Connect with us

بہار

مل جل کر کام کرنے سے ملتی ہےکامیابی امیرشریعت

Published

on

(پی این این)
پھلواری شریف:پٹنہ کے مشہور گاندھی میدان میں وقف ایکٹ کے خلاف29 ؍جون کو منعقد وقف بچاؤدستوربچاؤکانفرنس کے پر امن طریقے پر کامیاب بنانے والوں میں شہر پٹنہ کے ائمہ مساجد اور صدوروسکریٹری کاشکریہ اداکرتے ہوئے امارت شرعیہ بہار،اڈیشہ وجھارکھنڈ کے امیرشریعت مولانا احمدولی فیصل رحمانی نےکہا کہ آپ حضرات نے جس اخلاص وللہیت کے جذبے سے جو محنتیں کی وہ قابل مبارکباد ہے درحقیقت آپ نے قائدانہ رول اداکیا ،مقتدیوں کے دروازوں تک دستک دے کر ایک مثال قائم کی ،دوسری طرف اپنے مہمانوں کے لئے مسجد اور گھر کے گیٹ کوکھول دیئے اور عمدہ ضیافت کرکے دل جیت لیامیں اس کیلئے بھی آپ کاشکر یہ اداکرتاہوں ۔
انہوں نے کہاکہ مجمع بڑا تھا ہم لوگوں نے ممکن حد تک کوشش کی کہ آپ کو یاکسی کوتکلیف نہ پہونچے تاہم اگر کچھ کمی رہ گئی ہوتو اسے درگزر فرمائیں ،آخر میں انہوں نے کہاکہ ہرپیر وجمعرات کوروزہ رکھنے اور اجتماعی طور پر افطار کانظم کرنے کی ترغیب دی اور جمعہ کو کالی پٹی باندھ کرمسجد آنے کی دعوت دی،اس موقع حضرت نے ووٹر آئی ڈی کارڈ بنوانے اور الیکشن کمیشن کے ذریعہ ووٹر لسٹ میں اپنے ناموں کے اندراج کویقینی بنانے پرزور دیااور اسی سلسلہ میںجمعہ کے خطابت میں اس کو موضوع سخن بنانے کی تاکید کی ۔
امارت شرعیہ بہار،اڈیشہ وجھارکھنڈ کے قائم مقام ناظم مفتی محمد سعیدالرحمن قاسمی نے ائمہ کرام اور مساجد کے ذمہ داران کا شکریہ اداکرتے ہوئے کہاکہ بسااوقات شرسے خیر کے پہلو بھی عیاںہوجاتے ہیں ،حکومت ھند نے وقف کے قانون میں چھیڑ چھاڑ کرہم سب کو ایک پلیٹ فارم پر متحدکردیاجس کے نتیجہ میں وقف بچاؤ کانفرنس نے ایوانوں تک میں زلزلہ پیداکردیاہے یہ سب آپ کے اتحاد کی قوت اور امارت شرعیہ کی قیادت پر اعتماد کانتیجہ ہے انہوں نے ائمہ کرام سے کہاکہ جس طر ح آپ ماضی میں حضرت امیرشریعت کی قیادت میں متحد ومنظم رہے اس ملی اتحاد کوقائم رکھیں۔
مفتی محمد سہراب ندوی نائب ناظم نے کہا کہ یہ کانفرنس تاریخ ساز رہی اور اس نے ایک تاریخ رقم کی ہے ،چنانچہ ائمہ کرام نے امارت شرعیہ پربھرپوراعتماد کااظہار کیاجامع مسجد پیر بہوڑکے امام وخطیب مولانامحمد ثناء اللہ ندوی نے کہاکہ امارت سے جداہوکرکوئی الگ نہیں رہ سکتاہم لوگوں کے لئے ماں کی حیثیت رکھتی ہے جس کے چھاؤں میں بچہ سکون محسوس کرتاہے