Connect with us

دیش

پی ایم مودی نے 4نئی وندے بھارت ایکسپریس کودکھائی ہری جھنڈی

Published

on

(پی این این)
وارانسی: وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کو کہا کہ دنیا بھر کے ترقی یافتہ ممالک کی اقتصادی ترقی میں بنیادی ڈھانچہ ایک اہم عنصر ہے، اور ہندوستان بھی ترقی کی راہ پر تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ روحانی سیاحت نے اتر پردیش میں ترقی کی شروعات کی ہے، یاترا کے مقامات پر آنے والے عقیدت مندوں نے ریاست کی معیشت میں ہزاروں کروڑ روپے کا حصہ ڈالا ہے۔وزیر اعظم اپنے لوک سبھا حلقہ وارانسی کے بنارس ریلوے اسٹیشن سے چار نئی وندے بھارت ایکسپریس ٹرینوں کو ہری جھنڈی دکھانے کے بعد بول رہے تھے۔مودی نے کہا، “دنیا بھر کے ترقی یافتہ ممالک میں، اقتصادی ترقی کی سب سے بڑی وجہ ان کا بنیادی ڈھانچہ رہا ہے۔ ہر ملک میں جس نے بڑی ترقی حاصل کی ہے، اس کے پیچھے بنیادی ڈھانچہ کی ترقی رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ “انفراسٹرکچر صرف بڑے پلوں اور شاہراہوں کے بارے میں نہیں ہے۔ جب بھی اس طرح کے نظام کو کہیں بھی تیار کیا جاتا ہے، تو یہ اس خطے کی مجموعی ترقی کو جنم دیتا ہے۔ہندوستان کی تیز رفتار ترقی کی نشاندہی کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا، “بہت ساری وندے بھارت ٹرینوں کے چلنے اور دنیا بھر کے ممالک سے آنے والی پروازوں کے ساتھ، یہ تمام ترقیات اب ترقی سے جڑی ہوئی ہیں۔ آج ہندوستان بھی اس راستے پر تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔وندے بھارت، نمو بھارت اور امرت بھارت جیسی ٹرینیں ہندوستانی ریلوے کی نئی نسل کی بنیاد رکھ رہی ہیں۔انہوں نے کہا، ’’وندے بھارت ہندوستانیوں کی ٹرین ہے، جسے ہندوستانیوں نے ہندوستانیوں کے لیے بنایا تھا، جس پر ہر ہندوستانی کو فخر ہے۔‘‘اب تو غیر ملکی مسافر بھی وندے بھارت سے حیران ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ آج ہندوستان نے ایک ترقی یافتہ ہندوستان کے لیے اپنے وسائل کو بہتر بنانے کی مہم شروع کی ہے اور یہ ٹرینیں اس میں سنگ میل ثابت ہوں گی۔چار نئی ٹرینوں کے اضافے کے ساتھ، مودی نے کہا، اب ملک میں 160 سے زیادہ وندے بھارت ایکسپریس ٹرینیں چل رہی ہیں۔مودی نے مزید کہا کہ روحانی سیاحت آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ بن گیا ہے اور اس نے اتر پردیش میں ترقی کی شروعات کی ہے۔مودی نے کہا، “ہمارے ملک میں، یاترا کو صدیوں سے قومی شعور کا ایک ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ سفر محض دیوتاؤں کے درشن کے راستے نہیں ہیں، بلکہ ایک مقدس روایت ہے جو ہندوستان کی روح کو جوڑتی ہے۔

دیش

بھارت 2032 تک 3 نینو میٹر چپس کرے گا تیار: اشونی ویشنو

Published

on

(پی این این)
دیواس:ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کی اس خصوصی رپورٹ پر، مرکزی وزیر اشونی ویشنو نے تکنیکی اور بنیادی ڈھانچے کی خود انحصاری کے لیے ہندوستان کے بلند حوصلہ جاتیروڈ میپ کا خاکہ پیش کیا۔
نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے، ویشنو نے کہا، ‘2030 تک، ہمیں 7 نینو میٹر چپس بنانے چاہئیں۔ 2032 تک، ہمیں 3 نینو میٹر چپس بنانی چاہئیں۔ انہوں نے سیمی کنڈکٹر ماحولیاتی نظام کی تیزی سے توسیع پر روشنی ڈالی، یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ اے ٹی ایم پی یونٹس میں تجارتی پیداوار 2026 میں شروع ہو جائے گی۔ الیکٹرانکس کے علاوہ، وزیر نے 35,000 کلومیٹر پٹریوں کے اضافے کا حوالہ دیتے ہوئے بھارتی ریلوے کے بڑے پیمانے پر اوور ہال کی تفصیل بتائی۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وندے بھارت اور امرت بھارت جیسی نئی نسل کی ٹرینوں میں منتقلی کاربن کے اخراج میں نمایاں طور پر کمی کے ساتھ پائیدار ترقی کو آگے بڑھا رہی ہے۔ اس بحث میں ‘انڈیا مومنٹ’ پر عالمی تجزیہ کاروں کی بصیرت اور عالمی جغرافیائی سیاسی تبدیلیوں اور ابھرتے ہوئے ‘ٹرمپیئن دور’ کی حرکیات کے درمیان ہندوستانی معیشت کی لچک بھی شامل ہے۔

