دلی این سی آر
انصاف کے ترازو میں سب برابر:امانت
نئی دہلی :کوئی اک شخص میرے ایم ایل اے یا دلی وقف بورڈ کا چیرمین رہتے ہوئے یہ الزام لگادے کہ دھرم اور ذات کی بنیاد پر میرے قلم یا زبان سے نا انصافی ہوئی ہو تو میں اوکھلا والوں آپ کو کبھی اپنی شکل نہیں دکھاوں گا سیاست سے کنارہ کش ہوجاوں گا یہ بات امانت اللہ خاں نے اوکھلا کی جے جے کالونی میں منعقد جلسہ عام سے کہی انھوں نے کہا کہ انصاف کے ترازو میں گورا کالا چھوٹا بڑا عورت مرد ہندو مسلم سب برابر ہیں اور جو ایسا نہیں کرتے انھیں سیاست میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے امانت اللہ خاں نے کہا کہ میرا مقصد صرف الیکشن لڑنا ایم ایل اے بن جانا نہ کل تھا نہ اج ہے میرا مقصد انصاف سے محروم افراد کو ان کا حق دلانا ہے امانت اللہ خاں نے کہا کہ مجھے بدنام کرنے میرے اوپر الزامات لگانے والوں کو یا د رکھنا چاہیے کہ عزت ذلت کے فیصلے اسمانوں پر ہوتے ہیں
انھوں نے کہا میں عوام کے مسائل کو حل کرنے کی ایماندارانہ کوشش کی ہے انھوں نے کہا کہ ہمیں اوکھلا کو سماجی تعلیمی اورمعاشی طورپر مستحکم بنانا ہے جس کے لئے مجھے اپ کا ساتھ چاہئے ۔دوسری جانب اوکھلا اسمبلی حلقہ سے عام ادمی پارٹی سے تیسری مرتبہ امیدوار بنائے جانے پر پارٹی کاکنان نے جشن منایا اور ایک دوسرے کو مٹھائی کھلائی اس موقع پر امانت اللہ خاں نے پارٹی قیادت بالخصوص اروند کیجروال کے اعتماد کا اظہار کر نے پر شکریہ اداکیا انھوں نے کہا کہ میرے دروازے سب کے لئے کھلے ہیں سب کا استقبال ہے۔
دلی این سی آر
ادارہ ساز اور انسانیت کے رہنما تھےحکیم عبد الحمید
(پی این این)
نئی دہلی :گزشتہ روز غالب اکیڈمی ،نئی دہلی کے بانی حکیم عبدالحمیدؒ کے118ہویں یوم پیدائش کے موقع پر ایک سیمینار کا انعقاد کیاگیا۔ اس موقع پر ماہرین طب یونانی،ادیبوں اور اہم شخصیات نے اظہار خیال کیا اور مقالے پیش کئے۔ ڈاکٹر عقیل احمد نے خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ غالب اکیڈمی کی ابتدا حکیم نے مزار غالب کے پاس 1935میں زمین حاصل کر کے کردی تھی۔ اس اعتبار سے حکیم کے قائم کردہ اداروں میں اسے اولیت حاصل ہے۔غالب اکیڈمی ہر سال ان کے کے یوم پیدائش کے موقع پر تقریب کا اہتمام کرتی ہے۔سیمینار کی صدارتی تقریر میں ڈاکٹر جی آر کنول نے کہا کہ حکیم عبد الحمید نے غالب اکیڈمی تعمیر کر کے اردو کی ناقابل فراموش خدمت کی ہے۔ کم بولتے تھے،کم سوتے تھے اور کم کھاتے تھے۔غالب اکیڈمی کا افتتاح غالب پرست ڈاکٹر ذاکر حسین نے کیا تھا۔حکیم صاحب سادہ مزاج تھے۔
اعزازات ان کی روح کے منافی ہیں اصل معنی میں وہ بھارت رتن تھے وہ انسانیت کے رہنما تھے تصوف ان کے عمل میں ظاہر ہوا۔ وہ عامل تھے ابوالعمل تھے۔اس موقع پرڈاکٹر امان اللہ نے اپنی تقریر میں کہا کہ حکیم نے صبر، شکر اور قناعت اختیار کرکے اپنے والد کے قائم کردہ ہمدرد کو بلندیوں پر پہنچادیا۔پروفیسر اختر الواسع نے اپنی تقریر میں کہا کہ حکیم عبد الحمید کی والدہ نے انہیں زندہ پیر کی طرح پیش کیا۔
انہوں نے پرانی دہلی میں رابعہ گرلس پبلک اسکول قائم کیا۔ سنگم وہار میں انگلش میڈیم اسکول قائم کیا جہاں ملک سے باہر رہنے والے اپنے بچوں کو بہتر تعلیم دلاتے ہیں۔غالب اکیڈمی قائم کرکے اردو زبان و ادب کا غیر معمولی کام کیا۔ انہوں ہمدرد صحت کا اجرا کرکے طبی صحافت کا آغاز کیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر سید فاروق نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ حکیم صاحب کی شخصیت زبردست تھی۔ ان کو تعلیم میں بہت شغف تھا۔ برہان پور میں انہوں نے ایک اسپتال قائم کیا۔ مستحق افراد کی مدد کرتے تھے۔حکیم نازش احتشام اعظمی نے حکیم عبد الحمید:حکمت خدمات اور انسانیت کے منارۂ نور کے عنوان سے مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کی جدید علمی،طبی اور سماجی تاریخ میں حکیم عبد الحمید کا نام ایک ایسے آفتاب جہاں تاب کی حیثیت رکھتا ہے۔
