Connect with us

دلی این سی آر

شعبہ سوشل ورک جامعہ ملیہ کا جرمنی کی اپلائیڈ سائنس یونیورسٹی کے ساتھ تعلیمی تبادلہ پروگرام اختتام پذیر

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی : تعلیمی تبادلے کے پروگرام کے حصے کے طورپرشعبہ سوشل ورک،جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وفد نے ارفرٹ،جرمنی کی اپلائیڈ سائنسز یونیورسٹی میں15 جون تا 26جون کو منعقدہ تعلیمی دورہ کامیابی کے ساتھ مکمل کیا۔واضح ہو کہ دونوں یونیورسٹیوں کے درمیان مفاہمت نامے کے فریم ورک کے تحت اس اہم پروگرام کا انعقاد عمل میں آیا تھا۔
بی۔اے۔(آنرز) سوشل ورک اور ایم۔اے پروگرام کے بارہ طلبہ پر مشتمل وفدکے ہمراہ دو فیکلٹی اراکین ڈاکٹر حبیب اللہ وی ایم اور ڈاکٹر آسیہ نسرین نے شعبہ سوشل ورک،جامعہ ملیہ اسلامیہ کی نمائندگی کی۔ اپلائیڈ سوشل سائنسز یونیورسٹی،ارفرٹ کے شعبہ سوشل ورک نے تبدیل ہوتے معاشرے میں حاشیائیت،علاحدگی اور سوشل ورک کے موضوع پر مرکوز دورے کی میزبانی کی۔
علمی تبادلے میں دیگر اور امور کے ساتھ ارفرٹ کی گیارہویں بین الاقوامی سوشل ورک ڈیز کانفرنس(آئی ایس ڈبلیو ڈی) اسٹرینتھینگ انٹر جینیریشنل سولی ڈاریٹی فار انڈیورنگ ویل بی اینگ‘ میں شرکت بھی شامل تھی۔ طلبہ اور فیکلٹی اراکین نے تعلیمی مباحثوں،تھیم پر مبنی ورکشاپ اور این جی اوز میں تجرباتی آموزشی دوروں میں سرگرمی کے ساتھ حصہ لیا اورسماجی اداروں اور تاریخی مقامات جیسے برلن دیوار اور بچین والڈ ک حراستی کیمپ بھی دیکھنے گئے۔
ہندوستانی طلبہ نے کانفرنس سے پہلے متعدد پینلوں میں تعلیمی اور فیلڈتجربات ساجھا کیے جس سے معذوریت کے حقوق، پناہ گاہ حرکیات، دیسی سوشل ورک عمل اور لچک کے بیانیوں سمیت متنوع اہم بین تہذیبی ومذاکرات کے فروغ ہوا۔قابل ذکر ہے کہ ڈاکٹر حبیب الرحمان وی ایم نے ’پروبیشن اینڈ بیانڈ :ریفارمیٹیو پاتھ ویز فار انٹر جینیریشنل آفینڈرز ان ڈولپنگ نیشنز‘ کے موضوع پر ورکشاپ بھی کیا۔ڈاکٹر آسیہ نسرین نے ’یوگا:انشی اینٹ انڈین پریکٹس فار ایکٹیو ایجنگ“ ورکشاپ کی سربراہی کی جسے کافی پسند کیا گیا۔شرکا نے بھی ’پارٹی سی پیشن اینڈ سوشل ورک، مائیگریشن اینڈ پیڈا گوجی اینڈ چائلڈ پروٹیکشن اینڈ سی آر سی‘ سمیت اشتراکی سمینار وں میں حصہ لیا جس سے تقابلی خوش حالی نظام کے سلسلے میں ان کی تفہیم مزید بہتر ہوئی۔تہذیبی پروگراموں،کمیو نی ٹی گارڈین دورے اورشرکا کی بات چیت سے تعلیمی مصروفیت میں مزیدگہرائی پیدا ہوئی۔
مشترکہ نظر ثانی اجلاس کے ساتھ پروگرام اختتام پذیرہوا جسے باہمی تعاون اور تعلیمی سفارت کی روح میں ایک اہم اور بامعنی سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے۔ مساوات، انصاف اور تہذیبی حساسیت کے تئیں عہد کے ساتھ عالمی سطح پر اہل سوشل ورک ماہرین کی نشو ونما کے لیے یہ علمی تبادلہ پروگرام جامعہ ملیہ اسلامیہ اور اپلائیڈ سائنسز یونیورسٹی ارفرٹ کے باہمی وژن کو مجسم کرتاہے۔یونیورسٹی،پروفیسر کرسٹین ریہکلاؤ اور پوری ایف ایچ ارفرٹ ٹیم کی پرخلوص میزبانی اورتعلیمی فضیلت کے لیے دل کی گہرائیوں سے ممنون اور ان کی شکر گزار ہے۔

