دیش
سیاسی فائدے کیلئے مذہبی عقیدے کے استعمال کے خلاف سماج کوہونا چاہیے متحد :شیخ ابوبکر احمد
(پی این این)
تریوننت پورم:سنی جمعیۃ العلماکے صد سالہ جشن کے موقع پر کیرالا مسلم جماعت کے زیر اہتمام ۱۶ روزہ پیغام انسانیت یعنی کیرالا یاترا ‘‘آج یہاں ریاست کی راجدھانی ترننت پورم کے پٹھار کنڈم میں معراج کانفرنس کے نام سے اختتام پزیرہوئی ۔یہ تاریخی یاترا کاسرگوڈ سے شروع ہوئی تھی ۔شیخ ابوبکر احمد کی قیادت میں ۱۶ روزہ ریاست گیر سطح پر متعدد اضلاع ،قصبہ ،ٹائون بازاروں کا دورہ کیا گیا ۔جہاں عوامی اجلاس ،ریلیاں میں مختلف مذاہب وسیاسی لیڈران ،علمی وروحانی سرکردہ شخصیات سمیت ہزاروں کی تعداد میں پُر جوش استقبال کرتے اور سماجی ہم آہنگی ،بھائی چارہ احترام انسانیت کے لئے سبھی سے ملاقات کرتے ۔ جس کا مقصد مختلف سیاسی ،سماجی ،ملی ،مذہبی ،علمی ،ثقافتی لوگوں سے رابطہ کرکےنفرت اور فرقہ واریت کوختم کرکے ایمان ،علم ،سماجی ہم آہنگی ،قومی اتحاد،معاشرتی تشکیل ،بھائی چارہ اور پُر امن خوشگوار فضا کو مضبوط کرنا تھا ۔
آج راجدھانی میں منعقدہ معراج کانفرنس میںاحترام انسانیت کا ترانہ پڑھتے ہوئے ریاست بھر سے سیلاب کی طرح ہزاروں کی تعداد میں فرزندان توحید امنڈ پڑے ۔اس موقع پر جم غفیر مجمع سےکلیدی خطاب کرتے ہوئے گرانڈ مفتی آف انڈیا شیخ ابوبکر احمد نے جمہوری سیاسی جماعتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اجتماعی طور پر فیصلہ کریں کہ مذہبی عقائد اور فرقہ وارانہ جذبات کو انتخابی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ نہوں نے کہا کہ سیاست میں اقتدار کا حصول ضروری ہے لیکن ووٹ کے لیے فرقہ وارانہ جذبات کا استحصال معاشرے میں گہرے زخموں کا باعث بنتا ہے۔شیخ نے زور دیا کہ حکومتی سطح پر ایسے طریقوں سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں۔انہوں نے کہا کہ فرقہ وارانہ پولرائزیشن بالآخر لوگوں کی زندگیوں کو متاثر کرتی ہے اور ترقیاتی جمود کا باعث بنتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ کیرالہ، جس نے بہت سے بحرانوں پر قابو پایا ہے، اس سے بھی زیادہ مضبوط ماڈل اپنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مسلم، ہندو اور عیسائی برادریوں کو ملنے والے فوائد ان کی آبادی کے تناسب سے ہونے چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ “انسانیت ہی سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ انسانوں کی بقا سب سے اہم ہے۔ لوگوں کے درمیان باہمی ہم آہنگی زندگی کے لیے ضروری ہے۔ ہمیں اس کے لیے ہر طرح کا سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔” کیرالہ یاترا کے دوران ہر ضلع میں ہزاروں لوگوں سے خطاب کیا گیا، جس میں ذات پات اور مذہبی فکرسے بالاتر ہو کر انسانی اقدار کے پیغامات پہنچائے گئے۔ ہر علاقے کی ترقی سے متعلق اہم بات چیت بھی ہوئی، اور ان مباحثوں پر مبنی ایک مضبوط ترقیاتی دستاویز کیرالہ کے وزیر اعلیٰ پنارائی وجین کو پیش کی گئی۔۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ “کسی ایک شخص کو بھی ناحق ووٹر لسٹ سے خارج نہیں کیا جانا چاہئے۔”انہوں نے یہ بھی کہا کہ کسی ملک کو کسی دوسرے خودمختار ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے کیونکہ اس طرح کی مداخلت بڑے تنازعات کو جنم دے سکتی ہے اور بین الاقوامی تعلقات اور اقوام متحدہ کے اصولوں کے خلاف ہے۔ ہندوستان کے مفتی اعظم نے کہا کہ ہمیں ہمیشہ عالمی امن کے لیے دعا کرنی چاہیے۔ صرف امن ہی ترقی لا سکتا ہے۔کانفرنس کا افتتاح کیرالہ کے وزیر اعلیٰ پنارائی وجین نے کیا۔ تقریب کی صدارت سمستھا کیرالہ جمعیۃ العلماء کے صدر ای سلیمان مسلیار نے کی۔قائد حزب اختلاف V.D. ستیشاں نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ کیرالہ یاترا کے قائدین سید ابراہیم الخلیل البخاری اور پیروڈ عبدالرحمٰن ثقافی نے بھی اجتماع سے خطاب کیا۔
تقریب کے دوران، انڈین کلچرل فاؤنڈیشن (آئی سی ایف) کے رفاہی کیئر پروجیکٹ،کاکیرالہ مسلم جماعت کے غیر ملکی ونگ، وزیر اعلیٰ اور شیخ ابوبکر احمد نے مشترکہ طور پر افتتاح کیا۔ اس پروجیکٹ کے تحت آٹزم اور دماغی فالج سے متاثرہ1000 بچوں کو سالانہ 30000 روپے ملیں گے۔خوراک اور شہری فراہمی کے وزیر جی آر انیل، ایم پی ششی تھرور، کرناٹک اسمبلی کے اسپیکر U.T.قادر، ایم پی اے اے رحیم، شیواگیری مٹھ کے جنرل سکریٹری سوامی شوبنگانند، میتھیو مار سلوانیوس ایپسکوپا، گرورتھنا جننا تپسوی کے علاوہ کئی سیاسی، سماجی اور مذہبی رہنماؤں نے کانفرنس میں شرکت کی۔
دیش
ہندوستان اور برطانیہ نے سماجی تحفظ کے معاہدے پرکئے دستخط
(پی این این)
نئی دہلی:وزارت خارجہ نے کہا کہ ہندوستان اور برطانیہ نے عارضی بیرون ملک اسائنمنٹس پر ملازمین کے دوہری سماجی تحفظ کے تعاون کو ختم کرنے کے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔پچھلے سال، ہندوستان اور برطانیہ نے ہندوستان-برطانیہ تجارتی معاہدے پر دستخط کرنے کے وقت ایک باہمی دوہری شراکت کنونشن (DCC) پر بات چیت کرنے پر اتفاق کیا تھا۔
وزارت خارجہ کےترجمان رندھیر جیسوال نے کہا، “عارضی بیرون ملک اسائنمنٹس پر ملازمین کی دوہری سماجی تحفظ کی شراکت کو ختم کرتے ہوئے، یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان ہنر کی نقل و حرکت میں مدد کرے گا اور مسابقت میں اضافہ کرے گا۔ہندوستانی ٹیکنالوجی کمپنیاں جیسے ٹی سی ایس اور انفوسس، جو اکثر اسٹاف کو بیرون ملک اسائنمنٹس پر بھیجتی ہیں، اس اقدام سے فائدہ اٹھانے کے لیے تیار ہیں۔معاہدے کے تحت، برطانیہ اور ہندوستان کے درمیان منتقل ہونے والے ملازمین، اور ان کے آجروں جیسے ٹی سی ایس اور انفورسس، کو ایک وقت میں صرف ایک ملک میں سماجی تحفظ کی ادائیگی کی ضرورت ہوگی۔