محاسبہ
اسی سیاہ سمندر سے نور نکلے گا
ملک ایسی خطرناک صورتحال سے دوچار ہے۔ اب لگتاہے کہ جمہوریت ، سیکولرزم اور قانون کا سرپرست سمجھے جانے والا عدلیہ بھی حکومت نوازوں کی فہرست میں شامل ہوچکا ہے۔ حکومت کے خلاف آواز اٹھانے والے جو حکومت وقت کی نظر میں باغی ہیں وہ عدلیہ کی نگاہ میں بھی قابل تعزیر سمجھے جارہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ملک کے تمام آئینی ادارے اب حکومت کے مطیع وفرمانبردار ہوگئے ہیں۔ لیکن ستم تو یہ ہے کہ جب سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ہی ایسی زبان استعمال کرنے لگے تو سمجھا جاسکتا ہے کہ ایسے دور میں انصاف مل سکے گا؟۔ کیا ایسے دور میں عدالت سے عدل کی توقع کی جاسکتی ہے؟۔
واضح ہو کہ گزشتہ دنوں ایک معاملے میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اس قدر بھڑک گئے کہ انھوں نے اس ملک کے نوجوانوں کو کاکروچ سےتعبیر کردیا ۔ موصوف نے کہا کہ یہ بے روزگار نوجوان آگے چل کر میڈیا ، سوشل میڈیا اور آرٹی آئی کا رکن بن جاتے ہیں۔ پھر نظام پر حملہ کرنے لگتے ہیں۔ سماج میں ایسے پیراسائڈس موجود ہیں جو نظام پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ چیف جسٹس کا بے روزگار نوجوانوں پربڑااثر ہوااور اتنے تلخ تبصرہ کو نئی نسل نے ایسا دل پرلیا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کاکروچ جنتا پارٹی وجود میں آگئی۔ صرف پانچ دنوں کے اندر انسٹا گرام میں اس کے ایک کروڑ اسی لاکھ فالوورس ہوگئے۔ 4لاکھ سے زائد افراد اس پلیٹ فارم سے باقاعدہ منسلک ہوگئے۔ ان میں 70فیصد فالوورس 19سال سے لیکر 25سال کے درمیان ہیں۔ بے روزگار نوجوانوں پر کاکروچ کا ویڈیو وائرل ہونے کے بعدجو ردعمل ہوا وہ کروڑوں فالووزکی ناراضگی کا ایک نیا منظرنامہ ہے۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ چوٹالہ کی پارٹی کے ایم ایل اے ارون چوٹالہ اور مؤسے ایم ایل اے عباس انصاری نے باقاعدہ کاکروچ جنتا پارٹی سے الیکشن لڑنے کا اعلان کیا ہے۔ رویش کمار، ابھیسار شرما ، سوربھ شکلا اور اجیت انجم جیسے ایماندار صحافی بھی اب پوری طرح سے CTPکاسوشل میڈیا پلیٹ فارم کی حمایت کررہے ہیں۔ حالانکہ اس کے بانی ابھیجیت نے کہا ہے کہ ابھی ہم حالات کاجائزہ لے رہے ہیں کہ اسے پارٹی بنایا جاسکتا ہے یا نہیں کیونکہ جس طرح نوجوانوں نے ساتھ دیا ہے وہ یقینا ملک کے حالات سے متاثر ہونے کا ردعمل ہے۔ سوال تو یہ ہیکہ کیا عدلیہ بھی نئی نسل کی نظر میں اپنا اعتبار کھو چکی ہے۔ کہ اب اس کے تبصروں اور فیصلوں پر کھلے عام تنقید کی جارہی ہے۔ وقت کا یہ بھی بڑا المیہ ہے کہ سپریم کورٹ میں عمرخالد ، شرجیل امام جو برسوں سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں ان کی ضمانت نہیں ہورہی ہے۔ اور اس ضمانت پر خود سپریم کورٹ نے خود اپنے ہی فیصلے پر تلخ تبصرہ کیاہے جو عدلیہ کی معتبریت اور کارکردگی پر سوال کھڑا کرتاہے۔
