Connect with us

بہار

ہار شریف کے بڑی پہاڑی منصور نگر قبرستان میں غلاظتوں کا انبار

Published

on

2020 میں ضلع مجسٹریٹ اور دیگر افسران کو میمورنڈم دیا گیا مگر اب تک مسئلہ حل نہیں ہوا
(پی این این)
بہار شریف:شہر بہار شریف کا مشہور و معروف محلہ بڑی پہاڑی کے منصور نگر وارڈ 19 کے قبرستان میں غلاظتوں کا انبار ہے قبرستان ان دنوں گندگی سے لبالب بھرا ہوا ہے اور کوئی سننے دیکھنے والا نہیں ہے کہنے کو تو یہ وزیر اعلٰی نتیش کمار کا آبائی ضلع ہے مگر اس قبرستان کا مسئلہ حل کرنے والا کوئی نہیں ہے مقامی لوگوں نے 2020 میں ہی ضلع مجسٹریٹ دیگر افسران اور اس وقت کے وارڈ کاؤنسلر کو میمورنڈم دیا گیا تھا مگر اب تک قبرستان کا مسئلہ حل نہیں ہوا اور گندگی کا انبار جوں کا توں ہے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس قبرستان میں مگدھ کالونی اور چھوٹی پہاڑی کے گھروں سے گرنے والا گندہ پانی کی وجہ سے پورا سال قبرستان لبالب بھرا رہتا ہے جس کی وجہ سے میت دفنانے میں سخت دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے مقامی باشندہ محمد رئیس نے بتایا کہ قبرستان کے بغل سے نالا نہ ہونے کی وجہ سے گھروں سے گرنے والا گندہ پانی قبرستان میں جمع ہوجاتا ہے یوں تو سالوں بھر قبرستان میں پانی جمع رہتا ہے مگر بارش کا مہینہ ہونے کے سبب ان دنوں پورا قبرستان غلاظت اور گندگی کا ڈھیر بن گیا ہے اور سور کتوں جیسے جانوروں کا رہائش گاہ بن گیا ہے قبرستان سے متصل گھروں سے نکلنے والا نالے کا پانی اس قبرستان کی بے حرمتی کرتا ہے تو وہیں رہی سہی کسر بارش آنے کے بعد پوری ہو جاتی ہے ۔
بارش کے پانی کے بہاؤ کے ساتھ یہاں انسانی غلاظت کے ساتھ کچڑا بھی جمع ہو رہا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ یہاں کے مقامی افراد نے اس تعلق سے کچھ نہیں کیا۔ مقامی افراد محمد عقیل احمد، محمد شجاعت حسن ، محمد مناظر حسن، محمد راجا حسن، محمد سہیل احمد حاجی مختار کے مطابق کئی مرتبہ محکمہ ضلع افسران تک میمورنڈم دیا گیا مگر ان کے کانوں میں جوں تک نہیں رینگ رہی ہے۔ اسلام میں صفائی وپاکی کو نصف ایمان کہا گیا ہے۔ انتقال کے بعد جسد خاکی کو بھی پاک کرکے سپرد خاک کیا جاتا ہے۔
واضح ہوکہ جن کو پاک حالت میں دفن کیا گیا گیا تھا، اب ان کی قبریں ناپاکی کا شکار ہو رہی ہیں۔ بڑی پہاڑی منصور نگر قبرستان میں گندگی کے ڈھیر کی موجودگی ایک ناپسندیدہ صورتحال ہے جو صفائی اور نظم و نسق کے فقدان کی نشاندہی کرتی ہے، اور اس سے مختلف مسائل پیدا ہو سکتی ہیں جیسے بدبو، بیماریاں، اور ماحولیاتی آلودگی اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے جلد از جلد ضلع انتظامیہ سے گزارش ہے کہ باقاعدگی سے صفائی اور گھروں سے گرنے والا گندہ پانی کا مناسب انتظام کریں تاکہ یہاں کے عوام چین و سکون کی زندگی گذار سکیں۔

