بہار
بیٹیاں علم دین سے آراستہ ہوں گی تو نسلیں بھی دینداری اور نیکی کی روش پر چلیں گی
جامعہ سلمیٰ للبنات سنہ پور کی شوریٰ و عاملہ کی میٹنگ سے موقر علماء کا خطاب ، ادارے کی تعلیمی و تعمیری ترقی پر اظہار مسرت
(پی این این)
جالے :سنگھواڑہ بلاک کے تحت جامعہ سلمیٰ للبنات، محلہ مجیب نگر سنہ پور بزرگ کے دفتر میں اتوار کو ایک اہم اور بامقصد نشست منعقد ہوئی جس کی صدارت باوقار عالم دین مولانا محمد شاہد ناصری حنفی نے کی۔ جامعہ کی شوریٰ و عاملہ کے اراکین کی اس مشترکہ نشست میں ادارے کی اب تک کی کارکردگی، ترقیاتی مراحل، تعلیم و تربیت کی سطح اور آئندہ منصوبوں پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
اس موقع پر علاقہ کے ممتاز عالم دین مولانا دبیر احمد قاسمی (مدرس مدرسہ اسلامیہ شکرپور، بھرواڑہ) نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جامعہ سلمیٰ للبنات اس خطے میں علم و ہنر کا روشن چراغ بن چکا ہے۔ کم وقت میں جامعہ نے جو تعلیمی اور تعمیری ترقی کی ہے، وہ نہ صرف خوش آئند ہے بلکہ آئندہ نسلوں کے لیے ایک مضبوط علمی اساس کی ضمانت بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ادارے کے مشن کو مضبوط کرنے کے لیے مکمل تعاون کرنا چاہیے، کیونکہ ایسے ادارے معاشرتی روشنی کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ اگر مقامی عوام، اہل خیر اور علم دوست افراد نے مسلسل تعاون کیا، تو ان شاءاللہ جامعہ ایک مثالی ادارے کی حیثیت اختیار کر لے گا۔
اسی طرح مولانا مفتی مبین (مدرس مدرسہ طیبہ قاسم العلوم، بردی پور) نے بھی جامعہ کی علمی و دینی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ خواتین کی دینی تعلیم آج کے دور کی اہم ترین ضرورت ہے اور جامعہ سلمیٰ اس ضرورت کو پورا کر رہا ہے۔ یہاں کی تعلیم و تربیت کا معیار قابل فخر ہے۔ میں عوام سے اپیل کرتا ہوں کہ اس کار خیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔
نشست کے دوران ادارے کے ناظم قاری ریحان نے بھی شرکاء مجلس سے خطاب کیا۔ انہوں نے اپنی گفتگو میں کہا کہ جامعہ سلمیٰ للبنات کا قیام ایک خواب کی تعبیر ہے، جو صرف اللہ کے فضل، علما کی دعاؤں اور عوام کے اعتماد کی بدولت ممکن ہو سکا۔ ہم ہر قدم پر بچیوں کی معیاری دینی تعلیم، تربیت اور اخلاقی اصلاح کو اپنا نصب العین بنائے ہوئے ہیں۔ ہمیں خوشی ہے کہ علاقہ کے ذی شعور افراد جامعہ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ یہ تعاون مستقبل میں بھی جاری رہے گا۔
آخر میں صدر محترم مولانا محمد شاہد ناصری حنفی نے اپنے پرمغز خطاب میں قرآن و سنت کی روشنی میں دینی تعلیم کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ خواتین کی دینی تعلیم کسی بھی معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے۔ اگر ہماری مائیں، بہنیں اور بیٹیاں علم دین سے آراستہ ہوں گی، تو آنے والی نسلیں بھی دینداری اور نیکی کی روش پر چلیں گی۔انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ جامعہ کو مزید ترقی عطا فرمائے اور اسے ہر فتنہ و فساد سے محفوظ رکھے۔
اس موقع پر ماسٹر خورشید آفاق، ماسٹر فیضان، ڈاکٹر طارق امان، محمد مشکور، محمد وسیم، محمد جمشید، محمد کیفی، محمد اجالے، محمد شکیل ڈرائیو، ابو شحمہ، محمد حسنین، محمد افتخار رمپٹی، محمد یونس شکر پور، حاجی قاسم و دیگر اہل خیر شامل تھے۔
