انٹر نیشنل
نئی نسل کیلئے نئے سفر کی وضاحت کرے گا AI
افتتاحی ٹورائز سمٹ کے موقع پر لانچ کیا گیا، نیو کوڈز آف لگژری: ایلیوٹنگ دی ہاسپیٹیلیٹی گیسٹ ایکسپیریئنس ود AIوائٹ پیپر، جو دی فیوچر لیبارٹری نے ٹوگیدر گروپ کے اشتراک سے تیار کیا ہے، یہ ظاہر کرتا ہے کہ AI کس طرح عالمی سطح پر سفری خدمات، پرسنلائزیشن، اور نئی نسلوں کے لیے نئے سفر کی وضاحت کرے گا۔چونکہ لگژری ہاسپیٹلٹی سیکٹر کو بے مثال مسابقت اور تیزی سے ترقی پذیر مہمانوں کی ذہنیت کا سامنا ہے، وائٹ پیپر میراثی اور نئے برانڈز دونوں کے لیے قابل عمل حکمت عملی پیش کرتا ہے کہ کس طرح AI کو ان طریقوں سے استعمال کیا جائے جو مہمان نوازی کے مرکز میں انسانی رابطے کو بلند نہ کریں اور اس کی جگہ نہ لیں۔ احمد الخطیب، وزیر سیاحت اور ٹورائز کے چیئرمین نے کہا’’عیش و آرام کی مہمان نوازی ایک اہم لمحے میں ہے۔ مہمانوں سے ہموار تجربات، مستند پہچان اور ہر بات چیت میں اعتماد کی توقع ہوتی ہے‘‘۔AI کوئی اختیاری اپ گریڈ نہیں ہے؛ یہ ہمارے شعبے کے مستقبل کے فائدے کا ایک اہم حصہ ہے۔ یہ وائٹ پیپر برانڈز کے لیے AI کو اس طریقے سے استعمال کرنے کے لیے ایک عملی روڈ میپ فراہم کرتا ہے جو عملے کو بااختیار بناتا ہے، رازداری کی حفاظت کرتا ہے، اور سروس کو واضح طور پر انسانی رہنے کو یقینی بناتا ہے۔ جو لوگ اس تبدیلی کی قیادت کرتے ہیں وہ لگژری سفر کے اگلے دور کی وضاحت کریں گے۔
دی فیوچر لیبارٹری کے شریک بانی کرسٹوفر سینڈرسن نے مزید کہا، ’’آج سب سے زیادہ طاقتور تجربات وہ ہیں جو اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ آپ کون ہیں اور آپ کو کس چیز کی پرواہ ہے۔ ہماری تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ لگژری ملکیت سے مشغولیت کی طرف، لین دین سے لے کر تعلقات کی طرف بڑھ رہی ہے۔ AI، جب برانڈ کی قدروں میں جڑی ہوئی ہے اور اسے دیکھ بھال کے ساتھ تعینات کیا جاتا ہے، ایک نئی سطح کو غیر مقفل کر سکتا ہے، مہمانوں کی توقعات اور قدروں کو محسوس کر سکتا ہے، اور ہر ایک کو متوقع خدمت کا احساس دلاتا ہے۔ گھر، وہ دنیا میں کہیں بھی ہوں‘‘۔برطانیہ اور امریکہ میں ہوٹل کے مہمانوں کے درمیان خصوصی تحقیق، اور صنعت کی سرکردہ آوازوں کی بصیرت پر روشنی ڈالتے ہوئے، تحقیق واضح کرتی ہے کہ 63فیصدجواب دہندگان کا کہنا ہے کہ خدمت کو ’انسانیت سے پہلے‘ رہنا چاہیے، انسانی رابطہ غیر گفت و شنید ہے، جب کہ AI سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے جب یہ عملے کو مہمانوں کے ساتھ زیادہ وقت گزارنے کے قابل بناتا ہے۔رپورٹ میں چار اختراعی محاذوں کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں AI پہلے سے ہی توقعات کو تبدیل کر رہا ہے اور برانڈز اور مہمانوں کے لیے یکساں طور پر نئی قدر کو کھول رہا ہے۔ کیوریٹڈ ڈسکوری، ہموار سفر، پیمانے پر ذاتی نوعیت، اور بڑھا ہوا مہمان نوازی۔
انٹر نیشنل
سعود ی عرب کے امریکی بیس پر ایران کا بڑا حملہ،کئی امریکی فوجی ہلاک ،50سے زائد زخمی
(ایجنسیاں)
