Connect with us

بہار

وقف جائیدادیں ہمارا قیمتی اثاثہ :مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی

Published

on

(پی این این)
شیوہر : آل انڈیا مسلم پرسنل لاء و دیگر مسلم تنظیموں کی تجویز پر امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ کے زیر اہتمام اور مولانا احمد ولی فیصل رحمانی کی صدارت میں “وقف بچاؤ، دستور بچاؤ کانفرنس” گاندھی میدان پٹنہ منعقدہ 29 جون 2025 کو کامیاب بنانے کے لیے زیر صدارت حاجی محمد عبدالرحمن ، مدرسہ اسلامیہ عربیہ ڈومری شیوہر ایک اہم مشاورتی میٹنگ منعقد کی گئی۔ جناب قاری وکیل احمد کی تلاوت اور حافظ جلال الدین کی نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم سے مجلس کا آغاز ہوا ۔جس میں مختلف سماجی، تعلیمی، ملی و مذہبی تنظیموں کے نمائندوں، دانشوروں، کارکنان اور معزز شہریوں نے شرکت کی۔میٹنگ میں کانفرنس کے اغراض و مقاصد، وقت و مقام، تشہیری مہم، شرکاء کی رہنمائی، نظم و نسق، اور میڈیا کوریج جیسے امور پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔
شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ وقف املاک کے تحفظ اور دستور کی روح کو برقرار رکھنے کے لیے عوامی بیداری نہایت ضروری ہے۔میٹنگ میں خصوصی خطاب کرتے ہوئے شہرہ آفاق عالم دین نامور ادیب مفتی محمد ثناء الہدی قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ نے کہا کہ وقف جائیدادیں مسلمانوں کا قیمتی اثاثہ ہیں، جنہیں نہ صرف قانونی بلکہ مذہبی لحاظ سے بھی محفوظ رکھنا ہر فرد کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومتوں کی بے اعتنائی اور بعض اداروں کی جانبدارانہ کارروائیوں کے سبب وقف ادارے خطرے سے دوچار ہو چکے ہیں۔ ایسے میں ایک منظم عوامی تحریک ہی ان کے تحفظ کی ضامن بن سکتی ہے۔ معروف علمی شخصیت الحاج ڈاکٹر محمد شمس الحسن سکریٹری مدرسہ اسلامیہ عربیہ ڈومری ضلع شیوہر نے کہا کہ دستورِ ہند تمام شہریوں کو مذہبی، تعلیمی اور سماجی آزادی کا حق دیتا ہے، لیکن آج دستور کی روح کو مسخ کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ “وقف بچاؤ، دستور بچاؤ کانفرنس” کا مقصد نہ صرف ان مسائل کو اجاگر کرنا ہے، بلکہ عوامی بیداری کے ذریعے ان کے حل کی راہ ہموار کرنا بھی ہے۔ جناب محمد فخر الحسن صدر تنظیم امارت شرعیہ ضلع شیوہر نے کہا کہ وقف اسلام کا اہم ترین حصہ ہے ، اسکی حفاظت کی ذمہ داری ہمارا دینی فریضہ ہے ۔
معروف عالم دین مفتی محمد فخر الدّین قاسمی قاضی شریعت دار القضاء امارت شرعیہ مدرسہ اسلامیہ عربیہ ڈومری شیوہر نے کہا کہ وقف جائیدادوں پر حملے اور دستور مخالف اقدامات تشویشناک ہیں ۔ ایسے حالات میں وقف بچاؤ دستور بچاؤ جیسی تحاریک کا منظم اور متحد ہونا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ۔
میٹنگ میں شیوہر ضلع کی سبھی بلاک کی کمیٹیوں کی تشکیل کا بھی اعلان کیا گیا ۔ان کمیٹیوں کے ارکان کو ان کی ذمہ داریاں سونپی گئیں تاکہ وقف بچاؤدستوربچاؤکانفرنس کے ہر پہلو کو بہتر سے بہتر بنایا جا سکے۔میٹنگ کے اختتام پر ایک مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا گیا جس میں تمام ملی و سماجی تنظیموں سے اپیل کی گئی کہ وہ کانفرنس کی بھرپور حمایت کریں اور عوام الناس کو اس میں شمولیت کے لیے متحرک کریں۔ شرکاء میں ،حاجی محمد عمر ، حاجی محمد عتیق الرحمن ، حافظ محمد نصر اللہ ، مولانا جمال الدین ،مولانا محمد شاہ عالم ، مولانا محمد شبیر الحسن ، ماسٹر محمد رضاء اللہ ، قاری محمد شمشاد عالم ، محمد کلیم اللہ ،مولانا محمد نوشاد ، محمد مختارعالم ،محمد انعام الحق ،محمد شمس عالم ،حافظ محمد فیض اللہ حافظ نظام الدین ، حمد اللہ ، پرویز عالم محمد سہیل ، شجاع اللہ ،محمد اسرافیل، وغیرہ بطور خاص شامل رہے۔
میٹنگ میں شریک افراد نے عہد کیا کہ وہ اس مہم کو صرف کانفرنس تک محدود نہیں رکھیں گے بلکہ اس پیغام کو بستی بستی اور گاؤں گاؤں تک پہنچائیں گے، تاکہ دستور اور وقف املاک کے تحفظ کی یہ آواز ایک ملک گیر تحریک بن جائے۔

