دیش
جھارکھنڈ میں ایس آئی آر سےقبل امارتِ شرعیہ کی ہمہ گیر تربیتی مہم کا آغاز
(پی این این)
رانچی :جیسا کہ معلوم ہے کہ مرکزی حکومت نے ایس آئی آر کے عمل کو تمام ریاستوں کے لیے لازم قرار دیدیا ہے، الگ الگ مراحل میں مختلف ریاستوں کے اندر اس عمل کو انجام دیا جا رہاہے، ریاست جھارکھنڈ میں بھی ایس آئی آر ہونا ہے، لہذا عوام کی سہولت کی خاطر مولانا احمد ولی فیصل رحمانی امیرِ شریعت بہار، اڑیسہ، جھارکھنڈ و مغربی بنگال نے اپنے پیغام میں کہا کہ موجودہ حکومت نے بلا ضرورت ایس آئی آر کو نافذ کیا ہے اور عوامی احتجاج کے باوجود اسے نافذ العمل رکھا گیا، حالانکہ اس کے پسِ پشت ارباب حکومت کی نیت درست نہیں ہے۔ چونکہ مستقبل میں ووٹر آئی ڈی کو شہریت سے جوڑا جائے گا اور معمولی غلطی پر بھی شہریت پر سوال اٹھ سکتے ہیں، اس لیے جھارکھنڈ میں ایس آئی آر کے آغاز سے پہلے ہی عوام کو مکمل طور پر باخبر کرنا ضروری ہے۔ اسی مقصد کے تحت امارتِ شرعیہ بہار اڑیسہ و جھارکھنڈ نے ایک وفد تشکیل دیا ہے؛ جو ڈیڑھ ماہ تک ریاست کے تمام اضلاع میں بالترتیب نوجوانوں کو عملی اور قانونی تربیت فراہم کرے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ نوجوان کم پڑھے لکھے اور عام لوگوں کی مدد کے لیے آگے آئیں۔ آخر میں انہوں نے تمام شہریوں سے اپیل کی کہ ذات، قبیلہ اور مذہب سے بالاتر ہو کر محض اپنی شہریت کے تحفظ کے لیے اس تربیتی مہم میں بھرپور شرکت کریں۔
امیر شریعت کا مذکورہ پیغام مرکزی دار القضا ءامارتِ شرعیہ بہار، اڑیسہ، جھارکھنڈ کے قاضی شریعت مولانا مفتی محمد انظار عالم قاسمی نے پڑھ کر سنایا اس کے بعد معاون ناظم امارت شرعیہمولانا احمد حسین قاسمی مدنی صاحب نے مسافر خانہ ہال انجمن اسلامیہ رانچی میں منعقد ہ پریس کانفرنس میں موجود اخبارات اور ڈیجیٹل میڈیاکے نمائندوں سے کہا ہے کہ امیرِ شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی کی ہدایت ہے کہ ریاستِ جھارکھنڈ میں ایک جامع، منظم اور ہمہ گیر تربیتی مہم کا آغاز کیا جا ئے، جس کا مقصد پورے جھارکھنڈ میں ایک ایسی تربیت یافتہ ٹیم تیار کرنا ہے جو بلا تفریق مذہب و ملت عوام کی ایس آئی آر، پیرنٹل میپنگ، فارم 6 اور فارم 8 کے معاملے میں تعاون کرسکے تاکہ جب ایس آئی آر کا مرحلہ شروع ہو تو ریاست میں کوئی شہری ایس آئی آر کے زمرے سے باہر نہ رہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس مہم کے تحت پیرنٹل میپنگ اور فارم نمبر 6، 7 اور 8 کے تعلق سے عوام میں مکمل اور عملی آگاہی پیدا کی جائے گی، تاکہ ایس آئی آر کے وقت جھارکھنڈ کا کوئی بھی شہری انتخابی فہرست سے محروم نہ رہ جائے اور کسی فرد کا نام ووٹر لسٹ میں درج ہونے سے چھوٹنے نہ پائے۔
پوری ریاست کے تمام اضلاع کے بلاکوں میں امارت شرعیہ کے حضرات قضاۃ کی نگرانی میں ترتیب وار مختلف تاریخوں میں تربیتی ورکشاپ کا نظام بنایا گیا ہے جہاں بڑی تعداد میں نوجوان طبقہ اور سماجی کارکنان امارت شرعیہ کے اس وفد کے ذریعے SIR سے متعلق بنیادی معلومات حاصل کر سکیں گےاور کام کرنے کا صحیح طریقہ جانیں گے جس سے انہیں ایس آئی آر کے مرحلوں میں فارم بھرنے میں مدد ملے گی۔مزیدانہوں نے کہا کہ حضرت امیرِ شریعت کے حکم کے مطابق اس مہم کے تحت پورے ایک ماہ ریاست کے ہر بلاک میں پہنچ کر تیار شدہ مواد کی مدد سے پروجیکٹر کے ذریعےنوجوانوں کی عملی تربیت کے لیے خصوصی ورکشاپس منعقد کی جائیں گی، جن میں تعلیم یافتہ، باشعور اور سماجی خدمت کا جذبہ رکھنے والے نوجوانوں کو عملی میدان میں مؤثر کردار ادا کرنے کے لیے تیار کیا جائے گا،اور اس تربیتی مہم میں قبائلی برادریوں مثلاً سنتھالی، اُراؤں، ہو، منڈا، کھڑیا کو بھی ان شاءاللہ ٹریننگ دی جائے گی۔
