Connect with us

بہار

پی ایم آواس اسکیم کے مستحقین کا جاب کارڈ بنانے کو لیکر کیمپ کا انعقاد

Published

on

(پی این این)
حاجی پور‌:بہار کےحاجی پورضلع کے راجا پاکر بلاک علاقہ واقع جنوبی پنچایت میں پردھان منتری آواس یوجنا کے مستحقین کے لیے جاب کارڈ کیمپ کا انعقاد راجاپاکر جنوبی پنچایت کے پنچایت بھون احاطے میں پردھان منتری آواس یوجنا کے منتخب مستحقین کے لیے منریگا کے تحت جاب کارڈ بنانے کی غرض سے ایک خصوصی کیمپ کا انعقاد کیا گیا۔ کیمپ میں درجنوں خواتین سمیت بڑی تعداد میں لوگ موجود رہے اور جاب کارڈ بنوانے کے لیے خاصی بھیڑ دیکھی گئی۔
اس سلسلے میں معلومات دیتے ہوئے آواس سہایک دھرمیندر کمار نے بتایا کہ جن افراد کا نام پردھان منتری آواس یوجنا کی منتخب فہرست میں شامل ہے، ان کے لیے منریگا کے تحت جاب کارڈ بنوانا لازمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر جاب کارڈ نہیں بنایا گیا تو مکان کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد مزدوری کی رقم سے مستحقین محروم رہ جائیں گے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس کیمپ کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ تمام اہل افراد کو سرکاری اسکیموں کا پورا فائدہ مل سکے۔ کیمپ کے دوران آواس سہایک دھرمیندر کمار، منریگا کے کمپیوٹر آپریٹر روی کمار، ڈی ایف ڈی نتیش کمار، پی آر ایس سنیل کمار، مکھیا پرمیلا دیوی، نائب مکھیا کماری سنجو رانی اور نتھونی پرساد سنگھ سمیت دیگر افراد نے لوگوں کو بیدار کیا اور انہیں کیمپ میں لا کر جاب کارڈ بنانے میں تعاون کیا۔
نتھونی پرساد سنگھ نے بتایا کہ آج کے کیمپ کے بعد بھی اگر کوئی مستحق رہ جاتا ہے تو منریگا اہلکار اور آواس سہایک گھر گھر جا کر ان کا جاب کارڈ تیار کریں گے، تاکہ کوئی بھی شخص سرکاری مزدوری کی رقم سے محروم نہ ہو۔ جاب کارڈ بنانے کے لیے ضروری دستاویزات میں آدھار کارڈ، بینک پاس بک اور ایک عدد پاسپورٹ سائز تصویر شامل ہے، جو رجسٹریشن کے وقت جمع کی جائے گی۔ واضح رہے کہ راجاپاکر جنوبی پنچایت میں پردھان منتری آواس یوجنا کے تحت کل 1608 مستحقین شامل ہیں، جن میں تمام طبقات کے افراد شامل ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے کوشش کی جا رہی ہے کہ سبھی مستحقین کو بروقت جاب کارڈ فراہم کیا جائے تاکہ انہیں اسکیم کا مکمل فائدہ مل سکے۔

