Connect with us

بہار

بہارکانگریس صدر راجیش رام نے پلوامہ کے شہید سپاہیوں کے اہل خانہ کوسونپا ایک ایک لاکھ روپے کا چیک

Published

on

(پی این این)
پٹنہ ـ:بہار پردیش کانگریس صدر راجیش رام، آل انڈیا ایکس سروس مین کانگریس کے قومی چیئرمین روہت چودھری اور کانگریس ودھان منڈل دل کے لیڈر ڈاکٹر شکیل احمد خان نے آج پٹنہ کے صداقت آشرم میں واقع ریاستی کانگریس دفتر میں ایک پریس کانفرنس کے دورا​ن شہید فوجیوں کے تئیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے پلوامہ میں شہید ہونے والے سپاہیوں کے اہل خانہ کو ایک ایک لاکھ روپے کی مالی امداد فراہم کی۔ یہ مالی امداد آل انڈیا کانگریس کمیٹی اور بہار کانگریس کی جانب سے اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کی پہل پر دی گئی۔ اس موقع پر شہید امتیاز علی اور رام بابو سنگھ کے اہل خانہ کو اعزاز سے نوازا گیا۔
آل انڈیا ایکس سروس مین کانگریس کے قومی چیئرمین روہت چودھری نے حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت فوج کا سیاسی استعمال کر رہی ہے اور فوجیوں کی شہادت کو چھپا کر سیاسی فائدہ اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلگام میں ’’آپریشن سندور‘‘سے پہلے دہشت گرد حملے میں 26 لوگ شہید ہوئے لیکن انٹیلی جنس مکمل طور پر ناکام رہا، جو ملک کے لیے شرمناک بات ہے۔ راہل گاندھی نے فوراً اپنا غیر ملکی دورہ منسوخ کر کے شہیدوں کے اہل خانہ اور زخمیوں سے ملاقات کی، جبکہ وزیراعظم نریندر مودی اگلے ہی دن بہار میں انتخابی ریلی میں مصروف ہو گئے اور شہیدوں کے اہل خانہ سے ملاقات کی زحمت تک نہ اٹھائی۔
روہت چودھری نے مزید کہا کہ جب ہماری فوج سرحد پر برتری حاصل کر رہی تھی، تب حکومت نے ان کے ہاتھ باندھ دیے اور جنگ بندی کا اعلان کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے نہ تو کسی کی ذمہ داری طے کی، نہ ہی کوئی کارروائی کی۔ یہاں تک کہ آپریشن سندور میں شہید ہونے والے 10 سپاہیوں کے بارے میں وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے پارلیمنٹ میں ان کی شہادت سے انکار کیا اور جھوٹ بولا۔ انہوں نے کہا کہ یہ حکومت دیش بھکت نہیں بلکہ دیش کو کمزور کرنے پر تلی ہوئی ہے۔
انہوں نے بہار کے عوام سے اپیل کی کہ وہ حکومت سے پوچھیں کہ ہمارے سپاہیوں کی شہادت کو کیوں چھپایا جا رہا ہے؟ ساتھ ہی انہوں نے وعدہ کیا کہ بہار میں انڈیا اتحاد کی حکومت بنتے ہی تمام شہیدوں کے اہل خانہ کو ایک کروڑ روپے اور سرکاری نوکری دی جائے گی۔ سابق فوجیوں کے لیے کرناٹک کی طرز پر ایک کارپوریشن کا قیام بھی کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں 8 لاکھ سابق فوجی ہیں لیکن مرکزی نوکریوں میں 7.70 لاکھ آسامیاں خالی ہیں، اور بہار کے سابق فوجی آج پرائیویٹ سیکورٹی گارڈ کی نوکری کرنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے “اگنی ویر یوجنا” کو بند کرنے کا بھی اعلان کیا۔
ریاستی کانگریس صدر راجیش رام نے کہا کہ بہار کانگریس، ایکس سروس مین کانگریس کے تمام مطالبات کو تسلیم کرتی ہے اور آئندہ اسمبلی انتخابات کے منشور میں ان مطالبات کو شامل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ راہل گاندھی نے بہار کے شہید سپاہیوں کے اہل خانہ کو تعزیتی پیغام بھی بھیجا ہے، اور یہ چھوٹی سی امداد کانگریس پارٹی کی جانب سے ان کے ساتھ یکجہتی کی علامت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ راہل گاندھی نے پلوامہ حملے میں شہید ہونے والے 40 فوجیوں کے اہل خانہ کو دہلی اپنے گھر بلا کر اعزاز دیا، جن میں بہار کے دو سپاہی بھی شامل تھے جنہیں آج ایک ایک لاکھ روپے دیے گئے کیونکہ اس وقت مرکزی حکومت نے کانگریس کے بینک اکاؤنٹ منجمد کر دیے تھے۔
ودھان منڈل دل کے لیڈر ڈاکٹر شکیل احمد خان نے کہا کہ بی جے پی کبھی بھی سپاہیوں کے ساتھ کھڑی نہیں ہوئی، اور نہ ہی آر ایس ایس نے کبھی ملک کی آزادی، حفاظت یا سیکورٹی میں حصہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس کا تاریخی کردار ملک کے جانبازوں کی قربانیوں کے خلاف رہا ہے۔اس پریس کانفرنس اور اعزاز تقریب میں ریاستی صدر راجیش رام، قومی چیئرمین روہت چودھری، لیڈر ڈاکٹر شکیل احمد خان، نیشنل میڈیا پینلسٹ پریم چند مشرا سمیت کئی دیگر لیڈران بھی موجود تھے۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

