تازہ ترین خبریںمحاسبہ

گرنے ہی والا ہے اس کھیل کا پردہ لوگو

محاسبہ…………….سید فیصل علی

کورونا کی یلغار اور سیلاب کی مار سے پریشان بہار کے عوام کو اب اسمبلی الیکشن کا سامنا ہے۔ بہار میں کورونا متاثرین کی تعداد 2 لاکھ تک پہنچنے والی ہے۔ 30 لاکھ سے زائد مزدور دوسری ریاستوں سے آکر ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیکار بیٹھے ہیں، تمام اسکول کالج و دیگر تعلیمی ادارے بند ہیں، ہر سمت بحرانی کیفیت ہے تو ایسے سنگین حالات میں بہار کے عوام کو قطار میں کھڑا کرنا اور قصر اقتدار کے لئے ووٹنگ کرانا ملک کی تاریخ کا عجب غضب المیہ ہے۔ حالانکہ کورونا کے پیش نظر 70 ممالک میں انتخابات ملتوی کئے جا چکے ہیں۔ لیکن بہار میں الیکشن کا بگل بج چکا ہے۔ 28 اکتو بر سے تین مرحلوں میں انتخابات ہوں گے اور 10 نومبر کو یہ پتہ چل جائے گا کہ بہار کے عوام نے اقتدار کا تاج کس کے سر پر رکھا!۔

لیکن ستم سیاست دیکھئے کہ الیکشن ڈکلیئر ہوئے چند ہی گھنٹے ہوئے تھے کہ گودی میڈیا نے ایک بار پھر نتیش کمار کے سر پر تاج رکھے جانے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ مودی نے بہار کو جو سوغات دیئے ہیں اور نتیش کمار نے جو کام کئے ہیں، اس سے بہار میں این ڈی اے کو زبردست اکثریت حاصل ہوگی۔ اے بی پی اور سی ووٹر نے اپنے اوپینن پول میں کہا ہے کہ این ڈی اے کی پھر سرکار بنے گی۔ سروے میں این ڈی اے کو 141-166 سیٹیں اور آرجے ڈی گٹھ بندھن کو 64 سے 84 سیٹیں ملیں گی، جبکہ دوسری جماعتوں کو 23 سیٹیں ملنے کا امکان بتایا گیا ہے۔ اس طرح این ڈی اے کو بہار اسمبلی الیکشن میں 44.8 فیصد اور آرجے ڈی -کانگریس گٹھ بندھن کو 33.4 فیصد ووٹ ملنے کے آثار ہیں۔ حالانکہ سروے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 56.7 فیصد لوگ نتیش کمار سے انتہائی ناراض ہیں اور اقتدار کی تبدیلی چاہتے ہیں اگر ایسا ہے تو پھر نتیش کمار کی سرکار بننے کا دعویٰ کیسے کیا جا رہا ہے؟ خیر مجھے ایسے الم غلم چناوی سروے سے کوئی لینا دینا نہیں۔ 2015 میں بھی ایسے ہی لمبے چوڑے دعوے کئے گئے تھے۔ لیکن بہار کے عوام نے مودی لہر میں بھی بی جے پی کو کراری شکست دے کر سیکولرزم کی لاج رکھ لی تھی اور آرجے ڈی-جے ڈی یو کی سرکار بنوا دی تھی، لیکن نتیش کمار جس طرح منڈیٹ کی پیٹھ میں خنجر بھونک کر بی جے پی کی گود میں بیٹھ گئے، اس کا بھی اثر بہار کے عوام پر ہونا ہی ہے۔ گودی میڈیا کا سروے ایک طرف این ڈی اے کی سرکار بنوا رہا ہے تو دوسری طرف اقتدار کی تبدیلی کا بھی دعویٰ کر رہا ہے، یہ سروے خود اپنا مضحکہ اڑا رہا ہے۔

