دیش
مولانا محب اللہ ندوی نے ڈائریکٹر رضا لائبریری کی کوشوں کوسراہا
(پی این این)
رام پور: ممبر پارلیمنٹ مولانا محب اللہ ندوی رضا لائبریری پہنچےجہاں انہوں نے ڈائریکٹر رضا لائبریری ڈاکٹر پشکر مشرا کو ان کے روس کے سفر کے لئے مبارک باد دی۔ ان کی کوششوں کی تعریف کی۔کہا ان کی کوششوں کے نتیجہ میں رضا لائبریری دنیا کے نقشے پر دکھائی دینے لگا ہے جو رام پور والوں کے لئے فخر کی بات ہے۔
ممبر پارلیمنٹ نے کہا کہ ڈاکٹر پشکر مشرا کی قیادت میں رضا لائبریری آگے بڑھ رہی ہے اگر اسی طرح سے کام ہوتا رہا تو وہ دن دور نہیں جب رضا لائبریری دنیا کے نقشے پر ہوگی۔انہوں نے ڈاکٹر پشکر مشرا کو اس بات کی مبارک باد دی کہ ان کی قیادت میں رضا لائبریری کے سبھی مذاہب وملت کے لوگوں کے لئے کام کر رہی ہے اور ان کو نئے راستے دکھا رہی ہے۔ اس موقع پر ممبر پارلیمنٹ نے کہا کہ رضا لائبریری ریسرچ کرنے والوں اور نوجوانوں کو ایک اسٹیج فراہم کر رہی ہے جس کے ذریعہ وہ اپنی قابلیت میں اضافہ کر سکتے ہیں۔
انہوں نے رضا لا تبریری میں ہورہےکاموں کی تعریف کی۔کہا کہ یہاں دنیا کی نایاب چیزیں ہیں کتابوں کا نایاب ذخیرہ ہے۔ اس موقع پر ڈائریکٹر لائبریری ڈاکٹر پشکر مشرا نے ممبر پارلیمنٹ مولانا محبّ اللہ ندوی کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ ان کو امید ہے کہ ان کا تعاون رضا لائبریری کو ملتا رہے گا۔
دیش
ہلدوانی ریلوے زمین معاملہ:سپریم کورٹ 17متاثرین کی عرضداشت پرسماعت کیلئے تیار
(پی این این)
نئی دہلی:اتراکھنڈ کے مسلم آبادی والے ضلع ہلدوانی میں آزادی سے قبل سے ریلوے کی مبینہ زمین پر آباد مسلم بستی کو ہٹانے والے اتراکھنڈ ہائی کورٹ کے فیصلے کو جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی کی ہدایت پر جمعیۃ علماء ہلدوانی نے متاثرین کی مدد سے سپریم کورٹ میں چیلنج کیاہے۔آج اس اہم مقدمہ کی سماعت چیف جسٹس آف آف انڈیا سوریہ کانت اور جسٹس جوئیمالا باگچی کے روبرو سماعت عمل میں آئی جس کے دوران سینئر ایڈوکیٹ گورو اگروال نے عدالت کو بتایا کہ مفاد عامہ کی پٹیشن کی سماعت کے دوران اتراکھنڈ ہائی کورٹ نے 20/ دسمبر 2022کو ایک یک طرفہ فیصلہ صادر کرتے ہوئے ریلوے کی مبینہ زمین پر آباد پچاس ہزار سے زائد مکینوں کو بستی خالی کرنے کا حکم دیا تھا۔ اترا کھنڈ ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ غیر آئینی ہے کیونکہ ہائیکورٹ نے بستی میں رہنے والوں کو اپنے دلائل پیش کرنے کا موقع نہیں دیا تھا۔