بہار

وندے ماترم کی لازمیت مذہبی اور شخصی آزادی کے خلاف :امیر شریعت

Published

on

(پی این این)
پھلواری شریف:امیر شریعت بہار، اڈیشہ ،جھارکھنڈ ومغربی بنگال مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی نےکہاکہ نظم وندے ماترم کی اصل روح دیوی ،درگاہ کی حمد وثناء پر مبنی ہے ، اس کو لازمی قرار دینا مذھبی اور شخصی آزدی کے قطعی خلاف ہے۔انہوں نےمزید فرما یاکہ ملک آئین ودستور سے چلے گا کیونکہ دستور کے معماروں نے ملک کے دستور کو سیکولر ڈھانچہ میں تشکیل دیا ہے ، جس میں تمام مذاہب وادیان کو مذہبی آزادی حاصل ہے ، یہاں کے تمام باشندے اپنے مذہب وعقیدے پر آزادانہ طریقہ پر عمل کرتے ہیں جو ان کے بنیادی حقوق کا حصہ ہے اور وندے ماترم گیت میں دیوی دیوتا ؤں کو ماں تصور کرنے کا نظریہ پیش کیا گیا ہے ، ماضی میں بھی یہ قضیہ کھڑا ہواتھا ملک کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے واضح کردیا تھا کہ یہ ترانہ اپنے مخصوص تہذیب میں روایت سے وابستہ ہے ، اس کو ملکی وحدت قرار دینے سے مشکلات پیداہوں گی ، تحریک آزادی کے قائد اور ملک کےپہلے وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزادؒ نے کہا کہ اس طرح کے ترانوں سے قومی یکجہتی میں شگاف پیدا ہوسکتا ہے ، بالآخر یہ مسلمانوں کے ایمان وعقیدے کے منافی ہے جس کو ہم کسی طرح تسلیم نہیں کریں گے ، کیوں کہ مذہبی آزادی ہمارا بنیادی حق ہے ۔
ناظم امارت شرعیہ مولانا مفتی محمد سعیدا لرحمن قاسمی نےکہاکہ ملکی عدالتوں نے اس ترانے کو سیکولر اقدار کے منافی قرارد یا ہے، اس کے باجود مرکزی حکومت کا وندے ماترم گانے پر اصرارکرنا دستور وآئین اورعدالتی فیصلوں کے قطعی خلاف ہے، اس سے ملک میں یکجہتی قائم نہیں رہ سکتی ہے ، لہٰذا ملکی وحدت وسالمیت کے پیش نظر حکومت اپنے نوٹیفیکیشن کو واپس لے تاکہ ملک میں جمہوری اقدار قائم رہیں ، انہوں نے مزید فرمایاکہ اس ملک کو بنانے وسنوارنےاورانگریزوں کے تسلط سے آزاد کرانے میں مسلمانوں نے بڑی قربانیاں دی ہیں ، ہزاروں کی تعدا د میں مسلمان شہید ہوئے ، قیدو بند کی صعوبتیں برداشت کیں ، ان کی سرفروشانہ کوششوں کے نتیجہ میں ملک آزاد ہوا،اور یہ ملک گنگا جمنی تہذیب کا گہوارہ قرار پایا اور تمام مذاہب وادیان کا خیال رکھتے ہوئے دستور بنایا گیا،لہذا ان پر کوئی ایسے نامناسب کلمات وگیت کو قومی ترانہ کا نام دے کر پڑھنے پر مجبور کرنا کسی طرح بھی قبول نہیں ہے ۔ اس لیے ہمار امرکزی حکومت سے مطالبہ ہے کہ فورا ًاس نوٹیفیکیشن کو واپس لے تاکہ ملک میں امن وامان قائم رہے اور محبت وبھائی چارگی کی فضا ہموار ہو۔

