Connect with us

بہار

سیتامڑھی میں ڈسٹرکٹ یوتھ فیسٹیول کا آغاز

Published

on

(پی این این)
سیتامڑھی:بہار کے سیتا مڑھی ضلع کے کملا گرلز ہائی اسکول میں منعقد ہونے والے ڈسٹرکٹ یوتھ فیسٹیول کا افتتاح ضلع مجسٹریٹ رچی پانڈے نے کیا۔ اس موقع پر موجود ضلع مجسٹریٹ نے کہا کہ ڈسٹرکٹ یوتھ فیسٹیول مختلف فنون لطیفہ کے ہنر کے لیے ایک اچھا پلیٹ فارم ہے، خاص طور پر دور دراز علاقوں میں رہنے والوں کے لیے۔ کامیاب شرکاء کو ریاستی یوتھ فیسٹیول میں حصہ لینے کا موقع ملے گا، جس سے وہ ریاستی اور قومی سطح پر اپنے فن کا مظاہرہ کر سکیں گے۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے شرکاء پر زور دیا کہ وہ گروپ لوک گیتوں، گروپ ڈانس، شاعری لکھنے، کہانی سنانے، مصوری، تقریر اور اختراعی سائنس میں حصہ لے کر اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں۔
انہوں نے ضلع کی ثقافت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ سیتامڑھی کی سرزمین لوک ثقافت کی سرزمین ہے۔ گانے اور موسیقی کے آلات کی ایک بھرپور لوک روایت بھی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ضلع سطح کے یوتھ فیسٹیول میں تمام شعبوں میں قابل شرکاء کا انتخاب کیا جائے گا، جو ریاستی اور قومی سطح پر ضلع کا نام روشن کریں گے۔ کامیاب شرکاء کے انتخاب کے لیے سلیکشن کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ تمام منتخب کامیاب شرکاء ریاستی سطح کے یوتھ فیسٹیول میں حصہ لیں گے۔ محکمہ آرٹس، کلچر اینڈ یوتھ، حکومت بہار اور ضلع انتظامیہ کے مشترکہ زیر اہتمام منعقدہ ضلع سطح کا یوتھ فیسٹیول 5 دسمبر کو ختم ہونے والا ہے۔ اس موقع پر ضلع مجسٹریٹ نے شرکاء کی حوصلہ افزائی کی اور ان کے روشن مستقبل کی خواہش کی۔ ضلع مجسٹریٹ نے بچوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے انہیں کسی قسم کی پریشانی سے بچنے کی تلقین کی۔
ضلع سطح کے یوتھ فیسٹیول میں بھرپور جوش و خروش کے ساتھ شرکت کریں۔ وہ جس بھی نظم و ضبط میں حصہ لیتے ہیں اس میں اپنی پوری کوشش کرنے کی کوشش کریں۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے ان پر زور دیا کہ وہ انٹرنیٹ کے ذریعے قیمتی اسباق سیکھیں، ٹیکنالوجی کو دانشمندی سے استعمال کریں، اور اپنے خوابوں کو پورا کرنے کے لیے اس کا استعمال کریں۔ انہیں اپنی پوری کوشش کرنی چاہیے اور جو بھی نتائج حاصل ہوں اسے قبول کرنا چاہیے۔ ڈی ڈی سی سندیپ کمار، ایڈیشنل کلکٹر سنجیو کمار، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر، ضلع پبلک ریلیشن آفیسر، جنرل برانچ انچارج آفیسر آشوتوش سریواستو، اور دیگر متعلقہ افسران موجود تھے۔ پروگرام کی نظامت نونیت کمار اور ایس این جھا نے کی۔ضلع سطحی یوتھ فیسٹیول 2025 کے حصہ کے طور پر گوسائی پور میں SIT میں سائنس میلے کا انعقاد کیا گیا۔ ضلع مجسٹریٹ رچی پانڈے نے میلے کا افتتاح کیا۔
میلے میں ضلع کے مختلف اسکولوں کے 15-29 سال کی عمر کے شرکاء نے شرکت کی۔ شرکاء نے ماحولیاتی تحفظ، قابل تجدید توانائی، پانی کے انتظام، روبوٹکس، ڈیجیٹل اختراعات، اور زرعی ٹیکنالوجی سمیت مختلف موضوعات پر جدید اور کارآمد پروجیکٹس کی نمائش کی۔ افتتاح کے بعد ضلع مجسٹریٹ نے بچوں کے تیار کردہ ماڈلز کا معائنہ کیا اور ان کی اختراع کی تعریف کی۔ ضلع مجسٹریٹ نے کہا کہ ضلع کے نوجوان بے پناہ صلاحیتوں کے مالک ہیں۔ سائنس میلہ ان کی مہارتوں، تخلیقی صلاحیتوں اور اختراعات کے لیے ایک پلیٹ فارم مہیا کرتا ہے۔ ہندوستان کا مستقبل ان سائنسی ذہن رکھنے والے بچوں کے ہاتھ میں ہے۔ انتظامیہ اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کرتی ہے کہ ایسی تقریبات کے ذریعے بچوں کو سیکھنے، سمجھنے اور ترقی کرنے کے مواقع ملتے رہیں۔بہترین پروجیکٹس بنانے والے شرکاء کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ضلع مجسٹریٹ نے ان پر زور دیا کہ وہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں اپنی سوچ کو وسیع کریں اور تحقیق پر مبنی تعلیم کی طرف بڑھیں۔