دلی این سی آر

گروگرام میں 300 سے زائد جھگیوں پر چلا بلڈوزر

Published

on

(پی این این)
گروگرام:گروگرام انتظامیہ ان دنوں تجاوزات اور غیر قانونی تعمیرات کے خلاف سخت رویہ اپنا رہی ہے۔ ہریانہ اربن ڈیولپمنٹ اتھارٹی (HSVP) نے گروگرام کے گولف کورس ایکسٹینشن روڈ اور سیکٹر 57 میں سرکاری زمین پر بنی 300 سے زیادہ کچی بستیوں کو بلڈوز کر دیا۔ان کچی بستیوں کے آس پاس کے دیہات میں رہنے والے کچھ نوجوان مکینوں سے پیسے بٹور رہے تھے۔وارننگ جاری کی گئی ہے کہ اگر انہوں نے زمین پر دوبارہ قبضہ کیا تو مقدمہ درج کیا جائے گا۔ تقریباً 11 بجے، HSVP اسٹیٹ آفیسر انوپما ملک کی ہدایت پر، ایک ڈیمالیشن اسکواڈ گالف کورس ایکسٹینشن روڈ پر شراب کی دکان کے قریب پہنچا۔ دکان کے پیچھے تقریباً ایک ایکڑ اراضی پر تقریباً 100 جھونپڑیاں واقع تھیں۔
انہدام HSVP سب ڈویژنل آفیسر سروے امیت وششت کی قیادت میں عمل میں آیا۔ مظاہروں کے درمیان، ڈیمالیشن اسکواڈ نے تقریباً ایک گھنٹے کے اندر ان جھونپڑیوں کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا۔ HSVP دو دنوں سے جھونپڑیوں کو خالی کرنے کے اعلانات جاری کر رہا تھا۔ جب ٹیم پہنچی تو زیادہ تر جھونپڑیاں خالی ہو چکی تھیں۔ کسی بھی احتجاج سے نمٹنے کے لیے پولیس موقع پر موجود تھی۔ اس تقریباً ایک ایکڑ اراضی پر ایک گروپ ہاؤسنگ سوسائٹی بنائی جانی ہے۔ یہ زمین ای نیلامی کے ذریعے فروخت کی جائے گی۔
اس کے بعد ڈیمالیشن اسکواڈ سیکٹر 57 میں لوٹس ویلی اسکول کے قریب پہنچا۔ اس اسکول کے سامنے تقریباً دو ایکڑ HSVP اراضی پر قبضہ کیا گیا تھا۔ تقریباً دو سو جھونپڑیاں وہاں واقع تھیں۔ حکم ملنے پر بلڈوزر نے ان جھونپڑیوں کو گرانا شروع کر دیا۔ تقریباً دو سے ڈھائی گھنٹے میں تمام جھونپڑیاں ملبے کا ڈھیر بن گئیں۔ اس موقع پر جے ای رامپال آریہ، وکاس سینی، گورو یادو، معین خان، اور دیگر موجود تھے۔
دریں اثنا، گروگرام میٹروپولیٹن ڈیولپمنٹ اتھارٹی (جی ایم ڈی اے) نے گروگرام پولیس کے ساتھ مل کر، حملہ، چھیننے، اغوا، اور بھتہ خوری جیسے واقعات میں ملوث ایک ملزم کے قبضے سے تقریباً 25 کروڑ روپے کی زمین چھڑائی ہے۔ ملزم سرکاری زمین پر غیر قانونی جھونپڑیاں بنا رہا تھا۔ اپنی زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت گروگرام پولیس لینڈ مافیا اور عادی مجرموں کے خلاف کریک ڈاؤن کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں کدر پور گاؤں میں برلا نویا کمیونٹی سنٹر کے قریب سرکاری زمین پر غیر قانونی طور پر بنی کچی آبادیوں کی نشاندہی کی گئی۔ یہ کچی بستیاں کدر پور گاؤں کے رہنے والے نتیش عرف بندر نے بنائی تھیں۔