Continue Reading

بہار

امیرِ شریعت کے ہاتھوں متعدد اہم کتابوں کا شاندار رسمِ اجرا

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:امارتِ شرعیہ بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈ و مغربی بنگال کے مرکزی دفتر میں منعقدہ اجلاسِ مجلسِ شوریٰ کے موقع پر ایک یادگار اور علمی اہمیت کی حامل نشست میں امیرِ شریعت مفکرِ ملت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی کے دستِ مبارک سے متعدد قیمتی اور علمی کتابوں کا باوقار رسمِ اجرا انجام پایا۔
اس موقع پر معروف عالمِ دین، صاحبِ قلم اور معہد عائشہ الصدیقہ خاتوپور بیگوسرائے کے بانی وناظم مولانا مفتی عین الحق امینی قاسمی کی دو اہم تصانیف کی رونمائی عمل میں آئی۔ پہلی کتاب “افکارِ ولی” ہے، جو امیرِ شریعت سابع مولانا محمد ولی رحمانی رحمہ اللہ تعالیٰ کے افکاروالفاظ، سیرت و کردار، منہج و اولیات اور دینی و سماجی خدمات پر مبنی تحقیقی اور فکری مضامین کا ایک نہایت گراں قدر اور بصیرت افروز مجموعہ ہے۔ کتاب امیر شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی نائب امیر شریعت مولانا محمد شمشاد رحمانی ،مفتی محمد خالد حسین نیموی اور پرفیسر ڈاکٹر شکیل احمد قاسمی کے کلمات عالیہ سے مزین ہے جس میں مؤلف کی کاوش اور امیر شریعت سابع سے غیر معمولی عقیدت ومحبت کو سراہا گیا ہے۔ یہ کتاب دینی قیادت، فکری رہنمائی اور ملت کے لیے مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتی ہے۔اس کتاب میں رحمانی کے روشن افکار اور ادھورے خواب کو بھی تفصیل سے بیان کیا گیا۔
اسی طرح دوسری کتاب “تذکرۂ مشفقِ ملت” ہے، جو سابق رکنِ شوریٰ امارتِ شرعیہ اور بیگو سرائے کی عظیم دینی وملی شخصیت مولانا محمدشفیق عالم قاسمی کی حیات، علمی خدمات، ملی جدوجہد اور دینی و سماجی کارناموں پر مشتمل ایک جامع اور مؤثر تذکرہ ہے۔ یہ کتاب اہلِ علم اور نئی نسل کے لیے ایک قیمتی تاریخی و اخلاقی سرمایہ ہے۔ اس کتاب کی تصنیف کے ذریعےمصنف نے مشفق ملت پر آنے والے دنوں میں کام کرنے والوں کے لئے مضبوط متن تیار کردیا ہے جس سے استفادہ کیا جاتا رہے گا ۔ اس تقریب میں ایک اور اہم تصنیف “حی علی الفلاح” کا بھی رسمِ اجرا ہوا، جو مفتی محفوظ الرحمن قاسمی (صدر مفتی و مہتمم جامعہ عربیہ سراج العلوم) کے علمی و اصلاحی افادات کو مرتب کر کے شائع کی گئی ہے۔ اس کتاب کی ترتیب و تدوین قاری محمد حیدر نے انجام دی ہے۔ یہ تصنیف دینی تربیت، فکری رہنمائی اور روحانی اصلاح کے حوالے سے نہایت مفید اور مؤثر کاوش ہے۔
امیرِ شریعت دامت برکاتہم نے اس موقع پر مصنفین، مرتبین اور معاونین کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ علمی و فکری سرمایہ امت کی امانت ہے، اور ایسی تصانیف آئندہ نسلوں کے لیے رہنمائی، بصیرت اور اصلاح کا ذریعہ بنتی ہیں۔ انہوں نے اہلِ علم کو تحقیق، تصنیف اور دینی خدمات کے میدان میں مزید سرگرم رہنے کی تلقین فرمائی۔اجلاس میں شریک مجلسِ شوریٰ کے معزز اراکین، علما، دانشوران اور مہمانانِ خصوصی نے ان کتابوں کو ملت کے لیے ایک اہم علمی سرمایہ قرار دیا اور امارتِ شرعیہ کی علمی و فکری خدمات کو سراہتے ہوئے مصنفین کو مبار بادی بھی پیش کی ۔اس اہم پروگرامز میں ان قیمتی علمی دستاویزوں کی رونمائی نہ صرف ایک خوش آئند پیش رفت ثابت ہوئی بلکہ ملتِ اسلامیہ کے فکری و دینی تسلسل کو مضبوط کرنے کی ایک اہم کڑی بھی سامنے آئی۔