بہار

دربھنگہ میں گیس لیک سے بھیانک آتشزدگی،3ماہ کا بچہ سمیت 3ہلاک ،8سے زائد زخمی

Published

on

(پی این این)
دربھنگہ :بہار کے دربھنگہ ضلع کے سندرپور علاقے میں ایک دردناک سانحہ پیش آیا جہاں گھریلو گیس کے رساؤ کے باعث اچانک آگ بھڑک اٹھی اور دیکھتے ہی دیکھتے سلنڈر دھماکے کے ساتھ پورا گھر شعلوں کی لپیٹ میں آ گیا۔ اس ہولناک حادثے میں ایک ہی خاندان کے 3 افراد، میاں بیوی اور ان کا 3 ماہ کا معصوم بچہ جاں بحق ہو گئے، جب کہ 8 افراد جھلس کر زخمی ہو گئے، جن میں ایک فائر بریگیڈ اہلکار بھی شامل ہے۔
ذرائع کے مطابق مہلوکین کی شناخت گوبند داس (30)، ان کی اہلیہ نشو کماری (26) اور ان کے 3 ماہ کے بیٹے یوراج کمار کے طور پر ہوئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ نشو کماری اپنے بچے کو گود میں لے کر کچن میں کھانا تیار کر رہی تھیں کہ اسی دوران گیس لیک ہونے کی وجہ سے جیسے ہی ماچس جلائی گئی، اچانک آگ بھڑک اٹھی اور پورا کچن لپیٹ میں آ گیا۔ بچے کو بچانے کی کوشش میں گوبند داس بھی آگ میں کود پڑے، تاہم وہ بھی شدید جھلس گئے اور بعد میں جانبر نہ ہو سکے۔
عینی شاہدین کے مطابق آگ اتنی تیزی سے پھیلی کہ چند ہی منٹوں میں گھر کا بڑا حصہ شعلوں کی زد میں آ گیا، جب کہ کھڑکیوں اور وینٹی لیٹر سے دھواں اور آگ کے شعلے باہر نکلنے لگے۔ اطلاع ملتے ہی مقامی لوگ موقع پر جمع ہو گئے اور اپنی مدد آپ کے تحت بچاؤ کی کوششیں شروع کیں، تاہم آگ کی شدت کے باعث فوری قابو پانا ممکن نہ ہو سکا۔
ادھر اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ کی 4 گاڑیاں موقع پر پہنچیں اور کافی جدوجہد کے بعد آگ پر قابو پایا گیا۔ ریسکیو کارروائی کے دوران ایک فائر بریگیڈ اہلکار بھی جھلس کر زخمی ہو گیا۔ زخمیوں میں بیچن داس، گوتم داس اور پڑوسی آدتیہ ٹھاکر سمیت دیگر افراد شامل ہیں، جنہیں علاج کے لیے قریبی اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔
یونیورسٹی تھانہ کے انچارج سدھیر کمار نے بتایا کہ ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کچن حال ہی میں نچلی منزل سے تیسری منزل پر منتقل کیا گیا تھا اور کھانا بنانے کے دوران گیس کے رساؤ کے باعث یہ حادثہ پیش آیا۔ انہوں نے کہا کہ معاملے کی ہر پہلو سے جانچ کی جا رہی ہے۔
وہیں فائر بریگیڈ کے ڈی ایس پی محمد فیض نے کہا کہ اطلاع ملتے ہی ٹیمیں فوری طور پر روانہ کی گئیں اور بروقت کارروائی کے نتیجے میں آگ پر قابو پا لیا گیا، ورنہ نقصان کہیں زیادہ ہو سکتا تھا۔ انہوں نے گھریلو گیس کے استعمال میں احتیاط برتنے کی اپیل بھی کی۔

Continue Reading

بہار

سی۔ایم کالج، دربھنگہ میں انٹر کالج کوئز مقابلہ کا اہتمام

Published

on

(پی این این )
دربھنگہ:ہمارا ملک ہندوستان ایک کثیر اللسانی ملک ہے جہاں مختلف جغرافیائی خطے میں مختلف زبانیں بولی جاتی ہیں اور ہماری قومی زبان ہندی ہے لیکن اس تلخ سچائی سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اس دورِ عا لمیت میں انگریزی زبان کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہوگئی ہے ۔ بالخصوص غیر ملکی کمپنیوں میں ملازمت حاصل کرنے کے لئے انگریزی زبان پر عبور حاصل کرنا لازمی ہے ۔ اس لئے ہمارے طلبا وطالبات کو جو انگریزی زبان کے ساتھ گریجویٹ اور ماسٹر ڈگری حاصل کر رہے ہیں انہیں انگریزی زبان پر دسترس حاصل کرنی چاہئے۔ ان خیالات کا اظہار پروفیسر مشتاق احمد، پرنسپل کالج ہذا نے کیا۔
پروفیسر احمد کالج کے شعبۂ انگریزی کے زیر اہتمام منعقد انٹر کالج کوئز مقابلہ کے اختتامیہ و جلسہ تقسیم اسناد سے خطاب کر رہے تھے۔پروفیسر احمد نے کہا کہ انگریزی شعبہ قابلِ مبارکباد ہے کہ انہوں نے انٹر کالج کوئز مقابلہ کا اہتمام کیا اور جس میں ایل این متھلا یونیورسٹی کے مختلف کالجوں کے تقریباً 150؍ طلبا وطالبات نے حصہ لیا اور نہ صرف انگریزی زبان پڑھنے والے بلکہ دوسرے موضوعات کے طلبا نے اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ۔ پروفیسر احمد نے کہا کہ ہمارے بچوں کے اندر انگریزی زبان کی صلاحیت لکھنے تک تو ہوتی ہے لیکن وہ بات چیت کرنے میں ناکام رہتے ہیں اس لئے انگریزی زبان میں مکالمہ ضروری ہے تاکہ وہ کالج میں ہی اپنی کمیوں کو دور کر سکیں ۔
اس جلسہ کے مہمانِ خصوصی پروفیسرسنجیو کمار مشرا ، پرنسپل سی ایک سائنس کالج، دربھنگہ نے کہا کہ آج کے مقابلہ جاتی دور میں صرف نصابی کتابوںتک خود کو محدود نہ کریںبلکہ طلبا وطالبات اپنے اندر زبان کو لکھنے ، پڑھنے کی صلاحیت بھی پیدا کریں۔ کیوں کہ انگریزی زبان کا سیکھنا اور بولنا شخصیت میں نکھار کے ساتھ اعتماد بھی پیدا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئز مقابلہ طلبا کے اندر تجسس پیدا کرتا ہے اور تجسس کی بنیاد پر سیکھنے کا عمل آسان ہو جاتا ہے۔
صدر شعبۂ انگریزی ڈاکٹر سبرتو کمار داس نے اس کوئز مقابلہ کی علمی اہمیت وافادیت پرروشنی ڈالی اور اس بات پر خوشی ظاہر کی کہ ہماری یونیورسٹی کے مختلف کالجوں کے طلبا نے اس میں حصہ لیا ۔ لٹریری سوسائٹی کے صدر ڈاکٹر کمار گورو نے کہا کہ شعبۂ انگریزی کا یہ لٹریری سوسائٹی طلبا وطالبات کی صلاحیت کونکھارنے کا مسلسل کام کرتی رہتی ہے جس کا یہ کوئز مقابلہ ایک نمونہ ہے۔اس کوئز مقابلہ کو کامیاب بنانے میں شعبۂ انگریزی کے تمام اساتذہ ڈاکٹر رادھا نرائن، ڈاکٹر نریش کمار، ڈاکٹر بشریٰ تازین، ڈاکٹر امِ سلمہ نے اہم کردار ادا کیا ۔ اس موقع پر تمام شرکائے کوئز کو اسناد اور میڈل سے نوازا گیا ۔ آغاز میں صدر شعبہ انگریزی نے مہمانوں کاپاگ ، چادر اور گلدستہ سے استقبال کیا ۔