غورطلب ہے کہ 18مئی کو عمر خالد اور شرجیل امام کو ضمانت نہیں دیئے جانے پر سپریم کورٹ نے سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ منشیات اور دہشت گردی معاملے میں اندرا بی کو تین رکنی بنچ نے ضمانت تو دے دی مگر دو رکنی بنچ نے عمر خالد اور شرجیل امام کو ضمانت دینے کے معاملے میں اس اصول پر عمل نہیں کیا۔ اپنے سخت تبصرے مین جسٹس ناگ رتنا اور جسٹس بھوئیاں کی بنچ نے شرجیل امام کو ضمانت نہ دینے والی دوسری بنچ کے فیصلے پر سخت اختلاف بھی کیا۔ جسٹس بھوئیاں نے کہا کہ چھوٹی بنچ بڑی بنچ کی وضع کردہ قانون کی پابند ہوتی ہے۔ مگر یہاں ایسا نہیں ہوا۔ سوال تو یہ ہے کہ کیا سپریم کورٹ بھی دو خانوں میں بنٹا ہوا ہے۔ ایک حکومت کے ابروئے ہدایت کا مطیع وفرمانبردار ہے تو دوسرا قانون کی تابعداری کا دعویٰ کررہا ہے۔
غورطلب ہے کہ آئین کی دفعہ 21ملک کے شہریوں کو ان کے سب سے اہم حقوق فراہم کرتا ہے۔ اور پروقار زندگی اور ذاتی آزادی کا بھی اختیار دے رہا ہے۔ اس کے تحفظ کے لئے سپریم کورٹ نے وقتافوقتا کئی اہم فیصلے کئے ہیں۔ مگر بعض معاملے ایسے ہورہے ہیں جن پر سوال اٹھنا لازمی ہے۔ سپریم کورٹ نے عمر خالد اور شرجیل امام کے معاملے میں عدالتی کارروائی پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان دونوں پر الزام ہے کہ شہریت ترمیمی قانون یعنی سی اے اے اور این آر سی کے خلاف 2020میں دہلی میں ہوئے فساد کو بھڑکانے کی انہوںنے سازش کی تھی۔ اس سال جنوری میں سپریم کورٹ نے اسی فسا د معاملے میں پانچ ملزمین کو ضمانت تو دے دی لیکن عمر خالد اور شرجیل امام کی عرضی یہ کہتے ہوئے خارج کردی گئی کہ دونوں کا رول الگ الگ ہے۔ لیکن 18مئی کو سپریم کورٹ کے تلخ تبصرے سے خود عدل وقانون پر سوال کھڑا ہوگیا ہے۔
حیرت کی بات تو یہ ہے کہ سپریم کورٹ کے اس تبصرے کے باوجود دہلی کی ایک عدالت نے عمر خالد کی ضمانت عرضی پھر خارج کردی حالانکہ جسٹس ناگ رتنا اور جسٹس بھوئیاں کی بنچ نے جو تلخ تبصرہ کیا ہے وہ قانونی فکرونظر سے زیادہ آئین سے منسلک سوال ہے۔ آئین وقانون کی نظر میں ذاتی آزادی سب سے اوپر ہے۔ اور یواے پی اے جیسے سخت قانون اس پر حاوی نہیں ہوسکتے۔ بلاشبہ قومی سیکورٹی سے جڑے سنگین معاملات میں اضافی فکرونظر کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن آئین کے ذریعہ دیے گئے بنیادی حقوق کوبھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ آج ملک کی مختلف عدالتوں میں ساڑھے پانچ کروڑ سے زیادہ کیسزالتوا میں ہیں۔ خود سپریم کور ٹ میں 93ہزار سے زیادہ کیسز ہیں۔ایسے حالات میں 2021میں نجیب معاملے میں بے حد اہم فیصلہ ہوتا ہے کہ اگر مقدمہ حد درجہ تاخیر ہورہی ہیں۔اور ملزم طویل عرصے سے جیل میں ہے تو اسے ضمانت دی جاسکتی ہے۔ عمر خالد اور شرجیل امام کے معاملے میں سپریم کورٹ نے واضح کیا ہے کہ نجیب معاملے کا فیصلہ مثال ہے۔ اور اسے سپریم کورٹ کی بڑی بنچ میں ہی چیلنج کیا جاسکتا ہے۔ بہرحال آج ملک عجیب وغریب بحران سے دو چار ہے۔ جن میں معیشت کی زبوں حالی کے ساتھ نوجوانوں میں بھی بے چینی پیداہورہی ہے ۔ ایسے میں کاکروچ جنتا پارٹی کا انسٹاگرام پر وجود میں آنا اور صرف پانچ دنوں میں کروڑوں کا فالوورس کا پہنچ جانا نئی نسل کی بے چینی کا اظہاریہ ہے۔ گرچہ اس پر حکومت کی جانب سے پابندی لگا دی گئی ہے۔ مگر اس کے باوجود کاکروچ جنتا پارٹی کی حمایت کا سلسلہ بڑھتا ہی جارہا ہے۔ کیا یہ حمایت کسی نئے انقلاب کا اشارہ ہے۔ بقول شاعر
مرے جنوں کا نتیجہ ضرور نکلے گا
اسی سیاہ سمندر سے نور نکلے گا
محاسبہ
جالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
(پی این این)