Continue Reading

بہار

دربھنگہ میں کمسن بچی کے ساتھ درندگی کے بعد قتل،علاقہ میں کشیدگی ،پولیس پرپتھراؤ

Published

on

(پی این این)
جالے:دربھنگہ میں 6 سالہ کمسن بچی کے ساتھ پیش آئے انسانیت سوز واقعہ نے پورے علاقے کو دہلا کر رکھ دیا ہے۔ یونیورسٹی تھانہ حلقہ کے تحت بیلا علاقے میں ہفتہ کی رات نابالغ بچی کے ساتھ مبینہ زیادتی کے بعد اسے بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔پولیس کے مطابق متاثرہ بچی اصل میں قادِرآباد کی رہنے والی تھی اور اپنے نانیہال بیلا آئی ہوئی تھی۔ ہفتہ کی شام سے وہ اچانک لاپتہ ہوگئی، جس کے بعد اہل خانہ اور رشتہ داروں نے مسلسل تلاش شروع کی۔ کافی دیر بعد گاؤں کے باہر تالاب کے قریب دیوار کے پاس بچی کی خون آلود لاش برآمد ہوئی۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی علاقے میں سنسنی پھیل گئی۔
لاش ملنے کے بعد مشتعل عوام اور اہل علاقہ بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے۔ لوگوں نے سندرپور بیلا مندر کے قریب مرکزی سڑک کو جام کرتے ہوئے انصاف کا مطالبہ کیا اور ملزم کو سخت ترین سزا دینے کی اپیل کی۔احتجاج کے دوران حالات اس وقت مزید بگڑ گئے جب مشتعل بھیڑ نے پولیس پر پتھربازی شروع کر دی۔ جواب میں پولیس نے حالات پر قابو پانے کے لیے لاٹھی چارج کیا۔ جھڑپ کے دوران پولیس اہلکاروں سمیت کئی افراد زخمی ہوئے۔ اس دوران ایک آٹو کو بھی آگ کے حوالے کیے جانے کی خبر سامنے آئی۔ کشیدگی کے پیش نظر موقع پر پانچ تھانوں کی پولیس فورس تعینات کر دی گئی۔
پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اس معاملے میں مرکزی ملزم وکاس مہتو (22 سال) کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق ملزم کے کپڑوں پر خون کے دھبے پائے گئے ہیں اور اس سے سخت پوچھ گچھ جاری ہے۔ معاملے میں مزید ممکنہ پہلوؤں کی بھی جانچ کی جا رہی ہے۔
واقعے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ایس ایس پی جگوناتھ ریڈی جلاریڈی خود موقع پر پہنچے اور بتایا کہ لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے ڈی ایم سی ایچ بھیج دیا گیا ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ کیس کی ہر پہلو سے تفتیش کی جا رہی ہے اور ملزم کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ شواہد اکٹھا کرنے کے لیے ایف ایس ایل ٹیم کو بھی طلب کر لیا گیا ہے۔
ادھر صدر ایس ڈی پی او گورو کمار نے میڈیا کو بتایا کہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے اور پولیس پوری سنجیدگی سے تحقیقات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے، دیگر پہلوؤں پر بھی جانچ جاری ہے اور جلد ہی عدالت میں مضبوط چارج شیٹ پیش کی جائے گی۔
متاثرہ بچی کے والدین کا رو رو کر برا حال ہے۔ بچی کی والدہ نے کہا کہ ہماری بیٹی ہمارے نانیہال میں خوشی سے آئی تھی، ہمیں کیا معلوم تھا کہ وہ واپس نہیں لوٹے گی۔ ہمیں انصاف چاہیے، ایسی سزا چاہیے کہ کوئی اور بیٹی اس طرح کا شکار نہ بنے۔ بچی کے والد نے بھی مطالبہ کیا کہ ملزم کو فوری طور پر سخت ترین سزا دی جائے اور متاثرہ خاندان کو مکمل انصاف فراہم کیا جائے۔فی الحال علاقے میں کشیدگی برقرار ہے اور متاثرہ خاندان انصاف کا منتظر ہے۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ ملزم کو ایسی سزا دی جائے جو آئندہ کے لیے مثال بن سکے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network