Connect with us

دیش

ہر صاحب استطاعت کیلئے قربانی کرنا دینی فریضہ:مولانا سید احمد خضر شاہ مسعودی

Published

on

(پی این این)
دیوبند:ہر سال عیدالاضحی کے تین دنوں میں پورے عالم کے کروڑوں مسلمان سنت ابراہیمی پر عمل کرتےہ ہوئے اللہ کی رضا وخوشنودی کی خاطر جانوروں کی قربانی دیتے ہیں۔ قربانی دین اسلام کی اہم ترین عبادت ہے، قربانی کرنا اللہ تبارک وتعالیٰ کے ساتھ عشق ومحبت کا اظہار ہے، لہٰذا جس شخص کو بھی اللہ تعالیٰ مالی وسعت عطا کرے قربانی کرنا اس کا اہم دینی فریضہ ہے۔
ان خیالات کا اظہار جامعہ امام محمد انور شاہ کے مہتمم اور دارالعلوم وقف کے شیخ الحدیث مولانا سید احمد خضر شاہ مسعودی نے کیا۔ عیدالاضحی کے موقع پر قربانی کئے جانے کی اہمیت وفضیلت بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بارگاہ الٰہی میں قربانی پیش کرنے کا یہ سلسلہ سیدنا حضرت آدم علیہ السلام سے چلا آرہاہے۔ مولانا احمد خضر نے کہا کہ قربانی کا عمل ہر امت کے لئے مقرر کیا گیا ، البتہ اس کے طریقوں میں فرق رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قربانی کی عظیم الشان صورت وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہ کو عطا کی ہے۔ چنانچہ احادیث مبارکہ میں جناب رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت زیادہ اہمیت وفضیلت بیان کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قربانی تمہارے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔ قربانی کے ہر بال کے بدلے ایک نیکی ہے۔ مولانا نے کہا کہ وہ شخص بہت بدنصیب ہے جو مالی وسعت ہونے کے باوجود اس عظیم عبادت سے محروم ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسان کا کوئی بھی عمل بارگاہ الٰہی میں جانور کا خون بہانے سے زیادہ محبوب نہیں ہے۔ قیامت کے روز قربانی کا یہ جانور بارگاہ الٰہی میں اپنے سینگوں ، بالوں اور کھروں سمیت حاضر ہوگا ۔
مولانا نے کہا کہ قربانی کے جانور کا خون زمین پر گرنے سے پہلے بارگاہ خداوندی میں قبولیت کا درجہ پالیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس لئے ہر شخص کو نہایت خوش دلی کے ساتھ قربانی کرنی چاہئے ۔ مولانا احمد خضر شاہ نے کہا کہ قربانی کرنے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتاہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعة الوداع کے موقع پر ایک سو اونٹوں کی قربانی کی اور ایک روایت کے مطابق ان سو اونٹوں میں 63اونٹوں کو خود اپنے دست اقدس سے ذبح فرمایا۔
انہوں نے کہا کہ بکرا ، دنبہ، بھیڑ، اونٹ، بھینس یا کٹڑے وغیرہ کی قربانی کی جاسکتی ہے۔ قربانی کے جانور میں اگر کئی لوگ شریک ہوں تو گوشت وزن کرکے تقسیم کرنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو قربانی کی روح اور حقیقت کو سمجھنے نیز اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

دیش

کاکروچ جنتا پارٹی نے بی جے پی کو پچھاڑا،5 دنوں میں ڈیڑھ کروڑ سے زائد فالوورس

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی۔’کاکروچ جنتا پارٹی‘نام کا ایک انسٹا گرام کا اکائونٹ جو 16 مئی سے وائرل ہے۔ اس کے محض 5 دنوں میں ڈیڑھ کروڑ سے زائد فالوورس ہوگئے ہیں۔ اس معاملے میں وہ بی جے پی سے بھی آگے ہوگیا ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی کو لیکر نوجوانوں میں ایک جوش ہے۔ اور غم وغصہ بھی ہے۔ غورطلب ہے کہ پچھلے دنوں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے بے روزگار نوجوانوں کو کاکروچ سے تعبیر کیا تھا۔ جس کا ملک پر بہت گہرا اثرا ہوا۔
اسی دوران اب یہ ٹرینڈ بن گیا ہے۔ کہ محض پانچ دنوں میں ڈیڑھ کروڑ سے زائد فالوورس ہوگئے ہیں اور یہ تعداد بڑھتی ہی جارہی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ ہندوستان کے زین جی طبقے کے ری ایکشن کا نتیجہ ہے۔ جو ایک دن انقلاب کا باعث بن سکتا ہے۔

