Bihar

ذات دیکھ کر انکاؤنٹر کرا رہے ہیں سمراٹ چودھری، تیجسوی یادو کا بہار حکومت پرالزام،عصمت دری کے مجرموں کا کب ہوگاانکاؤنٹر؟وزیراعلیٰ سے آرجے ڈی لیڈر کا سوال

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:بہار اسمبلی میں حزبِ اختلاف کے لیڈر اور آر جے ڈی کے سربراہ تیجسوی یادو نے الزام عائد کیا ہے کہ وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری ذات پات کی بنیاد پر انکاؤنٹر کرا رہے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ سے سوال کیا کہ خواتین کے ساتھ عصمت دری کرنے والے درندہ صفت مجرموں کا انکاؤنٹر آخر کب ہوگا؟راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے کارگزار صدر تیجسوی یادو نے کہا کہ سمراٹ چودھری کی قیادت میں این ڈی اے کی نئی حکومت بننے کے بعد بہار میں جرائم میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ روزانہ خواتین اور بچیوں کے ساتھ عصمت دری اور قتل کے واقعات پیش آ رہے ہیں۔ انہوں نے گزشتہ ایک ماہ کے دوران پیش آنے والے متعدد واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔
تیجسوی یادو نے منگل کو پٹنہ واقع آر جے ڈی دفتر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بہار میں خواتین کی سلامتی پر سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ سمراٹ چودھری کی حکومت بنے ایک ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے اور محکمۂ داخلہ خود وزیر اعلیٰ کے پاس ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ حکومت خواتین کو بااختیار بنانے کے بڑے دعوے کرتی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ سمراٹ حکومت کے دور میں خواتین کے خلاف جرائم میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ مجرم خواتین پر قہر بن کر ٹوٹ رہے ہیں اور سمراٹ حکومت پوری طرح ناکام ثابت ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جرائم کے اعداد و شمار انتہائی تشویشناک ہیں اور شاید ہی کوئی دن ایسا گزرتا ہو جب ماؤں، بہنوں اور بچیوں کے خلاف جرم کا کوئی واقعہ سامنے نہ آتا ہو۔تیجسوی یادو نے کہا کہ اجتماعی عصمت دری اور ریپ کے معاملات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ آر جے ڈی لیڈر نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ حکومت میں شامل کئی وزراء ایسے ہیں جن کے خلاف فوجداری مقدمات زیرِ سماعت ہیں۔
تیجسوی یادو نے سمراٹ چودھری کے وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف لینے کے بعد ایک ماہ کے دوران، یعنی 15 اپریل سے 15 مئی کے درمیان، بہار کے مختلف اضلاع میں خواتین اور بچیوں کے ساتھ پیش آئے عصمت دری، اغوا اور قتل کے واقعات کا ذکر کیا۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ ریاست میں قانون و انتظام کی صورتحال پوری طرح تباہ ہو چکی ہے۔ تیجسوی نے کہا کہ انہوں نے صرف خواتین کے خلاف پیش آنے والے جرائم کا ہی تذکرہ کیا ہے، جبکہ اس کے علاوہ بھی قتل، لوٹ مار اور اغوا کی متعدد وارداتیں ہو چکی ہیں۔
قائدِ حزبِ اختلاف نے الزام عائد کیا کہ بہار میں ذات پات دیکھ کر انکاؤنٹر کیے جا رہے ہیں۔ تیجسوی یادو نے وزیر اعلیٰ سے سوال کرتے ہوئے کہا،“کیا سمراٹ چودھری مخصوص ذات کو دیکھ کر انکاؤنٹر کرا رہے ہیں؟ جن واقعات کا ہم نے ذکر کیا ہے، ان کے مجرموں کا انکاؤنٹر کب ہوگا؟ بالیکا گرہ کانڈ کے ملزم جنہیں یہ لوگ اپنا رہنما بنائے ہوئے ہیں، ان کا انکاؤنٹر کب کیا جائے گا؟ آپ دُشکرم کرنے والوں کی ذات بھی دیکھیے اور جن کے ساتھ ظلم ہوا اُن کی ذات بھی دیکھیے۔ آخر خواتین کو انصاف کب ملے گا؟”
تیجسوی یادو نے کہا کہ بہار کی 65 فیصد خواتین خون کی کمی کا شکار ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ’’جیویکا دیدی‘‘ کو رسوئی گیس سلنڈر ملنا بند ہو گیا ہے اور خواتین کو مناسب غذائیت بھی فراہم نہیں کی جا رہی۔انہوں نے کہا کہ این ڈی اے حکومت نے بہار اسمبلی انتخابات سے قبل دو کروڑ خواتین کو 10-10 ہزار روپے دینے کا وعدہ کیا تھا۔ تیجسوی نے سوال اٹھایا کہ آخر اس اسکیم کی دوسری قسط کب جاری کی جائے گی؟
آر جے ڈی لیڈر نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ بہار میں این ڈی اے حکومت بنے چھ ماہ گزر چکے ہیں، لیکن مرکزی حکومت کی جانب سے ریاست کو کوئی خاطر خواہ تعاون نہیں ملا۔ انہوں نے کہا کہ بہار حکومت 71 ہزار کروڑ روپے کا قرض لینے کی تیاری کر رہی ہے۔تیجسوی یادو نے طنزیہ انداز میں کہا کہ موجودہ حکومت صرف ریل بنانے اور فوٹو شوٹ کرانے میں مصروف ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network