Connect with us

بہار

چھپرہ:کمشنر اور ڈی ایم نے موبائل ڈیموسٹریشن وین کو جھنڈی دکھا کر کیا روانہ

Published

on

(پی این این)
چھپرہ:موبائل ڈیموسٹریشن وین عام لوگوں کو ای وی ایم مشین کے ذریعے ووٹ ڈالنے کے بارے میں تفصیلی معلومات دینے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔اس سے ای وی ایم کے تئیں ان کی ساکھ بڑھے گی۔اس کے ساتھ ووٹ فیصد بڑھانے میں بھی یقینی طور پر مدد ملے گی۔مذکورہ باتیں سارن کے ڈیویژنل کمشنر راجیو روشن نے بدھ کو کلکٹریٹ کے احاطے سے کل دس ای وی ایم MDV کو جھنڈی دکھاتے ہوئے کہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ ای وی ایم کے فروغ کے لیے الیکشن کمیشن کی مہتواکانکشی SVEEP مہم کا ایک حصہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ان گاڑیوں کے ذریعے ووٹرز کو نہ صرف مشین کے کام کے بارے میں بتایا جائے گا بلکہ انہیں عملی تربیت (ہینڈ آن ٹریننگ) بھی دی جائے گی۔
ضلع مجسٹریٹ امن سمیر نے کہا کہ اس اقدام سے ووٹروں کا اعتماد بڑھے گا اور وہ پولنگ کے دن بغیر کسی خوف کے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کر سکیں گے۔انہوں نے کہا کہ اگر ووٹرز مشین کے کام کاج سے بخوبی واقف ہوں گے تو وہ پولنگ قسٹیشن پر بلا جھجھک ووٹ ڈال سکیں گے۔یہ تربیت تکنیکی خدشات کو دور کرنے اور ووٹروں میں اعتماد پیدا کرنے کا سب سے مؤثر طریقہ ہے۔اس سے ووٹرز کی شرکت بڑھے گی اور ووٹ کا فیصد بڑھے گا۔سویپ سیل کے سینئر انچارج آفیسر کم ڈی ڈی سی یتندر کمار پال نے کہا کہ یہ مہم صاف اور منصفانہ انتخابات میں اہم کردار ادا کرے گی۔انہوں نے وین پر تعینات ماسٹر ٹرینرز،ایگزیکٹو اسسٹنٹس اور سیکیورٹی فورسز کو سختی سے ایس او پی پر عمل کرنے کی تاکید کی۔انہوں نے واضح طور پر خبردار کیا کہ اس مہم میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
ڈپٹی الیکشن آفیسر جاوید اقبال نے کہا کہ یہ وین ضلع کی تمام 1814 عمارتوں میں قائم کل 3510 پولنگ اسٹیشنوں پر EVM-VVPAT کا مظاہرہ کرتے ہوئے لوگوں سے ماک پول کرائیں گے۔بیداری گاڑیاں روٹ چارٹ کے مطابق تمام 10 اسمبلی حلقوں کے لیے مقرر کردہ افسر انچارج کے ذریعے چلائی جائیں گی۔اس کی روزانہ نگرانی کی جائے گی اور کمیشن کی سائٹ پر رپورٹنگ کی جائے گی۔اس موقع پر ایم ایل اے جنک سنگھ،ڈاکٹر سی این گپتا،سرندر رام،ضلع پبلک ریلیشن آفیسر رویندر کمار،سیاسی پارٹی کے نمائندہ وویک کمار،پربھاش شنکر،سب الیکشن آفیسر اخلاق انصاری کے ساتھ دیگر افسران اور ماسٹر ٹرینر وغیرہ موجود تھے۔

Bihar

مرکزی حکومت کا بہار کو بڑا تحفہ،ریاست میں قائم ہوگا ملک کا تیسرا نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فوڈ ٹیکنالوجی، 100 ایکڑ اراضی پر تعمیر کیا جائے گایہ ادارہ