مثال کے طور پر، برطانیہ میں عارضی طور پر کام کرنے والا ہندوستانی ہندوستان اور یوکے دونوں میں ادائیگی کرنے کے بجائے صرف ہندوستان میں ہی سوشل سیکورٹی کنٹریبیوشن جیسے پراویڈنٹ فنڈ ادا کرے گا۔ یہ نہ صرف ‘دوہری ادائیگی’ کے بوجھ سے گریز کرے گا بلکہ اس بات کو بھی یقینی بنائے گا کہ سماجی تحفظ کا ریکارڈ دو دائرہ اختیار کے درمیان تقسیم نہ ہو۔ہندوستان اور برطانیہ کے کئی ممالک کے ساتھ ایسے معاہدے ہیں۔ جہاں ہندوستان کے کم از کم 19 ممالک جیسے کہ جرمنی، سوئٹزرلینڈ، فرانس، ناروے، کینیڈا، آسٹریلیا، جاپان کے ساتھ ایسے معاہدے ہیں، وہیں برطانیہ کے بھی کئی ممالک جیسے کہ امریکہ، جاپان، جنوبی کوریا، یورپی یونین، کینیڈا، اسرائیل اور ترکی کے ساتھ ایسے معاہدے ہیں۔
برطانوی حکومت نے کہا کہ اس طرح کے اثرات کا خالص اثر سرکاری خزانے پر مثبت ہوگا۔”بھارت کے ساتھ ڈی سی سی ڈبل کنٹری بیوشن کنونشن پر بات چیت کرنے پر اتفاق کرتے وقت، حکومت نے وسیع تجارتی معاہدے کے فوائد کو مدنظر رکھا، جس سے برطانیہ کے جی ڈی پی میں ہر سال 4.8 بلین پاونڈ کا اضافہ ہو سکتا ہے اور طویل مدت میں ہر سال یو کے کی اجرتوں میں 2.2 بلین پاونڈ اضافہ ہو سکتا ہے۔
دیش
ہندوستان میں 400 سے زائدہوگئی خلائی اسٹارٹ اپس کی تعداد
(پی این این)
نئی دہلی :اسپیس اسٹارٹ اپس کی تعداد 400 سے زیادہ ہوگئی ہے، جب کہ ایسے اسٹارٹ اپس میں سرمایہ کاری 500 ملین ڈالر سے زیادہ ہوگئی ہے۔وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں کہا کہ دو نجی شعبے کی کمپنیوں نے نومبر 2022 اور مئی 2024 میں ذیلی مدار میں اپنی لانچ گاڑیوں کا تجربہ کیا اور اڑایا۔انہوں نے مزید کہا کہ پی پی پی ماڈل پر ارتھ آبزرویشن (ای او) سیٹلائٹ سیٹلائٹ کا قیام جدت کو فروغ دے گا اور ہماری ہندوستانی اسپیس ٹیک کمپنیوں کے عالمی اعتماد کو بہتر بنائے گا۔پچیس کمپنیاں پہلے ہی POEM جیسے پلیٹ فارم کا فائدہ اٹھا کر خلا کے حقیقی ماحول میں اپنے سیٹلائٹس/سب سسٹم کی جانچ کر رہی ہیں۔
وزیر کے مطابق، ریاستی حکومت خلا کو ایک طلوع سیکٹر کے طور پر دیکھ رہی ہے اور ترغیبی اسکیموں کے ذریعے اس ڈومین میں کمپنیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے فعال پالیسیاں بنا رہی ہے۔ مزید برآں، ہندوستانی خلائی کمپنیاں آہستہ آہستہ عالمی ایرو اسپیس اور خلائی سپلائی چینز میں شامل ہونے لگی ہیں۔”اسٹارٹ اپ انڈیا” پہل کے اعلان کے بعد، جدت کو فروغ دینے اور ملک میں سپورٹ، فنڈنگ اور آسان ریگولیٹری فریم ورک فراہم کرکے ایک مضبوط اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم کی تعمیر کے مقصد کے ساتھ، خلائی ڈومین سے متعلق اسٹارٹ اپس میں شاندار اضافہ ہوا ہے۔
