Connect with us

دلی این سی آر

کانگریس نے دہلی میں 3 اور بڑی ضمانتوں کاکیا اعلان

Published

on

500 روپے میں ایل پی جی سلنڈر اور مفت راشن کٹ کے علاوہ 300 یونٹ بجلی بھی رہے گی مفت
نئی دہلی :آج کانگریس پارٹی نے دہلی اسمبلی انتخابات کے لیے 3 اور بڑی ضمانتوں کا اعلان کیا ہے۔ کانگریس نے کہا کہ اگر وہ 2025 میں دہلی میں اقتدار میں آتی ہے تو عوام کو مہنگائی سے نجات دلانے کے لیے 500 روپے میں ایل پی جی سلنڈر اور مفت راشن کٹ کے علاوہ 300 یونٹ بجلی بھی مفت دے گی۔اس سے پہلے کانگریس نے دہلی میں رہنے والے پوروانچل اور بہار کے لوگوں سے مہاکمبھ کی طرح چھٹھ مہاپروا منانے کا وعدہ کیا تھا۔ کانگریس نے وعدہ کیا ہے کہ عظیم چھٹھ تہوار کے لیے دہلی میں جمنا کے کنارے ایک جگہ مختص کی جائے گی اور اسے ضلع قرار دیا جائے گا۔ جمنا کے اس گھاٹ کا نام مرحوم کے نام پر رکھا گیا تھا۔ اس کا نام شاردا سنہا جی کے نام پر رکھا جائے گا۔ اس کے علاوہ یووا اڑان اسکیم کے تحت بے روزگار نوجوانوں کو ایک سال کی اپرنٹس شپ اور 8500 روپے ماہانہ دینے کا وعدہ کیا گیا ہے۔دہلی اسمبلی کی تمام 70 سیٹوں کے لیے انتخابات 5 فروری 2025 کو ایک ہی مرحلے میں ہونے والے ہیں اور ووٹوں کی گنتی 8 فروری کو ہوگی۔ کانگریس نے اب تمام 70 سیٹوں پر اپنے امیدواروں کے ناموں کا اعلان کر دیا ہے۔آپ کو بتا دیں کہ اروند کیجریوال کی قیادت والی عام آدمی پارٹی چوتھی بار اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی کانگریس پارٹی دہلی کے لوگوں کو شیلا دکشت کے دور حکومت میں کیے گئے کاموں کی یاد دلاتے ہوئے اپنا کھویا ہوا سیاسی میدان دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔قابل ذکر ہے کہ 2015 کے اسمبلی انتخابات میں پارٹی نے 70 میں سے 67 سیٹوں پر کامیابی حاصل کر کے زبردست جیت درج کی تھی۔ ساتھ ہی، 2020 کے اسمبلی انتخابات میں، پارٹی نے 70 میں سے 62 سیٹیں جیتی تھیں۔ بی جے پی کو 2015 میں صرف 3 اور 2020 میں صرف 8 سیٹوں پر قناعت کرنا پڑی۔ ان دونوں انتخابات میں کانگریس پارٹی دہلی میں اپنا کھاتہ بھی نہیں کھول سکی۔دہلی اسمبلی انتخابات کے سلسلہ میں کانگریس پارٹی نے ایک اور اہم اعلان کرتے ہوئے عوام سے بڑی سہولیات فراہم کرنے کا وعدہ کیا۔ پارٹی نے کہا کہ پارٹی کے اقتدار میں آنے پر عوام کو 500 روپے میں گیس سلنڈر، 300 یونٹ مفت بجلی اور مفت راشن کٹ دینے کا اعلان کیا۔ قبل ازیں، کانگریس پارٹی خواتین اور نوجوانوں کے لئے بھی اعلانات کر چکی ہے۔اس موقع پر دہلی کانگریس کے صدر دیویندر یادو نے کہا کہ خواتین پر مہنگائی کا شدید اثر ہوا ہے، جس کے پیش نظر ’مہنگائی مکتی یوجنا‘ متعارف کرائی گئی ہے۔ اس اسکیم کے تحت ہر خاندان کو مفت راشن کٹ دی جائے گی جس میں 5 کلو چاول، 2 کلو چینی، ایک لیٹر تیل، 6 کلو دال اور 250 گرام چائے کی پتی شامل ہوگی۔انہوں نے کہا کہ پچھلے دس برسوں میں مہنگائی نے غریب خاندانوں کی زندگی مشکل بنا دی ہے۔ یہ اقدامات خواتین کو گھریلو مسائل سے آزاد کر کے بچوں کی تعلیم اور خاندان کی ترقی پر توجہ مرکوز کرنے کا موقع فراہم کریں گے۔اس موقع پر تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی بھی موجود تھے۔ انہوں نے پریس کانفرنس میں وزیر اعلیٰ کیجریوال اور وزیر اعظم مودی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مودی اور کیجریوال میں کوئی فرق نہیں ہے، صرف نام کا فرق ہے۔ دہلی کو بہتر بنانا ہے تو کانگریس کی حکومت بنانا ضروری ہے۔کانگریس نے دعویٰ کیا کہ جہاں عام آدمی پارٹی 200 یونٹ مفت بجلی فراہم کرتی ہے، وہاں کانگریس 300 یونٹ بجلی مفت دے گی۔ اس موقع پر پردیش کانگریس انچارج قاضی نظام الدین اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Uncategorized

