Connect with us

دیش

مدرسوں کو بند کرنے یا نظام میں مداخلت کی کوشش ناقابل قبول:جمعیۃ علماء ہند

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی:جمعیۃ علماء ہند کی مجلسِ عاملہ کا دوروزہ اجلاس، مولانا محمود اسعد مدنی صدر جمعیۃ علماء ہند کے زیر صدارت نئی دہلی میں منعقدہواجس میں ملک و ملت کے اہم مسائل پر تفصیل سے تبادلہ ٔ خیال ہوا۔ مجلس عاملہ نے جمعیۃ علماء ہند کی سرگرمیوں کو مزید وسعت دینے کے لیےمجلس قائمہ کی سفارشات کے مطابق نئےشعبوں:شعبۂ تربیت، ماڈل ولیج (جن وکاس سیوا) ، شعبۂ تجارت و صنعت کاری ،شعبۂ مثالی مسجد،شعبۂ رفیق وغیرہ کے قیام کی منظوری دی ۔
اجلاس میں مدارس کے تحفظ، یکساں سول کوڈ، اصلاحِ معاشرہ اور مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال سے متعلق واضح اور دوٹوک موقف بھی اختیار کیا گیا۔ ملک کے مختلف حصوں میں مدارسِ اسلامیہ کے خلاف کارروائیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مجلس عاملہ نے اپنی تجویز میں واضح کیا کہ مدارس کی آزادی میں مداخلت دستورِ ہند کی دفعات 25، 26، 29 اور 30 کی خلاف ورزی ہے۔ اجلاس نے مدرسوں کو بند کرنے یا ان کے نظام میں مداخلت کی ہرکوشش کی مذمت کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ اس سلسلے میںہر سطح پر قانونی چارہ جوئی اور آئینی جدوجہد کی جائے گی۔ نیز ارباب مدارس سے گزارش کی گئی کہ وہ اپنی دستاویزات اور حساب و کتاب کی مضبوط تیاری کریں تاکہ کسی بھی قانونی چیلنج کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے۔مجلس عاملہ نے اتراکھنڈ میں مدرسہ چلانے کے لیے عائدہ کردہ بعض شرائط کو مسترد کرتے ہوئے ان کی فوری واپسی کا مطالبہ کیا۔ مجلسِ عاملہ نے واضح کیا کہ مدارس کو کسی تعلیمی بورڈ سے لازمی الحاق پر مجبور کرنااور اساتذہ کی تقرری کے حوالے سے غیر ضروری پابندیاں عائد کرنا ناقابلِ قبول ہے۔
مجلسِ عاملہ نے اتراکھنڈ ، گجرات وغیرہ کے یکساں سول کوڈ کو مذہبی آزادی کے خلاف قرار دیتے ہوئےپرامن اور جمہوری جدوجہد کا اعلان کیا۔ اس ضمن میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور دیگر ملی تنظیموں اور اقلیتی اداروں کے ساتھ مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کرنے، قومی سطح پر کنونشن منعقد کرنے، عدالتوں سے رجوع کرنے اور صدرِ جمہوریہ و دیگر ذمہ داران کو میمورنڈ م دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ ساتھ ہی مسلمانوں سے بھی یہ اپیل کی گئی وہ شریعتِ اسلامیہ پر مضبوطی سے قائم رہیں خصوصاً خواتین کے حقوق کے معاملے میں اسلامی تعلیمات کے مطابق مکمل انصاف کو یقینی بنائیں۔وراثت کی تقسیم میں عورتوں کے ساتھ ناانصافی کا خاتمہ کریں اور طلاق ، نان و نفقہ جیسے معاملات میں شرعی اُصولوں پر عمل پیرا ہوں ۔
اصلاحِ معاشرہ کے حوالے سے مجلسِ عاملہ نے اپنی تجویز میں نئی نسل میں بڑھتی ہوئی دینی و اخلاقی کمزوریوں پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے متعدد عملی اقدامات کی تجویز پیش کی۔ ان میں لازمی مکاتب کے قیام، زیادہ سے زیادہ معیاری اسکولوں کا قیام، لڑکیوں کے لیے علیحدہ تعلیمی اداروں اور دینی ماحول سے آراستہ ہاسٹلز کی فراہمی، مسلمانوں کے زیرِ انتظام اسکولوں اور تعلیمی اداروں کے نصاب میں اسلامیات، سیرتِ نبوی ﷺ، اسلامی تاریخ، عقائد، اخلاقیات اور معاشرتی تعلیم کی شمولیت، کوچنگ سینٹروں کا قیام، نیز سیرت کوئز اور مختلف تعلیمی و تربیتی پروگراموں کا انعقاد شامل ہے۔مزید برآں والدین کو اپنے فرائض کی ادائیگی کے قابل بنانے کے لیے شادی سے قبل اور بعد میں کونسلنگ اور تربیتی ورکشاپ کے انعقاد پر زور دیا گیا۔ ہمدردانِ ملت سے پُرزور اپیل کی گئی کہ جو بچیاں تعلیم کی غرض سے دوسرے شہروں کا رخ کرتی ہیں، ان کے ایمان و عقائد کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اور مؤثر تدبیر اختیار کی جائے۔

