بہار
الیکشن کمیشن نے سارن میں نئے پولنگ اسٹیشن قائم کرنے کی تجویز کو دی منظوری
410 نئے پولنگ اسٹیشنوں کی تشکیل نو کے بعدکل تعداد بڑھ کرہوئی 3510
(پی این این)
چھپرہ:الیکشن کمیشن آف انڈیا نے ضلع میں 410 نئے پولنگ اسٹیشنوں کی تشکیل نو کی تجویز کو منظوری دے دی ہے۔اس سے پہلے سے قائم 3039 پولنگ اسٹیشنوں کی تعداد بڑھ کر 3510 ہو گئی ہے۔مذکورہ معلومات ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر کم ڈی ایم امن سمیر نے دی۔
انہوں نے کہا کہ کمیشن کی طرف سے موصول ہونے والی ہدایت کی روشنی میں یکم جولائی 2025 کو اہلیت کی بنیاد پر کی جانے والی خصوصی نظرثانی کے دوران پولنگ اسٹیشنوں کی ریشنلائزیشن کا عمل مقررہ معیار کے مطابق پورا کر لیا گیا۔جس میں فی پولنگ اسٹیشن زیادہ سے زیادہ 1200 ووٹرز ہوں گے۔اس عمل کے تحت تمام تسلیم شدہ سیاسی جماعتوں کے نمائندوں سے ملاقات کرکے تجاویز حاصل کی گئیں۔ان تجاویز کی بنیاد پر پولنگ اسٹیشنوں کی تنظیم نو کی تجویز تیار کر کے الیکشن ڈیپارٹمنٹ کو بھیج دی گئی۔جہاں سے جانچ کے بعد یہ تجویز الیکشن کمیشن آف انڈیا کو بھیجی گئی۔جس کی کمیشن نے منظوری دی ہے اور اپنے مورخہ 18 جولائی کے مکتوب کے ذریعے مطلع کیا ہے۔
ڈی ایم نے بتایا کہ ایک ہی عمارت یا احاطے میں کل 3502 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں۔جبکہ صرف آٹھ پولنگ اسٹیشنز کی لوکیشن ملحقہ احاطے میں منتقل کی گئی ہے۔تسلیم شدہ سیاسی جماعتوں کے ساتھ ہونے والی میٹنگ کے دوران نئے بنائے گئے پولنگ اسٹیشنوں کی فہرست شیئر کی گئی ہے۔اس کے علاوہ تمام سیاسی جماعتوں اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو نئے پولنگ اسٹیشنز کے بارے میں معلومات فراہم کر دی گئی ہیں۔اس کی وسیع پیمانے پر تشہیر کو یقینی بنانے کی ہدایات دی گئی ہیں۔تاکہ یہ معلومات ہر ووٹر تک بروقت پہنچ سکے۔ڈپٹی الیکشن آفیسر جاوید اقبال نے ریشنلائزیشن کے پورے عمل کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ کمیشن سے منظوری کے بعد پولنگ اسٹیشنوں کی ریشنلائزیشن کا کام ERO نیٹ پر کیا جا رہا ہے۔
بہار
بہاراقلیتی رہائشی اسکولوں میں داخلہ کیلئے درخواستیں مطلوب
(پی این این)
ارریہ: بہار کے ریاستی اقلیتی رہائشی اسکولوں میں تعلیمی سیشن 2026-27 کے لیے کلاس 9 اور 11 میں داخلے کے لیے آن لائن درخواستیں طلب کی جا رہی ہیں، نیز مسلم، سکھ، عیسائی، بدھ، جین، اور پارسی برادریوں کے طلباء کے ساتھ ساتھ اقلیتی رہائشی اسکول، جمہار پور، کاہار لینڈ، مائیناریٹی ریذیڈنٹ اسکول میں اور کیمور اضلاع، اور کیمپ ایٹ اضلاع سیوان، پورنیہ، سہرسہ، مونگیر اور سپول میں۔ آخری تاریخ، 01.05.2026 کو بڑھا دیا گیا ہے اور اہل طلباء 20.05.2026 تک درخواست دے سکتے ہیں۔ درخواست کا عمل محکمہ کی ویب سائٹ https://state.bihar.gov.in/minoritywelfare/CitizenHome.html پر آن لائن دستیاب ہے۔