سینئر ایڈوکیٹ گورو اگروال نے مزید بتایا کہ ریلوے کی مبینہ زمین کی دعوی داری کے خلاف ریلوے عدالت سے رجوع نہیں ہوئی تھی بلکہ ایک مقامی سوشل ورکر نے پٹیشن داخل کی تھی جس پر ہائی کورٹ نے اتنا بڑا فیصلہ دیا تھا۔ سینئر ایڈوکیٹ گورو اگروال نے عدالت کو مزید بتایا کہ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف داخل پٹیشن سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے لہذا اس پٹیشن کو بھی سماعت کے لیئے قبول کیاجائے اور پہلے سے داخل پٹیشن کے ساتھ منسلک کردیا جائے۔ سینئر ایڈوکیٹ گورو اگروال کے دلائل کی سماعت کے بعد چیف جسٹس آف انڈیا نے پٹیشن کو سماعت کے لیئے قبول کرتے ہوئے دیگر عرضداشتوں کے ساتھ منسلک کردیا۔
دوران سماعت چیف جسٹس آف انڈیا نے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل آف انڈیا ایشوریہ بھاٹی کو ہدایت دی کہ وہ عرض گذاروں کے تعلق سے عدالت میں رپورٹ پیش کرے، عدالت یہ جاننا چاہتی کہ آیا عرض گذار اسی علاقے میں رہتے ہیں یا نہیں۔دوران سماعت عدالت نے سینئر ایڈوکیٹ گورو اگروال سے سوال کیا کہ وہ اتنی تاخیرسے عدالت سے کیوں رجوع ہوئے ہیں جس پر سینئر ایڈوکیٹ نے بتایا کہ یہ بات درست ہے وہ عدالت میں تاخیر سے آئے ہیں لیکن انہیں اتراکھنڈ سرکار کی جانب سے نوٹس تاخیر سے ملی تھی۔دوران سماعت سینئر ایڈوکیٹ گورو اگروال کی معاونت ایڈوکیٹ عارف علی، ایڈوکیٹ شاہد ندیم، ایڈوکیٹ مجاہداحمد، ایڈوکیٹ پنکج ودیگر نے کی جبکہ پٹیشن کو ایڈوکیٹ آن ریکاردچاند قریشی نے داخل کیا ہے۔
سپریم کورٹ آف انڈیا میں اتراکھنڈ ہائی کورٹ کے فیصلے کے داخل پٹیشن میں عرض گذار فیصل صدیقی، شرافت اللہ صدیقی، شفاعت حسین، جاوید حسین، یامین، عبدالرشید، جلیس احمد، محمد حسین، عشرت بیگم، صابرہ بیگم، نعیم عشرت، ذاکر علی، محمد جاوید، نزاکت احمد، تہور احمد اورمسعود احمد ہیں۔عرضداشت میں تحریر کیا گیا ہے کہ مبینہ ریلوے کی زمین پر آزادی کے پہلے سے لوگ بسے ہوئے ہیں جن کے پاس رہائشی ثبوت، الیکٹرک سٹی بل، نل پٹی و دیگر دستاویزات ہیں نیز ماضی میں اتراکھنڈ سرکار نے سرو ے کرکے مکینوں کو رہنے کی اجازت بھی دی تھی اس کے باوجود ہائی کور ٹ نے یک طرفہ کارروائی کرتے ہو ئے بستی اجاڑنے کا حکم دیا ہے۔عرض داشت میں مزید تحریر کیا گیا ہے کہ ریاستی حکومت اور ریلوے محکمہ نے ہائیکورٹ میں اس بستی کے تعلق سے حقائق پیش نہیں کیئے، ماضی کی پالیسی عمل کرنے کی بجائے مبینہ سیاسی دباؤ میں بستی اجاڑنے کے حق میں حلف نامہ داخل کیا گیا جسے ہائی کورٹ نے منظور کرلیا۔
واضح رہے کہ یہ معاملہ سپریم کورٹ آف انڈیا میں زیر سماعت ہے اور سپریم کورٹ آف انڈیا نے ہائی کورٹ کے فیصلے پر اسٹے دیا ہوا ہے، موجود پٹیشن اس وجہ سے داخل کی گئی ہے کیونکہ دیگر مکین سپریم کورٹ میں دستاویزاتی ثبوت پیش کرنا چاہتے ہیں۔مقامی جمعیہ علماء کے ذمہ داران مولانا مقیم قاسمی (صدر جمعیۃ علماء ضلع نینی تال)، مولانا محمد قاسم(ناظم اعلی جمعیۃ علماء ضلع نینی تال)، مولانا محمد عاصم (شہر صدرجمعیۃ علماء ہلدوانی)،مفتی لقمان،ڈاکٹر عدنان، عبدالحسیب و دیگر نے سپریم کورٹ میں پٹیشن داخل کرنے میں متاثرین کی مدد کی ہے۔
دیش