Continue Reading

دیش

ایبولا کا خطرہ،ہند۔افریقہ فورم کا اعلیٰ سطحی اجلاس منسوخ

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی۔افریقہ میں ایبولا کے خطرے کو دیکھتے ہوئے آج وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ حالات پر غورکرنے کے بعد یہ طے کیا گیا ہے۔ کہ ہند۔افریقہ فورم اعلیٰ سطحی اجلاس فی الحال ملتوی کردیا جائے۔ اس اجلاس کو بعد میں منعقد کیا جائے گا۔ وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس سلسلے میں ایک میٹنگ کے بعد نئی تاریخ طے کی جائے گی۔
غورطلب ہے کہ ہندافریقہ یونین کمیشن کے تعاون سے 28-31 مئی 2026 کو نئی دہلی میں چوتھے افریقہ فورم اعلیٰ سطحی اجلاس(آئی اے ایف ایس-4 ) کی میزبانی کرنی تھی جس میں افریقہ کے کئی لیڈرآنے والے تھے۔ اس اجلاس کا مقصد ہند افریقہ ساجھیداری کو مضبوط کرنا اور مختلف سیکٹر میں آپسی تعاون کو بڑھانے کے لئے ایک روڈ میپ تیار کرنا ہے۔ یہ اجلاس دس سال کے بعد منعقد ہونے والا تھا۔

Continue Reading

دیش

بنگال کے تمام مدارس میں وندے ماترم گانا لازمی،سی اے اے بھی ہوگا نافذ العمل،سوبھیندو سرکار کا بھگوا فرمان جاری

Published

on

(پی این این)
کولکاتہ۔ٹی ایم سی کے زوال کے بعد بنگال میں بھگوا سیاست کا بول بالا ہے۔ سوبھیندو سرکار نے محض 24 گھنٹے کے اندر کئی بڑے فیصلے کئے ہیں۔ اب بنگال کے تمام مدرسوں میں وندے ماترم گانا لازمی قرار دیا گیا ہے تو سی اے اے کے بھی نافذ کئے جانے کی باتیں کی جارہی ہیں۔
غورطلب ہے کہ مغربی بنگال کی سویندو حکومت نے ذمہ داری سنبھالتے ہی بڑے اعلانات کے ساتھ متنازع فیصلے بھی جاری کرنے شروع کر دیے ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں ریاست کی بی جے پی حکومت نے 2 انتہائی متنازع فیصلے لیے ہیں، جس پر آنے والے دنوں میں ہنگامہ کے قوی امکانات ہیں۔ پہلا فیصلہ تو یہ ہے کہ اسکولوں کے بعد اب ریاست کے سبھی مدارس میں میں بھی دعائیہ جلسہ کے وقت ’وندے ماترم‘ لازم قرار دیا گیا ہے۔ حکومت کے ذریعہ جاری نوٹیفکیشن کے مطابق حکومت سے امداد حاصل کرنے والے سرکاری و غیر سرکاری سبھی مدارس میں اب ’وندے ماترم‘ لازمی طور پر پڑھنا ہوگا۔دوسرا متنازع فیصلہ سرکاری ملازمین سے جڑا ہوا ہے، جس پر ہنگامہ ہونا یقینی ہے۔
دراصل حکومت نے حکم جاری کیا ہے کہ سرکاری ملازمین بغیر اجازت میڈیا میں بول نہیں سکتے۔ سرکاری ملازمین اخبارات یا ٹی وی چینلوں کو انٹرویو بھی نہیں دے سکتے، حتیٰ کہ بغیر اجازت لکھنے پر بھی روک لگا دی گئی ہے۔
یہ حکم براہ راست سرکاری ملازمین کے بولنے اور لکھنے کی آزادی کو محدود کرتا ہے۔جاری حکم کے مطابق ملازمین مرکزی یا ریاستی حکومت کی پالیسیوں کی مذمت نہیں کر سکتے۔ ان ملازمین میں سرکاری اسکولوں و کالجوں کے اساتذہ اور دیگر ملازمین بھی شامل ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ حکومت کا یہ حکم ملازمین کے لیے آواز دبانے والے قانون جیسا ہے۔ اس فیصلہ سے سنسرشپ بڑھنے کا خوف ہے اور یہ احتجاج کی آواز دبانے کی کوشش بھی ہے۔قابل ذکر ہے کہ مغربی بنگال میں پہلی بار بی جے پی کی حکومت بنی ہے۔ وزیر اعلیٰ عہدہ کا حلف لینے کے بعد سے ہی سویندو ادھیکاری ایکشن میں دکھائی دے رہے ہیں۔ گزشتہ کچھ دنوں میں انھوں نے کئی بڑے اور سخت فیصلے لیے ہیں۔ ان فیصلوں میں افسران کا تبادلہ، نظامِ قانون سے متعلق اہم اقدام، ٹی ایم سی لیڈران پر لگی مبینہ بے ضابطگیوں کے الزامات کی جانچ، انّاپورنا یوجنا کو منظوری وغیرہ شامل ہیں۔
سویندو حکومت نے او بی سی ریزرویشن کو بھی 17 فیصد سے گھٹا کر 7 فیصد کر دیا ہے۔ اب ریاست میں صرف 66 ذاتیں اور طبقات ہی او بی سی ریزرویشن کے دائرے میں رہیں گے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network