نشست کا اختتام دعا کے ساتھ ہوا، جس میں ادارے کی ترقی، طالبات کی کامیابی، اور ملت اسلامیہ کی فلاح و بہبود کے لیے دعائیں کی گئیں۔ شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ ہر ممکن تعاون جاری رکھیں گے اور جامعہ کو اپنے قدموں پر مضبوطی سے کھڑا کرنے کے لیے ہمیشہ ساتھ رہیں گے۔
بہار
آن لائن اپلائی میں اردو کو نظرانداز کرنے کے بعد بہارحکومت کا یوٹرن، ماڈل اسکولوں میں اردو بھی شامل
(پی این این)
پٹنہ :ریاست بھر کے 534 ماڈل اسکولوں میں مختلف مضامین کے لیے جاری آن لائن درخواست کے عمل میں اردو مضمون کو شامل کیے جانے پر بہار اسٹیٹ اردو ٹیچرس ایسوسی ایشن (بسوٹا) کے ریاستی صدر قمر مصباحی نے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ بہار، وزیر تعلیم اور محکمہ تعلیم کے ایڈیشنل چیف سکریٹری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اسے اردو زبان کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔
تفصیلات کے مطابق، جب ماڈل اسکولوں کے لیے آن لائن درخواستیں طلب کی گئیں تو اس میں اردو مضمون کا آپشن شامل نہیں تھا، جس پر اردو اساتذہ میں شدید ناراضگی پائی گئی۔ بسوٹا نے اس معاملے پر سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے محکمہ تعلیم کو نشانۂ تنقید بنایا اور اسے یا تو تکنیکی خامی فوری درست کرنے یا پھر سازش مانتے ہوئے تحریک چلانے کی وارننگ دی تھی۔قمر مصباحی نے اپنے بیان میں واضح کیا تھا کہ اردو کو ریاست میں دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے، اس کے باوجود اردو کے ساتھ اس طرح کا امتیازی سلوک ناقابل قبول ہے، خاص طور پر جب معاملہ اساتذہ کی تقرری اور تبادلہ سے متعلق ہو۔
بالآخر حکومت نے 6 مارچ 2026 کو اردو مضمون کو ماڈل اسکولوں کے لیے شامل کر کے اس غلطی کی اصلاح کر دی، جس کے بعد اردو اساتذہ میں خوشی اور اطمینان کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اس فیصلے کو اردو طبقے کی ایک بڑی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔آخر میں قمر مصباحی نے ریاست بھر کے ان اردو اساتذہ سے اپیل کی ہے جو ماڈل اسکولوں میں تبادلہ کے خواہشمند ہیں کہ وہ ای-شکشا پورٹل پر جلد از جلد آن لائن فارم پُر کر کے اپنی امیدواری یقینی بنائیں۔
بہار
چھپرہ ائیر پورٹ سے جلد شروع ہوگی فلائٹس
(پی این این)
چھپرہ :رکن پارلیمنٹ اور سابق مرکزی وزیر راجیو پرتاپ روڈی کی مسلسل کوششوں کی وجہ سے چھپرہ میں ہوائی اڈے کی ترقی میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ جلد ہی پرانے برطانوی دور کے ہوائی اڈے سے چھوٹے طیارے چل سکیں گے۔ ائیرپورٹس اتھارٹی آف انڈیا نے چھپرہ سمیت بہار کے پانچ مقامات پر پری فزیبلٹی اسٹڈی کے عمل کو آگے بڑھایا ہے۔ مزید برآں UDAN اسکیم کے تحت فضائی تربیت اور ایرو اسپورٹس کو فروغ دینے والا اہم ادارہ ایرو کلب آف انڈیا چھپرہ میں اپنا کام شروع کرے گا۔ پائلٹ ٹریننگ اور ایرو اسپورٹس کے لیے ملک کے اس اہم ریگولیٹری ادارے کا ایک وفد 7 اپریل کو ہوائی اڈے کا معائنہ کرے گا۔ غور طلب ہے کہ ایم پی روڈی نے پہلے ہی سونپور کے لیے گرین فیلڈ انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے لیے منظوری حاصل کر لی ہے۔ جس کی سائٹ کلیئرنس منظور ہو چکی ہے۔