اردو زبان و ادب کے فروغ میں ٹیلی ویژن کا کردار پر مذاکرہ

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی: سوشل کیئر ٹرسٹ کے زیر اہتمام جامعہ نگر کے تسمیہ آڈیٹوریم میں ڈاکٹر محمد شمیم اختر کی کتاباردو زبان و ادب کے فروغ میں ٹیلی ویژن کا کردا پر مذاکرہ کا انعقاد کیاگیا۔ تسمیہ سوسائٹی کے چیئرمین اور اردو زبان و ادب کی آبیاری و فروغ کے لیے ہمیشہ سرگرمِ عمل رہنے والے ڈاکٹر سید فاروق صاحب نے پروگرام کی صدارت کی ۔ اپنے صدارتی خطاب میں ڈاکٹر سید فارق نے ڈاکٹر محمد شمیم اختر کی کتاب کو معلومات کا ذخیرہ قرار دیتے ہوئے کہاکہ موجودہ دور میں کتاب لکھنا جگر کا کام ہے وہ بھی اردو زبان میں ۔ انہوں نے موجودہ دور میں اردو زبان کے خدوخال کو بھی بیان کیا۔
پروگرام کے مہمان خصوصی ماہنامہ آج کل کے سابق مدیر، خورشید اکرم صاحب نے ڈاکٹرمحمد شمیم اختر کی کتاب کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ اس کتاب کے ٹائٹل کو اس انداز میں رکھنا چاہئے تاکہ اسکولوں و کالجوں میں اس کو شامل کیا جاسکے۔ مہمان ذی وقار ڈاکٹر سجاد سید نے کہا کہ ڈاکٹر شمیم اختر نے جس محنت و لگن کے ساتھ ٹیلی ویژن میں اردو الفاظ کے استعمال پر کتاب مرتب کی ہے، وہ لائق تحسین ہیں۔
کتاب کے مصنف اور دردرشن نیوزسے وابستہ ڈاکٹر محمد شمیم اخترنے اس موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ یہ کتاب ان کے لیے صرف ایک تحقیقی موضوع نہیں ہے بلکہ اس کتاب کے پیچھے ان کے بچپن کی یادیں، ان کی تعلیم، صحافت، ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے ساتھ دو دہائی سے بھی زیادہ مدت کی وابستگی شامل ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ شاید اسی لیے جب انہوں نے اردو اور ٹیلی ویژن کے تعلق پر غور کیا تو انہیں محسوس ہوا کہ ٹیلی ویژن صرف تصویراور ویڈیو نہیں دکھاتا بلکہ آواز کو گھر گھر پہنچانے والا ذریعہ ہے اورحقیقت ہے کہ آواز کے ساتھ زبان بھی گھر گھر پہنچتی ہے۔
اس موقع پرڈاکٹر محمد شمیم اختر نے علامہ اقبال کا ایک شعر بھی پڑھا:
نہ زباں کوئی غزل کی، نہ زباں سے باخبر میں
