Connect with us

دلی این سی آر

عیدالاضحی کے خطبہ میں مسلمانوں سے دین کے مراتب احسان، ایمان اور اسلام کے تقاضوں کی تکمیل کی اپیل

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی: اللہ تعالی نے سورۃ الحج میں ارشاد فرمایا کہ قربانی کے جانوروں کا اللہ تعالی کو نہ گوشت پہنچتا ہے اور نہ خون پہنچتا ہے اور نہ اللہ کو یہ سب مطلوب ہے بلکہ اسے تمہارا تقوی اور اخلاص مطلوب ہے۔ اللہ تعالی نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ آپ کہہ دیں میری نماز، میری قربانی اور میرا مرنا اور جینا سب اللہ کے لیے ہے ۔ اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی نہ تمہارے جسم کو دیکھتا ہے اور نہ شکل وصورت کو بلکہ وہ تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔
مولانا محمد رحمانی سنابلی مدنی حفظہ اللہ نے جنوبی دہلی کی مرکزی عیدگاہ میدان جامعہ اسلامیہ سنابل میں ہزاروں مرد وخواتین اور بچوں سے مخاطب ہوتے ہوئے توحید باری تعالی اورتقوی و اخلاص کی بنیاد پر آگے بڑھنے کی اپیل کی اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کا ایک واقعہ بھی ذکر فرمایا کہ ایک صاحب حیثیت اور رعب دبدبہ والا شخص کتنا بھی ترقی کرلے اور تقوی اور توحید کا محافظ نہ ہو تو چاہے ایسے افراد سے ساری دنیا بھر دی جائے تو بھی اس معمولی شخص کے برابرنہیں پہنچ سکتا جو نہ صاحب حیثیت ہو اور نہ اس کی باتیں سنی جاتی ہوں لیکن اس نے اخلاص، تقوی اور ایمان کے تقاضوں کا لحاظ رکھا ہو۔اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ حجۃ الوداع میں فرمایا تھا کہ کسی عربی کو کسی عجمی پر یا کسی کالے یا گورے کو کسی گورے یا کالے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے مگر تقوی کی بنیاد پر۔آپ نے حجۃ الوداع کے خطبہ میں آپس میں ایک دوسرے کے خون اور مال کو حرام قرار دیا اور آپسی احترام کی تلقین فرمائی، جاہلی دور کے رسم ورواج اور سود کو اپنے پیروں کے نیچے روندنے کی بات کہی، خواتین کے احترام اور خادموں کو عزت دینے کی وصیت فرمائی، ولی امر، حکام اور غیر اسلامی ممالک میں ولی امر کے قائم مقام علمائے حق کی اطاعت اور احترام کا حکم دیا، والدین کے ساتھ حسن سلوک اور رشتہ داریوں کو جوڑنے کا حکم دیا، میراث کی تقسیم میں عدل وانصاف سے کام لینے کی وصیت فرمائی، نماز کی پابندی کرنے کی تاکید فرمائی اور قرآن وسنت کو مضبوطی کے ساتھ تھامنے کا حکم دیا۔وغیرہ وغیرہ
