انٹر نیشنل
8سال بعد چین پہنچے ٹرمپ،بیٹا اور بہو بھی ساتھ، 9لاکھ کروڑکے طیارہ ڈیل کا امکان،ایران معاملے میں چین پر دبائو ڈالنے کی کوشش کریں گے ٹرمپ
بیجنگ۔امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ 8سال بعد چین پہنچ گئے ہیں۔ ان کا جہاز کیپٹن انٹرنیشنل ائیر پورٹ پر لینڈ ہوا۔ جہاں پر چینی نائب صدر آن جنگ نے انھیں ریسیو کیا۔ نائب صدر کے ذریعہ ٹرمپ کا استقبال بھی سوالوں کے گھیرے میں آرہا ہے۔
ٹرمپ کے ائیرفورس1 سے اترنے کے بعد تین سو بچے نیلے اور سفید رنگ کے یونیفارم میں موجود تھے۔ جو امریکہ اور چین کے جھنڈے لہرا رہے تھے۔ ٹرمپ کے ساتھ ان کے بیٹے ائیرٹ ٹرمپ اور بہو لارا ٹرمپ بھی موجود تھے۔اس دوران بچوں نے مدارن زبان میں ویلکم کے نعرے لگائے۔ رپورٹس کے مطابق چینی صدر شی جنگ پنگ اور ٹرمپ کے درمیان جمعرات اور جمعہ کو الگ الگ دور میں بات ہوگی۔
دونوں لیڈروں کے درمیان تائیوان ، تجارت ، ریئر ارتھ منرل ، اے آئی اور ایران کے جنگ میں چین کی مدد کولیکر بھی گفتگو ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ 15 مئی تک بیجنگ میں رہیں گے۔ 2017 کے بعد یہ ان کا پہلا چین کا دورہ ہے۔
غورطلب ہے کہ ٹرمپ کے ساتھ ایلن مسک ، ایپل کے سی ای او ٹم پک اور بوئینگ کے سی ای او سمیت 17 بڑے امریکی کاروباری بھی گئے ہیں۔ حالانکہ چپ کمپنی ایویڈیا کے سی ای او جے سنگھ وہان اس دورے مین شامل نہیں ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اس دورے میں 9لاکھ کروڑ روپے سے زائد بوئینگ طیارہ کی ڈیل ہوسکتی ہے۔ چین امریکہ سے پانچ سو بوئینگ 737میکس ، 100 بوئینگ 787، ڈریم لائن اور کئی وائٹ باڈی طیارہ خرید سکتا ہے۔ اگر یہ قرار ہوجاتا ہے تو یہ تاریخ کا سب سے بڑا طیارہ ڈیل ہوگا۔ غورطلب ہے کہ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ ایران معاملے میں چین کی مدد نہیں لے گا۔ مگر اب وہ اس معاملے میں چین پر دبائو بنائے گا۔