Connect with us

دلی این سی آر

کانگریس نے دہلی میں 3 اور بڑی ضمانتوں کاکیا اعلان

Published

on

500 روپے میں ایل پی جی سلنڈر اور مفت راشن کٹ کے علاوہ 300 یونٹ بجلی بھی رہے گی مفت
نئی دہلی :آج کانگریس پارٹی نے دہلی اسمبلی انتخابات کے لیے 3 اور بڑی ضمانتوں کا اعلان کیا ہے۔ کانگریس نے کہا کہ اگر وہ 2025 میں دہلی میں اقتدار میں آتی ہے تو عوام کو مہنگائی سے نجات دلانے کے لیے 500 روپے میں ایل پی جی سلنڈر اور مفت راشن کٹ کے علاوہ 300 یونٹ بجلی بھی مفت دے گی۔اس سے پہلے کانگریس نے دہلی میں رہنے والے پوروانچل اور بہار کے لوگوں سے مہاکمبھ کی طرح چھٹھ مہاپروا منانے کا وعدہ کیا تھا۔ کانگریس نے وعدہ کیا ہے کہ عظیم چھٹھ تہوار کے لیے دہلی میں جمنا کے کنارے ایک جگہ مختص کی جائے گی اور اسے ضلع قرار دیا جائے گا۔ جمنا کے اس گھاٹ کا نام مرحوم کے نام پر رکھا گیا تھا۔ اس کا نام شاردا سنہا جی کے نام پر رکھا جائے گا۔ اس کے علاوہ یووا اڑان اسکیم کے تحت بے روزگار نوجوانوں کو ایک سال کی اپرنٹس شپ اور 8500 روپے ماہانہ دینے کا وعدہ کیا گیا ہے۔دہلی اسمبلی کی تمام 70 سیٹوں کے لیے انتخابات 5 فروری 2025 کو ایک ہی مرحلے میں ہونے والے ہیں اور ووٹوں کی گنتی 8 فروری کو ہوگی۔ کانگریس نے اب تمام 70 سیٹوں پر اپنے امیدواروں کے ناموں کا اعلان کر دیا ہے۔آپ کو بتا دیں کہ اروند کیجریوال کی قیادت والی عام آدمی پارٹی چوتھی بار اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی کانگریس پارٹی دہلی کے لوگوں کو شیلا دکشت کے دور حکومت میں کیے گئے کاموں کی یاد دلاتے ہوئے اپنا کھویا ہوا سیاسی میدان دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔قابل ذکر ہے کہ 2015 کے اسمبلی انتخابات میں پارٹی نے 70 میں سے 67 سیٹوں پر کامیابی حاصل کر کے زبردست جیت درج کی تھی۔ ساتھ ہی، 2020 کے اسمبلی انتخابات میں، پارٹی نے 70 میں سے 62 سیٹیں جیتی تھیں۔ بی جے پی کو 2015 میں صرف 3 اور 2020 میں صرف 8 سیٹوں پر قناعت کرنا پڑی۔ ان دونوں انتخابات میں کانگریس پارٹی دہلی میں اپنا کھاتہ بھی نہیں کھول سکی۔دہلی اسمبلی انتخابات کے سلسلہ میں کانگریس پارٹی نے ایک اور اہم اعلان کرتے ہوئے عوام سے بڑی سہولیات فراہم کرنے کا وعدہ کیا۔ پارٹی نے کہا کہ پارٹی کے اقتدار میں آنے پر عوام کو 500 روپے میں گیس سلنڈر، 300 یونٹ مفت بجلی اور مفت راشن کٹ دینے کا اعلان کیا۔ قبل ازیں، کانگریس پارٹی خواتین اور نوجوانوں کے لئے بھی اعلانات کر چکی ہے۔اس موقع پر دہلی کانگریس کے صدر دیویندر یادو نے کہا کہ خواتین پر مہنگائی کا شدید اثر ہوا ہے، جس کے پیش نظر ’مہنگائی مکتی یوجنا‘ متعارف کرائی گئی ہے۔ اس اسکیم کے تحت ہر خاندان کو مفت راشن کٹ دی جائے گی جس میں 5 کلو چاول، 2 کلو چینی، ایک لیٹر تیل، 6 کلو دال اور 250 گرام چائے کی پتی شامل ہوگی۔انہوں نے کہا کہ پچھلے دس برسوں میں مہنگائی نے غریب خاندانوں کی زندگی مشکل بنا دی ہے۔ یہ اقدامات خواتین کو گھریلو مسائل سے آزاد کر کے بچوں کی تعلیم اور خاندان کی ترقی پر توجہ مرکوز کرنے کا موقع فراہم کریں گے۔اس موقع پر تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی بھی موجود تھے۔ انہوں نے پریس کانفرنس میں وزیر اعلیٰ کیجریوال اور وزیر اعظم مودی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مودی اور کیجریوال میں کوئی فرق نہیں ہے، صرف نام کا فرق ہے۔ دہلی کو بہتر بنانا ہے تو کانگریس کی حکومت بنانا ضروری ہے۔کانگریس نے دعویٰ کیا کہ جہاں عام آدمی پارٹی 200 یونٹ مفت بجلی فراہم کرتی ہے، وہاں کانگریس 300 یونٹ بجلی مفت دے گی۔ اس موقع پر پردیش کانگریس انچارج قاضی نظام الدین اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