اس موقع پر منعقدہ پریس کانفرنس میں مختلف ملی جماعتوں کے نمائندوں میں سے، حاجی شاہ عمیر جنرل سکریٹری جمعیت علماء (میم)،ساجد انصاری ذمہ دار جماعت اسلامی شہر رانچی، مولانا شفیق عالیاوی ذمہ دار جمعیت اہل حدیث،مختار احمد صدر انجمن اسلامیہ رانچی، ڈاکٹر طارق حسین سکریٹری انجمن اسلامیہ رانچی، تہذیب الحسن نمائندہ شیعہ جماعت، مولانا صابر حسین مظاہری صدر مجلس علماء جھارکھنڈاور افضل انیس یونائٹیڈ ملی فورم موجود تھے۔
دیش
ہندوستان میں آئی فون فیکٹریوں میں 1 لاکھ سے زائد خواتین کرتی ہیں کام
(پی این این)
نئی دہلی: الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ میں بڑے پیمانے پر روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے ساتھ، خواتین حکومت کے ‘ میک ان انڈیا’ اقدام سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والوں میں سے ابھری ہیں، مرکزی الیکٹرانکس اور آئی ٹی وزیر، اشونی وشنو نے پیر کو یہ اطلاع دی ۔ وزیر نے کہا کہ ہندوستان میں آئی فون مینوفیکچرنگ کی سہولیات میں ایک لاکھ سے زیادہ خواتین کام کرتی ہیں، جبکہ خواتین کارکنان بھی انتہائی پیچیدہ سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ پلانٹس میں اپنا حصہ ڈال رہی ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کو لے کر، وزیر نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کا ‘ میک ان انڈیا’ پروگرام الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ سیکٹر میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کرکے خواتین کو بااختیار بنا رہا ہے۔ “وزیراعظم شری نریندر مودیجی کا ‘ میک ان انڈیا’ خواتین کو بااختیار بنا رہا ہے۔ الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ خواتین کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کر رہی ہے۔وزیر کے مطابق ملک بھر میں الیکٹرونکس مینوفیکچرنگ پلانٹس میں نصف سے زیادہ افرادی قوت خواتین پر مشتمل ہے۔
فروری کے شروع میں، ویشنو نے کہا تھا کہ خواتین ‘ میک ان انڈیا’ پہل سے سب سے زیادہ مستفید ہوئی ہیں، جس نے لاکھوں براہ راست اور بالواسطہ ملازمتیں پیدا کی ہیں جبکہ بڑے پیمانے پر ہنر مندی کے مواقع بھی فراہم کیے ہیں۔دریں اثنا، صرف ایپل کے ماحولیاتی نظام نے ہندوستان میں تقریباً 2.5 لاکھ براہ راست ملازمتیں پیدا کی ہیں، جن سے فائدہ اٹھانے والوں میں سے تقریباً 70 فیصد خواتین ہیں۔ امریکی ٹیک کمپنی ایپل نے ہندوستان میں اپنے مینوفیکچرنگ فٹ پرنٹ کو نمایاں طور پر بڑھایا ہے۔