کوئی دلکشا صدا ہو، عجمی ہو یا کہ تازی
انہوں نے کہا کہ اقبال کے اس شعر میں دلکشا صدا کا تصور انہیں ہمیشہ بہت متاثر کرتا رہا ہے۔ اورجب انہوں نے سوچا کہ آج کے دور میں وہ دلکشا صدا کیسے سب سے زیادہ لوگوں تک پہنچتی ہے تو انہیں جواب ملا ۔۔۔ ٹیلی ویژن کے ذریعے۔ ان کے مطابق یہی وہ مقام ہے۔
جہاں سے ان کی کتاب کا اصل موضوع شروع ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم جب اردو زبان و ادب کے فروغ کی بات کرتے ہیں تو ہمارے ذہن میں عموماً کتابیں، رسائل، اخبارات، مشاعرے اور ادبی محفلیں آتی ہیں۔ لیکن ٹیلی ویژن وہ ذریعہ ہے جو بغیر کتاب کھولے، بغیر کلاس روم میں گئے اور بغیر کسی ادبی نشست میں شرکت کیے لوگوں تک زبان کو پہنچا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندی چینلوں میں اردو الفاظ کا استعمال اس بات کی مثال ہیں کہ اردو کے الفاظ آج صرف اردو بولنے والوں تک محدود نہیں ہیں بلکہ وہ ٹیلی ویژن کے ذریعے ایک وسیع تر معاشرے کا حصہ بن رہے ہیں۔
پروگرام میں اردو زبان و ادب کے خدمت گزار ڈاکٹر شعیب رضا وارثی، سینیر براڈکاسٹر اطہر سعید، دوردرشن نیوز کے ایڈیٹر راشد جمال شمسی، نیوز 18 اردو کے اینکر وصال اعظم، ایشیا ٹائمز کے اشرف علی بستوی، خان رضوان، عبدالواحد وغیرہ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
پروگرام کا آغاز دوردرشن نیوز سے وابستہ محمد عرفان کی خوبصورت آواز میں تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ پروگرام کی نظامت دوردرشن نیوز کی اینکر ریشما فاروقی نے بحسن و خوبی انجام دیا۔
پروگرام میں دہلی اردو اکادمی کے محمد ہارون صاحب، معروف صحافی التجا عثمانی، عبدالنور شبلی (جامعہ نگر اپ ڈیٹ)، سوشل کیئر ٹرسٹ کے صدر مفیض الرحمن، دوردرشن نیوزکے محبوب الہی، صائمہ خان، خصال مہدی، ذیشان احمد، محمد فیصل خان، کلیم احمد، خالد محبوب، عبد الحفیظ، تنویرعالم، عرفان، پی آئی بی کے لینگویج ایکسپرٹ سبطین کوثر کے علاوہ معین خان، قمر محمد، منوررعنا، نوشاد احمد، نوید اور دیگرافراد نے شرکت کی۔

 