دلی این سی آر

ادبی چوپال فاؤنڈیشن، دہلی کے زیرِ اہتمام کل ہند مشاعرہ و تقریبِ اعزاز کا کامیاب انعقاد

Published

on

نئی دہلی: ادبی چوپال فاؤنڈیشن، دہلی کے زیرِ اہتمام 4 جولائی 2026، بروز ہفتہ، ایوانِ غالب نئی دہلی میں ایک شاندار کل ہند مشاعرہ و تقریبِ اعزاز کا انعقاد عمل میں آیا۔ اس باوقار ادبی تقریب میں ملک بھر سے تشریف لائے ممتاز شعراء، شاعرات، ادباء، دانشوران کے علاوہ محبانِ اُردو اور ادب نواز سامعین نے بڑی تعداد میں شرکت کرکے محفل کو یادگار بنایا۔اس عظیم الشان پروگرام کا اہتمام ادبی چوپال فاؤنڈیشن کے بانی و صدر، معروف و استاد شاعر خمار دہلوی اور ان کے شاگرد و فاؤنڈیشن کے جنرل سیکریٹری پنڈت پریم بریلوی نے کیا۔مشاعرے کے کنوینر کسی وجہ سے شریک نہ ہو سکے! اس موقع پر محبِ اُردو ڈاکٹر ظاہر خان، عبدالحق ، وارث صدیقی ، جاوید خان، استاد صاحب قوال اور ڈاکٹر سید اصدر علی خصوصی طور پر موجود رہے۔ تقریب کے مہمانانِ خصوصی میں قاضی نجم الاسلام نجم اور احترام صدیقی شامل تھے جبکہ معزز مہمانان میں ایڈمرل خرم نور، چاند خان چاند اور قاضی ظاہر بجنوری نے شرکت فرما کر تقریب کی رونق میں اضافہ کیا۔تقریب کا آغاز نہایت پروقار انداز میں ہوا۔ ادبی چوپال فاؤنڈیشن کے بانی و صدر خمار دہلوی، مشاعرے کے صدر ڈاکٹر سجاد سید اور دیگر معزز مہمانان و شعرائے کرام نے شمع روشن کرکے پروگرام کا باضابطہ افتتاح کیا۔ شمع روشن ہوتے ہی ایوانِ غالب کی فضا ادب، تہذیب اور شعری روایت کی خوشبو سے معطر ہو گئی۔اس کے بعد تقریبِ اعزاز منعقد ہوئی، جس میں اُردو ادب اور شاعری کی خدمات انجام دینے والی ممتاز شخصیات کو مختلف اعزازات سے نوازا گیا۔
استاد شمیم سردھنوی کو استاد داغ دہلوی ایوارڈ2026، او۔ پی۔ اگروال (سراج دہلوی) کو پنڈت گلزار دہلوی ایوارڈ2026،
اعجاز انصاری کو انور جلال پوری ایوارڈ2026، پیکر پانی پتی کو الطاف حسین حالی ایوارڈ2026، معید رہبر لکھنوی کو منور رانا ایوارڈ2026، تابش رامپوری کو ثاقب عظیم آبادی ایوارڈ2026 اور سلیم دریاپوری کو قیصرالجعفری ایوارڈ2026 سے سرفراز کیا گیا۔
تمام اعزاز یافتگان کی یکِ بعد دیگرے گل پوشی کر کے شال سے نوازہ گیا مزید یہ کہ توصیفی اسناد اور یادگاری مومنٹو پیش کر کے اُن کی ادبی خدمات کا اعتراف کیا گیا۔ اعزاز یافتہ شعراء و ادباء نے ادبی چوپال فاؤنڈیشن کی اس کاوش کو نہایت قابلِ ستائش قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے پروگرام نئی نسل کو ادب سے جوڑنے اور شعر و ادب کی روایت کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
تقریب کے دوران ایک خوشگوار اور جذباتی لمحہ اُس وقت آیا جب اسلم بیتاب، ایڈمرل خرم نور اور ہُما دہلوی نے استاد شاعر خمار دہلوی کو شال اوڑھاکر اور پھول مالا پہناکر کر اُن کی گراں قدر ادبی خدمات کا اعتراف کیا۔ حاضرین نے پُرزور تالیوں کے ساتھ اس منظر کا خیرمقدم کیا۔