خطیب محترم نے ابراہیم علیہ السلام کی زندگی اور بالخصوص توحید کے تقاضوں کی تکمیل اور شرک سے برائ ت کا تذکرہ فرمایا اور فرمایا کہ ہم یہاں عیدالاضحی کے دن گزاررہے ہیں جب کہ بہت سے مسلمان مکہ مکرمہ میں اللہ کی وحدانیت کا نعرہ بلند کررہے ہیں ، یہ در حقیقت تقوی اور توحید کے پیغام کی تجدید اور ان کے تقاضوں کی تکمیل کے عہد کا خلاصہ ہے جس پر مسلمانوں کو کھرا اترنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ مولانا نے دین اسلام کے تین مراتب احسان، ایمان اور اسلام کے تقاضوں، اس کے ارکان، تعریف، شرائط اور مطالبات کی تکمیل سے متعلق اپنا جائزہ لینے کی اپیل بھی کی اور فرمایا کہ ایمان اور کلمہ توحید سے متعلق آج مسلمانوں نے خود ساختہ اصطلاحات اور تعریفات بنا رکھی ہیں اور اس کے اصل مفہوم کو بگاڑ کر اپنے آپ کو تباہی کے دہانے پر کھڑا کرلیا ہے، اسی طرح حجۃ الوداع کی وصیتوں پر بھی مسلمان غور کرنے کے بجائے ان کا گلا دبانے کی حرکت کررہا ہے،یہ افسوسناک اور سخت تکلیف کا باعث ہے۔ اسی طرح صبر وشکر بھی ایمان کا ایک بنیادی تقاضا ہے اس پر بھی مسلمانوں کو کھرا اتر نا چاہئے۔
مولانا نے فرمایا کہ اگر ہم بقا اور استحکام چاہتے ہیں تو ہمیں قرآن وسنت کو فہم سلف صالحین کی بنیادوں پر زندگی کو یقینی بنانا ہوگا ورنہ اسلام کے نام پر ابھرنے والی طاقتیں جو ان بنیادوں پر نہیں چلتیں وہ تباہ ہوجاتی ہیں، ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم جس انداز سے دنیاوی امور اور مال ودولت کے لیے بیچین اور پریشان ہوجاتے ہیں اسی طرح شرک وبدعات، بچیوں کے مرتد ہونے، بے حیائی، فحاشی، دسیوسیت، ناپ تول میں کمی اور کرپشن، دھوکہ دھڑی، اور خوارج کی تباہ کاریوں اور فتنوںنیز قرآن وسنت، سیرت واخلاق کی غلط تعبیرات اور غلط لٹریچر اور سوشل میڈیا کے ذریعہ نئی نسل کو بگاڑنے کی کوششوں پر بھی بے چین ہونا چاہئے اور اس پر بھی اپنی تکلیف کا اظہار کرنا چاہئے۔
مولانا نے ملکی احوال کو خود کی کوتاہیوں کا نتیجہ قرار دیا اور حکومت سے اپیل کی کہ ملک میں لنچنگ اور مذہب کی بنیاد پرشرارتوں کو بند کیا جانا چاہئے، قانون کی بالا دستی کو یقینی بنایا جاناچاہئے اور جو لوگ قانون کو ہاتھ میں لیتے ہیں ان کے ہاتھ توڑ دیئے جانا چاہئے، بلڈوزر کی سیاست پر سنجیدہ غور ہونا چاہئے کیونکہ خود سرکاری نمائندے پہلے رشوتیں لے کر غیر قانونی تعمیرات میں مدد کرتے ہیں پھر اس پر سیاست کھیلی جاتی ہے، شدت پسندی اور دہشت گردی کا ناطقہ بند کیا جانا چاہئے۔ اخیر میں مولانا نے فلسطین کے حق میں دلسوز دعائیں کیں اور مسلمانوں سے دین کی طرف رجوع کرنے کی اپیل بھی کی۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