Continue Reading

دلی این سی آر

جامعہ میں اپنی نوعیت کی پہلی دو روزہ قومی کانفرنس کاکیا انعقاد

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی :جامعہ ملیہ اسلامیہ کی فیکلٹی آف سوشل سائنسز کے شعبہ کامرس اینڈ بزنس اسٹڈیز نے اپنے تعلیمی سفر میں ایک اہم سنگِ میل عبور کرتے ہوئے اپنی نوعیت کی پہلی دو روزہ قومی کانفرنس کا انعقاد کیا۔
 ’’وکست بھارت کے لیے جی ایس ٹی اصلاحات: دوہزار سیتالیس تک ہندوستان کی سماجی و اقتصادی تبدیلی کو مستحکم کرنا‘‘کے موضوع پر منعقدہ اس کانفرنس میں ستر تحقیقی مقالات پیش کیے گئے اور سات ریاستوں کے ماہرین تعلیم کے ساتھ ساتھ مرکزی یونیورسٹیوں کے چار وائس چانسلرز نے شرکت کی، تاکہ جی ایس ٹی، اعلیٰ تعلیم اور ‘وکست بھارت  دوہزار سینتالیس’‘جیسے اہم موضوع پر وسیع تر مکالمہ انجا م جا سکے۔نئی دہلی میں واقع جامعہ ملیہ اسلامیہ کے کیمپس میں انیس اور بیس اگست دوہزار چھبیس کو منعقدہ اور انڈین کونسل آف سوشل سائنس ریسرچ، نئی دہلی کے اشتراک سے ترتیب دی گئی یہ دو روزہ کانفرنس، ہندوستان کی اقتصادی تبدیلی میں ’’گڈز اینڈ سروسز ٹیکس( جی ایس ٹی)‘ کے کردار کا جائزہ لینے کے لیے ایک اہم تعلیمی پلیٹ فارم ثابت ہوئی۔ تاہم، اس کانفرنس کی امتیازی خصوصیت یہ تھی کہ اس میں ہونے والی گفتگو محض ٹیکس کے نظام تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کا دائرہ کار حکمرانی، شمولیت، ڈیجیٹل تبدیلی، اعلیٰ تعلیم، تحقیق اور تعمیرِ قوم جیسے وسیع تر مسائل تک پھیلا ہوا تھا۔اس کانفرنس میں  ایک سو آٹھ محققین کی جانب سے ایک سو ساٹھ انفرادی رجسٹریشن کے ذریعے انہتر تحقیقی مقالات موصول ہوئے ۔
جن میں متعدد ایسے مقالے بھی شامل تھے جو ایک سے زائد مصنفین نے مشترکہ طور پر تیار کیے تھے۔ یہ مقالا ت سات ریاستوں اور قومی راجدھانی دہلی میں واقع پچیس سے زائد یونیورسٹیوں اور اداروں کی جانب سے پیش کیے گئے ؛ ان میں دہلی، اتر پردیش، ہریانہ، اتراکھنڈ، پنجاب، تلنگانہ اور اوڈیشہ کے تعلیمی ادارے شامل تھے۔
شرکت کا یہ وسیع دائرہ کار معاشی نظم و نسق اور ترقی کے ایک آلے کے طور پر جی ایس ٹی میں بڑھتی علمی دلچسپی کو اجاگر کرتاہے۔ کانفرنس میں اساتذہ، رسرچ اسکالرس، پوسٹ گریجویٹ اور انڈر گریجویٹ طلبہ اور صنعت سے وابستہ پیشہ ور افراد نے حصہ لیا۔ اس میں جامعہ ملیہ اسلامیہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، جامعہ ہمدرد، دہلی یونیورسٹی اور اس کے ملحقہ کالجز، اگنو ، مانو ،رچنا انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ریسرچ اینڈ اسٹڈیز، آئی آئی ایل ایم یونیورسٹی، شوبھت یونیورسٹی، کماؤں یونیورسٹی، امراپالی یونیورسٹی، شاردا یونیورسٹی، ایمیٹی یونیورسٹی، بنارس ہندو یونیورسٹی، خالصہ یونیورسٹی، خالصہ کالج آف لا، اتکل یونیورسٹی اور دیگر کئی اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