اس موقع پر انہوں نے ووٹر لسٹ کے معاملہ میں امارت شرعیہ سے رہنمااصول وضع کرنے کی گزارش کی ،پھلواری شریف سنگی مسجد کے امام وخطیب مولاناگوہر امام نے کہاکہ وقف کانفرنس کے موقع پر ہم لوگوں کوخدمت کاموقع ملاان شاء اللہ امارت شرعیہ کی ہدایت پرآئندہ بھی تیاررہیں گے،مولاناعظیم الدین رحمانی کولڈ اسٹور مسجد راجابازار نے کہاکہ اس کانفرنس کے ذریعہ عوامی بیداری آئی ہے حتی کہ خواتین بھی دعاؤوں میںمصروف رہیں،حافظ محمد امتیاز احمدرحمانی مونگیر نے کہاجس طرح پٹنہ کے ائمہ کرام کے لئے تہنیتی نشست طلب کی گئی ہے اضلاع کی سطح پر بھی ایسی نشست رکھی جائے ، مجاہد حسین حبیبی نے کہاکہ وقف کانفرنس کا پیغام پوری دنیامیں پہنچا ان شاء اللہ اس کے مثبت اثرات ظاہر ہوں گے ،جامع مسجد پٹنہ جنکشن کے امام وخطیب مولانامحمد اسعدقاسمی نے کہا کہ باطل طاقتوں کے خلاف صف آرا ہونے کاموقع ملا ہم سب اس کے خلاف جدوجہدکرتے رہیں گے،قاری عبدالستار امام وخطیب جامع مسجد تبار ک علی باقرگنج نے کہاکہ اس کانفرنس سے ایک نئی توانائی پیداہوئی ہے۔
مولانا شاہد ندوی نے کہاکہ اس کانفرنس سے نواجوانوںمیں ایک اچھاپیغام گیاہے، مولانامحمدوسیم الدین نے کہاکہ کانفرنس کی اسپریٹ کو تسلسل کے ساتھ باقی رکھاجائے،مولانامحمد اشرف خان نے کہاکہ یہ کانفرنس امیدسے زیادہ کامیاب رہی،اس سلسلہ کو مولاناپرویزرحمانی ،مولاناخالد ندوی ، مولاناازہرالدین پالی گنج،مولانامحمدکلیم ،مولانامحمد اشتیاق رحمانی،مولانارضوان احمد مظاہری،اسحاق ، حاجی جمال عبد الناصر ، عبدالاحد ،محمد محیط ، محمد شوکت نے بھی اپنے خیالات کااظہارکیا،واضح ہوکہ اس موقع پر امارت شرعیہ قائم مقام ناظم اور دارالافتاء کے صدر مفتی مولانامفتی محمد سعیدالرحمن قاسمی کی مرتب کردہ کتاب فتاویٰ امارت شرعیہ جلدششم کی رونمائی حضرت امیرشریعت کے مبارک ہاتھوں ہوئی ،قاضی شریعت مولانا محمدانظار عالم قاسمی،مولانامفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی ،مفتی سہیل اختر قاسمی،مولانارضوان احمدندوی سمیت امارت شرعیہ کے جملہ ذمہ داران وکارکنان اور ائمہ کرام نے اس کتاب کی اشاعت پر مفتی صاحب کو مبارکبادی مجلس کی کارروائی امارت شرعیہ کے نائب ناظم مفتی محمدسہراب ندوی نے عمدہ طریقے سے چلائی اس تہنیتی نشست کا آغازقاری مفتی محمد مجیب الرحمن قاسمی کی تلاوت کلام اللہ سے ہوااور حضرت امیرشریعت کی دعاپر مجلس اختتام پذیرہوئی۔

