uttar pradesh
نانکہ گندیوڑہ میں عظیم الشان روحانی، اصلاحی اور تعلیمی مجلس کا انعقاد
(پی این این)
جلال آباد:نانکہ گندیوڑہ میں ایک عظیم الشان روحانی اصلاحی اور تعلیمی مجلس کا انعقاد عمل میں آیا جس میں علمائے کرام، مشائخ عظام، حفاظ، ائمہ مساجد اور عوام الناس کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ پروگرام روحانیت، اصلاحِ باطن اور دینی تعلیمات کے فروغ کے حوالے سے نہایت اہم اور مؤثر ثابت ہوا۔مجلس کی صدارت جامعہ ہذا کے صدر اور عارف باللہ حضرت حافظ جمیل احمد نانکوی نے فرمائی جبکہ نظامت کے فرائض مولانا مفتی عطاء الرحمن جمیل قاسمی نانکوی ناظم جمعیت علماء سہارنپور نے نہایت عمدگی کے ساتھ انجام دیے۔ پروگرام کے کنوینر الحاج فضل الرحمان رحیمی نانکوی نبیرۂ قطب عالم نے تمام مہمانانِ گرامی کا پرتپاک استقبال کیا اور اختتام پر شکریہ ادا کرتے ہوئے مجلس کی کامیابی پر خوشی کا اظہار کیا۔
پروگرام کا باقاعدہ آغاز جامعہ کے استاذِ حفظ قاری محمد اعظم کمال رحمانی کی پُرسوز اور دلنشیں تلاوتِ قرآن کریم سے ہوا جس نے حاضرین کے دلوں کو منور کر دیا۔ اس کے بعد جامعہ کے طلباء نے نعتیہ کلام، نظمیں اور تقاریر پیش کر کے حاضرین سے خوب داد وصول کی۔اس روحانی مجلس کا ایک اہم مرحلہ وہ تھا جب سلسلۂ رائے پور کے عظیم روحانی پیشوا حضرت شیخ حافظ عبد الستار نانکویؒ کے صاحبزادہ و جانشین حضرت حافظ جمیل احمد نانکوی نے مولانا مفتی رئیس احمد قاسمی دہرہ دون اور حضرت الحاج قاری سعید احمد تڑفوی کو اجازتِ بیعت سے سرفراز فرمایا۔ اس موقع پر حاضرین میں خوشی اور روحانی جذبات کی ایک خاص کیفیت دیکھی گئی۔
مہمانِ خصوصی مولانا مفتی رئیس احمد قاسمی نے اپنے تفصیلی خطاب میں قطبِ عالم حضرت شیخ حافظ عبد الستار نانکوی رحمۃ اللہ علیہ کی تقویٰ، طہارت، عاجزی، انکساری، اخلاص اور اعلیٰ اخلاق پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے فرمایا کہ حضرت کو سلسلۂ رائے پور کے بزرگ حضرت شیخ عبد القادر رائے پوریؒ سے بے حد محبت تھی اور یہی نسبت ان کی روحانی عظمت کا اہم سبب بنی۔ انہوں نے مکہ مکرمہ میں حضرت کی وفات کے روح پرور واقعات بھی بیان کیے جنہیں حاضرین نے انتہائی عقیدت کے ساتھ سنا۔
پروگرام کے اختتامی مرحلہ میں کے سالانہ امتحانات میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء و طالبات کو انعامات سے نوازا گیا۔ اسی طرح حالیہ مسابقاتی پروگراموں تجوید، سیرت النبی ﷺ اور جنرل نالج کے تینوں فروع میں اول، دوم اور سوم آنے والے طلباء کو بھی خصوصی انعامات اور اسناد پیش کی گئیں۔
اس موقع پر متعدد اہم شخصیات نے شرکت فرمائی جن میں قاری محمد اشرف، مولانا سرور عالم قاسمی، مولانا خالد ندوی، مفتی ضیاء الرحمن نانکوی، عثمان ملک، حاجی گل رحمان، قاری مطیع الرحمن، حاجی شفیق الرحمن، مولانا نوید مظاہری، قاری عبد الرحمن سندر پور، قاری محمد فرقان، قاری محمود دھتولی، قاری محمد حسین نیتا جی، حافظ جنید ملک، مولانا مفتی اطہر جمالی قاری محمد سرفراز الحاج ماسٹر توصیف، قاری صداقت، قاری محمد عابد، قاری محمد سلیمان، عظیم محمد کامل، حاجی اکرام، عبدالرحمن انصاری، یعقوب، حافظ یامین سمیت دیگر معزز حضرات شامل تھے۔پروگرام مہمان خصوصی حضرت الحاج قاری سعید احمد کی دعا پر اختتام پذیر ہوا۔ جس میں امت مسلمہ کی فلاح، مدارس دینیہ کی ترقی اور ملک میں امن و بھائی چارے کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