آن لائن فارم کے ساتھ منسلک ہونے والی دستاویزات (خود تصدیق شدہ) ضمیمہ: سرکل آفیسر کے ذریعہ جاری کردہ رہائشی آمدنی کا سرٹیفکیٹ (امیدواروں کی زیادہ سے زیادہ سالانہ خاندانی آمدنی چھ لاکھ روپے ہونی چاہئے)، تعلیمی قابلیت کے سرٹیفکیٹ/نمبر سرٹیفکیٹ کی خود تصدیق شدہ کاپیاں، تین تصاویر، اور عمر کی حد کا ثبوت۔
بہار
پسماندہ مسلمانوں کیلئے سیاسی ،معاشی اور سماجی میدان میں حصہ داری کا مطالبہ
(پی این این)
چھپرہ :شہر کے آڈیٹوریم میں اتوار کو سائیں-شاہ سماج کی جانب سے ایک روزہ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔جس میں برادری کے معاشی،سماجی اور سیاسی فروغ کے موضوع پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔کانفرنس میں مقررین نے کہا کہ برسوں سے مختلف سیاسی جماعتوں نے اس سماج سے صرف ووٹ لینے کا کام کیا ہے۔مگر اس کی ترقی اور حقوق کے لیے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سماج کے ضلع صدر انجینئر دانش ہشام نے کہا کہ یہ برادری آج بھی نظر انداز اور پسماندہ حالت میں زندگی گزار رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس کانفرنس کا مقصد موجودہ مسائل کا حل تلاش کرنا اور آنے والی نسلوں کے روشن مستقبل کے لیے مؤثر منصوبہ بندی کرنا ہے۔انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ متحد ہو کر آگے بڑھیں اور تعلیم،روزگار اور سماجی بیداری پر خاص توجہ دیں۔
بھاگلپور سے آئے سماجی کارکن و سابق مکھیا محمد کلام الدین نے کہا کہ اس کانفرنس کا بنیادی مقصد حکومت کی توجہ اس برادری کی ہمہ جہت ترقی کی طرف مبذول کرانا ہے۔انہوں نے کہا کہ سائیں-شاہ سماج آج بھی سماجی اور معاشی طور پر کافی پسماندہ ہے اور زیادہ تر لوگ محنت مزدوری اور چھوٹے کاروبار پر انحصار کرتے ہیں۔انہوں نے مرکز اور ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس سماج کی ترقی کے لیے خصوصی اسکیمیں بنائی جائیں اور سرکاری فوائد آخری فرد تک پہنچائے جائیں۔
اس موقع پر کلام میموریل ٹرسٹ کے قومی سکریٹری محمد مِٹّھو شاہ نے کہا کہ آزادی کے 77 برس بعد بھی اس برادری کے حقوق کے لیے سنجیدگی سے آواز نہیں اٹھائی گئی۔انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ اس کمیونٹی کو بھی سیاسی نمائندگی میں مناسب مقام دیا جائے۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس سماج کے نمائندوں کو اسمبلی، قانون ساز کونسل اور راجیہ سبھا جیسے اہم ایوانوں میں شامل کیا جائے تاکہ ان کی آواز بلند ہو سکے۔
کانفرنس کے نائب صدر شمیم احمد نے کہا کہ اگر حکومت سنجیدہ قدم اٹھائے تو نوجوانوں کو تعلیم، روزگار اور باعزت زندگی کے مواقع حاصل ہو سکتے ہیں۔کانفرنس میں جنرل سیکرٹری محمد شہاب الدین،ضلع صدر محمد شمیم،چھپرہ صدر محمد اصغر علی،انجینئر شمشیر عالم،مظہر حسین،صفدر حسین،حاجی ہشام الدین،نظام شاہ سمیت بڑی تعداد میں برادری کے افراد موجود تھے۔
بہار
وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے سیتامڑھی میں ترقیاتی کاموں کالیا جائزہ
(پی این این)