بہار

تہوار کے پیش نظر امن کمیٹی کی میٹنگ منعقد

Published

on

(پی این این)
ارریہ: ہولی کے تہوار کے حوالے سے ضلع سطح امن کمیٹی کااجلاس ضلع مجسٹریٹ ارریہ مسٹر ونود دوہن اور پولس سپرنٹنڈنٹ ارریہ مسٹر جتیندر کمار کی مشترکہ صدارت میں کلکٹریٹ کے پرمان آڈیٹوریم میں منعقد ہوئی۔ اجلاس میں معزز چیئرمین ضلع کونسل جناب آفتاب عظیم پپو سمیت دیگر امن کمیٹی کے اراکین اور معزز عوامی نمائندوں نے شرکت کی۔ پرامن، ہم آہنگی اور محفوظ ہولی تہوار کو یقینی بنانے کے حوالے سے تفصیلی بات چیت کی گئی۔
ضلع مجسٹریٹ نے سب ڈویژنل افسر اور سب ڈویژنل پولیس افسر کو ہدایت دی کہ ہولی کے دوران امن کو خراب کرنے والے شرپسندوں کے خلاف سخت کارروائی کو یقینی بنایا جائے۔ انہیں یہ بھی ہدایت دی گئی کہ وہ ہولیکا دہن کے دوران خصوصی چوکسی اختیار کریں اور کسی بھی ناخوشگوار واقعات کو روکنے کے لیے ممکنہ طور پر حساس علاقوں کی نگرانی کریں۔ پولیس سپرنٹنڈنٹ نے کہا کہ تمام تھانوں کے سربراہان اپنے اپنے علاقوں میں سوشل میڈیا گروپس کی کڑی نگرانی کریں گے تاکہ بروقت افواہوں کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہولی کے دوران ڈی جے پر مکمل پابندی ہوگی اور اگر موٹر سائیکلوں پر اوور لوڈنگ یا ٹرپل لوڈنگ پائی گئی تو سخت کارروائی کی جائے گی۔
اجلاس میں مقامی سطح پر رابطہ برقرار رکھنے اور کسی بھی ناپسندیدہ سرگرمیوں کی اطلاع فوری طور پر ضلعی انتظامیہ کو فراہم کرنے کی درخواست کی گئی۔ اجلاس میں امن کمیٹی کے اراکین نے بھی اپنی تجاویز پیش کیں اور ڈی جے پر مکمل پابندی کے نفاذ، غیر قانونی شراب کے خلاف خصوصی مہم چلانے اور پولیس انتظامیہ کی جانب سے باقاعدہ گشت بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا، تاکہ تہوار کو پرامن طریقے سے منایا جا سکے۔ اس موقع پر ایڈیشنل کلکٹر، سب ڈویژنل آفیسر فوربس گنج اور ارریہ، سب ڈویژنل پولیس آفیسر، سول سرجن، ضلع پبلک ریلیشن آفیسر کے علاوہ دیگر متعلقہ افسران اور امن کمیٹی کے ارکان موجود تھے۔

Continue Reading

بہار

ایران کی اصول پسند قیادت کے ظالمانہ قتل قابل مذمت:امیرِ شریعت

Published

on

(پی این این)

