Connect with us

دلی این سی آر

انصاف کے ترازو میں سب برابر:امانت

Published

on

نئی دہلی :کوئی اک شخص میرے ایم ایل اے یا دلی وقف بورڈ کا چیرمین رہتے ہوئے یہ الزام لگادے کہ دھرم اور ذات کی بنیاد پر میرے قلم یا زبان سے نا انصافی ہوئی ہو تو میں اوکھلا والوں آپ کو کبھی اپنی شکل نہیں دکھاوں گا سیاست سے کنارہ کش ہوجاوں گا یہ بات امانت اللہ خاں نے اوکھلا کی جے جے کالونی میں منعقد جلسہ عام سے کہی انھوں نے کہا کہ انصاف کے ترازو میں گورا کالا چھوٹا بڑا عورت مرد ہندو مسلم سب برابر ہیں اور جو ایسا نہیں کرتے انھیں سیاست میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے امانت اللہ خاں نے کہا کہ میرا مقصد صرف الیکشن لڑنا ایم ایل اے بن جانا نہ کل تھا نہ اج ہے میرا مقصد انصاف سے محروم افراد کو ان کا حق دلانا ہے امانت اللہ خاں نے کہا کہ مجھے بدنام کرنے میرے اوپر الزامات لگانے والوں کو یا د رکھنا چاہیے کہ عزت ذلت کے فیصلے اسمانوں پر ہوتے ہیں

انھوں نے کہا میں عوام کے مسائل کو حل کرنے کی ایماندارانہ کوشش کی ہے انھوں نے کہا کہ ہمیں اوکھلا کو سماجی تعلیمی اورمعاشی طورپر مستحکم بنانا ہے جس کے لئے مجھے اپ کا ساتھ چاہئے ۔دوسری جانب اوکھلا اسمبلی حلقہ سے عام ادمی پارٹی سے تیسری مرتبہ امیدوار بنائے جانے پر پارٹی کاکنان نے جشن منایا اور ایک دوسرے کو مٹھائی کھلائی اس موقع پر امانت اللہ خاں نے پارٹی قیادت بالخصوص اروند کیجروال کے اعتماد کا اظہار کر نے پر شکریہ اداکیا انھوں نے کہا کہ میرے دروازے سب کے لئے کھلے ہیں سب کا استقبال ہے۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

دلی این سی آر

اردو اکادمی کا سمر کیمپ: نئی نسل کی تخلیقی صلاحیتوں کو جِلا بخشنے کی کامیاب کوشش

Published

on

 