بہار

چھپرہ میں ماک ڈرل کاانعقاد، لوگوں میں مچی افراتفری

Published

on

(پی این این)
چھپرہ :بہار کے چھپرہ صدر اسپتال،ضلع پریشد دفتر،کٹہری باغ میں واقع اگرنی ہومس کیمپس،پرساد پٹرول پمپ اور پربھوناتھ نگرمیں واقع چلڈرن پارک میں اچانک ایک ساتھ سائرن اور ہوٹر کی آواز سن کر مقامی باشندوں میں افراتفری مچ گئی۔کچھ دیر کے لیے لوگ بے چین ہو گئے۔مگر جیسے ہی معلوم ہوا کہ یہ ماک ڈرل ہے تب لوگوں نے راحت کی سانس لی اور پورے منظر کو اپنے ا پنے موبائل میں قید کرنے لگے۔موقع تھا ضلع میں ممکنہ زلزلہ جیسی قدرتی آفت سے نمٹنے کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے لیے ماک ڈرل منعقد کرنے کا۔
یہ مشق ضلع انتظامیہ کی قیادت میں این ڈی ایم اے کی ہدایات پر انجام دی گئی۔جس میں این ڈی آر ایف اورایس ڈی آر ایف کی ٹیموں نے مشترکہ طور پر حصہ لیا۔ماک ڈرل صبح 9 بجے سے دوپہر 2 بجے تک تقریباً پانچ گھنٹے جاری رہی۔اس دوران 3.8 شدت کے فرضی زلزلے کا منظرنامہ تیار کیا گیا اور ہنگامی حالات میں بچاؤ اور راحت رسانی کی کارروائیوں کا حقیقی وقت میں عملی مظاہرہ پیش کیا گیا۔ماک ڈرل کے دوران ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر جائے حادثہ پر پہنچیں اور ملبہ ہٹانے،پھنسے ہوئے افراد کو محفوظ نکالنے،ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے اور ایمبولینس کے ذریعے زخمیوں کو اسپتال منتقل کرنے کی کارروائی انجام دی۔کٹہری باغ میں واقع اگرنی ہومس کیمپس میں مشق کے دوران گرین لینڈ پبلک اسکول کے طلبہ کے لیے آفات سے بچاؤ کے موضوع پر خصوصی ماک ڈرل بھی منعقد کی گئی۔
اس موقع پراین ڈی آر ایف اورایس ڈی آر ایف کی ٹیموں نے زلزلے اور آگ جیسی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے عملی طریقوں کا مظاہرہ کیا۔ ریسکیو ٹیم نے دکھایا کہ کسی حادثے کی صورت میں اونچی عمارتوں سے لوگوں کو کس طرح محفوظ طریقے سے باہر نکالا جاتا ہے۔ماہرین نے طلبہ کو تفصیل سے بتایا کہ زلزلے کے دوران کیا کرنا چاہیے اور کن امور سے گریز ضروری ہے۔ انہیں ہدایت دی گئی کہ کسی بھی ہنگامی حالت میں گھبرانے کے بجائے صبر و حوصلے سے کام لیں اور سب سے پہلے اپنی جان کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔ اس سلسلے میں محفوظ مقامات کی طرف منتقلی، لفٹ کے استعمال سے گریز، مضبوط میز یا ڈیسک کے نیچے پناہ لینے اور سرکاری ہدایات پر عمل کرنے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
اس موقع پر ڈاکٹر شہزاد عالم نے کہا کہ آفات جیسی صورت حال میں اسکولی طلبہ معاشرے کے لیے مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں اور بیداری و امدادی سرگرمیوں میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسی تربیتی مشقیں بچوں میں اعتماد پیدا کرتی ہیں اور انہیں ذمہ دار شہری بننے کی ترغیب دیتی ہیں۔اگرنی ہومس کیمپسمیں منعقدہ مشق کے دوران ضلع کوآپریٹو افسر سدھیر کمار سنگھ،جے پی یو کے رجسٹرار پروفیسر وشوامتر پانڈے،اجے کمار، ابھینیک کمار سنگھ،راج کمار مشرا،دلیپ کمار، ریڈ کراس سوسائٹی کے ڈاکٹر شہزاد عالم کے علاوہ گرین لینڈ پبلک اسکول کی طلبہ شریا کماری،مدیحہ ندیم،صبا شاہین،شاہین شہنواز،غوث رضا،دلشاد رضا،شاد،کماری سونی اور ایوب انصاری سمیت دیگر افراد موجود تھے۔