Continue Reading

بہار

زیرِ زمین پانی کے پائیدار اور بہتر انتظام پر ریاستی سطح کی ورکشاپ کا وزیر سنجے سنگھ کے ہاتھوں افتتاح

Published

on

(پی این این )
حاجی پور: محکمۂ صحتِ عامہ انجینئرنگ حکومتِ بہار کی جانب سے موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ زیرِ زمین پانی کے انتظام کے موضوع پر منعقد ریاستی سطح کی ورکشاپ کا افتتاح وزیر سنجے کمار سنگھ نے کیا۔ یہ ورکشاپ ریاست میں محفوظ اور پائیدار پینے کے پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔
اپنے افتتاحی خطاب میں وزیر سنجے کمار سنگھ نے کہا کہ “ہر گھر نل کا جل” اسکیم کے تحت ریاست کے کروڑوں دیہی خاندانوں تک صاف پینے کا پانی پہنچایا گیا ہے۔ جو حکومتِ بہار کی ایک بڑی کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدلتے ہوئے موسمی حالات اور غیر متوازن بارش کی وجہ سے زیرِ زمین پانی پر بڑھتا ہوا دباؤ مستقبل کے لیے ایک سنگین چیلنج بن سکتا ہے، اس لیے پانی کے تحفظ اور اس کے بہتر انتظام کو اولین ترجیح دینا ضروری ہے۔
وزیر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پینے کے پانی کی فراہمی کی اسکیموں کے ساتھ ساتھ زیرِ زمین پانی کے تحفظ، سطحی پانی پر مبنی منصوبوں، بین محکمہ جاتی تال میل اور عوامی شراکت داری کو بھی فروغ دینا ہوگا، تاکہ آنے والی نسلوں کیلئے آبی وسائل کی دستیابی یقینی بنائی جا سکے۔ اس ورکشاپ میں مختلف محکموں کے سینئر افسران، انجینئرز، سائنسدانوں اور ترقیاتی شراکت دار اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اس دوران زیرِ زمین پانی کے تحفظ، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات، آبی وسائل کے استحکام اور طویل مدتی آبی تحفظ سے متعلق مختلف پہلوؤں پر تفصیل سے تبادلۂ خیال کیا گیا۔
پروگرام کے دوران ماہرین نے تکنیکی سیشنز کے ذریعے زیرِ زمین پانی کے سائنسی اور عملی پہلوؤں پر غور و خوض کیا اور ریاست میں آبی تحفظ کو مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔اس ورکشاپ کا مقصد ریاست میں موسمی حالات سے ہم آہنگ، مضبوط اور پائیدار پینے کے پانی کے انتظام کا نظام تیار کرنا ہے، تاکہ عوام کو مسلسل اور محفوظ پینے کا پانی فراہم کیا جا سکے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network