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:بہار میں ملک کے تیسرے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فوڈ ٹیکنالوجی، انٹرپرینیورشپ اینڈ مینجمنٹ (نِفٹیم) کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے کہا کہ بہار کو فوڈ پروسیسنگ کا قومی مرکز بنانے کی سمت میں ایک تاریخی قدم اٹھایا گیا ہے۔ملک کا پہلا نِفٹیم ہریانہ کے سونی پت ضلع کے کنڈلی میں قائم کیا گیا تھا، جبکہ دوسرا ادارہ تمل ناڈو کے تنجاؤر میں موجود ہے۔ اب مرکزی حکومت نے بہار میں تیسرے نِفٹیم کے قیام کو منظوری دے دی ہے۔سمراٹ چودھری نے کل سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ویشالی ضلع کے حاجی پور میں ملک کے تیسرے نِفٹیم کے قیام کی منظوری دے دی گئی ہے۔یہ ادارہ 100 ایکڑ اراضی پر تعمیر کیا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے کہا کہ یہ ادارہ فوڈ پروسیسنگ، ریسرچ، تکنیکی تعلیم اور انٹرپرینیورشپ کو نئی بلندیوں تک پہنچائے گا اور کسانوں، نوجوانوں اور صنعت کاروں کے لیے ترقی اور روزگار کے نئے مواقع کے دروازے کھولے گا۔انہوں نے اپنی پوسٹ میں مزید لکھا کہ ’نئے مواقع، نئی رفتار اور خوشحال بہار‘ کے لئےاین ڈی اے حکومت کا عزم بالکل واضح ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ دنوں وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری کی صدارت میں منعقدہ ریاستی کابینہ کی میٹنگ میں اس ادارے کے لیے زمین الاٹ کرنے کی منظوری دی گئی تھی، جس کے بعد یہاں نِفٹیم کے قیام کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔
غورطلب ہے کہ نِفٹیم وزارتِ صنعت کے تحت چلنے والا ایک اعلیٰ تعلیمی ادارہ ہے۔ یہاں چار سالہ بیچلر آف ٹیکنالوجی (بی ٹیک)، دو سالہ ماسٹر آف ٹیکنالوجی (ایم ٹیک) اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں فراہم کی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ ادارے میں فوڈ اور ایگری بزنس مینجمنٹ کے شعبے میں ایم بی اے کورس بھی کرایا جاتا ہے۔بی ٹیک کورس میں داخلہ جے ای ای مینس کے ذریعے ہوتا ہے، جبکہ ایم ٹیک میں داخلہ انجینئرنگ میں گریجویشن اہلیت امتحان (گیٹ) اور ذاتی انٹرویو کی بنیاد پر دیا جاتا ہے۔
ادھر بہار میں اب بال گرہوں میں رہنے والے بچے بھی ہوٹل مینیجر اور صنعت کار بن سکیں گے۔ ریاستی حکومت نے بال گرہ کے بچوں اور نوجوانوں کو خود کفیل بنانے کی پہل کی ہے۔ سماجی بہبود محکمہ کی ریاستی بال تحفظ کمیٹی نے 14 مختلف پیشہ ورانہ شعبوں میں مفت رہائشی تربیت فراہم کرنے کی منصوبہ بندی تیار کی ہے۔مشن واتسلیہ کے تحت گھر اور خاندان سے بچھڑ کر بچوں کی نگہداشت کے اداروں (بال گرہ) میں رہنے والے 16 سے 18 سال کے نوجوانوں اور 18 سال کی عمر مکمل کر چکے کیئر لیورز کو ان کی دلچسپی کے مطابق پیشہ ورانہ تربیت دی جائے گی۔