تقریبِ اعزاز کے بعد کل ہند مشاعرے کا آغاز معروف ناظم و شاعر وسیم جھنجھانوی نے نعتِ پاک سے کیا۔ اُن کی پُرسوز آواز اور عقیدت سے بھرپور کلام نے سامعین کے دلوں کو منور کر دیا۔اس کے بعد رات گئے تک جاری رہنے والے اس مشاعرے میں ملک کے نامور شعراء نے اپنے بہترین کلام سے سامعین کو محظوظ کیا۔ مشاعرے میں استاد شمیم سردھنوی، خمار دہلوی، ڈاکٹر سجاد سید، اعجاز انصاری، پیکر پانی پتی، تابش رامپوری، معید رہبر لکھنوی، سلیم دریاپوری، چاند خان چاند، سہیل فاروقی، خرم نور، پنڈت پریم بریلوی، اسلم بیتاب، جاوید عباسی، شکیل خان ساگر، قاضی ظاہر بجنوری، علامہ کمال حفیظی، حامد علی اختر، نعیم بدایونی، قاضی نجم الاسلام نجم، کامل راز دہلوی، سنجے گھائلِ اویس رائن سیہور، وسیم جھنجھانوی، احترام صدیقی، سریندر صفر، گولڈی غضب، اختر گورکھپوریِ عرشمان انصاری عرش، عاصم فراز انصاری، ہُما دہلوی اور طوبیٰ فراز انصاری سمیت متعدد شعرائے کرام نے اپنا منتخب کلام پیش کیا۔
محبت، انسانیت، قومی یکجہتی، سماجی اقدار، بھائی چارے اور انسانی احساسات پر مبنی اشعار نے سامعین سے خوب داد وصول کی۔ جگہ جگہ “واہ واہ”، “مکرر ارشاد” اور تالیوں کی گونج سے ایوانِ غالب کی فضا بار بار معطر ہوتی رہی۔
مشاعرے میں شریک تمام شعرائے کرام و شاعرات کی خدمت میں بھی پھول مالا، سپاس نامہ اور شال پیش کرکے سبھی کو اعزاز سے نوازا گیا۔
یہ تقریب شام 6 بجے شروع ہوئی اور مسلسل رات 10 بجے تک جاری رہی۔ پروگرام کی صدارت ڈاکٹر سجاد سید نے فرمائی، جبکہ معروف شاعر و ناظم اسلم بیتاب نے نہایت شائستگی، خوش اسلوبی اور برجستگی کے ساتھ نظامت کے فرائض انجام دئے، جسے حاضرین نے بے حد سراہا۔
اختتامی کلمات میں خمار دہلوی نے کہا کہ اردو اور ہندی ہماری مشترکہ تہذیبی وراثت کی دو خوبصورت زبانیں ہیں جو ادب محبت، اخوت اور انسانیت کا سب سے مؤثر ذریعہ ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ادبی چوپال فاؤنڈیشن آئندہ بھی ایسے معیاری ادبی پروگرام منعقد کرتی رہے گی تاکہ نئی نسل کو ادب سے جوڑا جا سکے اور اردو و ہندی کی مشترکہ ادبی روایت کو مزید فروغ ملے۔
یہ کل ہند مشاعرہ و تقریبِ اعزازات ہر لحاظ سے کامیاب اور یادگار ثابت ہوئی۔ ایوانِ غالب میں منعقد ہونے والی اس ادبی محفل کی خوشگوار یادیں حاضرین کے دلوں میں دیر تک محفوظ رہینگی اور ادب دوست حلقوں میں اسے ایک اہم اور تاریخی ادبی تقریب کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔
​مشاعرہ میں پیش کردہ اشعار:-
​بُغض و نفرت ہی جن کا شیوہ ہے
وہ کبھی نہیں ملتے، ہم نشیں محبت سے۔
— استاد شمیم سر دھنوی
​تیرگی حکمراں ہوئی جب سے
روشنی منہ چھپائے بیٹھی ہے!
— خمار دہلوی
​تمہارے ہاتھ کا پتھر کوئی نیا تو نہیں
جبیں سے سنگ کا رشتہ بہت پرانا ہے!
— ڈاکٹر سجاد سید
​دشمن کی صف میں بھائی تھا تلوار پھینک دی
لیکن یہ جنگ ہار کے ہارا نہیں ہوں میں!
— اعجاز انصاری
پھر اسی محفل میں لیکر آئی ہے قسمت مجھے
کل جہاں “پیکر” ہوئی تھی اپنی رسوائی بہت
پیکر پانی پتی
​پروازِ تخیل ہے اگر اوجِ فلک پر
گہرے ہیں سمندر سے خیالات ہمارے۔
— تابش رامپوری
​میری منزل کہاں ہے یہ نہیں معلوم ہے لیکن
میں ان سے ہٹ کے چلتا ہوں، جو رستے عام رہتے ہیں۔
— معید رہبر لکھنوی
​جھوٹوں نے اقتدار کا گلشن بنا لیا
قبضہ کیا زمین پہ، آنگن ہتھا لیا!
سلیم دریابادی
​ایسے ایسے بھی شبِ ہجر کے مارے دیکھے
رات آنکھوں میں کٹی، دن میں ستارے دیکھے۔
چاند خاں چاند
​آج کے سامنے آتا نہیں کل کا چہرہ
بدلا بدلا نظر آتا ہے غزل کا چہرہ۔
— سہیل فاروقی
​دوستی، پیار، تعلیم اور شاعری
یہ روایت رہی خاندانی میری۔
— ایڈمرل خرم نور
​کاریگری کمال ہے تیری میرے خدا
ظاہر ہوئے بغیر ہی کیا کیا بنا دیا۔
— پنڈت پریم بریلوی