دیش

معروف صحافی ’گل بوٹے‘ ممبئی کے مدیر فاروق سید نہیں رہے،ادبی وسماجی حلقہ سوگوار

Published

on

(پی این این)
ممبئی۔معروف صحافی، ادیب اور بچوں کے مقبول رسالہ “گل بوٹے” کے مدیر فاروق سید کا آج سانتا کروز کے بینز اسپتال میں انتقال ہوگیا ۔ فاروق سید کی موت سے ادبی وصحافتی حلقوں میں غم کا ماحول ہے۔
فاروق سید گزشتہ دو ماہ سے مسلسل علالت کا شکار تھے، رمضان المبارک میں وہ عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کے لئے مکہ مکرمہ گئےتھے۔ لیکن اسی دوران انھیں برین ہیمرج ہوگیا۔ وہ مکہ کے ایک اسپتال میں داخل کئے گئے جب ان کی طبیعت میں کچھ بہتر ہوئی تو وہ ممبئی واپس آگئے۔ ممبئی واپسی کے بعد انھیں ہارٹ اٹیک ہوا ، ان کے دل کا آپریشن بالا جی اسپتال میں کیا گیا۔ لیکن وہ سنبھل نہیں سکے۔ پھر انھیں سانتا کروز کے بینز اسپتال میں داخل کیا گیا۔ جہاں ان کی حالت مزید تشویشناک ہوگئی ، وہ وینٹی لیٹر پر منتقل کیے گئے اور بالآخر اس دنیائے فانی کو لبیک کہا۔
فاروق سید اردو صحافت اور بچوں کے ادب کی دنیا میں ایک معتبر اور محترم نام ہے۔ ان کے رسالہ گل بوٹے نے برسوں تک نئی نسل کی ادبی اخلاقی ، تربیت میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کی شگفتہ تحریریں نرم مزاجی ، ملن ساری اور علمی خدمات نے انھیں ادبی حلقوں میں بھی خاص مقام عطا کیا۔ ان کی رحلت سے صحافیوں، ادیبوں ، شاعروں اور ان کے چاہنے والوں میں غم کا ماحول ہے۔
اس موقع پر ادارہ روزنامہ سچ کی آواز فاروق سید کے اہل خانہ کے غم میں برابر کا شریک ہے۔ گروپ ایڈیٹر ڈاکٹر سید اصدر علی ، ریزینڈینٹ ایڈیٹر جمشید عادل علیگ نے فاروق سید کی رحلت پر گہرے رنج وغم کا اظہار کیا ہے اور اسے ذاتی خسارہ بتایا ہے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند کرے۔ آمین

Continue Reading

دیش

ملک میں آنے والا ہے سب سے بڑا اقتصادی طوفان،اڈانی،امبانی اور نریندر پر نہیں پڑے گا اثر، عام آدمی ہوگا شکار، راہل گاندھی کا اندیشہ