رپورٹس کے مطابق، کمپنی نے 2025 میں ملک میں آئی فون کی پیداوار میں تقریباً 53 فیصد اضافہ کیا، جو کہ ایک سال پہلے 36 ملین یونٹس کے مقابلے میں تقریباً 55 ملین یونٹس کو اسمبل کیا۔ ایپل فی الحال بھارت میں اپنے فلیگ شپ آئی فونز کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ مینوفیکچرنگ کو متنوع بنانے اور چین پر محصولات سے بچنے کی حکمت عملی کے طور پر تیار کرتا ہے۔عالمی سطح پر، ایپل ہر سال تقریباً 220-230 ملین آئی فونز تیار کرتا ہے، جس میں ہندوستان کا حصہ مسلسل بڑھتا ہے، جو بڑی حد تک حکومت کی پیداوار سے منسلک ترغیب (PLI) اسکیم سے چلتا ہے۔
دیش
کمال مولا مسجد – بھوج شالہ تنازعہ: ہائی کورٹ کے جج متنازعہ مقام کاکریں گے دورہ
(پی این این)
اندور:ہائی کورٹ کی اندور بنچ نے پیر کو مدھیہ پردیش کے دھار ضلع میں بھوج شالا کیس کی سماعت کی۔ جسٹس وجے کمار شکلا اور آلوک اوستھی پر مشتمل بنچ نے اعلان کیا کہ اگلی سماعت 2 اپریل کو ہوگی۔ اندور بنچ نے یہ بھی کہا کہ 2 اپریل کی سماعت سے پہلے ہائی کورٹ کے جج بھوج شالہ کا معائنہ کریں گے۔ درخواست گزاروں کو پہلے سنا جائے گا، اس کے بعد فریقین۔ تاہم سماعت کے دوران مسلم فریق نے سروے رپورٹ پر اعتراض کیا۔
ہائی کورٹ نے کہا کہ سماعت کے دوران یہ بھی اٹھایا گیا کہ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق کیس کی جلد سے جلد سماعت کی جائے، لیکن مداخلت کاروں کی مداخلت سے سماعت میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ اس لیے فریقین کے بعد ان کی آخری سماعت کی جائے گی۔ سماعت کے دوران اے ایس آئی کی جانب سے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل سنیل جین عدالت میں موجود تھے۔ ریاستی حکومت کی طرف سے ایڈوکیٹ جنرل پرشانت سنگھ پیش ہوئے۔ ایڈوکیٹ وشنو شنکر جین نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے کارروائی میں حصہ لیا۔
سماعت کے دوران سینئر وکیل شوبھا مینن بھی عدالت میں موجود تھیں۔ اس کے علاوہ ہندو مورچہ کی طرف سے عرضی گزار آشیش گوئل اور ایڈوکیٹ ونے جوشی موجود تھے۔ بھوج شالا معاملے میں کئی لوگوں نے عرضیاں دائر کی ہیں۔ ان میں قاضی جاک اللہ، انتر سنگھ اور دیگر، مولانا کمال الدین ویلفیئر سوسائٹی (دھر) کے عبدالصمد خان، کلدیپ تیواری، اور ہندو فرنٹ فار جسٹس کی صدر رنجنا اگنی ہوتری شامل ہیں۔
23 فروری کو سماعت کے دوران، ہائی کورٹ نے تمام عرضی گزاروں اور جواب دہندگان کو ہدایت دی کہ وہ اپنے اعتراضات اور تجاویز کو آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) کی سروے رپورٹ کو دو ہفتوں کے اندر پیش کریں۔ جمع کرائے گئے جوابات کی بنیاد پر مزید کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔ ہائی کورٹ کے حکم کے بعد، اے ایس آئی نے 22 مارچ 2024 سے شروع ہونے والے تقریباً 100 دنوں تک کمپلیکس اور 50 میٹر کے دائرے کے اندر تحقیقات، سروے، اور محدود کھدائی کی۔
گزشتہ سماعت کے دوران عدالت نے نوٹ کیا کہ اے ایس آئی کی رپورٹ پہلے ہی کھولی جا چکی ہے۔ درخواست گزاروں کو کاپیاں فراہم کر دی گئی ہیں۔ اس لیے عدالت کے سامنے دوبارہ رپورٹ کو سیل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہائی کورٹ نے تمام فریقین کو ہدایت کی کہ وہ اگلی سماعت سے قبل اے ایس آئی کی 98 روزہ سائنسی تحقیقاتی رپورٹ پر اپنے تحریری اعتراضات اور تجاویز پیش کریں۔