Continue Reading

بہار

سیلاب کے باعث بہار کی 2.5لاکھ ایکڑاراضی ہوگئی تباہ

Published

on

14ندیوں کے قہر سے کسانوں کو 3500کروڑروپے کاہورہاہے نقصان
(پی این این)
پٹنہ :بہار کے جوعلاقے سونا پیداکرسکتے ہیں وہاں سے کسانوں کوکچھ نہیں مل پارہاہے ۔ ریاست کی 14 ندیوں کے ساتھ ساتھ 50نالوں کی دھاروں نے 2.5لاکھ ایکڑزمین کو پوری طرح ڈوبودیاہے جس کے باعث یہاں گنے کی کھیتی نہیں ہورہی ہے ۔اس سیلاب زدہ علاقے کی وجہ سے کسانوں کو سالانہ تقریباً 3500 کروڑ روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔
ان میں وہ ندیاں بھی شامل ہیں جو نیپال سے براہ راست بہار میں داخل ہوتے ہیں۔ تقریباً 300 مقامات سے ندیوں کاپانی شمالی بہار میں داخل ہوتے ہیں، جو پھر چھوٹی چھوٹی ندیوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ ان میں سے کئی نہریں اور ندیاں بھی بڑے علاقوں میں پانی پھیلا رہی ہیں۔اس کے علاوہ،چانروں، سائفنوں، پلوں کے نیچے کے علاقوں، سلائس گیٹس، اور نکاسی آب کی نالیوں میں رکاوٹیں بھی کئی علاقوں میں پانی کے پھیلاؤ میں معاون ثابت ہو رہی ہیں۔
حال ہی میں جب ریاستی حکومت نے اس مسئلے کا جائزہ لیا تو یہ بات سامنے آئی کہ گنے کی پیداوار کرنے والے تقریباً 42 فیصد علاقے اس وقت غیر کاشت شدہ ہیں۔ تقریباً 2.57 لاکھ ایکڑ اراضی کو پانی بھرنے کا سامنا ہے، جس سے کاشتکاروں کو ان کی خواہش کے باوجود گنے کی کاشت سے نہیں ہورہا ہے۔ اس طرح گنے کے کاشتکاروں کو دوہری پریشانی کا سامنا ہے۔ ایک طرف وہ گنے کی کاشت نہیں کر پا رہے جس سے مالی نقصان ہو رہا ہے۔ دوسری طرف ان کے کھیت ناقابل استعمال ہوتے جا رہے ہیں۔
جب یہ مسئلہ ریاستی حکومت کی توجہ میں آیا تو محکمہ آبی وسائل اور شوگر کین انڈسٹری ڈپارٹمنٹ کی سطح پر ایک جامع جائزہ لیا گیا۔ محکمہ آبی وسائل کے پرنسپل سکریٹری سنتوش کمار مل کی صدارت میں منعقدہ میٹنگ میں اس علاقے کو آبی ذخائر سے پاک کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ جائزے میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اگر اس 42 فیصد زیر آب علاقے کو مکمل طور پر آبی ذخائر سے آزاد کر دیا جائے۔ حکومت نے ایسیندیوں اور نالوں کی دوبارہ نشاندہی کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو گنے کے علاقے کو زیر آب کر رہے ہیں۔ اس کے بعد انہیں بچانے کے لیے ایکشن پلان بنایا جائے گا۔
کئی دریاؤں میں پشتے نہ ہونے کی وجہ سے ان کا پانی سیلاب کے دوران پھیل جاتا ہے اور چوروں میں پانی جمع ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ چوروں سے نکلنے والے نالوں، دھاروں اور چھوٹی ندیوں میں گاد جمع ہونے، ان پر تجاوزات اور نہروں پر بنائے گئے ڈھانچے سے نکاسی کا ہموار نہ ہونے کی وجہ سے بڑے علاقے میں پانی جمع ہونے کا مسئلہ پیدا ہو گیا ہے۔ مثال کے طور پر، چمپارن میں دریائے مسان اور دریائے سکرہنا پر کوئی پشتے نہیں ہیں۔ اسی طرح اور بھی بہت سے چھوٹے دریا ہیں جو بغیر پشتے کے ہیں۔ گوپال گنج، سمستی پور، بیگوسرائے اضلاع میں نالے، ندیاں اور چھوٹی ندیاں گاد کی وجہ سے اپنے آس پاس کے ایک بڑے علاقے میں پانی پھیلا رہی ہیں۔