پٹنہ:امیرِ شریعت بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈ و مغربی بنگال،مولانا احمد ولی فیصل رحمانی سجادہ نشین خانقاہِ رحمانی مونگیر، نے ایران میں پیش آنے والے حالیہ المناک واقعات میں شیخ آیت اللہ علی خامنہ ای اور متعدد اہم ایرانی قائدین و ذمہ داران کے جاں بحق ہونے پر گہرے رنج و غم، شدید صدمہ اور امتِ مسلمہ کے ساتھ قلبی یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔امیرِ شریعت نے اس واقعہ کو ایک سنگین ظلم، بین الاقوامی ضمیر کے لیے چیلنج، اور انسانی جان کی حرمت پر کھلا حملہ قرار دیتے ہوئے نہایت سخت اور واضح الفاظ میں اس کی مذمت کی۔
انہوں نے کہاکہ آج امتِ مسلمہ جس کرب اور اضطراب سے گزر رہی ہے وہ محض ایک سیاسی واقعہ کا ردِعمل نہیں بلکہ ایک گہرا روحانی اور اجتماعی زخم ہے، جب کسی مسلم قیادت کو اس طرح نشانہ بنایا جاتا ہے تو اس کے اثرات سرحدوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ پوری امت کے احساسات اور وقار کو مجروح کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق انسانی جان کی حرمت بنیادی اصول ہے، اور کسی بھی ملک یا قیادت کے خلاف اس نوعیت کی کارروائیاں دنیا کو مزید بے یقینی، انتقام اور عدمِ استحکام کی طرف دھکیل دیتی ہیں۔امیرِ شریعت نے مرحوم شیخ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شخصیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ عالمی سطح پر ایک مضبوط، جرأت مند، بااثر اور اصولی آواز کے طور پر پہچانے جاتے تھے۔ انہوں نے اپنی طویل قیادت کے دوران استقامت، خود اعتمادی اور امت کے اجتماعی شعور کو ابھارنے کی کوشش کی۔ اختلافاتِ مسلک کے باوجود انہوں نے عالمی سطح پر مسلم مسائل، خصوصاً مظلوم اقوام کے حق میں آواز بلند کی، جس کی بازگشت مسلم دنیا میں سنی جاتی تھی۔ ان کا یوں اچانک اٹھ جانا بلاشبہ ایک بڑا خلا پیدا کرتا ہے جسے پر کرنا آسان نہیں ہوگا۔
امیرِ شریعت نے امت کے درد کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ وقت صرف تعزیت کا نہیں بلکہ غور و فکر کا بھی ہے۔ ظلم کا جواب انتشار سے نہیں بلکہ اتحاد سے دیا جاتا ہے۔ جذبات کی شدت کو حکمت کے دائرے میں رکھ کر عمل درامد ہونا ہی اہلِ ایمان کی شان ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسلامی اخوت کا تقاضا ہے کہ اہلِ قبلہ باہمی احترام اور سنجیدگی کا مظاہرہ کریں، کیونکہ ایسے مواقع پر داخلی اختلافات کو ہوا دینا امت کو مزید کمزور کرتا ہے۔
انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ طاقت کے استعمال کے بجائے انصاف، شفافیت اور مکالمہ کا راستہ اختیار کرے۔ اگر عالمی طاقتیں اپنی ذمہ داریوں کو محسوس نہ کریں تو اس نوعیت کے واقعات پورے خطے کو عدمِ استحکام کی طرف لے جا سکتے ہیں۔ انسانی جانوں کا تحفظ اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری ہی پائیدار امن کی بنیاد بن سکتی ہے۔حضرت امیرِ شریعت نے ایران کے عوام، متاثرہ خاندانوں اور پوری مسلم دنیا کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے سانحات میں سب سے اہم چیز باہمی تعاون، صبر اور اجتماعی نظم ہے۔ انہوں نے مساجد، مدارس اور اسلامی اداروں سے اپیل کی کہ وہ دعاؤں، اصلاحی بیانات اور وحدتِ امت کے پیغامات کے ذریعے عوام کو مثبت اور تعمیری راستے کی طرف رہنمائی کریں۔
اختتام میں امیرِ شریعت نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ جاں بحق قائدین پر اپنی رحمت نازل فرمائے، ان کے اہلِ خانہ کو صبر اور سکون عطا فرمائے، ایران کے عوام کو استحکام اور سلامتی نصیب فرمائے، اور امتِ مسلمہ کو اتحاد، بصیرت، حکمت اور ثابت قدمی عطا فرمائے تاکہ وہ ظلم کے مقابلے میں اخلاقی قوت اور اجتماعی شعور کے ساتھ کھڑی ہو سکے۔

