اتر پردیش
دس سالہ حافظ محمد بلال ثاقب کے تکمیل حفظ پر دعائیہ مجلس کا انعقاد
(پی این این)
دیوبند:مکتبہ ملت کے مالک مولوی انعام الٰہی کے پوتے اور عمیر ثاقب کے بیٹے محمدبلال ثاقب نے 10سال کی عمر میں کلام اللہ حفظ مکمل کیا ہے۔ اس موقع پر مدرسہ اشرف المدارس میں ایک دعائیہ تقریب کا انعقادکیا گیا جس میں ادارہ کے منتظم قاری وامق نے حفظ قرآن اور اسکی اہمیت پرروشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب ہے جو انسانوںکی ہدایت کیلئے نازل کی گئی۔
انہوںنے کہا کہ یہ وہ مقدس کتاب ہے جسے اللہ تعالیٰ نے قیامت تک محفوظ رکھنے کا وعدہ کیاہے۔ قاری وامق نے کہا کہ قرآن کی حفاظت کا ایک عظیم ذریعہ حفظ قرآن ہے۔ حفظ قرآن کا مطلب قرآن پاک کو مکمل طور پر زبانی یادکرنا یہ ایک نہایت عظیم سعادت اورباعث فضیلت عمل ہے۔ انہوںنے کہا کہ اسلام میںحافظ قرآن کوبہت بلند مقام حاصل ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حافظ قرآن کی بڑی فضیلت بیان فرمائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قیامت کے دن حافظ قرآن کو عزت واحترام دیا جائے گا اور اس کے والدین کو بھی نور کا تاج پہنایا جائے گا۔ حافظ قرآن نہ صرف خود دین کی روشنی حاصل کرتاہے بلکہ دوسروںکے لئے بھی ہدایت کا ذریعہ بنتا ہے۔ مولوی انعام الٰہی نے کہا کہ حفظ قرآن انسان کے اخلاق و کردار پر بھی مثبت اثر ڈالتا ہے۔
قرآن کویاد کرنے والا شخص عموماً نظم وضبط ، صبر و محنت اور تقویٰ جیسی صفات اپناتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تلاوت دل کوسکون بخشتی ہے اور انسانوں کوبرائیوں سے دور رکھتی ہے۔ انعام الٰہی نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ مسلمان اپنے بچوںکو کم عمری سے ہی حفظ قرآن کی طرف راغب کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ حفظ قرآن کی اہمیت یہ بھی ہے کہ اسکے ذریعہ قرآن پاک کی اصل صورت محفوظ رہتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ لاکھوںحفاظ نے ہردور میں قرآن کو اپنے سینوںمیں محفوظ رکھا جس کی وجہ سے آج بھی قرآن پاک اسی شکل میں موجود ہے جس طرح نازل ہوا تھا ، یہ اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت اور معجزہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حفظ قرآن دنیا وآخرت کی کامیابی کا ذریعہ ہے ۔ ایک حافظ قرآن نہ صرف اپنے لئے بلکہ اپنے خاندان اور معاشرہ کے لئے بھی باعث رحمت ہوتا ہے۔ ہمیں قرآن کو پڑھنے ، سمجھنے اور اس پرعمل کرنے کے ساتھ ساتھ اسکے حفظ کرنے کی بھی کوشش کرنی چاہئے۔ مبارک باد دینے والوں میںکاشف الٰہی، سابق رکن پالیکا اقبال انصاری، حافظ طلحہ، چودھری یونس، افضال انصاری، ماسٹر خورشیدصدیقی، منور سلیم، مولانا کمال اصغر، عارف صدیقی، تاج عثمانی وغیرہ شامل تھے۔