بہار

تعلیم ہی قوموں کی ترقی اور خوشحالی کا دارومدار : امیرشریعت

Published

on

(پی این این)
کشن گنج: امارت پبلک اسکول کے زیرِ اہتمام کمیونٹی ہال کشن گنج میں ایک عظیم الشان اجلاسِ عام کا انعقاد کیا گیا، جس کی صدارت امیرشریعت مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی (سجادہ نشین خانقاہِ رحمت مونگیر) نے کی۔ امیرِ شریعت نے اپنے تفصیلی خطاب میں تعلیم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تعلیم ہی وہ بنیادی ستون ہے جس پر قوموں کی ترقی اور خوشحالی کا دارومدار ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں صرف دینی تعلیم کافی نہیں بلکہ دینی تعلیم کے ساتھ عصری تعلیم بھی نہایت ضروری ہے، تاکہ نئی نسل علم کے ساتھ ساتھ دین و اخلاق سے بھی وابستہ رہے۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے دنیاوی تعلیم پر توجہ دیتے ہیں، مگر ان کے دین و ایمان کی فکر سے غافل ہو جاتے ہیں۔ مزید فرمایا کہ اسلام محض ایک مذہب نہیں بلکہ مکمل ضابطۂ حیات ہے، اس لیے ہمیں اپنی زندگی کے ہر شعبے میں سنتِ نبوی ﷺ کو اپنانا چاہیے۔ انہوں نے شادی بیاہ کے مواقع پر فضول خرچی اور اسراف سے بچنے کی تلقین کرتے ہوئے سادگی کو فروغ دینے پر زور دیا ۔
مولانا مفتی سعید الرحمن قاسمی (ناظمِ اعلیٰ امارت شرعیہ، بہار، اڑیسہ و جھارکھنڈ، پھلواری شریف پٹنہ) نے اپنے خطاب میں کہا کہ تعلیم ترقی کی شاہ کلید ہے اور جو قوم تعلیم کو اپنائے گی وہی کامیابی سے ہمکنار ہوگی۔ انہوں نےوالدین کو نصیحت کی کہ وہ اپنے بچوں کو عصری تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم سے بھی آراستہ کریں ساتھ ہی جہیز جیسی سماجی برائی کے خاتمے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بیٹیوں کو جہیز کے بجائے تعلیم سے آراستہ کریں، نکاح کو آسان بنائیں اور شادی بیاہ میں فضول خرچی سے مکمل پرہیز کریں۔
مولانا حکیم الدین قاسمی (جنرل سکریٹری، جمعیۃ علماء ہند) نے نوجوان نسل میں بڑھتے ہوئے نشہ اور منشیات کے رجحان پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے اس کے سدباب کے لیے سنجیدہ اقدامات کی اپیل کی مفتی جاوید احمد قاسمی (صدر، جمعیۃ علماء ہند بہار) نے تعلیم کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں دینی و دنیاوی دونوں علوم کا حصول نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے سیاسی بصیرت و حکمت اپنانے اور تجارت و تعلیم کو مضبوطی سے اختیار کرنے کی تلقین کی۔