2014 کے بعد ملک میں پروان چڑھنے والے نمایاں خلائی اسٹارٹ اپس ہیں پکسل، دھروو، سکائی روٹ ایرو سپیس، انگلی کُل کوسموس، بیلا ٹرکس ایروسپس وغیرہ۔”اسٹارٹ اپ انڈیا” کو 16 جنوری 2016 کو وزیر اعظم نریندر مودی نے جدت طرازی کو فروغ دینے، انٹرپرینیورشپ کو فروغ دینے اور سرمایہ کاری سے چلنے والی ترقی کو قابل بنانے کے لیے ایک تبدیلی کے قومی پروگرام کے طور پر شروع کیا تھا، جس کا مقصد ہندوستان کو ملازمت کے متلاشیوں کی بجائے نوکری تخلیق کرنے والوں کا ملک بنانا تھا۔
دیش
اردو و دیگر زبانوں میں درسی کتب کی تیاری کیلئے 6 ہزار کروڑ کا بجٹ
مانو میں اردو مصنفین کیلئےورکشاپ کا افتتاح، پروفیسر سید عین الحسن، پرفیسر ویبھا شرما اور چندن شریواستو کا خطاب
(پی این این)
حیدرآباد :”حکومت ہند نے اردو کے بشمول مختلف ہندوستانی زبانوں میں اعلیٰ تعلیمی درسی کتب کی تیاری کے لئے اگلے مالی سال میں چھ ہزار کروڑ روپئے کا بجٹ مختص کیا ہے۔ اس کے ذریعہ 2.5 لاکھ علمی کتابوں کی تیاری کا ہدف ہے۔“ اس بات کا انکشاف ڈاکٹر چندن شریواستو، اکیڈمک کوآرڈینٹر بھارتیہ بھاشا سمیتی (بی بی ایس)، نئی دہلی نے آج مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، حیدرآباد میں اردو مصنفین کے دو روزہ ورکشاپ کے افتتاحی اجلاس بحیثیت مہمان خصوصی آن لائن خطاب کے دوران کیا۔ پروفیسر سید عین الحسن، شیخ الجامعہ نے صدارت کی، پروفیسر ویبھا شرما، شعبہ انگریزی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے بھی مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی۔ پروفیسر اشتیاق احمد، رجسٹرار اور پروفیسر رضاءاللہ خان، ڈائرکٹر مرکز برائے فاصلاتی وآن لائن تعلیم (سی ڈی او ای) مہمان اعزازی تھے۔ پروفیسر خالد مبشر الظفر، ڈائرکٹر ڈائرکٹوریٹ آف ٹرانسلیشن، ٹرانسلیشن اسٹڈیز، لیکسیکوگرافی اینڈ پبلی کیشن نے جو بی بی ایس اردو کے کو آرڈینیٹر بھی ہیں خیر مقدم کیا۔ پروفیسر ابو شہیم خان نے نظامت کے فرائض انجام دیئے۔
اس موقع پر ڈی ٹی ٹی ایل پی کے ذریعہ شائع کردہ پانچ کتب ہیومن بنگی: دی وائس جیرنٹ آف اللہ آن ارتھ (انسان: زمین پر اللہ کا خلیفہ)، مصنف: پروفیسر ایس ایم رحمت اللہ، ہندوستانی علمی نظام، مصنف: پروفیسر محمد مشاہد، ڈاکٹر آفاق ندیم خان، کہت کبیر، مصنف: پروفیسر فیروز عالم، عربی کے اولین سفر ناموں میں ہندوستانی تہذیب وثقافت، مصنف: ڈاکٹر محمد شاکر رضائ، اور پروفیسر سید عین الحسن کی تقاریر کا مجموعہ ”عینات حسن“ مرتب ڈاکٹر محمد شمس الدین کی رسم اجراءبھی عمل میں آئی۔ ڈاکٹر چندن شریواستو نے سلسلہ خطاب جاری رکھتے ہوئے بتایا کہ ”نئی تعلیمی پالیسی (این ای پی) کے تحت حکومت ہند نے بی بی ایس کو جامعات کے لئے نصابی کتابوں کی تیاری کا کام سونپا ہے، اس سلسلہ میں اردو یونیورسٹی کو مختلف مضامین کی اعلیٰ سطحی اردو نصابی کتابوں کی تیاری کی نوڈل ایجنسی مقرر کیا گیا ہے، اور پروفیسر عین الحسن اس کے نوڈل آفیسر ہیں۔