Bihar
نتیش کمار کو بھی خالی کر دینا چاہیےسرکاری بنگلہ،رابڑی دیوی کے سرکاری بنگلہ خالی کرنے کے معاملے پر تنازع کے درمیان تیج پرتاپ یادو کاسخت رد عمل
(پی این این)
پٹنہ:بہار میں ان دنوں سابق وزیر اعلیٰ اور بہار قانون ساز کونسل میں قائدِ حزبِ اختلاف رابڑی دیوی کے سرکاری بنگلے کو لے کر سیاسی ہنگامہ برپا ہے۔ سمراٹ چودھری کی قیادت والی حکومت نے رابڑی دیوی کو 15 دن کی مہلت دیتے ہوئے واضح ہدایت دی ہے کہ وہ 10 سرکولر روڈ واقع اپنی رہائش گاہ خالی کر دیں۔تاہم سابق وزیر اعلیٰ نے اپنا سرکاری مکان خالی کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ اس کے بعد سے اس معاملے پر مختلف سیاسی حلقوں کی جانب سے ردِ عمل سامنے آ رہے ہیں۔ اب رابڑی دیوی کے بڑے بیٹے اور جے جے پی کے سربراہ تیج پرتاپ یادو نے بھی اس معاملے پر اپنا مؤقف پیش کیا ہے۔
تیج پرتاپ یادو نے کہا ہے کہ سابق وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو بھی اپنی سرکاری رہائش گاہ خالی کر دینی چاہیے، کیونکہ اب وہ بھی سابق وزیر اعلیٰ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے نتیش کمار اپنا سرکاری مکان خالی کریں، جب وہ رہائش گاہ خالی کر دیں گے تو رابڑی دیوی بھی اپنا مکان خالی کر دیں گی۔جب تیج پرتاپ یادو سے پوچھا گیا کہ حکومت نے رابڑی دیوی کو رہائش گاہ خالی کرنے کیلئے 15 دن کا نوٹس دیا ہے، تو اس پر سابق رکنِ اسمبلی نے کہا کہ اگر ایسا ہے تو حکومت نتیش کمار کو بھی 15 دن کا نوٹس جاری کرے۔
واضح ہو کہ اس سے قبل اس معاملے پر رابڑی دیوی کی بیٹی روہنی آچاریہ کا بھی ردِ عمل سامنے آ چکا ہے۔ روہنی آچاریہ نے اتوار کے روز بہار کی قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) حکومت پر’’انتقامی سیاست‘‘کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔سنگاپور میں اپنے شوہر کے ساتھ مقیم روہنی آچاریہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم’’ایکس‘‘ پر لکھا:’’اگر ہمت ہے تو حکومت زبردستی بنگلہ خالی کروا کر دکھائے۔ سابق وزیر اعلیٰ رابڑی دیوی جی کو سرکاری رہائش گاہ سے بے دخل کرنے کا یہ تغلقی فرمان اور مکان پر پولیس بھیجنا جمہوریت نہیں بلکہ اقتدار کے غرور اور بے جا دبنگئی کی علامت ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا:’’افسوس کی بات ہے کہ بے روزگاری، مہنگائی، بدعنوانی اور بڑھتے ہوئے جرائم جیسے اہم مسائل پر مکمل طور پر ناکام ثابت ہونے والی سمراٹ چودھری حکومت اب اپوزیشن رہنماؤں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ آخر یہ طرزِ حکمرانی کا کون سا ماڈل ہے؟ درحقیقت یہ حکومت کے’انتقامی ماڈل‘ کی عکاسی کرتا ہے۔‘‘