ہندوستان دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت بننے کی طرف گامزن:پی ایم مودی
(پی این این)
راجکوٹ :وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کے روز راجکوٹ میں وائبرنٹ گجرات علاقائی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ہندوستان کے معاشی عروج اور سیاسی استحکام کی ستائش کی اور ریاست کی زیر قیادت سربراہی اجلاس کو 21ویں صدی میں ملک کے پراعتماد سفر کی علامت قرار دیا۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، انہوں نے کہا، “وائبرنٹ گجرات علاقائی کانفرنس میں، وزیر اعظم نریندر مودی کہتے ہیں، “… ہندوستان تیزی سے دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت بننے کی طرف بڑھ رہا ہے، اور آنے والے اعداد و شمار سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ہندوستان سے عالمی توقعات بڑھ رہی ہیں۔ ہندوستان دنیا کی سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی بڑی معیشت ہے۔ مہنگائی کنٹرول میں ہے۔ زرعی پیداوار نئے ریکارڈ قائم کر رہی ہے۔ یہ دودھ کی پیداوار میں پہلے نمبر پر ہے۔”2026 میں گجرات کے اپنے پہلے دورے کی نشاندہی کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا کہ سوراشٹرا میں ترقی کے اہم پروگرام میں شرکت کرنے سے پہلے، سومناتھ مندر میں دعا کے ساتھ سال کا آغاز ان کے لیے روحانی طور پر ہوا۔
انہوں نے وراثت اور ترقی کے امتزاج پر روشنی ڈالی جس کی گجرات نمائندگی کرتا ہے، اسے ملک کی ترقی کے بیانیے کے لیے ایک ماڈل کے طور پر بیان کیا۔”جب بھی وائبرینٹ گجرات سمٹ کا پلیٹ فارم قائم ہوتا ہے، میں صرف ایک سمٹ نہیں دیکھتا، میں 21ویں صدی میں جدید ہندوستان کا سفر دیکھتا ہوں، ایک ایسا سفر جو ایک خواب سے شروع ہوا تھا اور اب غیر متزلزل اعتماد کے مقام پر پہنچ گیا ہے۔ دو دہائیوں میں، وائبرینٹ گجرات کا سفر ایک عالمی معیار بن گیا ہے۔ اب تک دس ایڈیشنز منعقد ہو چکے ہیں، اور ہر ایڈیشن میں اس سمٹ کے کردار میں اضافہ ہوا ہے۔وزیر اعظم نے ہندوستان کے موجودہ سیاسی ماحول کی بھی تعریف کی، یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ استحکام نے اقتصادی رفتار کو برقرار رکھنے اور عالمی توجہ مبذول کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وائبرینٹ گجرات جیسے پلیٹ فارم نے ہندوستان کو سرمایہ کاری، اختراعات اور طویل مدتی شراکت داری کے لیے ایک قابل اعتماد منزل کے طور پر ظاہر کرنے میں مدد کی ہے۔”یہ عام ادویات کی پیداوار میں پہلے نمبر پر ہے۔ دنیا میں سب سے زیادہ ویکسین تیار کرنے والا ملک ہندوستان ہے۔ گذشتہ 11 سالوں میں، ہندوستان دنیا کا سب سے بڑا موبائل ڈیٹا کنزیومر بن گیا ہے۔ ہمارا UPI دنیا کا نمبر 1 ریئل ٹائم ڈیجیٹل ٹرانزیکشن پلیٹ فارم بن گیا ہے۔ آج، ہندوستان دنیا کا دوسرا سب سے بڑا، موبائل بنانے والا تیسرا سب سے بڑا دنیا کا سب سے بڑا موبائل تیار کرنے والا ملک ہے۔ ماحولیاتی نظام، ہم میٹرو نیٹ ورکس کے لحاظ سے تیسری سب سے بڑی ایوی ایشن مارکیٹ ہیں۔