جس کی شعاعوں نے طب یونانی،اعلیٰ تعلیم،رفاہِ عامہ اور انسانی خدمات کی جہات اور زاویوں کو روشنی اور استحکام بخشا۔ ان کی حیات مبارکہ علم و عمل اخلاقی رفعت،ادارہ ذاتی تشکیلیت اور خلوص نیت کا ایک نادر اور بے مثال مرقع تھی۔ڈاکٹر رخشندہ روحی نے لسانی یکجہتی کا علمبردار: حکیم عبد الحمید کے عنوان سے مقالہ پڑھتے ہوئے کہا کہ ان کی خدمات طب اور تعلیم تک محدود نہیں رہیں بلکہ قومی یکجہتی،مشترکہ ثقافت(گنگا جمنی تہذیب) اردو ہندی زبانوں کے درمیان ثقافتی اور لسانی یکجہتی کے فروغ میں انہوں نے اہم کردار ادا کیا۔غالب اکیڈمی میں انہوں نے پروفیسر محمد حسن کی سربراہی میں ہندوستانی پروجیکٹ قائم کیا تھا۔اس موقع پر ڈاکٹر ثمر جہاں نے حکیم عبد الحمید کی شخصیت اور خدمات پر ایک مقالہ پیش کیا۔ پروفیسر شریف حسین قاسمی نے حکیم عبدالحمید کی زندگی سے جڑے علمی و تحقیقی واقعات بیان کرتے ہوئے کہا کہ اورنگ زیب کے زمانے تک طب کی کتابیں فارسی میں تھیں۔ حکیم صاحب نے ان کا ترجمہ کروایا ،اسلامک اسٹڈیز کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا۔ جس میں عربی کتابوں کے تراجم کئے گئے ۔اس کے سربراہ سید اوصاف علی تھے۔ ان کے ذریعہ اس ادارہ نے بہت کام کیا۔سیمینار میں بڑی تعداد میں سامعین موجود تھے۔جن میں ڈاکٹر نگار عظیم،شمع افروز زیدی،ظہیر احمد برنی، پروفیسرمعظم الدین، مظہر محمود، ڈاکٹر تبسم شاداب، پروفیسر سلیم قدوائی،ایڈوکیٹ شرف الدین احمد،سرفراز احمد فراز، احترام صدیقی،کمال الدین،عارف حسین، شمیم، ابو نعمان، روی پٹوردھن،خضر السلام،خورشید بانو،باری مسعود،سعود صحافی،مینک آسٹون صوفی،صادق شیروانی، پروین ویاس،پون کمار تومر،نیتین چڈھا، صبیحہ، وغیرہ اسمائے گرامی شامل ہیں۔آخر میں عقیل احمد نے شکریہ ادا کیا۔
دلی این سی آر
ڈی یو ایس یوانتخابات : جیت کے جلوس پرہائی کورٹ کی پابندی
نئی دہلی :ڈی یو ایس یو (دہلی یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین) کے انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کو ایک جھٹکا دیتے ہوئے، دہلی ہائی کورٹ نے نتائج کے اعلان کے بعد کسی بھی قسم کی جیت کے جلوس پر پابندی لگا دی ہے۔ عدالت نے زور دے کر کہا کہ اس پابندی کا اطلاق نہ صرف سڑکوں پر بلکہ یونیورسٹی کیمپس اور ہاسٹلز کے اندر بھی ہوگا۔ عدالت نے پولیس کو ایسا ہونے سے روکنے کی ذمہ داری سونپی اور کہا کہ اس ممانعت کی کسی بھی خلاف ورزی کو توہین تصور کیا جائے گا۔ سماعت کے دوران بنچ نے انتخابی مہم میں قافلوں کے مبینہ استعمال اور دیگر خلاف ورزیوں پر سخت اعتراض کیا اور سوال کیا کہ پولیس کی بھاری نفری کی تعیناتی کے باوجود ایسی سرگرمیوں کی اجازت کیسے دی گئی۔حکم کی تعمیل کو یقینی بنانے کے لیے، عدالت نے کیمپس میں موجود تمام طلبہ تنظیموں کے نمائندوں کو ہدایت کی کہ وہ حکم کی کاپی کا انتظار کیے بغیر تمام امیدواروں، طلبہ اور ان کے حامیوں کو فوری طور پر عدالت کی ہدایات سے آگاہ کریں۔ اس کے بعد، این ایس یو آئی کے وکیل رشو رنجن نے عدالت کو یقین دلایا کہ کوئی بھی فتح کا جلوس نہیں نکالا جائے گا۔ اے بی وی پی کی نمائندگی کرنے والے سینئر وکیل اپوروا کروپ نے بھی عدالت کی ہدایت کی حمایت کی۔