کانفرنس کا آغاز انیس اگست دوہزار چھبیس کو فیکلٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے آڈیٹوریم میں تلاوتِ کلامِ پاک اور جامعہ کے ترانے سے ہوا، جس کے بعد کنوینر پروفیسر دیبارشی مکھرجی نے مہمانان او رسامعین و حاضرین کا خیر مقدم کیا اور کانفرنس کے موضوع کا تعارف پیش کیا۔ افتتاحی اجلاس سے شعبہ کامرس اینڈ بزنس اسٹڈیز کے سربراہ پروفیسر نصیب احمد اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کی فیکلٹی آف سوشل سائنسز کے ڈین پروفیسر زبیر مینائی نے بھی خطاب کیا۔
ا فتتاحی اجلاس کی علمی حیثیت کو ‘ایبسٹریکٹ پروسیڈنگز’ (مقالہ جات کی تلخٰص پر مبنی مجموعے) بعنوان جی ایس ٹی، گروتھ اینڈ گورنینس:پاتھ ویز تو وکست بھارت اے آئی لٹیریسی : ریتھنکنگ انٹلی جینس ،لرننگ اینڈ ہیومن پوٹینشیل ان دی ایج آف انٹلی جینٹ مشینس کی رونمائی نے مزید مستحکم کیا۔ یہ دونوں مطبوعات اقتصادی طرزِ حکمرانی، تکنیکی تبدیلی، تعلیم اور بھارت کے ترقیاتی سفر جیسے امور کے ساتھ کانفرنس کی وسیع تر وابستگی کی عکاس تھیں۔
افتتاحی اجلاس میں تلنگانہ پبلک سروس کمیشن کے رکن ڈاکٹر عامر اللہ خان نے کلیدی خطاب کیا، جس کے بعد جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شیخ الجامعہ اور کانفرنس کے سرپرست اعلی عزت مآب پروفیسر مظہر آصف نے صدارتی خطاب کیا۔ اجلاس کا اختتام شریک کنوینر ڈاکٹر وویک کے اظہار تشکر اور قومی ترانے پر ہوا۔
یہ کانفرنس پروفیسر زبیر مینائی اور پروفیسر نصیب احمد کی بطور شریک سرپرست رہنمائی میں منعقد کی گئی، جس میں پروفیسر دیبارشی مکھرجی کنوینر اور ڈاکٹر وویک اور ڈاکٹر اظہار احمد شریک کنوینر تھے۔ اس کے انعقاد میں کانفرنس کوآرڈینیشن ٹیم کا تعاون شامل تھا جس میں زینب علی، سجادہ، اریبہ، اقرا تبسم، فہد مخدومی، ارم خان، کرونا بھٹلا، فیض قمر، عائشہ خان، ابھیشیک پرتاپ سنگھ اور مرزا حنان بشار شامل تھے۔
کانفرنس کا علمی و تحقیقی مرکز آٹھ مختلف موضوعاتی شعبوں پر محیط آٹھ تکنیکی اجلاسوں پر مشتمل تھا، جن میں جی ایس ٹی  کے متنوع معاشی، سماجی اور ادارہ جاتی پہلوؤں پر تحقیقی نقطہ نظر کو یکجا کیا گیا۔ مباحثوں کا آغاز ‘جی ایس ٹی اور وکست بھارت دوہزار سینتالیس کا وژن’ کے موضوع پر اجلاس سے ہوا، جس کی صدارت آئی آئی ایم لکھنؤ کے ڈاکٹر کشتیج اوستھی نے کی، جب کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ڈاکٹر محمد عاطف شریک چیئر اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ڈاکٹر توصیف الدین صدیقی بطور باحث شامل رہے۔ اس سیشن میں ہندوستان کے طویل مدتی ترقیاتی عزائم کے وسیع تر تناظر میں جی ایس ٹی کا جائزہ لیا گیا۔
دوسرا اجلاس’جی ایس ٹی اور شعبہ جاتی اثرات ‘ کے موضوع پر جس کی صدارت جے نارائن ویاس یونیورسٹی کے پروفیسر کرشن اوتار گوئل نے کی، جب کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے جناب ایس شامخ احسن شریک چیئر اور جامعہ کے ڈاکٹر محمد زکریا صدیقی بطور باحث شامل رہے۔ تیسرے سیشن’جی ایس ٹی، شمولیت اور پائیدار ترقی‘ کی قیادت جامعہ ملیہ اسلامیہ کی پروفیسر شیما علیم نے کی؛ اس میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ڈاکٹر سمیر بابو شریک چیئر اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پروفیسر اشرف الیان بطور باحث شریک رہے۔