“ انھوں نے مزید کہا کہ ”کتابوں کی تیاری کی اسکیم میں 4.5 لاکھ اساتذہ اور ماہرین، ایک ہزار سے زائد اداروں کی خدمات حاصل کی جا رہی ہیں۔ بی بی ایس کتاب یوجنا کے تحت انٹیریکیٹو ای بک کی تیاری پر توجہ دے رہی ہے۔“ ڈاکٹر چندن شریواستو نے بی بی ایس کے تحت اردو کتب کی تیاری میں مانو کے سرگرم رول کی ستائش کی اور اعتراف کیا کہ اردو یونیورسٹی نے ابتداءہی میں جس انداز سے کام کیا ہے وہ دیگر زبانوں کے لئے قابل تقلید ہے۔
پروفیسر سید عین الحسن نے اپنے صدارتی خطاب میں اساتذہ کو مشورہ دیا کہ ”وہ خود کو نصاب تک محدود نہ رکھیں۔ بی بی ایس نے اساتذہ کو اس بات کا موقع فراہم کیا ہے کہ وہ طلبہ کو زائد از نصاب زاویوں سے علمی طور پر مستفید کریں۔“ انھوں نے نشاندہی کی کہ ”این ای پی مانو کے تدریسی ماحول کے لئے نہایت سازگار ہے۔ ہندوستانی علوم کے نظام کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ہماری روایات ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہیں۔“ پروفیسر ویبھا شرما نے اپنے خطاب میں اردو کو انگریزی کی طرح جمہوری اور اشتمالی زبان قرار دیا۔ اردو ہندوستان کی روح کا حصہ ہے۔ پروفیسر شرما نے یاد دلایا کہ ”اردو کی شناخت سے مربوط نمائشی الفاظ کے محض استعمال سے زبان کو اس کا مستحقہ مقام نہیں مل سکتا۔“ انھوں نے ریمارک کیا کہ ”اردو مذہب کی نہیں؛ وطن کی زبان ہے۔“ پروفیسر اشتیاق احمد نے اپنی تقریر میں کہا کہ ”بی بی ایس کے ابتدائی دور میں اردو یونیورسٹی اور شیخ الجامعہ نے نہایت اہم مشاورتی رول ادا کیا۔ اردو کو سنجیدہ اور علمی زبان کے طور پر پیش کرنے کی ضرورت ہے۔
پروفیسر رضاءاللہ خان نے فاصلاتی تعلیم کے حوالہ سے خود اکتسابی مواد (ایس ایل ایم) کی تیاری میں در پیش مسائل کا حوالہ دیا، اور بتایا کہ ”مرکز برائے فاصلاتی وآن لائن تعلیم 426 ایس ایل ایم تیار کر چکا ہے۔“ انھوں نے ریمارک کیا کہ ”بی بی ایس پروجیکٹ مانو کو نہایت صحیح وقت پر ملا ہے۔ اس کے ذریعہ یونیورسٹی آنے والے دنوں میں قومی سطح پر اپنا لوہا منوا لے گی۔“ پروفیسر خالد مبشر الظفر نے افتتاحی کلمات میں کہا کہ ”ورکشاپ اردو زبان کے فکری، تعلیمی اور علمی مستقبل سے مربوط ایک با مقصد اور دور رس قدم ہے۔ اردو زبان میں اعلیٰ تدریسی اور تحقیقی مواد کی تیاری ممکن ہے۔“ اس دوروزہ وکشاپ میں یونیورسٹی کے اساتذہ، ریسرچ اسکالرس اور بیرونی ماہرین ومصنفین کی بڑی تعداد شریک ہے۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر1 year agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
بہار9 months agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
دلی این سی آر1 year agoکجریوال کاپجاری اور گرنتھی سمان اسکیم کا اعلان
-
محاسبہ1 year agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
بہار3 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