Continue Reading

Bihar

وزیر اعلیٰ نے راجگیر کے ریاستی ملماس میلے کاکیا افتتاح

Published

on

(پی این این)
نالندہ: بہار کے وزیر اعلی سمراٹ چودھری نے نالندہ ضلع کے سیاحتی مقام راجگیر میں اتوار کی صبح 9 بجے ویدک منترو چارکے ساتھ ربن کاٹ کر ریاستی ملماس میلے کا افتتاح کیا۔وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے ہفتہ کے روز ضلع نالندہ میں منعقد ہونے والے ملماس میلہ 2026 کا افتتاح کیا اور افسران کو ہدایت دی کہ عقیدت مندوں کی سلامتی، سہولیات اور بھیڑ کے مؤثر انتظام پر خصوصی توجہ دی جائے۔
اس موقع پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سناتن دھرم کے 33کروڑ دیوتا ایک ماہ کے لیے راجگیر آتے ہیں۔ میلے کی خاص بات یہ ہے کہ 15 جون تک جاری رہنے والے میلے کے دوران راجگیر سے باہر کہیں بھی نیک اور پروقار تقریبات کی ممانعت ہوگی۔راجگیر تیرتھ رکشرتھ پانڈا کمیٹی کے سکریٹری وکاس اپادھیائے نے بتایا کہ برہما کنڈ کمپلیکس میں پرچم کشائی تقریب سنت شرومنی پرمہنس چداتمن مہاراج نے انجام دی تھی۔ منتر اور تیرتھ پوجا آج صبح شروع ہوئی۔ آٹھ لاکھ عقیدت مندوں کی ملماس میلے میں شرکت کی امید ہے۔اس بڑے ہجوم کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے راجگیر کو پولیس چھاؤنی میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ ہجوم کے انتظام کے لیے 950 مجسٹریٹ، 530 سےزیادہ پولیس افسران اور 1000 ہوم گارڈ اور ماونٹڈ پولیس کو تعینات کیا گیا ہے۔
اس سال میلے کو خصوصی بنانے کے لیے وسیع انتظامات کیے گئے ہیں۔ اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس میں خیموں اور پناہ گاہوں کے علاوہ عقیدت مندوں کے قیام کے لیے 14 مقامات پر پناہ گاہیں قائم کی گئی ہیں۔ 11 مقامات پر جرمن ہینگر اور تین واٹر پروف پنڈال بنائے گئے ہیں، جو عقیدت مندوں کو مفت رہائش فراہم کرتے ہیں۔
راجگیر میں ہر چوراہے پر توران گیٹ لگائے گئے ہیں۔ پی ایچ ای ڈی نے 30 مقامات پر پینے کے پانی کے 300 اسٹال لگائے ہیں، جن کے ذریعے گنگا سے پینے کا پانی فراہم کیا جائے گا۔ پی ایچ ای ڈی نے 20 نئے ہینڈ پمپ لگائے ہیں اور 60 خراب ہینڈ پمپوں کی مرمت کی ہے۔ 125 اسٹینڈ پوسٹ تعمیر کی جائیں گی (بشمول سوک پٹ اور پلیٹ فارم)۔ پینے کے پانی کے 15 ٹینکر کو ریزرو میں رکھا گیا ہے۔
روزانہ تقریباً 03 لاکھ عقیدت مندوں کو پینے کے پانی کی فراہمی کے انتظامات کیے گئے ہیں۔ پی ایچ ای ڈی کی طرف سے پینے کے پانی کے معیار کی باقاعدگی سے جانچ کی جا رہی ہے۔ پی ایچ ای ڈی نے 750 مقامات پر بیت الخلاء (350 مردوں کے لیے اور 350 خواتین کے لیے) کی تعمیر بھی مکمل کی ہے۔ اس کے علاوہ 75 پیشاب خانے (30 خواتین اور 45 مردوں کے لیے) لگائے گئے ہیں۔ نگر پریشد، راجگیر کی طرف سے 250 عارضی بیت الخلاء تعمیر کیے گئے ہیں۔
اس کے علاوہ 13 مستقل بیت الخلاء کی مرمت کی گئی ہے۔ دیدی کے کل 25 کچن 14 مقامات پر چلائے جائیں گے۔ عارضی اسپتال – 8 مقامات (ٹینٹ سٹی، وی آئی پی ٹینٹ سٹی، میلہ تھانہ، برہما کنڈ (2)، ریلوے اسٹیشن، پی ایچ ای ڈی کیمپس، ویترنی) ہیلتھ کیمپس – 18 مقامات پر ایمبولینس – 16 تعینات موبائل میڈیکل ٹیمیں – 4 سنٹرلائزڈ کنٹرول روم میں 24×7 سپروائزر ہوں گے اور پورے علاقے میں 232 سپروائزرز ہوں گے۔ 3 صفائی زونز میں تقسیم کیا گیا ہے اور تین شفٹوں میں صفائی کے انتظامات کیے گئے ہیں۔
صفائی کے انتظامات کے لیے تین شفٹوں میں 617 مزدور، 87 سپروائزر، 20-25 گاڑیاں (ٹریکٹر، ٹپر ٹرک) اور 57 ڈرائیور تعینات کیے گئے ہیں۔ مجموعی طور پر 1700 افرادی قوت کو تعینات کیا گیا ہے۔ بھیگے گڑھوں کی صفائی کے لیے 9 سکشن مشینوں کا انتظام کیا گیا ہے۔میلے میں آنے والے عقیدت مند ریاستی حکومت کی مختلف مہتواکانکشی اسکیموں کے بارے میں ضروری معلومات حاصل کر سکیں گے۔

