Connect with us

دلی این سی آر

جامعہ ملیہ اسلامیہ میں نکالاگیا’ترنگا یاترا‘

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی: پروفیسر مظہر آصف شیخ الجامعہ اور پروفیسر محمد مہتا ب عالم رضوی،مسجل،جامعہ ملیہ اسلامیہ نے آزادی کاامرت مہتسو‘ کے حصے کے طورپر جسے2اگست سے 15 اگست کے درمیان منایا جارہاہے۔ سرکار کی ہر گھر ترنگا (ایچ جی ٹی) مہم منانے کے لیے آج ’ترنگا یاترا‘ کی ایک بڑی ریلی کو ہری جھنڈی دکھائی جس میں ہزاروں کی تعداد میں جامعہ کے اسٹاف اورطلبہ نے شرکت کی۔آج یہاں جاری ریلیز کے مطابق یہ ترنگا ریلی اس مقصد سے نکالی گئی کہ اس سے لوگوں کواس بات کی تحریک ملے کہ وہ ترنگا اپنے گھروں میں لے جائیں اور فخر کے ساتھ ہندوستان کی آزادی منانے کے لیے گھروں میں ترنگا لہرائیں۔ ریلی یونیورسٹی گیٹ نمبر پندرہ سے شروع ہوئی اور یونیورسٹی کے مین روڈ کا چکر کاٹ کر انصاری آڈیٹوریم کے سبزہ زار پرختم ہوئی۔
فیکلٹیز کے ڈینز،ڈی ایس ڈبلیو،صدور شعبہ جات، مراکز کے ڈائریکٹر،یونیورسٹی لائبریرین، چیف پراکٹر پروفیسر اسد ملک، جامعہ اسکول کے پرنسپلس اور اساتذہ کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں فیکلٹی،طلبہ اور جامعہ کے اسٹاف نے ریلی کو پرکشش بنانے کے لیے انتہائی دلچسپی سے ترنگے کے اسکارف،دوپٹے اور دوسری آرائش کی چیزیں لگا کرریلی میں حصہ لیا۔
پروفیسر مظہر آصف،شیخ الجامعہ،جامعہ ملیہ اسلامیہ نے اپنی تقریر ’سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا‘ کے مصرعے سے شروع کی اور کہا ’ترنگا یاترا صر ف ہمارے جذبہ حب الوطنی اور مادر وطن سے محبت وعقیدت کا اظہار نہیں بلکہ یہ ہمیں آپس میں جوڑتا اور متحد رکھتاہے خاص طورپر ہمارے نوجوانوں کو۔“پروفیسر آصف نے مزید کہاکہ ’ترنگا یاترا صرف ملک کو ہمارا سلام نہیں بلکہ ساتھ ساتھ چلنے اور ملک کی ترقی و بہبود میں اور اس کے تئیں ہماری ذمہ داریوں کو ادا کرنے کا بھی ایک اہم موقع ہے۔ترنگا یاترا میں شریک ہوکر جامعہ ملیہ اسلامیہ کے فیکلٹی،اسٹاف اور طلبہ نے ان لوگوں کی امنگوں کے تئیں جنھوں نے ملک کو آزاد کرانے میں اپنی زندگیاں قربان کی ہیں اپنے عہد کی تجدید کی ہے۔
پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی، مسجل،جامعہ ملیہ اسلامیہ نے کہا کہ’ملک کے تئیں اس نوع کے جذبہ حب الوطنی کا اظہار قابل دید تھا۔اساتذہ، اسٹاف اور طلبہ نے ہر گھر ترنگا میں غیر معمولی دلچسپی اور گہرے شغف کے ساتھ حصہ لیا۔ایچ جی ٹی مہم ہمیں ان شہیدان وطن کے متعلق بتاتی ہے جنھوں نے آزاد ی کے حصول کے لیے اپنی جانیں نثار کیں۔اناسی برسوں کے بعد آج ہم یہاں جمع ہوئے ہیں تاکہ جن لوگوں نے ملک کی آزادی میں اپنی زندگیاں قربان کی ہیں ان کے نقش قدم پر چل کر ہم ان کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرسکیں۔ ترنگا یاترا ہم مستقبل میں بھی منائیں گے تاکہ ہماری آئندہ نسل مجاہدین آزادی کو فراموش نہ کردے۔“پروفیسر رضوی نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے این سی سی کیڈٹس اور این ایس ایس رضاکاروں اورپروفیسر نیلوفر افضل، ڈی ایس ڈبلیو پروفیسر اقتدار محمد خان،ڈین،ہیومنی ٹیز اور این سی سی کوآرڈی نیٹر،جناب وقار حسین صدیقی،این ایس ایس کو آر ڈی نیٹر کی انتھک کوششوں کا شکریہ ادا کیا جن کے نتیجے میں شان دار ترنگا ریلی نکالنا ممکن ہوسکا اور انھوں نے اپنی تقریر کا اختتام ’جے ہند‘ سے کیا۔ترنگا یاترا قومی ترانے کی نغمہ سرائی اور جذبہ حب الوطنی کے شدید احساس کے ساتھ ختم ہوئی اور فضا میں ’جے ہند‘ کی صدائے بازگشت سے یونیورسٹی کا کشادہ سبزہ زار بھرگیا۔