سیتامڑھی:وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے ضلع سیتامڑھی میں واقع پُنورادھام مندر کی تعمیر اور پورے علاقے کے ترقیاتی کاموں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ پُنورادھام مندر احاطہ میں منعقد اس اہم اجلاس میں ضلع مجسٹریٹ رچی پانڈے نے پریزنٹیشن کے ذریعے مجوزہ ماں سیتا پُنورادھام مندر سے متعلق تمام کاموں کی پیش رفت اور مستقبل کے منصوبوں کی مکمل جانکاری دی۔ پریزنٹیشن میں بتایا گیا کہ پُنورادھام کو ایک بڑے مذہبی و سیاحتی مرکز کے طور پر ترقی دینے کے لیے یاتری سہولت مرکز، شاندار داخلی دروازہ، گربھ گرہ اور سیتا کنڈ کی ترقی، وسیع بلٹ اپ ایریا، پارکنگ کی سہولت، انتظامی عمارت، ریلوے اسٹیشن کی بہتری، ماں جانکی کے جنم کنڈ کے احاطہ کی بحالی، ماسٹر پلان، سیکورٹی کے نقطہ نظر سے ضروری اقدامات، مجوزہ سیتا میوزیم اور سیٹلائٹ ٹاؤن شپ جیسے اہم منصوبوں پر کام جاری ہے۔ بہار اسٹیٹ ٹورزم ڈیولپمنٹ کارپوریشن کی جانب سے ان منصوبوں کی تفصیلات بھی تیار کی گئی ہیں۔ضلع مجسٹریٹ نے بتایا کہ مٹی کی جانچ اور سروے کا کام مکمل ہو چکا ہے جبکہ بیریکیڈنگ کا کام جاری ہے۔ اس کے ساتھ ہی مندر احاطہ کے گربھ گرہ اور کنڈ کی مجموعی ترقی کا بھی منصوبہ ہے۔
جائزہ کے دوران وزیر اعلیٰ نے افسران کو سخت ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ماں جانکی کے پُنورادھام مندر کی تعمیر 31 دسمبر 2028 تک ہر حال میں مکمل کی جائے۔ انہوں نے تعمیراتی کام کے معیار پر خاص توجہ دینے اور اسے اعلیٰ سطح پر مکمل کرنے کی ہدایت دی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پُنورادھام علاقے کو ایک منظم ٹاؤن شپ کے طور پر تیار کیا جائے گا۔ ساتھ ہی ماں سیتا کی زندگی سے جڑے تمام اہم مقامات کو پُنورادھام سے جوڑنے کا بھی انتظام کیا جائے گا تاکہ یہاں آنے والے عقیدت مند کچھ دن قیام کرکے زیارت اور سیاحت کر سکیں۔
وزیر اعلیٰ نے لکشمنہ ندی سے متعلق امور کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ علاقے کی تاریخی اور مذہبی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام ترقیاتی کام یقینی بنائے جائیں۔ اجلاس سے قبل وزیر اعلیٰ نے ماں جانکی مندر، پُنورادھام میں جانکی کی جائے پیدائش (سیتا جنم کنڈ) پر پوجا پاٹھ کرکے ریاست کی خوشحالی، امن اور ترقی کی دعا کی۔ اس دوران انہوں نے مجوزہ مندر کے ماڈل کا بھی معائنہ کیا۔ مقامی عوامی نمائندوں، رہنماؤں، ضلع انتظامیہ اور پُنورادھام مندر انتظامیہ کمیٹی کے اراکین نے وزیر اعلیٰ کا گلدستہ، شال اور یادگاری نشان پیش کر کے استقبال کیا۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر1 year agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار5 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
بہار11 months agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ1 year agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ1 year agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