جالے:دربھنگہ ضلع کے جالے نگر پریشد کے جنرل بورڈ کی بیٹھک ایک بار پھر غیر یقینی کا شکار ہو گئی جب 25 میں سے 22 اراکین نے اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔ اجلاس کا مقصد بجٹ کی منظوری، صفائی کے انتظامات اور دیگر ترقیاتی منصوبوں پر بحث کرنا تھا، لیکن اراکین کی عدم موجودگی کے سبب کوئی فیصلہ نہ ہو سکا۔بائیکاٹ کرنے والے اراکین نے الزام لگایا کہ نگر پریشد کے ایگز کیوٹیو افسر اجئے کمار، میئر پنٹو کمار مہتھا،نائب میئر شمشاد خان اور اسٹینڈنگ کمیٹی کے اراکین کی منمانی اور ملی بھگت سے کام کئے جارہے ہیں۔دیگر اراکین سے کوئی مشورے نہیں لئے جاتے اور ان کے کاموں کو یکسر نظر انداز کیا جارہا ہے جس کا نتیجہ ہے کہ گزشتہ 15 مہینوں سے نگر پریشد میں کوئی ترقیاتی کام انجام نہیں دیا جا رہا ہے۔ سڑکوں کی خستہ حالت، صفائی کے ناقص انتظامات اور عوامی فلاح کے منصوبے تعطل کا شکار ہیں۔ اس کے باوجود انتظامیہ کی جانب سے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے۔
بائیکاٹ کرنے والوں میں ویبھا دیوی، چندا کماری، سیما دیوی، رحیمہ خاتون، راہل کمار داس، کلیا دیوی، گننی خاتون، محمد افتخار، اروند پرساد ورما، قمر علی، محمد ممتاز حسین، سلطانہ خاتون، محمد جمیل اختر، چندن کمار،مرزا آرزو بیگ، جمیس قریشی، کہکشاں پروین، سبودھ منڈل، چنچل کماری، ایمامن خاتون،راگنی کماری، لاڈلی خاتون وغیرہ شامل ہیں۔ان اراکین نے نگر پنچایت کے صفائی کمیٹی کی کارکردگی پر بھی سخت سوال اٹھائے گئے۔ مقامی ایجنسی کے ذریعے صفائی کا کام پچھلے دو مہینوں سے بند ہے، جس کی وجہ سے علاقے میں گندگی کا انبار لگ گیا ہے۔ عوامی شکایات کے باوجود کوئی حل پیش نہیں کیا جا سکا۔اجلاس کے بعد نگر پریشد کے میئر پنٹو کمار مہتھا اور نائب میئر شمشاد خان نے کہا کہ اراکین کے بائیکاٹ پر انہیں افسوس ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ صفائی کے نظام کو فوری طور پر درست کیا جائے گا اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے بجٹ کی منظوری کے سلسلے میں جلد نیا اجلاس بلایا جائے گا۔
غور طلب ہو کہ جالے نگر پریشد میں مسلسل تعطل اور غیر حاضری سے عوامی مسائل حل ہونے کی بجائے بڑھتے جا رہے ہیں۔ مقامی شہریوں نے اراکین اور انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ وہ ذاتی اختلافات سے بالاتر ہو کر عوام کے مسائل کے حل کے لیے متحد ہو جائیں۔پوچھے جانے پر ایگز کیوٹیو افسر اجئے کمار نے بتایا کہ وہ میٹنگ میں لئے جانے والے تجویز کے مطابق نگر پریشد حلقے کی ترقی کے لئے کام کررہے ہیں۔ان پر منحرف گروپ کے ذریعہ لگایا جارہا الزام بے بنیاد ہے۔
محاسبہ
بیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
سیوہارہ بجنور : بزم سخن سیوہارہ الہند بیاد گار ) ہلال و دل سیوہاروی( کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ سر زمین سیوہارہ کے محلہ ملکیان میں بڑی سنجیدگی اور کامیابی کے ساتھ منعقد ہوا پروگرام سے نو جوانوں کو اردو کے لیے ایک سنگِ ملا پروگرام کی صدارت کی ڈاکٹر یاسین ذکی سرکڑہ نے سر پرستی رہی مفتی امتیاز احمد قاسمی جامع مسجد سیوہارہ کی اور نظامت کے فرائض مفتی کفیل اطہر سیوہاروی)نواسۂ محترم، دل سیوہاروی(نے انجام دیئے۔