Continue Reading

بہار

بہارمیں شراب بندی کے معاملے پر مانجھی نے اپنی ہی حکومت کوبنایا نشانہ

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:بہار کے سابق وزیرِ اعلیٰ اور ’ہم‘ پارٹی کے سرپرست جیتن رام مانجھی نے ریاست میں نافذ شراب بندی کے قانون کے حوالے سے ایک بار پھر اپنی صاف گوئی کا اظہار کیا ہے۔
پٹنہ ایئرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ بہار میں شراب بندی کی پالیسی تو درست ہے، لیکن اس کو عملی طور پر نافذ کرنے کے طریقے میں بڑی خرابیاں ہیں۔ مانجھی کے مطابق اس قانون کا سب سے زیادہ نقصان معاشرے کے غریب طبقے کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔
مانجھی نے کہا کہ شراب بندی کے باعث غریب طبقے کو دو طرح کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ پہلا یہ کہ اس قانون کی آڑ میں بڑی تعداد میں غریب لوگ قانونی پیچیدگیوں اور پولیس کارروائیوں میں پھنس رہے ہیں، جس سے ان کی معاشی اور سماجی حالت بگڑ رہی ہے۔ دوسرا یہ کہ ریاست میں شراب بندی کے باوجود غیر قانونی شراب کا کاروبار تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ مافیا عناصر جلد بازی میں یوریا اور دیگر خطرناک کیمیکل ملا کر زہریلی شراب تیار کر رہے ہیں، جس کے استعمال سے غریب لوگ 50 سے 60 سال کی عمر میں ہی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔
ریاست میں حالیہ اقتدار کی تبدیلی اور سمراٹ چودھری کے وزیرِ اعلیٰ بننے پر مانجھی نے کہا کہ انہیں بڑے فیصلے لینے میں کچھ وقت لگے گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ نئی حکومت شراب بندی کے قانون کو ختم کرنے پر غور کرے گی۔ مانجھی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ شراب بندی کی پالیسی پر نظرِ ثانی ہونی چاہیے۔ جو خرابیاں موجود ہیں انہیں دور کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ریاست کی آمدنی میں بھی اضافہ ہو اور غریبوں کو بلاوجہ کی اذیت سے بچایا جا سکے۔

 

Continue Reading

بہار

چیف سیکریٹری پرتیے امرت نے پُنورا دھام کی ترقی اور سرحدی سیکورٹی کالیاجائزہ

Published

on

(پی این این)
سیتامڑھی:بہار کے چیف سیکریٹری پرتیے امرت اور پولیس کے ڈائریکٹر جنرل ونئے کمار نے سیتامڑھی کے معروف مذہبی مقام پُنورا دھام مندر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے جاری تعمیراتی کاموں کا تفصیلی معائنہ کیا۔ اس موقع پر مندر احاطے میں ایک اہم جائزہ اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں متعلقہ ایجنسیوں نے تعمیراتی پیش رفت پر روشنی ڈالی۔ اجلاس میں سیاحت محکمہ کے اعلیٰ افسران اور انجینئرز بھی شریک رہے۔
چیف سیکریٹری نے ہدایت دی کہ مندر کی تعمیر اور احاطے کی مجموعی ترقی کو مقررہ وقت کے اندر اور معیاری طریقے سے مکمل کیا جائے تاکہ اسے ایک نمایاں مذہبی و سیاحتی مرکز کے طور پر فروغ دیا جا سکے۔ دریں اثنا، بھارت-نیپال سرحد سے متعلق امور پر بھی ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ منعقد کی گئی، جو مرکزی وزیر داخلہ کی حالیہ ہدایات کی روشنی میں کی گئی۔ اجلاس میں سرحدی علاقوں میں سکیورٹی کو مزید مضبوط بنانے اور غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت دی گئی۔
ذرائع کے مطابق، نو مینز لینڈ میں تجاوزات کے خاتمے، سرحد سے 15 کلومیٹر کے اندر سرکاری زمین پر غیر قانونی قبضے کے خلاف مہم، جعلی بھارتی کرنسی، سائبر فراڈ اور غیر قانونی ٹیلی کمیونیکیشن نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی پر زور دیا گیا۔ اس کے علاوہ مول اکاؤنٹس اور فرضی کمپنیوں کی جانچ کر فوری کارروائی کی ہدایت دی گئی۔ اجلاس میں منشیات کی اسمگلنگ پر قابو پانے کے لیے بھی سخت اقدامات کی ہدایت دی گئی اور کہا گیا کہ این ڈی پی ایس ایکٹ کو مؤثر انداز میں نافذ کرتے ہوئے خصوصی مہم چلائی جائے۔
اس موقع پر ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ، ڈی جی اسپیشل برانچ، کمشنر، سکریٹری سیاحت، ڈی آئی جی، ضلع مجسٹریٹ، ایس پی سمیت ایس ایس بی اور آئی بی کے افسران بھی موجود تھے۔ واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے پُنورا دھام کی ترقی اور سرحدی علاقوں میں سکیورٹی کو لے کر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے، جس سے ترقی اور تحفظ دونوں کو یکساں اہمیت دی جا رہی ہے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network