Continue Reading

دیش

پروفیسر شاہد اختر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی ایگزیکٹو کونسل میں نامزد

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی:صدر جمہوریہ ہند دروپدی مرمو نے پروفیسر (ڈاکٹر) شاہد اختر کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کی ایگزیکٹو کونسل میں نامزد کیا ہے۔ اس اقدام کو علمی حلقوں میں خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے اور مختلف طبقات کی جانب سے مبارکباد کا سلسلہ جاری ہے۔پروفیسر شاہد اختر جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ انتظامیات سے وابستہ ہیں اور انتظامی علوم، پیشہ ورانہ تعلیم اور اخلاقی نظم و نسق میں گہری مہارت رکھتے ہیں۔ وہ قومی اقلیتی تعلیمی ادارہ جات کمیشن (این سی ایم ای آئی) کے رکن اور قائم مقام چیئرمین کے طور پر اپنے نمایاں دورِ کار سے بھی جانے جاتے ہیں۔ ان کے وسیع تجربے نے انہیں اقلیتی تعلیمی حقوق اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کو شکل دینے والے قانونی و آئینی ڈھانچے کی عملی سمجھ سے آراستہ کیا ہے۔اس عہد میں جب تعلیمی اقدار، انتظامی موثریت اور روزگار سے وابستگی کے درمیان توازن کی ضرورت شدت اختیار کرچکی ہے، پروفیسر شاہد اختر کا دوراندیش نقطہ نظر انتظامی نظام کو مؤثر بنانے، اے ایم یو کے متنوع تعلیمی پروگراموں میں پیشہ ورانہ معنویت بڑھانے اور حکمت عملی پر مبنی نظم و نسق کو مضبوط سمت فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔
پروفیسر شاہد اختر علمی، انتظامی اور سماجی میدانوں میں ایک ہمہ جہت اور باوقار شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ علمی اعتبار سے وہ انتظامی علوم، کاروباری تعلیم اور اخلاقی نظم و نسق کے شعبوں میں گہری بصیرت رکھتے ہیں، اور ان کی تدریسی و تحقیقی خدمات نے طلبہ کی فکری تربیت اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگ قیادت کی پرورش میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔انتظامی سطح پر ان کے فیصلوں میں آئینی شعور، قانونی فہم اور زمینی حقائق کا متوازن امتزاج نظر آتا ہے، جس کے باعث اقلیتی تعلیمی اداروں کے حقوق کے تحفظ اور ادارہ جاتی استحکام کو تقویت ملی۔ سماجی خدمات کے اعتبار سے، وہ تعلیم کو سماجی انصاف، شمولیت اور بااختیار بنانے کا مؤثر ذریعہ سمجھتے ہیں۔ نوجوانوں کی رہنمائی، اقلیتی طبقات کی تعلیمی ترقی اور ادارہ جاتی شفافیت کے فروغ میں ان کی کاوشیں قابلِ ستائش ہیں۔ پروفیسر شاہد اختر کی علمی، انتظامی اور سماجی خدمات کا امتزاج انہیں عصر حاضر کے ممتاز ماہرین میں نمایاں مقام عطا کرتا ہے، اور اے ایم یو کے انتظامی اور تعلیمی معیار کو مزید مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

Continue Reading

دیش

مہاراشٹر و یوپی حج کمیٹیوں میں غیر مسلم سی ای او کی تقرری پر مسلمانوں میں بے چینی، قانونی چیلنج کی تیاری