مہمان شعرائ میں ہیومن آزاد رام پور سے تشریف لائے افضال نجیب آبادی چاند پور سے قاری راشد حمیدی ،قاری نوشاد عالم شاد علیگ ، ڈاکٹر نزاکت حسین ثاقب اور قاری عبد القادر حسرت حبیب والا دھام پور سے تشریف لائے حکیم اسرار الحق نور پور سے مفتی فیضان عادل اور ڈاکٹر تہذیب ابرار میوہ نوادہ سے تشریف لائے تھے مقامی شعرائ میں ماہر سیوہاروی، نثار منظر سیوہاروی زادۂ عاصی سیوہاروی گوہر ہلال سیوہاروی زادہ شاعرِ آفاق ہلال سیوہاروی ، یونس نوید ، مولانا محمد رضوان قاسمی، شمیم احمد صوفی ، اور ریحان سیوہاروی نے اپنے کلام سے نوازا جبکہ سامعین میں مولانا محمد سالم سیوہاروی، حافظ عثمان، حاجی نسیم، حاجی شکیل، حافظ محمد احمد، رنکو بھائی، محبوب عالم اور ان کے علاوہ کافی تعداد میں شہر سیوہارہ کے با ذوق حضرات موجود رہیں شعرائ نے بہت بہت اچھے کلام پیش کئے اور سامعین بے حد محظوظ ہوئے اور تہذیب کو باقی رکھنے کے لیے اردو کے تحفظ کی ذمہ داری لیکر اٹھے بزم سخن سیوہارہ الہند کے تحت انتالیس مشاعرے ہو چکے ہیں اور چالیسواں مشاعرہ ان شائ اللہ 26/ دسمبر 2024ئ کو منعقد ہوگا۔
محاسبہ
ایک درجن سے زائد ٹیوب ویلوں سے موٹر چوری
دیوبند:دیوبند میں نامعلوم چوروں نے بے خوف ہوکر ایک درجن سے زائد کسانوں کے ٹیوب ویلوں سے موٹر اور دوسرا قیمتی سامان چوری کرلیا۔ متأثرہ کسانوں نے کوتوالی پہنچ کر چوری کی وارداتوں پر قدغن لگانے ، چوروں کو گرفتار کرنے اور چوری ہوئے سامان کو برآمد کرانے کا مطالبہ کیا۔
تفصیل کے مطابق نامعلوم چوروں نے گزشتہ دنوں 16سے زائد ٹیوب ویلوں کو اپنا نشانہ بنایا اور وہاں سے بجلی کے موٹر اور دوسرے قیمتی سامان چوری کرلئے۔ موٹر چوری ہونے سے جہاں کسانوں کا بڑا نقصان ہوا ہے وہیں کھیتوں میں پانی دینے کا مسئلہ بھی پیدا ہوگیا ہے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ ایک تو انہیں فصلوں کی منافع بخش قیمتیں نہیں مل رہی ہیں، دوسرے ٹیوب ویلوں کی موٹر چوری ہوجانے سے ان کے لئے نئے مسائل پیدا ہوگئے ہیں۔
کسانوں کا کہنا ہے کہ ایک موٹر کی قیمت کم از کم بیس ہزار روپے کے آس پاس ہے اس لئے نئی موٹر خریدنا ان کے لئے مشکل ہورہا ہے ۔ رام پور منہیاران کے تحت آنے والے گائوں بھگوان پور کے باشندے رام کمار ، کلیان سنگھ، شام سنگھ، دھرم ویر، سنجے پال، وجے پال اور دیگر کسانوں نے دیوبند کوتوالی پہنچ کر کوتوالی انچارج سنیل ناگر سے ملاقات کی اور ان کے علاقوں میں ہونے والی چوری کی واردات اور موٹر چوری ہونے سے ہونے والے نقصانات کی تفصیل بتائی اور مطالبہ کیا کہ پولیس جلد از جلد نامعلوم چوروں کو گرفتار کرے۔
اور ان کے چوری ہونے والے موٹر اور سامان کو برآمد کرائے۔ پولیس نے تحریر کی بنیاد پر معاملہ درج کرکے نامعلوم چوروں کی تلاش شر وع کردی ہے۔ کوتوالی انچارج نے یقین دہانی کرائی کہ بہت جلد چوروں کو گرفتار کرکے چوری شدہ سامان برآمد کرالیا جائے گا۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر1 year agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
بہار6 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار12 months agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
دلی این سی آر9 months agoاردو اکادمی دہلی کے تعلیمی و ثقافتی مقابلے میں کثیر تعداد میں اسکولی بچوں نےلیا حصہ
-
محاسبہ1 year agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