ہندو فرنٹ فار جسٹس کی نمائندگی کرنے والے ایڈوکیٹ ونے جوشی نے کہا، “عدالت کی ہدایت کے مطابق، ہم اے ایس آئی کی رپورٹ پر دو ہفتوں کے اندر اپنے اعتراضات اور تجاویز پیش کریں گے۔ کیس کی اگلی سماعت 16 مارچ کو ہوگی۔” 22 جنوری کو سپریم کورٹ نے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی اندور بنچ کو تین ہفتوں کے اندر سماعت آگے بڑھانے کی ہدایت دی۔ اس سے قبل، سروے کے بعد قانونی عمل کو عارضی طور پر روک دیا گیا تھا۔ اس سٹے کو اب ختم کر دیا گیا ہے، جس سے رپورٹ پر سماعت کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
واضح رہے کہ بھوج شالا تنازعہ کیس کو پہلے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی اندور بنچ سے جبل پور کی پرنسپل بنچ کو منتقل کر دیا گیا تھا۔ اس کیس میں عبادت کے حق اور نماز پڑھنے کی اجازت سے متعلق آئینی سوالات شامل ہیں۔ چیف جسٹس سنجیو سچدیوا اور جسٹس ونے صراف کی ڈویژن بنچ نے 18 فروری کو اس معاملے کی سماعت کی۔ سماعت کے بعد عدالت نے کیس کو اندور ڈویژن بنچ کو واپس منتقل کرنے کا حکم دیا۔
دیش
ممبئی میں بھائی چارہ اور مذہبی ہم آہنگی کی خوبصورت مثال، ہندو ڈاکیہ مسلم پڑوسیوں کے ساتھ رکھتا ہےروزہ
(پی این این)
ممبئی:ممبئی کو ہمیشہ سے ایک کاسموپولیٹن شہر کے طور پر جانا جاتا ہے جہاں مختلف مذاہب، زبانوں اور ثقافتوں کے لوگ ایک ساتھ مل جل کر زندگی گزارتے ہیں۔ اس شہر کی شناخت صرف اس کی معاشی سرگرمیوں یا تیز رفتار زندگی سے نہیں بلکہ یہاں کے عوام میں پائی جانے والی بھائی چارہ، رواداری اور مذہبی ہم آہنگی کی روایات سے بھی ہوتی ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں رہنے والے لوگ ایک دوسرے کے مذہبی تہواروں اور خوشیوں میں شریک ہو کر ایک مثالی معاشرتی ہم آہنگی کی تصویر پیش کرتے ہیں۔ اسی جذبۂ خیر سگالی کی ایک خوبصورت مثال ممبئی کے نواحی علاقے کلیان سے سامنے آئی ہے جہاں ایک ہندو ڈاکیہ اپنے مسلم پڑوسیوں کے ساتھ رمضان کا روزہ رکھ کر مذہبی بھائی چارے کا پیغام دے رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق محکمہ ڈاک میں خدمات انجام دینے والے پوسٹ مین پنڈلک ٹھاکر گزشتہ کئی دہائیوں سے کلیان میں مقیم ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بچپن ہی سے ان کے پڑوس میں کئی مسلم خاندان آباد رہے ہیں اور ان کی دوستی کا دائرہ بھی بڑی حد تک مسلم دوستوں پر مشتمل رہا ہے۔ اسی میل جول اور باہمی تعلقات کی وجہ سے مختلف مذاہب کے لوگوں کے درمیان محبت اور اعتماد کا رشتہ مضبوط ہوتا گیا۔پنڈلک ٹھاکر بتاتے ہیں کہ ان کے محلے میں ہندو اور مسلمان خاندان ایک دوسرے کے تہواروں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ دیوالی، گنیش چتُرتھی، عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ جیسے مواقع پر محلے کے لوگ ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے ہیں اور خوشیوں میں شریک ہوتے ہیں۔ یہی ماحول انہیں ہمیشہ سے متاثر کرتا رہا اور اسی کے نتیجے میں انہوں نے رمضان المبارک کے روزے رکھنے کا تجربہ بھی کیا۔