دلی این سی آر

جامعہ کے4 طلبہ بجاج اسکالرشپ برائے خواتین کیلئے منتخب

Published

on

نئی دہلی :جامعہ ملیہ اسلایہ کے فیکلٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹکنالوجی کی چار طالبات بجاج آٹو لمٹیڈ کی پہل موقر روپا راہل بجاج اسکالر شپ برائے خواتین کے لیےمنتخب ہوئی ہیں۔ اس کا مقصداہم تکنیکی علوم میں ا نجیئرنگ کی تعلیم کو جاری رکھنے میں ہونہار طالبات کو بااختیار ب بنانا ہے۔اسکالرشپ پروگرام میں چار سال میں آٹھ لاکھ کی مالی اعا ت کی فراہمی اس کے ساتھ ساتھ صنعت کودیکھنے سمجھنے کے مواقع،مینٹورنگ کے مواقع،ز ندگی کی مہارتوں کی تربیت اور مینوفیچکرنگ ٹکنالوجی کو سمجھنا شامل ہے۔یہ پہل ہندوستان کی مینوفیکچرنگ اور متعلقہ شعبوں میں خواتین ماہرین کی شرکت کو مضبوطی فراہم کر انا چاہتی ہے۔ درج ذیل طالبات نے انتہائی مقابلہ جاتی اور باوقار اسکالرشپ حاصل کی ہے: ایک۔ادیبہ فاطمہ،ڈپارٹمنٹ آف الیکٹریکل ا نجینئرنگ۔ چھتیس ہزار چھپن روپے دو۔ صوفیہ ا نصاری،ڈپارٹمنٹ آف الیکٹرانکس (وی ایل ایس آئی ڈیزائن اینڈ ٹکنالوجی) ایک لاکھ باو ہزار آٹھ سو پچھہترروپے۔ تین۔ ہباصالحہ ،ڈپارٹمنٹ آف میکانیکل انجینئرنگ۔پچاس ہزار سات سو پچیس روپے۔ چار۔ صوفیہ سید، ڈپارٹمنٹ آف الیکٹریکل ا نجینئرنگ ۔ ا یس ہزار دوسو پچیس روپے۔جامعہ ملیہ اسلامیہ سے طلبہ کا منتخب ہونا ،یو نیور سٹی کے فیکلٹی آف انجیئرنگ اینڈ ٹکنالوجی میں علمی فضیلت اور صلاحیتوں کے نشو ونما اور انہیں پروا ن چڑھانے کی مخلصا نہ کوششوں کا غماز ہے۔یونیورسٹی ا نتظامیہ منتخب طالبات کو مبارک باد دی ہے اورا ن کے علمی و پیشہ ورا نہ زندگی میں مزید کامیابیوں کے تئیں نیک خواہشات کا اظہار کیاہے۔