نئی دہلی :اردو اکادمی، دہلی کے زیرِ اہتمام اور محکمہ فن، ثقافت و السنہ، حکومتِ دہلی کے خصوصی تعاون سے 14 مئی تا 3 جون 2026 جاری ’’سمر کیمپ‘‘ کامیابی کے ساتھ جاری ہے، جس میں چوتھی سے بارہویں جماعت تک کے تقریباً 230 طلبہ و طالبات سرگرمِ عمل ہیں۔ اس بامقصد پروگرام کے انعقاد میں حکومتِ دہلی، بالخصوص اکادمی کے چیئرمین اور وزیر برائے فن، ثقافت و السنہ جناب کپل مشرا کی سرپرستی اور تعاون کو نمایاں اہمیت حاصل ہے۔ اردو اکادمی، دہلی اس بھرپور تعاون پر حکومتِ دہلی اور جناب کپل مشرا کا تہہِ دل سے شکریہ ادا کرتی ہے۔
سمر کیمپ کا بنیادی مقصد نئی نسل میں اردو زبان و ادب سے دلچسپی پیدا کرنا، ان کی تخلیقی و فنی صلاحیتوں کو فروغ دینا اور انہیں مثبت و تعمیری سرگرمیوں کی جانب راغب کرنا ہے۔ کیمپ میں خطاطی، غزل گائیکی، پینٹنگ، داستان گوئی، شخصیت سازی اور اردو زبان دانی سمیت مختلف موضوعات پر تربیتی کلاسیں منعقد کی جا رہی ہیں، جن میں ماہر اساتذہ طلبہ کو عملی اور نظری تربیت فراہم کر رہے ہیں۔ طلباکو جونیئر اور سینئر زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے تاکہ ان کی تعلیمی اور تخلیقی صلاحیتوں کو بہتر انداز میں نکھارا جا سکے۔
بچوں اور ان کے سرپرستوں کی دلچسپی کے پیشِ نظر گزشتہ روز اور آج محفلِ غزل، محفلِ قوالی اور داستان گوئی کی خصوصی تقریبات منعقد کی گئیں۔ گزشتہ روز نوجوان غزل گلوکار ارمان علی نے منتخب غزلیں اور صوفیانہ کلام پیش کیا۔ بعد ازاں سمر کیمپ میں غزل گائیکی کی تربیت حاصل کرنے والے طلبا نے بھی اپنی غزلیں پیش کیں،جنھیں والدین اور حاضرین نے بے حد سراہا۔آج صبح نو بجے معروف قوال گلوکارہ ناز وارثی نے محفلِ قوالی میں اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہوئے دلکش قوالیاں پیش کیں۔ اس کے بعد جناب جاوید کی ہدایت کاری چھوٹے بچوں کے ذریعہ تیار کیا گیا مزاحیہ ڈراما ’’اندھیر نگری‘‘ پیش کیا گیا، جسے حاضرین نے خوب پسند کیا اور فن کاروں کی کارکردگی کو بھرپور داد دی۔بعد ازاں پرتھم ایجوکیشن فاؤنڈیشن سے وابستہ معروف ٹرینر اور لرننگ اینڈ ڈیولپمنٹ اسپیشلسٹ جناب فیصل قدوسی نے طلبا، والدین اور اساتذہ سے خطاب کیا۔ انھوں نے جدید دور کے تقاضوں کے مطابق نئی مہارتوں کے حصول، مسلسل سیکھنے کی اہمیت، مصنوعی ذہانت کے مثبت اور مؤثر استعمال، خود اعتمادی، مؤثر ابلاغ اور شخصیت سازی جیسے اہم موضوعات پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔انھوں نے طلبا کو اپنی پوشیدہ صلاحیتوں کو دریافت کرنے اور انھیں عملی جامہ پہنانے کے لیے محنت، مستقل مزاجی اور لگن کو اپنا معمول بنانے کی تلقین کی۔ اس موقع پر انھوں نے والدین پر بھی زور دیا کہ وہ بچوں کی تخلیقی، فکری اور تعلیمی نشوونما کے لیے سازگار ماحول فراہم کریں اور ان کی صلاحیتوں کی بھرپور حوصلہ افزائی کریں۔ان کی فکر انگیز، معلوماتی اور مؤثر گفتگو سے شرکا نے بھرپور استفادہ کیا اور عصرِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ رہنے کے حوالے سے مفید رہنمائی حاصل کی۔

اس کے بعد ساحل آغا کی ہدایت کاری میں موہنی اور دلکش تیواری نے دلچسپ داستانیں پیش کیں۔ بعد ازاں سمر کیمپ کے طلبا نے بھی داستان گوئی کی تربیت کے دوران تیار کی گئی اپنی داستانیں حاضرین کے سامنے پیش کیں، جنہیں بھرپور داد و تحسین سے نوازا گیا۔واضح رہے کہ سمر کیمپ کا اختتامی پروگرام 3 جون 2026 کو منعقد ہوگا، جس میں طلبہ و طالبات کو شرکت اور کامیاب تکمیل کے سرٹیفکیٹس تقسیم کیے جائیں گے۔ اس موقع پر کیمپ کے دوران تیار کردہ تخلیقی و فنی سرگرمیوں کی جھلک بھی پیش کی جائے گی۔اردو اکادمی، دہلی کو یقین ہے کہ اس نوعیت کی تعلیمی و ثقافتی سرگرمیاں نئی نسل کی فکری، ادبی اور تخلیقی صلاحیتوں کو جِلا بخشنے میں مؤثر کردار ادا کریں گی اور اردو زبان و ادب کے فروغ میں معاون ثابت ہوں گی۔

 

 