دلی این سی آر

عالم اسلام کو صہیونی جارحیت کے خلاف بلند کرنی چاہیےآواز:ڈاکٹر مفتی محمد مکرم احمد

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی :شاہی امام مسجد فتح پوری دہلی مولانا ڈاکٹر مفتی محمد مکرم احمد نے جمعہ کی نماز سے قبل خطاب میں مسلمانوں کو تاکید کی کہ ماہ مبارک میں تلاش کر کے مستحق ضرورت مندوں کی امداد کریں نیز رمضان المبارک میں حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی میں پیش پیش رہیں۔ انہوں نے کہا کہ فرقہ پرست عناصر کو امن و سکون کا ماحول اچھا نہیں لگتا کسی بھی قیمت پر حالات خراب کرنا چاہتے ہیں اور جھگڑے پر اکسانے کی کوشش کرتے ہیں بدایوں کے حالیہ سانحہ نے دلوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے ایک فرقہ پرست نوجوان تین مسلم افراد کو بلاوجہ گالیاں دے رہا ہے اور تھپڑ مارتا ہے تین مسلمان سیدھے سادھے انداز میں راستہ سے گزر رہے تھے جو اس بدبخت سے بڑی عمر کے تھے تینوں نے بے پناہ صبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے کوئی جوابی حملہ نہیں کیا اس سانحہ پر کئی سیاسی پارٹیوں نے شدید برہمی کا اظہار کیا ہے ہمارا مطالبہ ہے کہ اتر پردیش میں اقلیتی فرقہ کو تحفظ دیا جائے اور اس نوجوان پر شدید ایکشن لیا جائے۔
مفتی مکرم نے مدھیہ پردیش کے ضلع جبل پور کے قصبہ سیہورا میں لاؤڈ اسپیکر تنازعہ پر تشدد کے واقعہ کی غیر جانبدارانہ انکوائری کرائے جانے کے مطالبے کے ساتھ ساتھ ایک طرفہ مسلم فرقہ کے افراد کی گرفتاریوں کی مذمت کی۔ واقعہ کے عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ جن مسلمانوں کو گرفتار کیا گیا ہے وہ جھگڑے میں ملوث نہیں تھے تراویح پڑھ کر مسجد سے نکل رہے تھے اس واقعہ سے کچھ دنوں پہلے ایک ہندو تنظیم نے سیہورا پولیس اسٹیشن پر احتجاج کیا تھا ۔ گویا تنازعہ منصوبہ بند تھا اس کی انکوائری کرائی جائے اور جو فرقہ پرست لیڈرشر انگیزی میں ملوث ہیں انہیں گرفتار کیا جائے۔
مفتی مکرم نے مسجد اقصی میں تراویح میں کثیر تعداد میں فلسطینیوں کی شرکت پر ایمانی جذبے کی تعریف کی اور صہیونی جارحیت کی شدید مذمت کی۔ میڈیا رپورٹ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اسرائیلی حکومت نے بیت المقدس شہر کے گردونواح میں چیک پوسٹ بنا کر مسجد اقصی کے دروازوں پر اپنی فوجی نفری میں غیر معمولی اضافہ کر رکھا ہے اور ماہ مبارک میں فلسطینیوں کو عبادت کے حق سے محروم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے عالم اسلام کو اس کے خلاف متحدہ آواز اٹھانی چاہیے۔