سوال یہ ہے کہ جو نتیش حکومت لاک ڈاؤن میں دوسری ریاستوں میں پھنسے لاکھوں بہاری مزدوروں کی پرسان حال نہ رہی، کوئی کھوج خبر نہیں لی، ان کی واپسی کا کوئی انتظام نہیں کیا، بلکہ گھر واپسی کے دوران سیکڑوں مزدور ٹرینوں سے کٹ کر پیدل سفر کے دوران مر گئے، ان کو معاوضہ دینا تو دور راحت کاری بھی نہیں کی گئی، کیا ایسی بے ضمیر سرکار کو دوبارہ بہار کے عوام اقتدار میں لانا پسند کریں گے۔ کورونا کے دوران جس طرح متاثرین کے ساتھ کووڈ سینٹروں میں سلوک کیا گیا متاثرین کو بے سہارا چھوڑ دیا گیا، حالانکہ خود نتیش کمار تین مہینے تک حجرے میں بند رہے اور جب نکلے تو ووٹ مانگنے کے لئے نکلے، بہار کے عوام کیا اس بے حسی اور بے ضمیری کو بھول جائیں گے۔ شمالی بہار کے 7 اضلاع ہمیشہ سیلاب کے شکار ہوتے رہے ہیں۔ چمپارن، متھلانچل اور سیمانچل کے علاقوں کے لوگ بارش کے دنوں میں خوف و دہشت میں مبتلا رہتے ہیں، پشتوں کے ٹوٹنے، گھروں میں پانی گھسنے کا کھیل آئے دن جاری رہتا ہے۔ کیا نتیش سرکار نے اس کے لئے کوئی ٹھوس قدم اٹھایا ہے۔

سی اے اے کی حمایت آج بھی بہار کے مسلمانوں کے دلوں میں چبھتی ہے کہ اب نتیش حکومت کی اردو دشمنی بھی کھل کر سامنے آگئی ہے۔ ریاست کے تعلیمی نظام میں اردو کو پہلی اور لازمی کے بجائے تیسری اختیاری زبان بنانا نہ صرف غلط ہے بلکہ غیرآئینی اور خلاف قانون بھی ہے۔ نتیش حکومت کے اس قدم کی نہ صرف بہار کے مسلمانوں نے بلکہ ملک گیر سطح پر اردو والوں نے مذمت کی ہے۔ انجمن ترقی ہند سے لے کر دہلی، اے ایم یو، جے این یو و دیگر کئی یونیورسٹیوں کے پروفیسروں نے ملک گیر تحریک چلانے کی دھمکی دی ہے۔ لیکن ان تمام باتوں سے بے نیاز آج این ڈی اے کے سامنے سب سے بڑا چیلنج MY (مسلم-یادو) فیکٹر ہے، جو ابھی تک فسطائی قوتوں کے آگے بڑا چیلنج بنا ہوا ہے، چنانچہ سوشل میڈیا پر بہار کے مسلمانوں کو توڑنے کی بھرپور کوشش چل رہی ہے۔ ان دنوں سوشل میڈیا پر اس پروپیگنڈے کا دور چل رہا ہے کہ بہار کے 99 فیصد یادو بی جے پی کے ساتھ چلے گئے ہیں، ایسے میں مسلمان آرجے ڈی کا ساتھ چھوڑ کر ایم آئی ایم کے ساتھ چلے آئیں اور مجلس کے امیدواروں کو کامیاب بنائیں۔ غورطلب ہے کہ مجلس اتحاد المسلین کے سربراہ اسدالدین اویسی 17 مسلم اکثریتی علاقوں میں 50 امیدوار کھڑا کر رہے ہیں۔ یہ وہ علاقے ہیں، جو ہمیشہ بی جے پی کے قدموں میں زنجیر ڈالتے رہے ہیں اور بہار میں سیکولر قیادت کی تشکیل میں اہم رول ادا کرتے ہیں، لیکن یادوؤں کے بی جے پی میں چلے جانے کی افواہ اڑا کر مسلمانوں کو گمراہ کرنے کا کھیل کامیاب ہوگا یا نہیں یہ تو وقت بتائے گا، لیکن بی جے پی اسی بھرم میں ہے کہ مجلس کے امیدوار جتنا مسلم ووٹ اپنی سمت کھینچ سکیں گے، اتنا ہی بی جے پی کو فائدہ پہنچے گا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ میڈیا دعویٰ کر رہا ہے کہ اس بار بھی بہار میں این ڈی اے کی سرکار بنے گی۔

