ایوان کے سامنے رکھے گئے اعداد و شمار کے مطابق، جموں ڈویژن میں 2025 (اب تک( میں 1,62,35,036 سیاح ریکارڈ کیے گئے، جبکہ کشمیر ڈویژن میں 4,77,882 سیاح ریکارڈ کیے گئے، جس سے مجموعی طور پر 1.67 کروڑ سے زائد افراد کی تعداد بڑھ گئی۔2024 میں جموں ڈویژن میں 2,00,91,379 سیاح ریکارڈ کیے گئے، جب کہ کشمیر ڈویژن میں 98,19,841 سیاح ریکارڈ کیے گئے۔ 2023 میں جموں میں یہ تعداد 1,80,24,166 اور کشمیر میں 96,33,972 تھی۔
2025 میں کشمیر کے اہم مقامات میں سے، جواب میں کہا گیا کہ گلمرگ میں 1,10,728 زائرین، پہلگام میں 1,00,236، سونمرگ میں 4,87,638، جبکہ دودھپتری 1,27,919 اور کوکرناگ میں 6,12,235 نے بھی نمایاں طور پر پیدل سفر کیا۔”جموں ڈویژن میں، بڑی تعداد میں یاتریوں کی منزلیں آتی رہیں۔ شری ماتا ویشنو دیوی کٹرا نے 2025 میں 69.32 لاکھ سے زیادہ یاتریوں کو ریکارڈ کیا، جب کہ شیو کھوری نے 10.56 لاکھ سے زیادہ زائرین کو دیکھا۔ دیگر مقامات بشمول پٹنی ٹاپ، مانسر، بھدرواہ، سناسر، اور سرینسری سرینسری سے بھی رجسٹرڈ ہوئے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network