Continue Reading

دلی این سی آر

فرید آباد میں 118 غیر قانونی مذہبی مقامات کو کیا جائے گامنہدم

Published

on

فریدآباد:این سی آر کے ایک شہر فرید آباد میں سرکاری زمین پر غیر قانونی طور پر بنائے گئے 118 مذہبی مقامات کو منہدم کیا جائے گا۔ فرید آباد میونسپل کارپوریشن نے ہفتہ کو دو مذہبی مقامات کو مسمار کرنے کا کام شروع کیا۔ یہ کارروائی سپریم کورٹ کے حکم پر کی جا رہی ہے۔2009 میں سپریم کورٹ نے ہریانہ حکومت کو حکم دیا کہ وہ سرکاری زمین پر غیر قانونی طور پر بنائے گئے مذہبی مقامات کو ہٹائے۔ اس کے بعد حکومت نے 29 ستمبر 2009 سے پہلے تعمیر کیے گئے مذہبی مقامات کو ریگولرائز کرنے کے لیے ایک پالیسی بنائی۔ اس پالیسی کے تحت ایک سٹی سروے کیا گیا جس کے نتیجے میں میونسپل کارپوریشن کی شہری حدود میں سرکاری اراضی پر تعمیر کیے گئے 118 مذہبی مقامات کی فہرست سامنے آئی۔
ان میں سے 40 سائٹس پارکس، سڑکوں، اسکولوں اور دیگر علاقوں میں واقع تھیں۔ میونسپل کارپوریشن نے فی الحال سڑک کے کنارے مذہبی مقامات کو ہٹانا شروع کر دیا ہے۔ اگرچہ میونسپل کارپوریشن نے اس دوران کئی بار کارروائی کرنے کی کوشش کی لیکن عوامی مخالفت کی وجہ سے کارروائی یا تو تاخیر کا شکار ہوئی یا ادھوری رہ گئی۔
ذرائع کے مطابق میونسپل کارپوریشن سروے رپورٹ میں جن مذہبی مقامات کا ذکر کیا گیا ہے ان میں سے زیادہ تر شاہراہوں یا شہر کی اہم سڑکوں کے ساتھ واقع ہیں۔ ان کے آس پاس بے شمار دکانیں بھی ہیں۔ خاص دنوں پر، یہ سائٹس زیادہ ہجوم کو اپنی طرف کھینچتی ہیں، جس سے ٹریفک متاثر ہوتی ہے۔ تاہم، تجاوزات زدہ سرکاری زمین پر بنائے گئے مذہبی مقامات ہریانہ حکومت کے لیے درد سر بنے ہوئے ہیں۔ سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود حکومتی ادارے انہیں ہٹانے میں مکمل طور پر کامیاب نہیں ہو سکے۔کارپوریشن کے مسمار کرنے والے ایس ڈی او سریندر ہڈا نے بتایا کہ غیر قانونی مذہبی مقامات کو مسمار کرنے کا کام سپریم کورٹ کے حکم پر کیا جا رہا ہے۔ یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ آئندہ سماعت پر رپورٹ پیش کی جائے گی۔
حکام نے بتایا کہ یہ کارروائی آر آر ٹی ایس کوریڈور اور ایلیویٹڈ روڈ پروجیکٹ کے لیے زمین کو خالی کرنے کے لیے کی گئی تھی۔ این جی ٹی کے احکامات کے تحت کی گئی اس کارروائی میں کل 20 غیر قانونی ڈھانچے بشمول دو مذہبی مقامات (ایک مسجد اور ایک مندر)، آٹھ مکانات اور 10 دکانوں کو منہدم کر دیا گیا۔ منہدم ڈھانچوں سے ملبہ ہٹانے کا کام جاری ہے۔پولیس کے مطابق، فرید آباد میونسپل کارپوریشن کے ایڈیشنل کمشنر پرمجیت سنگھ چاہل کی نگرانی میں صبح 4 بجے انسداد تجاوزات مہم شروع ہوئی۔ میونسپل کارپوریشن نے اس کے لیے وسیع پیمانے پر تیاریاں کی ہیں۔ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ڈپٹی کمشنر آف پولیس رینک کے افسر کی نگرانی میں بھاری پولیس فورس تعینات کی گئی تھی۔ علاقے کی کڑی نگرانی کی گئی۔ ہریانہ حکومت کے محکمہ داخلہ نے فرید آباد ضلع کے این آئی ٹی زون میں ایک مخصوص علاقے کے اندر عارضی طور پر موبائل انٹرنیٹ، بلک ایس ایم ایس، اور ڈونگل خدمات کو معطل کرنے کا حکم جاری کیا۔ایک پولیس افسر نے بتایا کہ یہ قدم علاقے میں جاری انسداد تجاوزات مہم کے دوران امن و امان اور عوامی امن کو برقرار رکھنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ نوح کے کانگریس ایم ایل اے آفتاب احمد مسجد کے انہدام کی اطلاع ملنے پر ہفتہ کی صبح جائے وقوعہ پر پہنچے۔پولیس اہلکاروں نے انہیں علاقے میں داخل ہونے سے روک دیا جس کے بعد وہ احتجاج کرتے ہوئے پولیس بیریکیڈ کے قریب بیٹھ گئے۔ تاہم وہ کچھ ہی دیر بعد وہاں سے چلے گئے۔ ایم ایل اے نے کہا کہ یہ ترقی نہیں بلکہ تباہی ہے۔ رات 2 بجے مسجد کو اس طرح گرانا سراسر ناجائز ہے۔ یہ سراسر آمریت اور انسانیت کے خلاف ہے۔میونسپل کارپوریشن کمشنر دھیریندر کھڈگتا نے بتایا کہ انسداد تجاوزات مہم این جی ٹی کے حکم کی تعمیل میں چلائی گئی تھی۔ انہوں نے کہا، “ہم نے پہلے ہی تقریباً 60 غیر قانونی ڈھانچوں کی فہرست این جی ٹی کو پیش کر دی ہے۔” حکام کے مطابق، تقریباً 30 مشینیں، جن میں چار بڑی ہائیڈرولک مشینیں شامل تھیں، کو اس مہم میں تعینات کیا گیا تھا۔ انہدام، جو صبح 2 بجے شروع ہوا، مبینہ طور پر دوپہر 2 بجے تک جاری رہا۔ افواہوں کو پھیلنے سے روکنے کے لیے اس دوران موبائل انٹرنیٹ سروسز کو عارضی طور پر معطل کر دیا گیا۔ اس کارروائی سے ٹریفک بھی متاثر ہوئی۔