Continue Reading

دلی این سی آر

دہلی سرکار کا بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنےکی ہدایت

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی :قومی راجدھانی دہلی میں زیر زمین پانی کی سطح مسلسل گرنے کے چیلنج سے نمٹنے اور بارش کے ہر قطرے کو محفوظ کرنے کے لیے ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے حکومت نے گھروں اور سوسائٹیوں میں بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے نظام کو لازمی طور پر نافذ کرنے اور سخت نگرانی کی ہدایت دی ہے۔ پانی کے وزیر پرویش صاحب سنگھ نے دہلی سکریٹریٹ میں ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے یہ حکم جاری کیا۔
تمام محکموں کو واضح اور مقررہ اہداف دیے گئے تھے، جن میں مون سون سے پہلے سرکاری عمارتوں، پارکوں، رہائشی کالونیوں اور ادارہ جاتی کمپلیکس میں بارش کے پانی کے ذخیرہ کرنے کے نظام کی لازمی تنصیب شامل ہے۔حکومت کے مطابق، بارش کے پانی کو زیادہ سے زیادہ ذخیرہ کرنے سے مون سون کے موسم میں زیر زمین پانی کی سطح بڑھے گی اور اگلی موسم گرما میں شہری آبی ذخائر اور پانی کی قلت دونوں کو پورا کیا جائے گا۔ وزیر نے وضاحت کی کہ یہ پہل وزیر اعظم نریندر مودی کے “کیچ دی رین—ویئر اٹ فالس، جب اٹ فالس” کے ویژن کے مطابق ہے، جس کا مقصد پانی کے تحفظ کو ایک عوامی تحریک بنانا ہے۔ وزیر نے کہا، “بارش قدرت کا تحفہ ہے۔ ہم اسے ضائع نہیں ہونے دے سکتے۔ اگر ہر شہری اور ہر محکمہ ذمہ داری لے تو دہلی پانی کے بحران سے پانی کی حفاظت کی طرف بڑھ سکتا ہے۔”
میٹنگ میں افسران سے خطاب کرتے ہوئے وزیر نے کہا کہ دہلی میں مناسب بارش ہوتی ہے، لیکن اس کا صحیح استعمال نہیں ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ “ہر سال چار ماہ تک بارش کا پانی ہمارے نالوں سے بہتا ہے اور ضائع ہو جاتا ہے، اگر ہم اس پانی کو زمین میں داخل کر دیں تو ہم زیر زمین پانی کی سطح کو بڑھا سکتے ہیں اور پانی کے سالانہ بحران کو کم کر سکتے ہیں۔”
میٹنگ میں وزیر پرویش ورما نے کہا، ہر محکمے کو ذمہ داری دی گئی ہے۔ سب سے پہلے، سرکاری عمارتوں کو ایک مثال قائم کرنی چاہیے – جہاں سسٹم موجود نہیں ہیں، انہیں فوری طور پر انسٹال کیا جانا چاہیے، اور جہاں وہ پہلے سے موجود ہیں، انہیں مانسون سے پہلے مکمل طور پر فعال ہونا چاہیے۔” دہلی حکومت اور حکومت ہند کے 60 سے زیادہ محکموں کے عہدیداروں نے میٹنگ میں شرکت کی۔انہوں نے وضاحت کی کہ “نظام نصب کرنے کی لاگت کا ایک حصہ دہلی جل بورڈ برداشت کرے گا، اور جہاں بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے نظام کام کر رہے ہیں، وہاں کے رہائشیوں کو بھی 10 فیصد رعایت دی جائے گی۔” تاہم، اگر سسٹمز انسٹال یا برقرار نہیں ہیں، تو یہ استثنیٰ واپس لیا جا سکتا ہے۔