سماعت کے دوران چیف جسٹس ڈی کے اپادھیائے اور جسٹس تیجس کریا کی سربراہی میں بنچ نے انتخابات میں حصہ لینے والی تمام طلبہ تنظیموں اور DUSU کے انتخابات میں حصہ لینے والے تمام 140 امیدواروں کو بھی نوٹس جاری کیا، اور انتخابی قواعد کی مبینہ خلاف ورزیوں پر ان پر اجتماعی انتخابی جرمانے عائد کرنے پر ان کا جواب طلب کیا۔عدالت نے دہلی پولیس اور دہلی یونیورسٹی کو بھی ہدایت دی کہ وہ لنگدوہ کمیٹی کی سفارشات اور عدالت کے پہلے کے احکامات کی سختی سے تعمیل کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کریں۔ عدالت نے کہا کہ اگر طلبہ تنظیموں نے اپنے طریقے نہ سدھرے تو وہ مبینہ خلاف ورزیوں پر اجتماعی جرمانے عائد کرنے پر غور کرے گی۔
دلی این سی آر
دہلی میں ٹریفک چالان میں نئی تبدیلی
نئی دہلی :دہلی ٹریفک چالان کا نیا اصول: دہلی میں ٹریفک چالان کے قوانین میں ایک اہم تبدیلی کی گئی ہے۔ نئے اصول کے تحت، اب آپ کو چالان کی رقم کا 50% عدالتی سماعت سے پہلے ادا کرنا ہوگا۔
اگر کوئی ڈرائیور یہ سمجھتا ہے کہ چالان غلط جاری کیا گیا ہے اور وہ اسے عدالت میں چیلنج کرنا چاہتا ہے تو ایک اضافی قدم اٹھانا چاہیے۔انڈیا ٹوڈے کی ایک رپورٹ کے مطابق، نئے نظام کے تحت، اگر کسی ڈرائیور کو لگتا ہے کہ ای چالان غلط ہے، تو اسے پہلے متعلقہ اتھارٹی سے رابطہ کرنا ہوگا اور اسے چیلنج کرنا ہوگا۔ اتھارٹی کے اہلکار چالان سے متعلق حقائق اور ریکارڈ (کیمرہ فوٹیج یا دیگر ڈیجیٹل ریکارڈ شدہ معلومات) کی جانچ کریں گے۔اگر اتھارٹی اس بات کا تعین کرتی ہے کہ چالان غلط طریقے سے جاری کیا گیا تھا، تو اس مرحلے پر اسے منسوخ کر دیا جائے گا۔ ڈرائیور کو اس کی اطلاع پورٹل پر دی جائے گی۔ تاہم، اگر اتھارٹی چالان منسوخ نہیں کرتی ہے اور ڈرائیور مطمئن نہیں ہے، تو وہ اسے عدالت میں چیلنج کر سکتے ہیں۔
تاہم، انہیں پہلے چالان کی رقم کا 50فیصد ادا کرنا ہوگا۔ اس کے بعد ہی عدالتی سماعت ہوگی۔مثال کے طور پر، اگر کسی کے پاس2000کا چالان ہے، تو اسے پہلے1000 ادا کرنا ہوں گے۔ 5,000 کے چالان کے لیے، انہیں2500پیشگی جمع کرنا ہوگا۔ اس کے بعد ہی عدالتی سماعت آگے بڑھے گی۔
واضح رہے کہ چالان کی رقم کا 50فیصد ادا کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ چالان درست ہے۔ عدالت کی سماعت شروع ہونے کے لیے یہ محض ایک شرط ہے۔ اگر عدالتی سماعت کے دوران چالان غلط پایا جاتا ہے تو ڈرائیور کو ادا کی گئی رقم کا 50فیصدواپس کر دیا جائے گا۔ تاہم، اگر عدالت قبول کرتی ہے کہ چالان درست طریقے سے جاری کیا گیا تھا، تو ڈرائیور کو بقیہ 50ادا کرنا ہوگا۔درحقیقت، چالان اب نہ صرف ٹریفک پولیس افسران بلکہ سڑکوں پر نصب کیمروں اور دیگر تکنیکی خودکار آلات کے ذریعے بھی جاری کیے جاتے ہیں۔ ایسی صورت حال میں اگر ڈرائیوروں کو لگتا ہے کہ انہیں جاری کیا گیا چالان غلط ہے یا انہوں نے کسی اصول کی خلاف ورزی نہیں کی ہے تو وہ اسے چیلنج کر سکتے ہیں۔ نئے نظام کے تحت اب ڈرائیوروں کو ہر چالان کے لیے براہ راست عدالت جانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ چالان کا پہلے اتھارٹی کی سطح پر جائزہ لینا ہو گا۔
-
بہار10 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر2 years agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر2 years agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر2 years agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ2 years agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