Published

on

(پی این این)
ممبئی:مہاراشٹر اور اتر پردیش اسٹیٹ حج کمیٹیوں میں غیر مسلم افسران کو چیف ایگزیکٹیو آفیسر (سی ای او) مقرر کیے جانے پر مسلم حلقوں میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے۔ مہاراشٹر اسٹیٹ حج کمیٹی میں آئی اے ایس افسر منوج جادھو کی بطور سی ای او تقرری کے بعد مختلف دینی، سماجی اور ملی تنظیموں نے اس فیصلے کو متنازع، حساس اور تعصب پر مبنی قرار دیتے ہوئے اس کی سخت مخالفت شروع کر دی ہے۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ممبئی سے تعلق رکھنے والے ارکان کی ایک اہم میٹنگ مسافر خانہ، ممبئی میں منعقد ہوئی، جس میں حج کمیٹی آف انڈیا اور ریاستی حج کمیٹیوں میں غیر مسلم سی ای او کی تقرری پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ میٹنگ میں اس فیصلے کو قانونی طور پر چیلنج کرنے پر اصولی اتفاق کیا گیا اور آئندہ لائحۂ عمل طے کیا گیا۔
میٹنگ میں بتایا گیا کہ پرسنل لاء بورڈ کی مرکزی قیادت نے بورڈ کے سکریٹری مولانا مجددی کے ذریعے ممبئی کے ارکان کو ہدایت دی ہے کہ وہ قانونی چیلنج کے لیے مکمل تیاری رکھیں۔ ذرائع کے مطابق ابتدائی مشاورت مکمل ہو چکی ہے اور مرکزی سطح سے سینئر وکلاء کی ایک ٹیم ممبئی پہنچنے والی ہے۔
اس قانونی ٹیم میں ایڈوکیٹ یوسف مچھالا،طاہر حکیم اور شمشاد شامل ہوں گے، جبکہ ضرورت پڑنے پر سینئر وکلاء جیسے ابھیشیک منوسنگوی اور کپل سبل کی خدمات بھی حاصل کی جا سکتی ہیں۔ ممبئی کے بورڈ ممبران کو کیس کی تیاری اور قانونی ٹریننگ کے لیے تیار رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ مہاراشٹر کے کنوینر مولانا محموددریابادی نے نمائندہ کے ذریعے ان تمام تفصیلات کی تصدیق کی ہے۔
دوسری جانب، مسلم علماء اور سماجی کارکنوں نے اس تقرری کو حج جیسے بنیادی مذہبی فریضے کی روح کے منافی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حج اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں شامل ہے اور اس سے متعلق اداروں کی نگرانی کسی ایسے شخص کے ہاتھ میں ہونا چاہیے جو اسلامی احکام، مناسکِ حج اور عازمین کے مذہبی تقاضوں سے پوری طرح واقف ہو۔
بامبے ہائی کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ یوسف ابراہانی نے ایک ویڈیو پیغام میں اس تقرری پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ جان کر صدمہ ہوا کہ حج کمیٹی جیسے حساس ادارے میں غیر مسلم افسر کو سی ای او بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سینٹرل و اسٹیٹ حج کمیٹی ایکٹ کے تحت حج کمیٹیوں کے ارکان اور انتظامی ڈھانچے کا بنیادی طور پر مسلم کمیونٹی سے ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے اس معاملے پر کانگریس کی خاموشی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور اعلان کیا کہ انتخابات کے بعد اس تقرری کو عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔
اس معاملے پر مہاراشٹر اسٹیٹ اردو ساہتیہ اکیڈمی کے سابق صدر ڈاکٹر احمد صدیقی رانا نے وزیر اعظم نریندر مودی کو ایک مکتوب ارسال کیا ہے، جس میں انہوں نے حج کمیٹی کو مسلمانوں کا ایک مذہبی اور مقدس ادارہ قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس کا چیف ایگزیکٹیو آفیسر لازماً کسی مسلم افسر کو بنایا جائے۔
واضح رہے کہ مہاراشٹر اسٹیٹ حج کمیٹی سعودی عرب کی جانب سے تفویض کردہ حج کوٹے کو پورا کرنے اور ہندوستانی عازمینِ حج کے سفر، قیام، خوراک اور دیگر انتظامات میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ ہر سال تقریباً ایک لاکھ پچھتر ہزار ہندوستانی حج کے لیے روانہ ہوتے ہیں، جن میں اکثریت حج کمیٹی کے ذریعے جبکہ تقریباً ایک چوتھائی نجی ٹور آپریٹرز کے ذریعے فریضۂ حج ادا کرتی ہے۔
سعودی حکام کے مطابق 2026 کا حج عارضی طور پر 25 سے 30 مئی کے درمیان متوقع ہے، جو چاند کی رویت سے مشروط ہوگا۔ اس سلسلے میں عازمین کے لیے نئے قواعد بھی جاری کیے گئے ہیں، جن میں کیمپوں میں کھانا پکانے اور برقی آلات لانے پر پابندی شامل ہے۔ حجاج کو ضروری ادویات، چھتری، دھوپ سے بچاؤ کا سامان، پلاسٹک چٹائیاں اور غذائی سپلیمنٹس ساتھ رکھنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
مسلم حلقوں کا کہنا ہے کہ ایسے نازک وقت میں حج کمیٹیوں کے انتظامی فیصلوں میں حساسیت، شفافیت اور مذہبی تقاضوں کا لحاظ رکھنا نہایت ضروری ہے، بصورت دیگر یہ معاملہ محض انتظامی نہیں بلکہ ایک بڑے آئینی و سماجی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network