Continue Reading

دلی این سی آر

وزیر اعلیٰ ریکھا نے آزاد پور منڈی میں ترقیاتی کاموں کا کیا معائنہ

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی: دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نےشمالی دہلی میں آزاد پور منڈی کے قریب چل رہے ترقیاتی کاموں کا معائنہ کیا اور کھلے نالوں اور صفائی کی کمی کے لیے افسران کی سرزنش کی۔ گپتا نے دہلی میٹرو، محکمہ تعمیرات عامہ (پی ڈبلیو ڈی) اور میونسپل کارپوریشن آف دہلی (ایم سی ڈی) کے عہدیداروں کے ساتھ علاقے میں ہو رہے کام کا جائزہ لیا۔
وزیر اعلیٰ نے ایکس پر کہا، “ہم دہلی والوں کی ضروریات کے مطابق بہتر انفراسٹرکچر اور سہولیات تیار کر رہے ہیں۔” نئے ترقیاتی منصوبے برسوں سے نظر انداز کیے گئے علاقوں میں بھی شروع کیے گئے ہیں، اور ہماری حکومت انہیں وقت پر مکمل کرنے اور عوام کے لیے وقف کرنے کے لیے چوبیس گھنٹے مشن موڈ میں کام کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام متعلقہ محکموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مقامی شہریوں کی آمدورفت اور سہولیات کو ترجیح دیں۔وزیر اعلیٰ کے مطابق تمام کاموں کو مکمل شفافیت کے ساتھ مقررہ مدت میں مکمل کرنے اور معیار پر سمجھوتہ کیے بغیر یقینی بنانے کی بھی واضح ہدایات دی گئی ہیں تاکہ عوام کو تمام ضروری سہولیات بروقت میسر آسکیں۔
وزیر اعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ آس پاس کے علاقوں کا دورہ کرکے صفائی ستھرائی، کچرا اٹھانے اور بہتر انتظام کے حوالے سے متعلقہ حکام کو ضروری ہدایات دی گئی ہیں۔وزیراعلیٰ نے واضح ہدایات جاری کیں کہ تمام کام مکمل شفافیت اور مقررہ مدت میں مکمل کئے جائیں۔ معیار پر سمجھوتہ نہیں کیا جانا چاہیے تاکہ عوام بغیر کسی رکاوٹ کے ضروری خدمات تک رسائی حاصل کر سکیں۔تعمیراتی کاموں کے علاوہ آس پاس کے علاقوں کا بھی دورہ کیا اور صفائی ستھرائی، کچرا اٹھانے اور بہتر انتظام کے حوالے سے متعلقہ افسران کو ضروری ہدایات جاری کیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اس بارے میں جانکاری دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ہم دہلی کے لوگوں کی ضروریات کے مطابق بہتر انفراسٹرکچر اور سہولیات تیار کر رہے ہیں۔ برسوں سے نظر انداز کیے گئے علاقوں میں بھی نئے ترقیاتی کام شروع کیے گئے ہیں، اور ہماری حکومت انہیں وقت پر مکمل کرنے اور عوام کے لیے وقف کرنے کے لیے 24×7 مشن موڈ میں کام کر رہی ہے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network