Published

on

(پی این این)
رائے بریلی۔ملک کے جوحالات بن رہے ہیں۔ مہنگائی جس طرح بڑھ رہی ہے اور مزید بڑھنے والی ہے۔ وہ ایک بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہے۔ مشرق وسطیٰ میں ٹکرائو کی وجہ سے جو حالات پیدا ہوئے ہیں۔ حکومت اس سمت سنجیدگی سے دھیان نہیں دے رہی ہے۔
ملک میں ایک بڑا اقتصادی طوفان آنے والا ہے۔جس کا اڈانی، امبانی اور نریندر مودی پر اثر نہیں پڑے گا بلکہ عام آدمی اس کا شکار ہوگا۔مذکورہ اندیشہ راہل گاندھی نے اپنے حلقہ انتخاب رائے بریلی میں میڈیا سے گفتگو کے دوران کہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’نریندر مودی نے جس طرح سے ملک کی معیشت کا ڈھانچہ بدلا ہے، وہ آنے والے معاشی طوفان میں ٹک نہیں پائے گا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس معاشی طوفان کا خمیازہ ملک کے نوجوانوں، کسانوں، چھوٹے تاجروں کو بھگتنا پڑے گا۔‘‘
یہ بیان لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے آج رائے بریلی میں نامہ نگاروں کے کچھ سوالوں کے جواب میں دیا۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’’معاشی طوفان کا اثر اڈانی-امبانی اور نریندر پر نہیں پڑے گا، کیونکہ وہ اپنے محلوں میں بیٹھے رہیں گے۔ یہ جھٹکا بہت برا ہوگا، آنے والا وقت بہت مشکل ہوگا۔‘‘
کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی کا کہنا ہے کہ پی ایم مودی کوئی ٹھوس قدم اٹھانے کی جگہ ملک کی عوام سے کہہ رہے ہیں، کوئی بھی بیرون ملک سفر نہ کرے، جبکہ وہ خود دنیا بھر کا دورہ کر رہے ہیں۔ موجودہ مسائل کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’وزیر اعظم مودی کو یہ سمجھنا چاہیے کہ اصل مسئلہ بے روزگاری اور مہنگائی ہے۔ آنے والے وقت میں کھاد کا مسئلہ پیدا ہونے والا ہے۔ لیکن پتہ نہیں نریندر مودی کس دنیا میں جی رہے ہیں، مذاق بنا رکھا ہے۔‘‘
کانگریس نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر راہل گاندھی کے ذریعہ نامہ نگاروں کے سامنے دیے گئے بیانات کی 2 ویڈیوز شیئر کی ہیں، جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کانگریس رکن پارلیمنٹ کار میں بیٹھے ہیں اور ملک کے حالات پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’ملک کے مزدوروں، کسانوں، نوجوانوں، غریبوں اور چھوٹے کاروباریوں کی حفاظت کرنے کی ذمہ داری نریندر مودی کی ہے۔ ہم لگاتار نریندر مودی سے کہہ رہے ہیں کہ طوفان آنے والا ہے۔ آپ ٹھوس قدم اٹھائیے اور ملک کو محفوظ کیجیے، لیکن وہ کچھ الگ ہی کر رہے ہیں۔‘‘

Continue Reading

دیش

ائماکرائم ومؤذنین کی اجرت یکم جون سے بند،بنگال کے وزیر اعلیٰ سوبھیندو کا اعلان

Published

on

(پی این این)
کولکاتہ۔بنگال میں بی جے پی اقتدار میں آنے کے بعد نئے نئے فیصلے اور اعلانات کررہی ہے۔ بیف بند کرنے کے بعد اب سوبھیندو سرکار نے کئی اہم فیصلے کئے ہیں۔ انھوں نے اعلان کیا ہے کہ اب ائما کرام اور مؤذنین کی اجرت بند کی جائے گی۔ جو بنگال سرکار کے ذریعہ دی جارہی تھی۔ انھوں نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ ممتا حکومت کی بدعنوانیوں کی وہ گہرائی سے جانچ کرائیں گے۔ اور ہائی کورٹ کے جج کی قیادت میں یہ جانچ ہوگی۔انھوں نے کہا کہ امام ،موذن اور پوجاریوں کو دی جانے والی اجرت یکم جون سے بند کردی جائے گی۔ ساتھ ہی ساتھ خواتین کو انّا پورنا منصوبہ کے تحت 3000 روپیہ ماہانا، مفت بس سروس کا آغاز ہوگا۔ انھوں نے ساتویں پے کمیشن تشکیل کرنے اور او بی سی فہرست میں تبدیلی لانے کےلئے کئی فیصلے کئے۔
غورطلب ہے کہ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے اپنے دور میں امام ، موذن اور پوجاریوں کی اجرت پانچ سو روپیہ بڑھانے کا اعلان کیا تھا جس کے تحت مسجدوں کے امام کو تین ہزار روپے، موذن اور پوجاریوں کو دو ہزار روپے دیئے جارہے تھے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network