​مجھ کو منزل نہیں ملی ‘اسلم’
میں نے کانٹوں پہ چل کے دیکھ لیا۔
— اسلم بیتاب

​آپ کے گلشن میں دلکشی ہی نہیں
کیسے کہہ دوں بہار آئی ہے۔
— جاوید عباسی
​کچھ رشتے اس بہانے ابھی بے قرار ہیں
کبھی شادیوں میں، آ گئے کبھی انتقال میں!
— قاضی ظاہر بجنوری
​ہر آدمی سے سخن کی نہ پوچھئے باتیں
ہر ایک شہر میں حضرتِ کمال تھوڑی ہے!
علامہ کمال حفیظی
​جب دعاؤں کے لیے ہاتھ اٹھائے ہم نے
نقش تیرے ہی تصور میں سجائے ہم نے!
حامد علی اختر
​آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے اچھا نہیں کیا
دل لے گئے نکال کے اچھا نہیں کیا!
— نعیم بدایونی
​دامنِ شب سے جو خوابوں کے پرندے نکلے
اڑ گئے صبح کو جینے کے معنی دے کر۔
— قاضی نجم اسلام نجم
​خود ہی برباد ہوا بیٹھا ہوں دل کے ہاتھوں
میں کسی اور پہ الزام لگاؤں کیسے۔
محمد کامل راز دہلوی
​اے اردو زباں تجھ پہ بہت ناز ہے مجھ کو
باریکیءِ تہذیب کا انداز ہے مجھ کو!
سنجے گھائل
​احسان دشمنوں پہ ہمارا ہے دوستو
ہم نے تو دوستوں کو بھی مارا ہے دوستو۔
— احترام صدیقی
​شکوہ گلہ نہ کوئی شکایت کیا کرو
چھوٹی سی زندگی ہے محبت کیا کرو۔
— وسیم جھنجھانوی
​گاؤں خالی ہو رہے ہیں شہر کے چکر میں
راہ بھولیں کشتیاں لہر کے چکر میں!
— سریندر سُفر
​سفر میں ساتھ چلنے کا ارادہ چھوڑ دیتے ہیں
ہم ایسے راہگیروں سے ہی ناطہ چھوڑ دیتے ہیں۔
— گولڈی غضب
​امیر لوگ ہیں دل سے کہاں لگاتے ہیں
غریب پیار کی میت اٹھائے پھرتا ہے!
— اختر گورکھپوری