Continue Reading

دلی این سی آر

کورٹ نے بی پی ایل اور ای ڈبلیو ایس فلیٹ اسکیم کی منسوخی پرلگائی روک

Published

on

گروگرام:پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ نے گروگرام میں بی پی ایل اور ای ڈبلیو ایس فلیٹ اسکیم کی منسوخی پر عارضی طور پر روک لگا دی ہے۔ چند کشور بمقابلہ ریاست ہریانہ اور دیگر کی سماعت کرتے ہوئے، ہائی کورٹ نے ہدایت دی ہے کہ گروگرام میں BPL-EWS ہاؤسنگ اسکیم کے تحت فلیٹوں کی الاٹمنٹ اور قبضے سے متعلق جوں کا توں برقرار رکھا جائے، 6 جولائی 2026 کو اگلی سماعت تک۔عرضی گزار چند کشور، سنیتا، ریکھا، اور ونود کمار غربت کی لکیر سے نیچے (BPL) زمرے کے مستفید ہیں۔ انہوں نے 28 جولائی 2025 کے منسوخی خط کو چیلنج کیا جو اسٹیٹ مینیجر، ہاؤسنگ بورڈ، ہریانہ، گروگرام کے ذریعہ جاری کیا گیا تھا۔ درخواست گزاروں نے کہا کہ زیادہ شرح سود پر رقم ادھار لینے اور جمع کرانے کے باوجود انہیں 3 فروری 2010 کی پالیسی (بشمول 17 مئی 2018 کی ترمیم) کے تحت الاٹ کیے گئے فلیٹس کا قبضہ نہیں دیا گیا۔ درخواست گزاروں نے دلیل دی کہ یہ منسوخی من مانی ہے اور آئین کے آرٹیکل 14 اور 21 کے تحت ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔عرضی گزاروں نے کہا کہ ہریانہ حکومت فلیٹوں کو ای نیلامی کے ذریعے 40-45 لاکھ روپے فی فلیٹ کے تجارتی نرخوں پر فروخت کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ جس کی وجہ سے بی پی ایل کنبوں کے لیے فلاحی رہائش غیر بی پی ایل افراد کو منتقل کی جارہی تھی۔ 27 مئی کو ہائی کورٹ کے جسٹس سویر سہگل اور وکاس سوری کی ڈویژن بنچ نے حکم دیا کہ درخواست گزاروں کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی جائے۔ 6 جولائی 2026 کو کیس کی سماعت ہونے تک اسکیم کے تحت مختص فلیٹس دوسروں کو منتقل نہ کیے جائیں۔گڑگاؤں ریذیڈنٹ ویلفیئر ایسوسی ایشن فیڈریشن کے کنوینر سندیپ پھوگاٹ نے کہا کہ ستمبر 2018 میں، ہریانہ ہاؤسنگ بورڈ نے گروگرام میں 1,719 BPL-EWS فلیٹس کی تعمیر کا اعلان کیا، جس کی قیمت روپے ہے۔ 5.85 لاکھ فی فلیٹ۔ قرعہ اندازی 21 جنوری 2019 کو پنچکولہ میں ہوئی تھی۔ 1,719 الاٹیوں کو روپے جمع کرنے کو کہا گیا تھا۔ پہلی قسط کے طور پر 58,500۔درخواست گزاروں کے وکیل وکاس کمار نے دلیل دی کہ حکومت کی منسوخی غیر قانونی اور من مانی ہے۔ حکومت کا مقصد غریب خاندانوں کو ای-آکشن کے ذریعے مہنگے داموں فروخت کرکے ان کے جائز مکانات سے محروم کرنا تھا۔ جبکہ یہ اسکیم غریب خاندانوں کی فلاح و بہبود کے لیے تھی، حکومت نے ان کے ساتھ دھوکہ کیا۔ اب، تمام BPL-EWS خاندانوں کی امیدیں ہائی کورٹ پر ٹکی ہوئی ہیں۔ اس معاملے کی اگلی سماعت 6 جولائی کو ہوگی، تب تک عدالت نے جمود کا حکم دیا ہے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network