چوتھے سیشن، ‘چیلنجز، اصلاحات اور مستقبل کا لائحہ عمل’ کی صدارت علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پروفیسر محمد یامین نے کی، جب کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ڈاکٹر سیف الرحمن فاروقی شریک چیئر اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پروفیسر نصیب احمد بطور باحث شامل رہے۔ پانچویں سیشن، ‘جی ایس ٹی اور کاروبار میں آسانی‘ میں مانو رچنا یونیورسٹی کے پروفیسر بھاویش پرکاش جوشی صدر اجلاس، جامعہ ملیہ اسلامیہ کی ڈاکٹر یاسمین شمسی رضوی شریک چیئر اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پروفیسر محمد کمال النبی بطور باحث شریک رہے۔
چھٹے اجلاس’جی ایس ٹی اور سماجی و اقتصادی تبدیلی‘‘ کی صدارت ایمیٹی یونیورسٹی کی ڈاکٹر پلوی تیاگی نے کی، جب کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کی لیفٹیننٹ (ڈاکٹر) انوارہ ہاشمی شریک چیئر اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کی پروفیسر راحیلہ فاروقی بطور باحث شامل رہیں۔ ساتویں اجلاس مین’جی ایس ٹی، کوآپریٹو فیڈرلزم اور مالیاتی نظم و نسق‘ کی قیادت دہلی اسکل اینڈ انٹرپرینیورشپ یونیورسٹی کی فیکلٹی آف بزنس، فنانس اینڈ مینیجریل اسکلز کی ڈین پروفیسر شروتی ترپاٹھی نے کی؛ اس میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ڈاکٹر وسیم اکرم شریک چیئر اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پروفیسر مونس شکیل بطور باحث شریک ہوئے۔
آخری تکنیکی سیشن،’جی ایس ٹی اور ڈیجیٹل اکانومی، کی صدارت آسام یونیورسٹی کے ڈاکٹر دیپ جیوتی چودھری نے کی، جب کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ ڈاکٹر محمد کاشف خان شریک چیئر اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پروفیسر ریحان خان سوری بطور باحث شامل رہے۔
کانفرنس کی ایک نمایاں خصوصیت “وکست بھارت دوہزارسینتالیس کے لیے یونیورسٹیاں: اعلیٰ تعلیم، تحقیق، جدت اور سب کو ساتھ لے کر قوم کی تعمیر نو کا تصور کے موضوع پر کانفرنس لیڈرشپ ڈائیلاگ تھا۔ ایک منفرد علمی اجتماع میں، مرکزی یونیورسٹیوں کے چار وائس چانسلرز ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہوئے تاکہ ہندوستانی اعلیٰ تعلیم کے مستقبل اور دوہزار سینتالیس تک ایک ترقی یافتہ ہندوستان کی تشکیل میں یونیورسٹیوں کے کردار پر تبادلہ خیال کر سکیں۔ پروفیسر دیبارشی مکھرجی کی نظامت میں ہونے والے اس مکالمے میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شیخ الجامعہ عزت مآب پروفیسر مظہر آصف، آسام یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر راجیو موہن پنت، میزورم یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر دیباکر چندر ڈیکا اور تریپورہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر دیبرتا داس نے شرکت کی۔
ہندوستانی تعلیم کو درپیش کچھ بڑے سوالات کو حل کرنے کے لئے بات چیت ادارہ جاتی نقطہ نظر سے آگے بڑھی: ہندوستانی علمی روایات کی مطابقت، کثیر لسانی تعلیم، بین الضابطہ تعلیم، تحقیق اور اختراع، پائیداری، ادارہ جاتی ذمہ داری اور جامع قوم کی تعمیر میں یونیورسٹیوں کا کردار۔