Continue Reading

بہار

چھپرہ میں ماک ڈرل کاانعقاد، لوگوں میں مچی افراتفری

Published

on

(پی این این)
چھپرہ :بہار کے چھپرہ صدر اسپتال،ضلع پریشد دفتر،کٹہری باغ میں واقع اگرنی ہومس کیمپس،پرساد پٹرول پمپ اور پربھوناتھ نگرمیں واقع چلڈرن پارک میں اچانک ایک ساتھ سائرن اور ہوٹر کی آواز سن کر مقامی باشندوں میں افراتفری مچ گئی۔کچھ دیر کے لیے لوگ بے چین ہو گئے۔مگر جیسے ہی معلوم ہوا کہ یہ ماک ڈرل ہے تب لوگوں نے راحت کی سانس لی اور پورے منظر کو اپنے ا پنے موبائل میں قید کرنے لگے۔موقع تھا ضلع میں ممکنہ زلزلہ جیسی قدرتی آفت سے نمٹنے کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے لیے ماک ڈرل منعقد کرنے کا۔
یہ مشق ضلع انتظامیہ کی قیادت میں این ڈی ایم اے کی ہدایات پر انجام دی گئی۔جس میں این ڈی آر ایف اورایس ڈی آر ایف کی ٹیموں نے مشترکہ طور پر حصہ لیا۔ماک ڈرل صبح 9 بجے سے دوپہر 2 بجے تک تقریباً پانچ گھنٹے جاری رہی۔اس دوران 3.8 شدت کے فرضی زلزلے کا منظرنامہ تیار کیا گیا اور ہنگامی حالات میں بچاؤ اور راحت رسانی کی کارروائیوں کا حقیقی وقت میں عملی مظاہرہ پیش کیا گیا۔ماک ڈرل کے دوران ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر جائے حادثہ پر پہنچیں اور ملبہ ہٹانے،پھنسے ہوئے افراد کو محفوظ نکالنے،ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے اور ایمبولینس کے ذریعے زخمیوں کو اسپتال منتقل کرنے کی کارروائی انجام دی۔کٹہری باغ میں واقع اگرنی ہومس کیمپس میں مشق کے دوران گرین لینڈ پبلک اسکول کے طلبہ کے لیے آفات سے بچاؤ کے موضوع پر خصوصی ماک ڈرل بھی منعقد کی گئی۔
اس موقع پراین ڈی آر ایف اورایس ڈی آر ایف کی ٹیموں نے زلزلے اور آگ جیسی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے عملی طریقوں کا مظاہرہ کیا۔ ریسکیو ٹیم نے دکھایا کہ کسی حادثے کی صورت میں اونچی عمارتوں سے لوگوں کو کس طرح محفوظ طریقے سے باہر نکالا جاتا ہے۔ماہرین نے طلبہ کو تفصیل سے بتایا کہ زلزلے کے دوران کیا کرنا چاہیے اور کن امور سے گریز ضروری ہے۔ انہیں ہدایت دی گئی کہ کسی بھی ہنگامی حالت میں گھبرانے کے بجائے صبر و حوصلے سے کام لیں اور سب سے پہلے اپنی جان کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔ اس سلسلے میں محفوظ مقامات کی طرف منتقلی، لفٹ کے استعمال سے گریز، مضبوط میز یا ڈیسک کے نیچے پناہ لینے اور سرکاری ہدایات پر عمل کرنے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
اس موقع پر ڈاکٹر شہزاد عالم نے کہا کہ آفات جیسی صورت حال میں اسکولی طلبہ معاشرے کے لیے مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں اور بیداری و امدادی سرگرمیوں میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسی تربیتی مشقیں بچوں میں اعتماد پیدا کرتی ہیں اور انہیں ذمہ دار شہری بننے کی ترغیب دیتی ہیں۔اگرنی ہومس کیمپسمیں منعقدہ مشق کے دوران ضلع کوآپریٹو افسر سدھیر کمار سنگھ،جے پی یو کے رجسٹرار پروفیسر وشوامتر پانڈے،اجے کمار، ابھینیک کمار سنگھ،راج کمار مشرا،دلیپ کمار، ریڈ کراس سوسائٹی کے ڈاکٹر شہزاد عالم کے علاوہ گرین لینڈ پبلک اسکول کی طلبہ شریا کماری،مدیحہ ندیم،صبا شاہین،شاہین شہنواز،غوث رضا،دلشاد رضا،شاد،کماری سونی اور ایوب انصاری سمیت دیگر افراد موجود تھے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network