​سورج، چاند، ستارے ہیں، جیون کا اجیارا ہے
‘عرش ترنگے کا سمان ہم کو جان سے پیارا ہے!
عرشمان انصاری عرش

​ہم بچے کس کام کے ہیں، موبائل کے نام کے ہیں
مسجد سے اسکول تلک، چرچے میرے نام کے ہیں۔
عاصم فراز انصاری
​یہ محبت بھی کیا مصیبت ہے
لمحہ لمحہ عجب اذیّت ہے!
— ہما دہلوی
​دہلی والوں کے دل کو بھاتا کیا
نام اس کا لبوں پر آتا کیا
طوبیٰ فراز انصاری
​سفِ سامعین میں بیٹھ کر جن دوستو نے محفل کے معیارو تمدن میں اضافہ کیا ان کے اسماءِ گرامی:-
​ڈاکٹر ظاہر خان، عبدالحق، وارث صدیقی، جاوید خاں، حاجی زبیر احمد، محمد افسر رائین سیہور، استاد قوال، ممتاز احمد (آر.این.آئی)، نیل سنیل، شاعر حالاتی، اکرام الدین انصاری، محمد سرفراز، محمد شہباز، حافظ انعام الحق، حاجی اسرار قریشی، محمد آہل انصاری، سمرین جہاں، شاکرہ خاتون، رفعت انجم انصاری، ثنا انجم انصاری، اریزہ انصاری اور ان کے علاوہ بھی کثیر تعداد میں سامعین نے تقریب کی رونق بڑھائی۔