دیش
ایرانی وزیر خارجہ آئندہ ہفتےہندوستان کاکریں گے دورہ
(پی این این)
نئی دہلی:ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی مغربی ایشیا میں تیزی سے ابھرتی ہوئی صورتحال کے پس منظر میں سینئر ہندوستانی رہنماؤں سے مشاورت کے لیے اگلے ہفتے نئی دہلی کا دورہ کریں گے۔ اس دورے کی تیاریوں کو ابھی حتمی شکل دی جا رہی ہے، حالانکہ عراغچی کے 15-16 جنوری کے دوران نئی دہلی میں ہونے کا امکان ہے۔ یہ عراغچی کا ملک کا دوسرا دورہ ہوگا۔ انہوں نے آخری بار مئی 2025 میں نئی دہلی کا سفر کیا تھا، جب کہ بھارت پاکستان کے ساتھ چار روزہ تنازع میں مصروف تھا۔
چابہار بندرگاہ کی ترقی کے لیے تعاون کو آگے بڑھانا، علاقائی روابط، تجارت کو فروغ دینا اور غزہ میں امن عمل جیسی علاقائی پیشرفت ان امور میں شامل ہیں جن کی توقع اس دورے کے ایجنڈے میں ہوگی۔ٹرمپ انتظامیہ نے اکتوبر 2024 میں ایران کی چابہار بندرگاہ پر لاگو ہونے والی امریکی پابندیوں کے لیے چھ ماہ کی چھوٹ دی تھی اور یہ دورہ دونوں فریقوں کے لیے خلیج عمان میں اسٹریٹجک سہولت کی ترقی کو جاری رکھنے کے طریقے تلاش کرنے کا ایک موقع ہوگا۔ اس سے قبل، ٹرمپ انتظامیہ نے 2018 میں دی گئی پابندیوں کی چھوٹ کو منسوخ کر دیا تھا جس نے بھارت کو اسٹریٹجک بندرگاہ پر موجودگی قائم کرنے کی اجازت دی تھی۔
دو طرفہ تجارت کے علاوہ، چابہار پاکستان کی طرف سے ٹرانزٹ روٹس کی بندش کے بعد افغانستان سے بھارت کو سامان کی ترسیل کے لیے ایک اہم سہولت کے طور پر ابھرا ہے۔یہ دورہ ایرانی فریق کے لیے اقتصادی مسائل پر تہران اور کئی شہروں میں ہونے والے مظاہروں پر اپنے ردعمل کی وضاحت کرنے کا ایک موقع بھی ہوگا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ مظاہرے شروع ہونے کے بعد سیکورٹی فورسز سمیت تقریباً 14 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی حکام پرامن مظاہرین کو مارنے کی صورت میں مداخلت کی حالیہ وارننگ کے ساتھ مظاہروں نے ایک اضافی جہت حاصل کر لی ہے۔
-
دلی این سی آر12 months agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر1 year agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر12 months agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
دلی این سی آر12 months agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر1 year agoکجریوال کاپجاری اور گرنتھی سمان اسکیم کا اعلان
-
محاسبہ1 year agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
بہار8 months agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ1 year agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