کانفرنس کے دوسرے دن، بیس اگست  دوہزار چھبیس میں، آئی آئی ایم لکھنؤ کے ڈاکٹر کشتیج اوستھی کے ساتھ پالیسی ریسرچ ڈائیلاگ بھی پیش کیا گیا، جس سے تعلیمی انکوائری کو عصری پالیسی کے خدشات سے جوڑنے کا موقع ملا۔
مکالمے نے شرکا کو اس بات پر غور کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے تکنیکی سیشن کی تکمیل کی کہ ٹیکسیشن اور معاشی نظم و نسق پر تحقیق پالیسی کی تشکیل اور نفاذ میں کس طرح اپنا تعاون دے سکتی ہے۔ اس دن کانفرنس میں ایک اور اہم فکری جہت کا اضافہ کرتے ہوئے کتاب ’بہت سے ذہن، ایک قوم‘کی رونمائی بھی ہوئی۔ تحقیقی پریزنٹیشنز، پالیسی ڈائیلاگ، علمی اشاعتوں اور ادارہ جاتی قیادت کے امتزاج نے دوسرے دن کو ایک وسیع کردار دے دیا، جس نے کانفرنس کے بنیادی تھیم کی مختلف جہتوں کو اکٹھا کیا: وکست بھارت دوہزار سینتالیس کی طرف ہندوستان کے سفر میں علم، اداروں اور باخبر عوامی پالیسی کا کردار۔
کانفرنس کا اختتام ایک الوداعی تقریب پر ہوا جس میں یونیورسٹی کے اعلیٰ عہدیداران، ڈینز، سربراہانِ شعبہ جات، ڈائریکٹرز، تعلیمی رہنما اور مندوبین شریک ہوئے۔
اس تقریب سے پروفیسر نصیب احمد، پروفیسر زبیر مینائی، پروفیسر محمد کمال النبی (افسر مالیات ،جامعہ ملیہ اسلامیہ ) اور پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی ( مسجل ،جامعہ ملیہ اسلامیہ ) نے خطاب کیا۔ مہمانِ خصوصی پروفیسر گووردھن داس (رکن، نیتی آیوگ) نے بھی شرکائسے خطاب کیا، جس کے بعد جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر پروفیسر مظہر آصف نے صدارتی خطاب کیا۔
تقریب کے دوران ‘بہترین مقالے کے ایوارڈ’اور اسناد کی تقسیم کا سلسلہ بھی عمل میں آیا جس کا مقصد کانفرنس کے دوران پیش کی گئی نمایاں تحقیقی خدمات کا اعتراف کرنا تھا۔ ‘مجموعی طور پر بہترین کانفرنس پیپر’ کا ایوارڈ گریٹر نوئیڈا کی آئی آئی ایل ایم (IILM) یونیورسٹی کے ڈاکٹر بلال خان اور ڈاکٹر کیفی اعظم کو ان کے مقالے’ امپیکٹ آف جی ایس ٹی آن بینکنگ سیکٹر ڈولپمنٹ : ایویڈینس فرام اسٹیٹ لیول پینل ڈیٹا ان انڈیا‘کو  دیا گیا۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے صہیب بشیر اور ڈاکٹر محمد عاطف کو ان کے مقالے ’فرام اسپیکفک کول سیس ٹو ایڈ ویلوریم جی ایس ٹی: ایکزامننگ انڈیاز امپلی سٹ کاربن پرائس سگنل اینڈ فرم لیول امیشین انٹینسٹی‘ کو ‘دوسرے بہترین مقالے کا ایوارڈ’ دیا گیا۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شہباز احمد خان، ندیم خان اور ڈاکٹر محمد سعیم خان کو ان کے مقالے “GST and the Digital Economy: Examining Youth Digital Startup Intentions in India through Digital Readiness, Financial Literacy, and Entrepreneurial Motivation”  کے لیے تیسرے بہترین مقالے کا ایوارڈ’ دیا گیا۔
تقریب کا اختتام شریک کنوینر ڈاکٹر اظہار احمد کے کلماتِ تشکر اور اس کے بعد قومی ترانے پر ہوا۔
Continue Reading