ایم پی روڈی کے ساتھ بات چیت کے بعد بہار کے چیف سکریٹری پرتیئے امرت نے ان تمام مجوزہ ہوائی اڈوں خاص طور پر چھپرہ کو RCS-UDAN اسکیم کے تحت شامل کرنے کی باضابطہ درخواست کی ہے۔ منصوبوں کے لیے ضروری تکنیکی معلومات اور ابتدائی دستاویزات پہلے ہی فراہم کر دی گئی ہیں۔ ریاستی حکومت ان کے کامیاب نفاذ کے لیے مکمل تعاون فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ اے اے آئی کے چیئرمین وپن کمار نے ایم پی روڈی کو بتایا کہ کلب کی ٹیم جلد ہی چھپرہ اور دیگر مقامات کا معائنہ کرے گی۔ خاص طور پر چھپرہ کے معائنہ کی تاریخ ایم پی کے دفتر کو پہلے سے بتائی جائے گی تاکہ ضلع انتظامیہ کے ساتھ مناسب تال میل کو آسان بنایا جاسکے۔
قابل ذکر ہے کہ ایم پی مسٹر روڈی نے اپنے خط میں چھپرہ کو ترجیح دیتے ہوئے جلد از جلد فزیبلٹی اسٹڈی، فیس کے ڈھانچے کی وضاحت اور کام کو تیز کرنے کے لیے باقاعدہ پیش رفت کی تازہ کاری کا مطالبہ کیا تھا۔ ایم پی روڈی نے کہا کہ چھپرہ ہوائی اڈے سے پروازوں کا آغاز علاقائی رابطوں کو نمایاں فروغ دے گا۔ جس سے سرمایہ کاری، تجارت اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور سارن ترقی کو فروغ ملے گا۔
بہار
مولانا عبداللہ سالم قاسمی کی گرفتاری تشویشناک :امیر شریعت
(پی این این)
پٹنہ : مولانا احمد ولی فیصل رحمانی امیر شریعت بہار،اڈیشہ ،جھارکھنڈ و مغربی بنگال نے اپنےایک بیان میں مولانا عبداللہ سالم قاسمی کی گرفتاری کی نوعیت پر شدید تشویش کا اظہار کیا اوراس تناظر میں آئینِ ہند کی بالادستی، شہری آزادیوں کے تحفظ اور ریاستی طاقت کے ذمہ دارانہ استعمال پر زور دیتے ہوئےکہا کہ انڈین جمہوریت کی اصل روح اس کے آئین میں مضمر ہے، اور یہی آئین ریاست اور شہری کے درمیان ایک عادلانہ معاہدہ کی حیثیت رکھتا ہے لہذا اس کا خیال رکھنا ہر ایک کیلئے ضروری ہے۔
امیر شریعت نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ مولانا عبداللہ سالم قاسمی کی گرفتاری کے طریقہ کار نے ایسے بنیادی سوالات کو جنم دیا ہے جو پورے نظامِ انصاف اور ریاستی طرزِ عمل سے متعلق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات اس اصول کی ہے کہ کیا ریاستی طاقت کا استعمال آئین کے دائرے میں ہو رہا ہے یا نہیں۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ آئینِ ہند کا آرٹیکل 19(1)(a) ہر شہری کو اظہارِ رائے کی آزادی دیتا ہے، اور اس آزادی پر پابندیاں صرف اسی صورت میں عائد کی جاسکتی ہیں جب وہ آرٹیکل 19(2) کے تحت معقول، محدود اور آئینی معیار پر پوری اترتی ہوں۔ امیر شریعت نے اس امر کی طرف بھی توجہ دلائی کہ سپریم کورٹ نے متعدد فیصلوں میں یہ واضح کیا ہے کہ محض کسی بات کا ناگوار ہونا اسے جرم نہیں بنا دیتا، جب تک وہ براہِ راست امن عامہ کو متاثر نہ کرے۔
امیرشریعت نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ آرٹیکل 21 ہر شہری کی شخصی آزادی کی ضمانت دیتا ہے، اور اس کے تحت کسی بھی شخص کو صرف اسی صورت میں اس آزادی سے محروم کیا جا سکتا ہے جب ایک منصفانہ، معقول اور شفاف طریقۂ کار اختیار کیا جائے۔ اسی طرح آرٹیکل 22 گرفتاری کے وقت بنیادی تحفظات فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے ڈی کے باسو بنام ریاست مغربی بنگال (1997) میں گرفتاری کے واضح اصول متعین کیے گئے ہیں، جن کی پابندی ہر حال میں لازم ہے۔