Continue Reading

دلی این سی آر

MCD میں بھی گھر سے کام اور کارپولنگ کی تجویز

Published

on

نئی دہلی :ایم سی ڈی کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین ستیہ شرما نے میونسپل کمشنر کو خط لکھ کر انتظامی اصلاحات کا مشورہ دیا ہے۔ اس نے حکام اور ملازمین سے اپیل کی ہے کہ وہ ایندھن کی بچت، آلودگی کو کم کرنے اور ٹریفک کی بھیڑ سے نمٹنے کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ اور کار پولنگ کو اپنائیں۔ اس نے ڈیجیٹل ورک فلو کو فروغ دینے اور غیر ضروری سفر اور سرکاری گاڑیوں کے استعمال کو کم کرنے کے لیے گھر سے کام کرنے اور ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے میٹنگز کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق ایم سی ڈی کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین ستیہ شرما نے میونسپل کمشنر کو ایک خط لکھا ہے جس میں جامع انتظامی اصلاحات کا مشورہ دیا ہے۔ خط میں انہوں نے واضح کیا کہ میونسپل حکام اور ملازمین پبلک ٹرانسپورٹ کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں۔ مزید برآں، جہاں بھی ممکن ہو کار پولنگ کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔
ایم سی ڈی کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین ستیہ شرما نے دفتر پہنچنے کے لیے میٹرو سے سفر کرکے پبلک ٹرانسپورٹ کے استعمال کو فروغ دیا۔ انہوں نے کہا کہ نجی اور سرکاری گاڑیوں کا غیر ضروری استعمال کم کیا جائے۔ اس سے نہ صرف ایندھن کی بچت ہوگی بلکہ ٹریفک کی بھیڑ بھی کم ہوگی۔ یہ وقت ایندھن کی بچت، آلودگی پر قابو پانے، اور ٹریفک کی بھیڑ کے لیے اجتماعی ذمہ داری لینے کا ہے۔
قائمہ کمیٹی کے چیئرمین نے آپریشنل کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے گھر سے کام کا نظام اپنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ملازمین کو ایسے کاموں کے لیے گھر سے کام کرنے کی لچک دی جانی چاہیے جو ڈیجیٹل طریقے سے کیے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ زیادہ تر ملاقاتیں ویڈیو کانفرنسنگ، ویڈیو کالز اور دیگر ڈیجیٹل ذرائع سے کی جائیں۔
قابل ذکر ہے کہ ایم سی ڈی کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین ستیہ شرما کی طرف سے دی گئی مندرجہ بالا تجاویز ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب دہلی حکومت نے ایندھن کی بچت اور آلودگی کو کم کرنے کے لیے ‘مائی انڈیا، مائی کنٹریبیوشن مہم شروع کی ہے۔ اس اسکیم کے تحت اب سرکاری ملازمین ہفتے میں دو دن گھر سے کام کریں گے اور زیادہ تر میٹنگز آن لائن ہوں گی۔ حکومت نے نجی کمپنیوں کو بھی مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے ملازمین کو ہفتے میں دو دن گھر سے کام کرنے دیں۔

Continue Reading

دلی این سی آر

ڈی ڈی اے پارکس میں ہوگا صبح 10 بجے تک داخلہ مفت: ایل جی

Published

on

دہلی میں صبح کی سیر، جاگنگ اور فٹنس سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے ایک بڑا فیصلہ لیا گیا ہے۔ دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ڈی ڈی اے) نے راجدھانی کے کئی بڑے پارکوں، گرین ایریاز اور ہیریٹیج سائٹس میں صبح 10 بجے تک صبح کی سیر کرنے والوں کے لیے مفت داخلہ کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر سردار ترنجیت سنگھ سندھو کی ہدایت پر لیا گیا ہے۔
ڈی ڈی اے کی طرف سے جاری پریس ریلیز کے مطابق یہ قدم وزیر اعظم نریندر مودی کی ‘فٹ انڈیا موومنٹ’ کو آگے بڑھانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ اس کے ذریعے لوگوں کو صحت مند طرز زندگی اپنانے کی ترغیب دی جائے گی اور فٹنس میں عوام کی شرکت بڑھانے کی کوشش کی جائے گی۔
ڈی ڈی اے کے مطابق، پارکس اور سائٹس جو پہلے انٹری فیس وصول کرتے تھے اب صبح 10 بجے تک صبح کی سیر کرنے والوں، جوگرز اور فٹنس کے شوقین افراد کے لیے فیس سے مستثنیٰ ہوں گے۔ اس سے ہزاروں لوگوں کو ریلیف ملنے کی امید ہے۔
اس فیصلے کے دائرہ کار میں کئی مشہور پارکس اور گرین سپاٹس کو شامل کیا گیا ہے۔ ان میں مہرولی آرکیالوجیکل پارک، بنسیرا، آسیتا، کرانتی ادیان، واٹیکا، اٹل سدبھاونا پارک، واسودیو گھاٹ، ویشنوی پارک، سیکٹر 16 ڈی دوارکا میں ڈی ڈی اے گرین، امرت بائیو ڈائیورسٹی پارک، لالہ ہردیو لال پارک (جسولا) اور نریلا میں اسمرتی وین شامل ہیں۔
ڈی ڈی اے کا کہنا ہے کہ اس پہل کا مقصد دہلی والوں کو صبح کے وقت کھلے اور ہرے بھرے ماحول میں صحت کی سرگرمیوں کے لیے بہتر سہولیات فراہم کرنا ہے۔ اس کا مقصد شہر میں فٹنس کی ثقافت اور صحت مند طرز زندگی کو مضبوط کرنا بھی ہے۔ اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ دیگر تمام ڈی ڈی اے پارکس عوام کے لیے پہلے کی طرح مفت کھلے رہیں گے۔
دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی اس وقت دارالحکومت میں 16,000 ایکڑ سے زیادہ گرین اسپیس کا انتظام کرتی ہے۔ اس میں 700 سے زیادہ پارکس، بائیو ڈائیورسٹی زون، شہر کے جنگلات، علاقائی پارکس، اور پڑوس کے باغات شامل ہیں۔ یہ سبز علاقے ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھنے اور لوگوں کو صاف ستھرا اور قدرتی ماحول فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network