وہ کہتے ہیں کہ ماہِ رمضان کے روزے رکھنا انہیں روحانی طور پر بہت اچھا لگتا ہے اور اس سے انہیں اپنے مسلم پڑوسیوں کے مذہبی جذبات کو سمجھنے کا موقع بھی ملتا ہے۔ تاہم روزانہ روزہ رکھنا ان کے لیے آسان نہیں کیونکہ انہیں روزانہ کلیان سے ممبئی تک تقریباً ساٹھ کلومیٹر کا سفر طے کرنا پڑتا ہے۔ صبح سویرے لوکل ٹرین کے ذریعے ممبئی پہنچ کر انہیں پورا دن ڈاک کی تقسیم کا کام بھی انجام دینا ہوتا ہے۔اسی مصروفیت کے باعث وہ گزشتہ تقریباً پندرہ برس سے رمضان کے آخری جمعہ، جسے عموماً جمعہ الوداع کہا جاتا ہے، کے موقع پر روزہ رکھتے ہیں۔ اس دن وہ اپنے مسلم پڑوسیوں کے ساتھ سحری کے لیے جاگتے ہیں اور سحری کے بعد جلدی اپنی ڈیوٹی کے لیے روانہ ہو جاتے ہیں۔ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ اس دن ڈاک کی تقسیم کا کام جلد مکمل کر کے شام تک واپس کلیان پہنچ جائیں تاکہ محلے کے دوستوں اور پڑوسیوں کے ساتھ مل کر افطار کر سکیں۔
پنڈلک ٹھاکر کے مطابق روزہ رکھنے کا تجربہ انہیں صبر، ضبط اور دوسروں کے احساسات کو سمجھنے کا سبق دیتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب وہ اپنے مسلم پڑوسیوں کے ساتھ سحری اور افطار میں شریک ہوتے ہیں تو انہیں ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے پورا محلہ ایک ہی خاندان کا حصہ ہو۔ ان کے بقول یہی جذبہ ممبئی کی اصل روح ہے۔مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ پنڈلک ٹھاکر کا یہ عمل صرف ایک شخصی روایت نہیں بلکہ اس شہر کی دیرینہ ثقافت کا مظہر ہے۔ محلے کے بزرگوں کے مطابق ممبئی میں دہائیوں سے مختلف مذاہب کے لوگ ایک دوسرے کے تہواروں میں شرکت کرتے رہے ہیں۔ رمضان میں غیر مسلم پڑوسی افطار میں شریک ہوتے ہیں جبکہ تہواروں کے موقع پر مسلمان بھی اپنے ہندو دوستوں کے ساتھ خوشیاں بانٹتے ہیں۔
سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات اس بات کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ ممبئی صرف معاشی دارالحکومت ہی نہیں بلکہ سماجی ہم آہنگی کا بھی ایک اہم مرکز ہے۔ ماضی میں بھی اس شہر نے مشکل حالات میں اتحاد اور یکجہتی کی مثالیں پیش کی ہیں اور آج بھی عام شہری اپنے طرزِ عمل سے اس روایت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ماہرینِ سماجیات کے مطابق ملک کے مختلف حصوں میں مذہبی اختلافات کی خبریں سامنے آتی رہتی ہیں، مگر اس کے باوجود ہندوستان کے کئی شہروں میں عام لوگ عملی طور پر بھائی چارہ اور رواداری کی مثال قائم کرتے ہیں۔ ان میں پنڈلک ٹھاکر جیسے افراد شامل ہیں ۔بزرگوں کا کہنا ہے کہ ممبئی کی گلیوں اور محلوں میں ایسے بے شمار واقعات موجود ہیں جو اس شہر کی خیر سگالی اور ہم آہنگی کی فضا کو ظاہر کرتے ہیں۔ کلیان کے ایک محلے میں ہندو ڈاکیہ کا اپنے مسلم پڑوسیوں کے ساتھ روزہ رکھنا بھی اسی روایت کی ایک دلکش مثال ہے، جو یہ ثابت کرتی ہے کہ باہمی احترام اور محبت کے ذریعے مختلف مذاہب کے لوگ نہ صرف ساتھ رہ سکتے ہیں بلکہ ایک دوسرے کی خوشیوں اور عبادتوں میں بھی شریک ہو سکتے ہیں۔یہی وہ جذبہ ہے جو ممبئی کو صرف ایک شہر نہیں بلکہ ایک مشترکہ تہذیب اور بھائی چارے کی علامت بناتا ہے۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر1 year agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
بہار4 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
بہار10 months agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ1 year agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
دلی این سی آر1 year agoکجریوال کاپجاری اور گرنتھی سمان اسکیم کا اعلان