28 اکتوبر سے انتخابات شروع ہوں گے، جہاں آر جے ڈی -کانگریس گٹھ بندھن کا سیدھا مقابلہ بی جے پی-جے ڈی یو گٹھ بندھن سے ہوگا، لیکن اویسی کی پارٹی کتنا کھیل بگاڑتی ہے، اس پر دونوں پارٹیوں کی نظر ہے اور یہ بھی ایک اتفاق ہے کہ اس بار این ڈی اے کی ایک جماعت لوک جن شکتی پارٹی کی قیادت رام ولاس پاسوان کے بجائے ان کے جواں سال بیٹے چراغ پاسوان کر رہے ہیں تو دوسری طرف لالو یادو کے بیٹے تیجسوی یادو مہاگٹھ بندھن کی قیادت کر رہے ہیں۔ حالانکہ لالو یادو نے جیل سے ہی بہار کے عوام کو پیغام دیا ہے کہ اٹھو بہاری، کروتیاری، جنتا کا ساشن، اب کی باری۔ بلاشبہ لالو یادو کا یہ پیغام نہ صرف مسلم -یادو اتحاد، بلکہ بہار کی گنگاجمنی تہذیب کے علم برداروں کیلئے بھی مشعل راہ ہے۔ مجھے امید ہے کہ بہار کے مسلمان سوشل میڈیا کے بہکاوے میں آنے کے بجائے حسب دستور اپنا شعور استعمال کریں گے اور فسطائی قوتوں کے ہاتھوں میں بہار کو جانے سے روکیں گے۔ سوال یہ بھی ہے کہ آج ملک کے کسان سڑکوں پر ہیں، زرعی بل کو لے کر پورا ملک احتجاج کر رہا ہے، تمام اپوزیشن جماعتیں مودی سرکار کے اس قدم پر لعن طعن کر رہی ہیں، لیکن مسلمانوں کا دم بھرنے والی اتحاد المسلمین اس مسئلے پر بالکل خاموش ہے۔

سوال یہ بھی ہے کہ آج معیشت جب تباہی کی طرف کامزن ہے، دوکروڑ سے زائد افراد بے روزگار ہو چکے ہیں، لاک ڈاؤن نے ملک کے اقتصادی ڈھانچے کو مسمار کردیا ہے، ہزاروں صنعتیں اور کاروباری ادارے بند ہوچکے ہیں، نوکریوں کے لالے پڑے ہیں، ملک کا خزانہ خالی ہو چکا ہے، قومی شرح ترقیات( جی ڈی پی) 23.9 مائنس پر آگئی ہے اور مزید مائنس ہوتی جا رہی ہے تو الیکشن کے زمانے میں مودی کے ذریعہ بہار میں ہزاروں کروڑوں کے سوغات کا اعلان ہو رہا ہے۔ کیا ان زبانی نعروں سے بہار کے عوام خوش ہو جائیں گے اور بی جے پی کی سرکار بنوا دیں گے، حالانکہ آج جو بہار کا ماحول ہے، وہ تبدیلی چاہتا ہے، جس کی وجہ سے بی جے پی-جے ڈیو کے ممبران اپنے حلقوں میں جانے سے خوف زدہ ہیں۔ حاجی پور، مہنار وغیرہ میں جس طرح حکمراں جماعت کے نمائندوں کو عوامی مخالفت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، پٹائی تک ہو رہی ہے، وہ حکومت سے انتہائی بیزاری کا منظرنامہ ہے۔ آج ہر حلقہ یہی سوال کر رہا ہے کہ کورونا کے دور میں بہار کو بے سہارا چھوڑا گیا، مزدو مرتے رہے، لیکن کوئی پرسان حال نہیں رہا۔ کورونا، سیلاب، بے روزگاری اور معاشی بدحالی سے دوچار بہار کے عوام اپنے دکھ درد کا ایک ایک حساب اس انتخاب میں لیں گے، چنانچہ بہار کا الیکشن مودی حکومت اور اس کے ہمنواؤں کو ایک ایسا سبق دیگا، جو ملک کے لئے نئی تاریخ بھی رقم کرے گا اور ملک کی خستہ حال سیکولرزم کو بھی نئی توانائی دے گا۔ چمپارن کے ایک نوجوان شاعر نوشاد کریمی کا یہ شعر اہل بہار کے لئے حوصلے کا پیغام دے رہا ہے کہ:

ختم ہوجائے گی اب ساری کہانی اس کی
گرنے ہی والا ہے اس کھیل کاپردہ لوگو

([email protected])

محاسبہ………………………………………………………………………………………سید فیصل علی

ٹیگز
اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close