دلی این سی آر

دہلی۔ این سی آر میں سی این جی آٹورکشا پرلگی گی پابندی

Published

on

نئی دہلی :دہلی کے بعد، این سی آر کے دیگر ہائی وہیکل ڈینسٹی (ایچ وی ڈی) اضلاع میں سی این جی آٹورکشا رجسٹریشن کو مرحلہ وار ختم کر دیا جائے گا۔ یکم جنوری 2027 سے دہلی میں سی این جی آٹورکشوں کی رجسٹریشن پر پابندی عائد کر دی جائے گی۔ ایک سال بعد، جنوری 2028 سے، ان کا رجسٹریشن NCR کے پانچ بڑے شہروں: نوئیڈا، غازی آباد، فرید آباد، گروگرام اور سونی پت میں بھی بند کر دیا جائے گا۔ جنوری 2029 سے باقی این سی آر اضلاع میں سی این جی آٹوز کا رجسٹریشن بند کر دیا جائے گا۔ وہاں صرف الیکٹرک آٹو رجسٹرڈ ہوں گے۔مئی میں کمیشن فار ایئر کوالٹی مینجمنٹ (CAQM) کے جاری کردہ ایک حکم کے بعد، دہلی حکومت نے اس پر عمل درآمد شروع کر دیا ہے۔ اپنی ای وی پالیسی 2.0 میں، دہلی حکومت نے 1 جنوری 2027 سے صرف ای آٹوز کے رجسٹریشن کا انتظام کیا ہے۔CAQM کے مطابق، نوئیڈا، غازی آباد، فرید آباد، گروگرام، اور سونی پت این سی آر میں گاڑیوں کی کثافت والے اضلاع ہیں۔ ان اضلاع میں سی این جی آٹوز کی ایک بڑی تعداد رجسٹرڈ ہے، جو زیادہ آلودگی میں معاون ہے۔ اس وجہ سے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔
CAQM کے مطابق، نئی گاڑیوں کی فروخت میں تین پہیوں کا حصہ تقریباً 2.2% ہے، لیکن وہ NCR میں PM-2.5 کے اخراج میں تقریباً 19% کا حصہ ڈالتے ہیں۔ 100% EV فلیٹ NCR میں PM-2.5 کے اخراج کو تقریباً 5.5 ٹن سالانہ کم کر سکتا ہے۔دریں اثنا، دہلی اور این سی آر کے ایچ وی ڈی اضلاع میں، 2027 سے صرف N1 زمرہ کی ہلکی الیکٹرک گاڑیوں (3500 کلوگرام سے کم وزن) کو مال بردار نقل و حمل کے لیے رجسٹریشن کی اجازت ہوگی۔
، اور دیگر تمام این سی آر اضلاع 2028 میں اس اصول کے تحت آئیں گے۔سی اے کیو ایم کے ممبر سکریٹری تنمے کمار پتھوڈے نے جمعرات کو کہا کہ یہ اس لیے کیا جا رہا ہے کیونکہ این سی آر کے دیگر اضلاع میں الیکٹرک گاڑیوں کے لیے بنیادی ڈھانچہ ابھی قائم ہونا باقی ہے۔ پٹھوڈ کا یہ بیان اس وقت آیا جب سی اے کیو ایم برائے قومی دارالحکومت علاقہ اور ملحقہ علاقوں نے بدھ کو دہلی-این سی آر میں فضائی آلودگی کو کم کرنے کی کوششوں کے ایک حصے کے طور پر سی این جی، پٹرول اور ڈیزل سے چلنے والی ہلکی کمرشل گاڑیوں (ایل جی بی) کی رجسٹریشن کو مرحلہ وار ختم کرنے کے منصوبے کو منظوری دی۔دہلی اور این سی آر کے زیادہ گاڑیوں کی کثافت والے اضلاع میں، 3,500 کلوگرام سے زیادہ اور 7,500 کلوگرام تک وزن کی LGB N-2 زمرے کی گاڑیوں پر پابندیاں 2028 سے لاگو ہوں گی۔ ان زیادہ گاڑیوں کی کثافت والے اضلاع میں گروگرام، فرید آباد، سونی پت، غازی آباد، اور ناگرم شامل ہیں۔ تاہم، این سی آر کے دیگر تمام اضلاع میں، سی این جی، پیٹرول اور ڈیزل سے چلنے والی N-2 زمرہ کی لائٹ گڈز گاڑیوں کی رجسٹریشن پر پابندی 2029 سے نافذ ہوگی۔

 

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network