Continue Reading

Bihar

ملک کے اندر کی غریبی اور مسائل پربات کیوں نہیں کرتے ہیں وزیراعظم؟،روہنی اچاریہ نے وزیرِ اعظم نریندر مودی کو ہندوستان سے متعلق ہنگر کی رپورٹ پربنایا شدید تنقید کا نشانہ

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:راشٹریہ جنتا دل کے سربراہ لالو پرساد یادو کی بیٹی روہنی آچاریہ نے وزیرِ اعظم نریندر مودی پر سخت تنقید کی ہے۔ نیدرلینڈس میں دیے گئے ان کے ایک خطاب پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے روہنی آچاریہ نے وزیرِ اعظم کو اپنے ہی ملک کی صورتحال پر توجہ دینے کا مشورہ دیا۔انہوں نے کہا کہ اپنے ملک کی غربت کو نظر انداز کرکے وزیرِ اعظم دنیا کو غریبی کے بحران سے خبردار کر رہے ہیں۔
روہنی آچاریہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے وزیرِ اعظم پر تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک پر تو 26 مئی 2014 سے ہی بحران کے بادل منڈلانے شروع ہوگئے تھے اور آج حالات اس قدر خوفناک اور سنگین ہوچکے ہیں کہ یہ ایک بڑے بحران کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آپ کی مہربانی سے ملک میں غربت کا عالم یہ ہے کہ 81.35 کروڑ لوگ ہر ماہ ملنے والے پانچ کلو راشن کے سہارے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ہندوستان کی بڑی آبادی خطِ غربت کے نیچے یا اس کے آس پاس زندگی بسر کر رہی ہے۔روہنی آچاریہ نے مزید کہا کہ اعداد و شمار کی بازیگری کے ذریعے حکومت کچھ اور تصویر پیش کر رہی ہے۔ واضح رہے کہ 26 مئی 2014 کو نریندر مودی نے پہلی بار وزیرِ اعظم کے طور پر حلف لیا تھا۔
روہنی آچاریہ نے کہا کہ بہتر ہوتا اگر وزیرِ اعظم دنیا کو غربت کے بحران سے خبردار کرنے سے پہلے ورلڈ بینک اور نیتی آیوگ کے اعداد و شمار پر بھی نظر ڈال لیتے، جن کے مطابق ہندوستان میں تقریباً 27 کروڑ لوگ غربت کی زندگی گزار رہے ہیں، یعنی ملک کا ہر پانچواں شخص غریب ہے۔انہوں نے کہا کہ شاید وزیرِ اعظم کو یہ بھی معلوم نہیں ہوگا کہ عالمی بھوک اشاریہ میں ہندوستان 127 ممالک میں 105ویں مقام پر ہے، جبکہ گلوبل ہنگر رپورٹ 2024 میں ملک کی صورتحال کو تشویشناک قرار دیا گیا ہے۔
روہنی آچاریہ نے کہا کہ عالمی پلیٹ فارمز پر وزیرِ اعظم کو غربت کی بات کرتے دیکھ کر حیرت بھی ہوتی ہے اور ہنسی بھی آتی ہے، کیونکہ ملک کے اندر وہ کبھی کسی اسٹیج یا فورم پر غربت کا ذکر کرتے نہ دکھائی دیتے ہیں اور نہ ہی اپنی انتخابی ریلیوں میں اس موضوع پر بات کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم بیرونِ ملک جاکر غربت اور بھوک پر کھل کر گفتگو کرتے ہیں، لیکن ملک کے اندر ان مسائل پر خاموشی اختیار کیے رکھتے ہیں۔
وزیرِ اعظم نریندر مودی نے نیدرلینڈس کے دارالحکومت دی ہیگ میں کہا کہ دنیا اس وقت بے مثال چیلنجز کے سلسلے کا سامنا کر رہی ہے۔ پہلے کورونا وبا آئی، پھر جنگوں کا آغاز ہوا اور اب توانائی کا بحران پیدا ہو گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ دہائی دنیا کے لیے آفات کی دہائی بنتی جا رہی ہے۔ اگر جنگیں نہ رکیں تو حالات مزید خراب ہوں گے اور دنیا کی ایک بڑی آبادی غربت کے دلدل میں پھنس جائے گی۔اپنے پانچ ممالک کے دورے کے دوران نیدرلینڈس میں ہندوستانی تارکینِ وطن سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم مودی نے خبردار کیا کہ اگر ان حالات کو تیزی سے نہ بدلا گیا تو گزشتہ کئی دہائیوں میں حاصل کی گئی عالمی کامیابیاں ختم ہو جائیں گی۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network