Continue Reading

دلی این سی آر

دہلی سے باہرگئے لوگ بھر سکتے ہیںSIRکی آن لائن فارم

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی:راجدھانی میں ووٹر لسٹ کی اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کے دوران گنتی فارم داخل کرنے کی آخری تاریخ صرف 29 جولائی تک ہے۔ اس ٹائم فریم کے اندر فارم بھرنے اور جمع کرانے میں ناکامی کا نتیجہ ووٹر لسٹ سے حذف ہو سکتا ہے۔ لہذا، آپ اس فارم کو آن لائن بھر سکتے ہیں۔
دہلی میں بڑی تعداد میں لوگ رہتے ہیں جن کے بچے بیرون ملک کام کر رہے ہیں۔ گرمیوں کے موسم میں والدین اکثر چند مہینوں کے لیے اپنے گھر جاتے ہیں۔ ایسے لوگ بیرون ملک سے آن لائن گنتی فارم پُر اور جمع کروا سکتے ہیں۔ ان کی بنیاد پر، BLOs بعد میں ان کی تصدیق کر سکیں گے۔تمام BLOs کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ SIR کے دوران اہل ووٹرز کے نام انتخابی فہرستوں سے حذف نہ ہوں۔ دہلی کے چیف الیکٹورل آفیسر کے دفتر کے مطابق، اگر کوئی گھر بند پایا جاتا ہے، تو بی ایل او چند دنوں کے وقفے سے تین بار گھر جائیں گے اور گنتی کے فارم جمع کرکے جمع کریں گے۔
اس کے بعد بھی گھر پر کوئی نہ ملا تو شفٹنگ رپورٹ تیار کی جائے گی۔ چیف الیکٹورل آفیسر کے دفتر کا کہنا ہے کہ ایسے لوگوں کی سہولت کے لیے آن لائن گنتی فارم بھرنے کا انتظام کیا گیا ہے۔ لوگ سی ای او دہلی کی ویب سائٹ پر جا کر اس فارم کو پُر کر سکتے ہیں اور اپنی تازہ ترین تصویر اپ لوڈ کر کے جمع کر سکتے ہیں۔ آن لائن فراہم کردہ معلومات کی تصدیق کے لیے BLOs ان کے گھر جائیں گے۔ ووٹر سے ملاقات کے بعد ان کی تصدیق مکمل ہو جائے گی اور ان کا نام ووٹر لسٹ میں شامل کر دیا جائے گا۔
دہلی میں بڑی تعداد میں ایسے لوگ ہیں جنہوں نے 2025 میں ووٹر لسٹ تیار ہونے کے بعد اپنے مکانات بیچ کر دارالحکومت کے دوسرے علاقوں میں چلے گئے۔ انہوں نے ووٹر لسٹ میں اپنے پتے تبدیل نہیں کیے ہیں۔ ایسے لوگوں کی تصدیق ان کے پرانے پتوں پر ممکن نہیں ہوگی، اور BLO انہیں شفٹنگ” کے زمرے میں شامل کرے گا۔ چونکہ وہ ابھی تک نئے علاقے میں ووٹر نہیں بنے ہیں، اس لیے بی ایل او کے پاس تفصیلات نہیں ہوں گی۔
چیف الیکٹورل آفیسر کے دفتر کے مطابق اگر ایسے لوگ آن لائن گنتی فارم بھر کر جمع کراتے ہیں تو بھی بی ایل او ان کی تصدیق نہیں کر سکے گا۔ ایسی صورت میں ان کا نام ووٹر لسٹ سے حذف کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، وہ ایس آئی آر کے بعد بھی اپنا نام نئے سرے سے ووٹر لسٹ میں شامل کر سکیں گے۔ درخواستیں بعد میں آن لائن اور آف لائن دی جا سکتی ہیں۔
دہلی کے چیف الیکٹورل آفیسر (سی ای او) کے دفتر سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق، 30 جون کو شروع ہونے والی اور 29 جولائی کو ختم ہونے والی اس ماہ طویل ایس آئی آر مہم کے دوران، 13,000 سے زیادہ بوتھ لیول افسران (بی ایل او) راجدھانی کے تمام 70 اسمبلی حلقوں میں ووٹروں کو گنتی کے فارم تقسیم کریں گے۔
SIR کے دوران، BLO ہر ووٹر کو گنتی کے فارم کی دو کاپیاں دیں گے، جو 2002 میں کیے گئے سابقہ ​​SIR کی بنیاد پر اپنی معلومات پُر کریں گے۔ ایک کاپی ووٹر کے پاس بطور رسید رہے گی، جبکہ دوسری کاپی BLO کو واپس کرنی ہوگی۔ فارم کے ساتھ کوئی دستاویزات جمع کرانے کی ضرورت نہیں ہے۔
عہدیداروں نے بتایا کہ بی ایل اوز کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ صبح سویرے اور شام کے وقت گھر گھر جاکر تصدیق کریں۔ یہ مہم ہفتہ اور اتوار کو بھی چلائی جائے گی۔7 اکتوبر کو جاری ہونے والی حتمی ووٹر لسٹ میں شامل ہونے کے لیے ہر ووٹر کو یہ گنتی فارم پُر کرنا چاہیے۔ سی ای او کے دفتر کے مطابق جو لوگ ایس آئی آر فارم نہیں بھریں گے انہیں 5 اگست کو جاری ہونے والی ڈرافٹ ووٹر لسٹ سے نکال دیا جائے گا۔دہلی میں کل 1.45 کروڑ ووٹر ہیں جن میں 77.11 لاکھ مرد اور 67.98 لاکھ خواتین ووٹر شامل ہیں۔ تیسری جنس کے ووٹرز کی تعداد 1,024 ہے جب کہ معذور ووٹرز کی تعداد 76,155 ہے۔اگر گھر گھر سروے کے دوران کوئی گھر بند پایا جاتا ہے تو متعلقہ BLO کم از کم تین بار وہاں جائے گا۔ اگر کوئی ووٹر 2002 کے بعد دہلی میں آباد ہوا ہے، تو انہیں اپنی اصل حالت میں سابقہ ​​SIR کی تفصیلات بھی شامل کرنی ہوں گی، جہاں وہ پہلے ووٹر کے طور پر رجسٹرڈ تھے۔ تمام ریاستوں کی ووٹر لسٹیں الیکشن کمیشن کے پورٹل پر دستیاب ہیں۔راجدھانی میں 13,033 پولنگ اسٹیشن ہیں، جو سات لوک سبھا حلقوں اور 70 اسمبلی حلقوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ SIR فارم داخل کرنے کی آخری تاریخ 29 جولائی ہے۔

 