بہار

دربھنگہ :عید، رام نومی اور چیتی درگا پوجا کے پیش نظر انتظامیہ الرٹ

Published

on

(پی این این)
جالے: عید، رام نومی اور چیتی درگا پوجا کو پُرامن، محفوظ اور باہمی ہم آہنگی کے ساتھ مکمل کرانے کے لیے سمری تھانہ احاطہ میں امن کمیٹی کی ایک اہم میٹنگ منعقد ہوئی، جس میں سیکورٹی انتظامات، انتظامی تیاریوں اور پوجا کمیٹیوں کے ساتھ تال میل کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
صدر ایس ڈی پی او ایس کے سمن نے ہدایت دی کہ حساس اور بھیڑ بھاڑ والے علاقوں کی نشاندہی کر کے وہاں خصوصی چوکس رہیں۔ انہوں نے کہا کہ تہوار کے دوران کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے بچنے کے لیے پولیس فورس کی مناسب تعیناتی یقینی بنائی جائے گی۔ ساتھ ہی ڈی جے چلانے والوں کو نوٹس دے کر تیز آواز والے باجے پر مکمل پابندی عائد کرنے کا حکم دیا گیا۔
تھانہ صدر اروند کمار نے کہا کہ پوجا مقامات پر تعینات مجسٹریٹ اور پولیس افسران اپنے اپنے علاقوں میں مسلسل گشت کرتے رہیں گے اور حالات پر نظر رکھیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تیز آواز والے ڈی جے پر مکمل پابندی رہے گی اور دفعہ 109 کے تحت سیکڑوں افراد پر باؤنڈ ڈاؤن کی کارروائی کی جائے گی۔
میٹنگ میں یہ بھی فیصلہ لیا گیا کہ رام نومی جلوس کے راستوں، پوجا مقامات اور عید کی نماز کے اہم مقامات پر خصوصی سیکورٹی انتظامات کیے جائیں گے۔ اہم چوک چوراہوں، جلوس کے راستوں اور بھیڑ بھاڑ والے علاقوں میں سی سی ٹی وی کے ساتھ ساتھ ڈرون کے ذریعے نگرانی کی جائے گی، جبکہ پولیس کنٹرول روم کو بھی فعال رکھا جائے گا تاکہ اطلاعات کی فوری نگرانی اور تال میل برقرار رکھا جا سکے۔
اجلاس میں سوشل میڈیا پر کڑی نظر رکھنے کی بھی ہدایت دی گئی اور کہا گیا کہ کسی بھی افواہ یا اشتعال انگیز پوسٹ کے ذریعے سماجی ہم آہنگی کو خراب کرنے والوں کے خلاف فوری قانونی کارروائی کی جائے گی۔ 19 مارچ کو سیمری درگا استھان سے نکلنے والی کلش شوبھا یاترا کے سلسلے میں بھی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔اس کے ساتھ ہی صحت اور بجلی محکمہ کو ہدایت دی گئی کہ تہوار کے دوران صفائی، پینے کے پانی، روشنی اور ٹریفک نظام کی بہتر انتظامی سہولتیں یقینی بنائی جائیں۔
میٹنگ میں امن کمیٹی کے ارکان مکھیا دنیش مہتو، منوج سنگھ، سرپنچ اشوک پاسوان، کلیم الدین راہی، گوپال سنہا، پردیومن شریواستو، امجد عباس، لالن پاسوان، رام بابو ساہ، قیصر خان، محمد اجالے، ستو ٹھاکر سمیت دیگر افراد موجود تھے، جبکہ ریونیو افسر منوج کمار، داروغہ دھرمیندر کمار، مہیش کمار، للت سہنی، اصغر علی، سوجیت کمار، سنیل ساہ اور مہیش دوبے بھی شریک تھے۔