امیر شریعت نے اپنے بیان میں ذرائع ابلاغ میں آنے والی ان اطلاعات کا حوالہ دیا جن کے مطابق مولانا عبد اللہ سالم کو پیشی کے وقت کمزور اور تشویشناک حالت میں دیکھا گیا اور ایک ویڈیو معذرت بھی سامنے آئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ امور بذاتِ خود کسی جبر کو ثابت نہیں کرتے، مگر یہ ایسے سوالات کو ضرور جنم دیتے ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
اسی تناظر میں امیر شریعت نے نہایت دوٹوک انداز میں متعدد سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ کیا گرفتاری مکمل قانونی تقاضوں کے مطابق انجام دی گئی؟ کیا متعلقہ شخص کو گرفتاری کی وجوہات سے آگاہ کیا گیا اور اس کے اہلِ خانہ کو اطلاع دی گئی؟ کیا لازمی طبی معائنہ کرایا گیا؟ اگر وہ پیشی کے وقت کے کمزور حالت میں نظر آئے تو اس کی کیا وجہ ہے؟ اور جو معذرت سامنے آئی، وہ کن حالات میں دی گئی—کیا وہ مکمل رضامندی کے ساتھ تھی یا ایسے ماحول میں دی گئی جہاں آزادیِ ارادہ متاثر ہو سکتی تھی؟
انہوں نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ ایک ریاست کی پولیس کی جانب سے دوسری ریاست میں کارروائی کے لیے کون سا قانونی طریقہ اختیار کیا گیا، اور کیا اس میں مقامی پولیس کو شامل کیا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہندوستان ایک وفاقی نظام ہے، اور اس نظام کی روح باہمی احترام اور قانونی ہم آہنگی میں ہے، نہ کہ یک طرفہ طاقت کے استعمال میں۔
امیر شریعت نے اپنے بیان میں اس بات پر زور دیا کہ یہ سوالات کسی الزام کے طور پر نہیں بلکہ آئینی جوابدہی کے تقاضے کے طور پر اٹھائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک مضبوط جمہوریت وہی ہوتی ہے جہاں ریاستی طاقت شفاف ہو، قانون کے تابع ہو، اور عوام کے سامنے جوابدہ ہو۔
اپنے بیان کے اختتام پر امیر شریعت نے کہاکہ اگر آئین کے اصولوں کو نظر انداز کیا جائے تو اس کا اثر صرف ایک فرد تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے معاشرے میں بے چینی اور عدمِ اعتماد کو جنم دیتا ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے کی مکمل تفصیلات، طریقۂ کار اور قانونی بنیاد کو عوام کے سامنے پیش کریں تاکہ قانون کی حکمرانی پر اعتماد برقرار رہے اور مولانا پر کسی بھی طرح کا جبر ، اور ذہنی و جسمانی اذیت کا معاملہ ہر گز نہ کیا جائے اور قانون کی بالادستی برقرار رکھنے کیلئے مولانا کے ساتھ انصاف کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ جمہوریت کی اصل طاقت اس میں نہیں کہ سوال نہ اٹھائے جائیں، بلکہ اس میں ہے کہ سوال اٹھائے جائیں—اور ان کے جواب دیانت داری اور شفافیت کے ساتھ دیے جائیں۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر1 year agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار4 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
بہار11 months agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ1 year agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ1 year agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