Continue Reading

بہار

جامعہ رحمانی، خانقاہ مونگیر کے تمام شعبہ جات میں داخلہ جاری

Published

on

(پی این این)
مونگیر :جامعہ رحمانی، خانقاہ مونگیر، بہارملک ہندوستان کا منفرد، ممتاز دینی، تعلیمی اور تربیتی ادارہ ہے، جہاں ابتدائی درجات سے لے کر دورہ حدیث اور تخصصات تک کی تعلیم کا معیاری نظم ہے ۔ جامعہ رحمانی کے سرپرست امیر شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی سجادہ نشیں خانقاہ رحمانی مونگیر کی ہدایت پر تعلیمی مشاورتی مجلس نے نئے تعلیمی سال 1446-1447ھ کے لیے تمام شعبوں میں داخلے کا اعلان کیا ہے۔
ہر سال کی طرح اس سال بھی جامعہ رحمانی کے تمام درجات، (درجہ حفظ، درجات عربی از درجہ ششم اردو تا دورہ حدیث)، دار الحکمت (حفظ و عربی)، معہد الریادۃ (لیڈرشپ اکیڈمی)، شعبہ تخصص فی الافتاء، اور شعبہ صحافت میں داخلے کے لئے اس سائٹ rahmanimission.info پر آن لائن فارم بھرکر اپنا رجسٹریشن کروا لیں ۔ داخلہ کی تمام کاروائی امتحان میں کامیابی کی بنیاد پر ہوگا تخصصات کے طلبہ کو وظیفہ بھی دیا جائے گا ۔ ان شاءاللہ
درجہ حفظ تا دورہ حدیث اور دار الحکمت (حفظ و عربی) میں فارم جمع کرانے کی آخری تاریخ 28 رمضان المبارک 1446ھ ہے، شعبہ تخصص فی الافتاء کے لیے 20 شوال المکرم 1446ھ جبکہ معہد الریادۃ (لیڈرشپ اکیڈمی) اور شعبہ صحافت کے لیے 15 شوال المکرم 1446ھ مقرر کی گئی ہے۔
مطلوبہ تمام درجات میں داخلہ کیلئے امتحان تحریری و تقریری ہوگا، تخصص فی الافتاء اور معہد الریادۃ میں داخلہ کیلئے فقہ، حدیث، عربی ادب اور ترجمہ قرآن وغیرہ کا امتحان لیا جائے گا البتہ معہد الریادۃ میں ابتدائی انگریزی کا امتحان بھی ہوگا۔ شعبہ صحافت میں داخلہ کیلئے اردو زبان و ادب کے بنیادی اصول و قواعد اور مضمون نگاری کا امتحان ہوگا۔
مزید معلومات اور رہنمائی کے لیے درج ذیل نمبرات پر رابطہ کریں۔مولانا عبد الاحد رحمانی ازہری: 081022 17957،مولانا محمد صبا حیدر ندوی : 7039605711، مفتی نشاط احمد ندوی ، 9608078879 ، مفتی جنید احمد قاسمی ، 7004543729، فضل رحمٰں رحمانی : 9971224394

 

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network