Continue Reading

دلی این سی آر

اردو اکادمی دہلی کے زیرِ اہتمام جلسۂ تقسیمِ انعامات پروگرام منعقد

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی: اردو اکادمی، دہلی کے زیرِ اہتمام سال 2025ء کے تعلیمی و ثقافتی مقابلوں میں کامیاب طلبہ کے اعزاز میں ایوانِ غالب، ماتا سندری لین، نئی دہلی میں جلسۂ تقسیمِ انعامات منعقد ہوا۔ تقریب میں دہلی کے مختلف اسکولوں کے طلبہ و طالبات، اساتذہ اور والدین نے شرکت کی۔یہ تعلیمی مقابلے20اگست تا8ستمبر2025ء اردو اسکولوں کے طلبا و طالبات کے درمیان منعقد کیے گئے تھے، جن میں تحریری امتحانات ، مضمون نویسی،تقریری، کوئز، غزل سرائی، اردو ڈراما، بیت بازی، گروپ سانگ ، بلند خوانی اور امنگ پینٹنگ جیسے متنوع مقابلے شامل تھے، جن تقریباً 1663 طلبا وطالبات نیان مقابلوں میں حصہ لیا تھا، جن میں سے 265 طلبہ مختلف زمروں میں کامیاب قرار پائے گئے تھے۔
اس موقع پر محکمۂ فن، ثقافت و السنہ، حکومت دہلی کے ایڈیشنل سکریٹری اور اردو اکادمی کے سکریٹری لیکھ راج نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ اردو نہ صرف ایک دلنشیں زبان ہے بلکہ باوقار تہذیب کی نمائندہ بھی ہے۔ انہوں نے تعلیمی و ثقافتی مقابلوں میں طلبہ کی بڑی تعداد میں شرکت کو نئی نسل میں اردو کے بڑھتے شوق کا ثبوت قرار دیا۔ انہوں نے انعام یافتہ طلبہ و طالبات کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ مستقبل میں بھی محنت اور لگن کے ساتھ تعلیمی و ادبی میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کریں گے۔ انھوں نے یہ اعلان بھی کیا کہ آئندہ مقابلوں کے زمروں میں اضافہ کیا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ طلبہ کو اظہار کا موقع مل سکے۔
جلسہ تقسیم انعامات میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ میںنقد انعامات، اسناد اور مومنٹو تقسیم کیے گئے۔ اس سال بہترین شرکت کا ایوارڈ ڈاکٹر ذاکر حسین میموریل اسکول، جعفرآباد کو دیا گیا، جبکہ بہترین کارکردگی کا ایوارڈ سید عابد حسین جامعہ اسکول نے حاصل کیا۔ دونوں اسکولوں کو 21، 21 ہزار روپے نقد انعام، مومنٹو اور سرٹیفکیٹ سے نوازا گیا۔ اس طرح اسناد، مومنٹو اور شیلڈز کے ساتھ نقد انعامات کی مجموعی رقم تقریباً ساڑھے پانچ لاکھ روپے تقسیم کی گئی۔پروگرام کی نظامت ریشما فاروقی نے کی۔ اختتام پر کامیاب طلبہ کو مبارکباد پیش کی گئی اور اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ اکادمی آئندہ بھی علمی و ادبی سرگرمیوں کے ذریعے نئی نسل کی صلاحیتوں کو فروغ دیتی رہے گی۔

Continue Reading

دلی این سی آر

راجدھانی دہلی میں فروری میں ہی گرمی نے دی دستک

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی :دارالحکومت دہلی میں فروری میں ہی گرمی نے لوگوں کو پسینہ بہانا شروع کر دیا ہے۔ دہلی میں پارہ ایک بار پھر 30 ڈگری سیلسیس سے اوپر پہنچ گیا ہے۔ دن بھر تیز دھوپ کے باعث لوگوں نے گرمی محسوس کی۔ دہلی کے صفدرجنگ آبزرویٹری میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت معمول سے 5 ڈگری زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق دہلی میں آج زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 29 سے 31 ڈگری سیلسیس کے درمیان اور کم سے کم درجہ حرارت 12 سے 14 ڈگری سیلسیس کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔ دن بھر آسمان صاف رہے گا تاہم صبح کے وقت دھند چھائی رہے گی۔
محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ ہفتے کے آخر تک گرمی میں بتدریج اضافہ ہوگا۔ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 33 ڈگری سیلسیس تک پہنچ سکتا ہے۔ 25 اور 26 فروری کو دن کے وقت سطحی ہوائیں 15 سے 25 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلیں گی۔دہلی کے بیشتر علاقوں میں صبح ہلکی کہرا چھا گیا۔ جیسے جیسے دن چڑھتا گیا، کہرا چھٹ گیا اور سورج نکلا۔ صبح 11 بجے کے بعد سورج روشن ہو گیا، جس کی وجہ سے زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ صفدرجنگ میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 30.5 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا جو معمول سے پانچ ڈگری زیادہ ہے۔ کم از کم درجہ حرارت 11.8 ڈگری سیلسیس تھا، جو سال کے اس وقت کے لیے معمول ہے۔ ہوا میں نمی کا تناسب 29 سے 95 فیصد تک رہا۔
دریں اثنا، دارالحکومت دہلی کو آلودہ ہوا سے کوئی راحت نہیں مل رہی ہے۔ ہوا کی رفتار کم ہونے کی وجہ سے دہلی کے باشندوں کو بڑھتی ہوئی آلودگی کا سامنا ہے۔ مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ (CPCB) کے مطابق، دہلی کی ہوا کے معیار کا انڈیکس 228 رہا۔ اس سطح پر ہوا کا معیار خراب سمجھا جاتا ہے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network