Continue Reading

بہار

عقیدت و احترام کے ساتھ ادا کی گئی جمعۃ الوداع کی نماز

Published

on

(پی این این)
سیتامڑھی:ماہِ رمضان المبارک کے آخری جمعہ یعنی الوداع جمعہ کے موقع پر سیتامڑھی میں مسلمانوں نے بڑے جوش و خروش اور عقیدت کے ساتھ نماز ادا کی۔ اس موقع پر ہر عمر کے لوگوں میں خاصا جوش دیکھا گیا، خصوصاً بچوں میں الوداع جمعہ کی نماز کو لے کر خاصا جذبہ نظر آیا۔اس کے ساتھ ہی مسلم معاشرے میں عیدالفطر کی تیاریوں میں بھی تیزی آ گئی ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ عیدالفطر 20 مارچ یا 21 مارچ کو منائی جا سکتی ہے۔
الوداع جمعہ کی نماز کے موقع پر علما نے بتایا کہ اسلام میں جمعہ کا دن بہت اہمیت رکھتا ہے اور ماہِ رمضان میں اس کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ جمعہ کو چھوٹی عید کا درجہ حاصل ہے۔ اس سال ماہِ رمضان میں مسلمانوں کو چار جمعہ ادا کرنے کا موقع ملا، جبکہ رمضان کے آخری جمعہ کو الوداع جمعہ کہا جاتا ہے۔اس موقع پر مولانا محمد مظہر قاسمی نے بتایا کہ الوداع جمعہ دراصل رمضان المبارک 2026 کی رخصتی کی علامت ہے۔ رمضان کے آخری جمعہ کو مسلمان خوشی اور عقیدت کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔
نماز کے لیے لوگ نئے کپڑے پہن کر مساجد پہنچے۔ خاص طور پر بچوں نے رنگ برنگے نئے لباس پہن کر مختلف مساجد میں نماز ادا کی، جس سے ایک خوشگوار اور روحانی ماحول دیکھنے کو ملا۔ بزرگوں کے ساتھ بچے بھی جوق در جوق مساجد کی طرف جاتے نظر آئے۔الوداع جمعہ کے موقع پر معاشرے میں امن، بھائی چارہ اور باہمی محبت کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔
اس موقع پر مدرسہ رحمانیہ مہسول کے سابق صدر محمد ارمان علی، فیاض عالم عرف سونو بابو، محمد بشارت کریم گلاب، حاجی محمد حشمت حسین، مولانا محمد سہراب، امام خورشید عالم، عبدالودود، محمد جوہر علی تاج، ارشد سلیم، حافظ محمد نظام، محمد مرتضیٰ، محمد علیم اللہ، محمد افروز عالم، توقیر انور عرف سکند، محمد مظہر علی راجہ، حاجی عبداللہ رحمانی، محمد جنید عالم، محمد سہیل اختر، عطااللہ رحمانی سمیت سینکڑوں افراد موجود تھے۔
اس دوران مدرسہ رحمانیہ مہسول کی مسجد کے امام مولانا محمد مظہر قاسمی نے اپنے خطاب میں کہا کہ مسلمان عام دنوں کے مقابلے میں ماہِ رمضان میں زیادہ عبادت کرتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ شریعت میں الوداع جمعہ کی کوئی الگ یا خصوصی فضیلت بیان نہیں کی گئی ہے، تاہم چونکہ یہ عیدالفطر سے پہلے آنے والا آخری جمعہ ہوتا ہے، اس لیے خود بخود اس کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ عظمت، برکت، رحمت اور مغفرت کا بابرکت مہینہ رمضان اب ہم سے رخصت ہونے والا ہے اور دوبارہ آئندہ سال ہی نصیب ہوگا۔ رمضان کے آخری عشرے کو خاص اہمیت حاصل ہے کیونکہ اسے مغفرت کا عشرہ کہا جاتا ہے۔