Continue Reading

دلی این سی آر

غیر قانونی ہفتہ وار بازاروں کے خلاف بلڈوزر کارروائی شروع

Published

on

فرید آبادـ:فرید آباد شہر میں غیر قانونی کالونیوں کے خلاف کارروائی کرنے کے بعد فرید آباد میونسپل کارپوریشن نے اب غیر قانونی ہفتہ بازاروں کے خلاف بلڈوزر مہم شروع کر دی ہے۔ مہم ہفتے کو جواہر کالونی میں شروع ہوئی، جہاں چھ سال سے کام کرنے والے شانی بازار کے عارضی ڈھانچے کو بلڈوزر کے ذریعے مسمار کر دیا گیا، جس سے مارکیٹ کو کام کرنے سے روک دیا گیا۔کارپوریشن کے عہدیداروں نے عندیہ دیا ہے کہ اسی طرح شہر کے دیگر غیر قانونی ہفتہ بازاروں کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائے گی۔ ہفتہ کی صبح تقریباً 7 بجے میونسپل کارپوریشن کا ڈیمالیشن اسکواڈ بلڈوزر اور پولیس فورس کے ساتھ جواہر کالونی پہنچا۔
نین چوک سے 60 فٹ روڈ تک تقریباً 1.25 کلومیٹر کے فاصلے پر سڑک کے کنارے کھڑی لکڑی کے تختے، گاڑیاں اور دیگر عارضی ڈھانچے کو ہٹا دیا گیا۔ یہ کارروائی دوپہر ایک بجے تک جاری رہی۔ پاروتیہ کالونی تھانے کی پولیس پوری جگہ پر موجود رہی۔ کچھ لوگوں نے احتجاج کیا لیکن کارروائی نہ ہونے کے برابر رہی۔کارپوریشن حکام نے واضح کیا کہ کوئی مستقل دکانیں نہیں گرائی گئیں۔ ہر ہفتے ہفتہ بازار کے لیے کھڑی کی جانے والی صرف عارضی تجاوزات کو ہٹایا گیا جس سے سڑک کو مکمل طور پر تجاوزات سے پاک رکھا گیا۔ جواہر کالونی میں ہفتہ وار بازار ہر ہفتہ کو صبح 10 بجے سے دوپہر 2 بجے تک لگایا جاتا تھا۔
سڑک کے دونوں طرف رکھی سینکڑوں گاڑیوں اور ہینڈ کارٹس نے پوری سڑک کو تنگ کر دیا۔ خریداری کے لیے آنے والے لوگوں کی بڑی تعداد نے گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں جس سے بعض اوقات پیدل چلنا بھی مشکل ہو گیا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ٹریفک جام کی وجہ سے ایمبولینس اور دیگر ضروری گاڑیوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ منڈی کو ہٹانے کی شکایات کافی عرصے سے میونسپل کارپوریشن اور انتظامیہ تک پہنچ رہی تھیں۔
میونسپل کارپوریشن حکام کے مطابق جواہر کالونی میں کارروائی صرف شروعات ہے۔ اب ان تمام مقامات کا سروے کیا جا رہا ہے جہاں بغیر اجازت ہفتہ وار بازار لگائے جا رہے ہیں۔ پہلے مرحلے میں ٹریفک کی روانی میں خلل ڈالنے والی یا امن و امان کے مسائل پیدا کرنے والے بازاروں کو ہٹا دیا جائے گا۔
میونسپل کارپوریشن اپنی تجاوزات ہٹانے کی مہم کو مسلسل تیز کر رہی ہے۔ مئی میں بلڈوزر آپریشن صبح 2 بجے شروع ہوا۔ حال ہی میں، سینک کالونی کے سامنے گروگرام موڑ کے قریب اراولی علاقے میں ایک غیر قانونی کالونی کو مسمار کرنے کے لیے تین دن تک بلڈوزر کا استعمال کیا گیا۔ باپو میں سرکاری اراضی سے تجاوزات ہٹانے کی تیاریاں جاری ہیں۔میونسپل کارپوریشن کے ایس ڈی او کرتار دلال نے کہا، “سرکاری اراضی اور عوامی سڑکوں پر کسی بھی قسم کی تجاوزات کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ این آئی ٹی ایریا میں کئی دیگر مقامات سے بھی غیر قانونی ہفتہ بازاروں کی شکایات موصول ہوئی ہیں۔ ان تمام مقامات پر جلد کارروائی کی جائے گی۔”

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network