Bihar
’انصاف کا کوئی مذہب یا ذات نہیں، ہر مظلوم کوملنا چاہیے انصاف‘،بھرت بھوشن تیواری کے پولیس انکاؤنٹر اور محمد فیض کے سفاکانہ قتل کیخلاف جالے میں کینڈل مارچ، غیر جانبدارانہ تحقیقات اور انصاف کا مطالبہ
(پی این این)
جالے:بھوجپور کے سماجی کارکن بھرت بھوشن تیواری کے پولیس انکاؤنٹر میں ہلاک ہونے اور دربھنگہ کے رہائشی محمد فیض کے سفاکانہ قتل کے خلاف اتوار کی شام جالے نگر پریشد میں سیکڑوں شہریوں نے کینڈل مارچ نکال کر انصاف کا مطالبہ کیا۔ ساتھی چوک سے شروع ہونے والا یہ پرامن مارچ شنکر چوک سے گزرتا ہوا کھڑکا موڑ پہنچا، جہاں شرکاء نے دونوں واقعات کی غیر جانبدارانہ، شفاف اور وقت مقررہ کے اندر تحقیقات کرانے اور قصورواروں کو قانون کے مطابق سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا۔
کینڈل مارچ میں شریک سماجی کارکنوں اور شہریوں نے کہا کہ ایک شخص پولیس انکاؤنٹر میں جان سے گیا، جبکہ دوسرے کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا، لیکن دونوں صورتوں میں انصاف کا تقاضا یکساں ہے۔ مقررین نے زور دیتے ہوئے کہا کہ قانون کی نظر میں ہر شہری برابر ہے اور ہر جان کی یکساں اہمیت ہے، اس لیے کسی بھی معاملے میں امتیازی رویہ قابل قبول نہیں ہونا چاہیے۔
سوشل ایکٹوسٹ دھیریندر کمار عرف دھیریندر کپور، سماجی کارکن مکیش کمار پاٹھک، غلام مذکر خان اور دیگر مقررین نے کہا کہ اس مارچ کا مقصد کسی ذات، مذہب یا سیاسی جماعت کی حمایت یا مخالفت نہیں بلکہ انصاف کی بالادستی کا مطالبہ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی بے گناہ کے ساتھ ناانصافی ہوتی ہے تو اس کے خلاف آواز اٹھانا ہر باشعور شہری کی ذمہ داری ہے۔
غلام مذکر خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ انصاف کے معاملے میں ذات، مذہب اور برادری کی دیواریں کھڑی کرنا معاشرے کو تقسیم کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھرت بھوشن تیواری ہوں یا محمد فیض، دونوں کے اہل خانہ کو انصاف ملنا چاہیے، کیونکہ ظلم کے خلاف آواز صرف ایک طبقے کی نہیں بلکہ پوری انسانیت کی آواز ہونی چاہیے۔
انیل جھا نے کہا کہ اگر معاشرہ ظلم کے خلاف خاموش رہے تو ناانصافی کو مزید تقویت ملتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ دونوں معاملات کی تحقیقات مکمل شفافیت کے ساتھ کرائی جائیں اور جو بھی قانون کا مجرم ثابت ہو، اس کے خلاف بلاامتیاز سخت کارروائی کی جائے تاکہ عوام کا اعتماد نظامِ انصاف پر برقرار رہے۔
مارچ میں مرزا آرزو بیگ، محمد عمران، رام ساگر چودھری، لکشمن نائک، چندن مہتا، محمد آرزو، محمد کالے سمیت سیکڑوں سماجی کارکن، نوجوان اور مقامی شہری شریک ہوئے۔ شرکاء نے ہاتھوں میں شمعیں تھام کر متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ یکجہتی کیا اور مطالبہ کیا کہ انصاف میں تاخیر نہ کی جائے، کیونکہ بروقت اور غیر جانبدارانہ انصاف ہی قانون کی بالادستی اور جمہوری نظام کی اصل بنیاد ہے۔کینڈل مارچ کے اختتام پر شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ ہر ایسے واقعے میں، جہاں کسی مظلوم کو انصاف کی ضرورت ہوگی، ذات، مذہب اور سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر اسی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے۔