Continue Reading

بہار

دوسری شادی کی افواہ : دلہا اور باراتی بنائے گئے یرغمال

Published

on

(پی این این)
جالے: سنگھواڑہ تھانہ حلقہ کے کلی گاؤں کے مہادلت ٹولہ میں ایک شادی کی تقریب اس وقت سنسنی خیز موڑ اختیار کر گئی جب دلہے کی دوسری شادی کی افواہ پھیل گئی۔ شادی کے گیتوں اور خوشیوں کے ماحول کے درمیان مورَو گاؤں سے آنے والی بارات کا استقبال کیا گیا اور باراتیوں کی خاطر مدارت کے بعد جب جے مالا کی رسم ہونے والی تھی تو اچانک دلہے کی پہلے سے شادی شدہ ہونے کی خبر پھیل گئی، جس کے بعد پنڈال میں افرا تفری مچ گئی۔
اطلاع ملتے ہی لڑکی والوں اور مقامی لوگوں نے دلہا اور اس کے قریبی رشتہ داروں کو روک لیا اور باراتیوں کو یرغمال جیسی حالت میں رکھا۔ بتایا جاتا ہے کہ مورَو گاؤں کے باشندہ شیو منگل رام کے بیٹے سریندر کمار بارات لے کر کلی گاؤں پہنچے تھے۔ شادی کی رسمیں جاری تھیں کہ اسی دوران خبر آئی کہ دلہے کی پہلے راجستھان میں شادی ہو چکی ہے۔ یہ سنتے ہی لڑکی نے شادی سے صاف انکار کر دیا اور معاملہ بگڑ گیا۔
اس دوران کچھ باراتی موقع پا کر نکل گئے، لیکن دلہا، اس کے والد اور چند قریبی رشتہ داروں کو گاؤں والوں نے روک لیا۔ بعد میں دونوں فریقوں کے درمیان پنچایتی سطح پر بات چیت ہوئی اور لڑکی والوں کے اخراجات اور دیے گئے سامان کی واپسی پر غور کیا گیا۔ اگلی صبح دلہے کے والد نے شادی کے موقع پر لڑکی والوں کی طرف سے دی گئی اشیاء واپس کر دیں، جس کے بعد بارات بغیر دلہن کے ہی مورَو گاؤں لوٹ گئی۔
اس واقعہ کی خبر کلی گاؤں سے لے کر مورَو اور آس پاس کے علاقوں میں موضوعِ بحث بن گئی۔ بعد میں معلوم ہوا کہ لڑکا راجستھان میں ایک کمپنی میں کام کرتا تھا جہاں اس نے ایک لڑکی سے محبت کی شادی کی تھی، مگر وہ لڑکی ایک ماہ بعد اسے چھوڑ کر چلی گئی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ واقعہ تقریباً چار سال پرانا تھا۔ شادی کی رات کسی نے یہی بات افواہ کے طور پر لڑکی والوں تک پہنچا دی، جس سے پوری تقریب میں رنگ میں بھنگ پڑ گیا۔
بعد ازاں حقیقت جاننے کے لیے کلی گاؤں کے کچھ لوگ مورَو گاؤں پہنچے اور دلہا اور اس کے والد سے تفصیلی بات چیت کی۔ صورتحال واضح ہونے کے بعد لڑکی والوں نے اسی لڑکے سے شادی کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی۔ اس کے بعد 12 مارچ کی شام دوبارہ عزت و احترام کے ساتھ لڑکے والوں کو بلایا گیا، کھانے پینے کا انتظام کیا گیا اور باقی ماندہ رسمیں مکمل کرائی گئیں۔بالآخر جمعہ کی صبح گاجے باجے کے ساتھ دلہا دلہن کی رخصتی کر دی گئی اور بارات خوشی کے ساتھ واپس روانہ ہوگئی۔ یہ انوکھا واقعہ پورے علاقے میں موضوع گفتگو بنا ہوا ہے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network