ریاض:مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے درمیان ایران نے سعودی عرب میں واقع پرنس سلطان ایئربیس پر بڑا حملہ کر دیا ہے، جس کے بعد خطے میں حالات مزید کشیدہ ہو گئے ہیں۔ حملے میں متعدد امریکی فوجی ہلاک ہوئے ہیں جبکہ 50سے زائد فوجی زخمی ہوئے ہیں جبکہ فوجی طیاروں کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق ایران نے اس حملے میں میزائلوں کے ساتھ ڈرون کا بھی استعمال کیا۔حملے کے دوران امریکی فضائیہ کے ایندھن فراہم کرنے والے طیارے کو بھی نقصان پہنچا ہے، جس سے آئندہ فوجی کارروائی متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔پریس ٹی وی کی جانب سے جاری سیٹلائٹ تصاویر میں بتایا گیا ہے کہ ایرانی حملے میں بوئنگ KC-135 اسٹریٹو ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا، جس کے واضح نشانات بھی سامنے آئے ہیں۔ دفاعی ماہرین کے مطابق اس طیارے کو نقصان پہنچنے سے امریکی فضائی آپریشنز متاثر ہو سکتے ہیں۔
سعودی عرب کی الخرج بیس پر ہوئے حملے میں ایرانی میزائل اور بغیر پائلٹ ڈرون استعمال کیے گئےہیں۔ وہیں26 سالہ آرمی سارجنٹ بینجمن این پیننگٹن کی یکم مارچ کوایئربیس پر ہوئے حملے میں زخمی ہونے کے چند روز بعد موت ہوگئی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے بتایا کہ اس جنگ میں اب تک اس کے 300 سے زائد فوجی زخمی ہوئے ہیں۔ ایرانی میزائل اور بغیر پائلٹ ڈرون حملے کے صرف ایک دن پہلے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران پوری طرح تباہ ہوچکا ہے۔ وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے یہ بھی کہا کہ تاریخ میں کبھی کسی ملک کی فوج کو اتنی جلدی اور اتنی مؤثر طریقے سے بے اثر نہیں کیا گیا۔
وہیں ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) نے بیان میں کہا کہ ’آپریشن وعدۂ صادق 4‘ کی 84 ویں لہر شروع کردی گئی ہے اور اس دوران امریکی ایندھن بھرنے والی متعدد گاڑیوں اور ان کے لاجسٹک سپورٹ بیڑے کو کامیابی سے تباہ کر دیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ امریکی حکومت کی جانب سے خطے کے ایئربیسز کو جارحیت کیلئےاستعمال کیے جانے کے بعد پاسداران انقلاب کی ایرو اسپیس فورس نے بحریہ کی مدد سے آپریشن کی 84 ویں لہر کے دوران ایک خصوصی مشترکہ میزائل اور ڈرون آپریشن کیا۔
آئی آر جی سی نے آگاہ کیا کہ ان کی فورسز نے دشمن کے اینٹی میزائل دفاعی نظام تباہ کردیا اور ٹھوس اور مائع ایندھن والے میزائلوں کے ساتھ الخرج بیس میں کامیابی سے داخل ہو کر وہاں موجود ایندھن بھرنے والے اور فضائی مدد فراہم کرنے والے بیڑے کو میزائلوں اور ڈرون کے بے دریغ حملوں سے نشانہ بنایا۔ایران کے جوہری توانائی ادارے نے بتایا کہ بوشہر جوہری پلانٹ پر ایک بار پھر حملہ کیا گیا ہے۔ یہ جوہری تنصیب خلیج کے کنارے واقع بوشہر شہر کے قریب موجود ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ تیسری مرتبہ ہے جب اس اہم جوہری تنصیب کو نشانہ بنایا گیا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ حملے کے باوجود جوہری تنصیب کو بڑے نقصان سے محفوظ رکھا گیا ہے، تاہم سیکورٹی کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب ایران نے تل ابیب پر بھی میزائل حملہ کیا ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اس حملے میں ایک شخص ہلاک جبکہ چار افراد شدید زخمی ہوئے ہیں۔ اسرائیل کی فوج نے تصدیق کی ہے کہ میزائل لانچ کا پتہ چلتے ہی فضائی دفاعی نظام کو فعال کر دیا گیا۔ ممکنہ حملوں کے پیش نظر اسرائیل بھر میں موبائل فون پر وارننگ پیغامات بھیجے گئے اور شہریوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت دی گئی۔اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ فضائی دفاعی نظام مسلسل میزائلوں کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ سیکیورٹی ادارے ہائی الرٹ پر ہیں۔واضح رہے کہ ایران پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ جہاں بھی امریکی فوجی موجود ہوں گے، ان مقامات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ تازہ حملوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں اور عالمی برادری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
انٹر نیشنل
امریکہ ۔اسرائیل نے 24 گھنٹوں میں ایران پرگرائے 1200 بم ،سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای شہید
(ایجنسیاں)
تہران :اسرائیلی فضائیہ کا کہنا ہے کہ اس نے گزشتہ روز امریکہ کے ساتھ مشترکہ حملے میں ایران پر 1200 سے زائد بم گرائے ہیں۔ ان حملوں میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ہلاک ہو گئے ہیں۔ہفتہ کے روز ان کے دفتر کے احاطے پر 30 میزائل داغے گئے۔ اس حملے میں ان کی بیٹی ،داماد،بہو اور پوتی سمیت کمپلیکس میں موجود 40 کمانڈر بھی مارے گئے۔ حملے کے وقت خامنہ ای کمانڈروں کے ساتھ میٹنگ کر رہے تھے۔اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ہفتہ کی دیر رات خامنہ ای کی موت کا اعلان کیا۔اس کے کچھ ہی دیر بعد امریکی صدر ٹرمپ نے بھی ان کی موت کا دعویٰ کیا۔ ایران کی سرکاری میڈیا ایجنسی تسنیم اور فارس نے اتوار کی صبح اس کی تصدیق کی۔
ایران نے خامنہ ای کے انتقال کے بعد 40 روزہ سرکاری سوگ اور سات دن کی تعطیل کا اعلان کیا ہے۔ ایرانی اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) نے کہا، ہم نے ایک عظیم رہنما کھو دیا ہےاور پوری قوم سوگوار ہے۔دریں اثناء ایرانی فوج نے اعلان کیا کہ وہ اپنا سب سے خطرناک آپریشن شروع کر رہی ہے۔ حملہ کچھ دیر میں شروع ہو گا اور امریکی اڈوں کو نشانہ بنائے گا۔اسرائیل اور امریکہ نے ایران کے دارالحکومت تہران سمیت 10 بڑے شہروں کو نشانہ بنایا۔ ان حملوں میں اب تک 200 سے زائد افراد ہلاک اور 740 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ایک اسکول پر میزائل گرنے سے 148 طالبات جاں بحق اور 45 زخمی ہوئے ہیں۔ ایران نے بھی دوسرے ممالک کے خلاف جوابی حملے شروع کر دیئے ہیں۔ ایک میزائل ایک اسکول پر گرا، جس سے 148 طالبات ہلاک اور 45 زخمی ہوئیں۔ ایران نے بھی دوسرے ممالک کے خلاف جوابی حملے شروع کر دیے۔
انٹر نیشنل
مکہ سے مدینہ کا آخری سفر 42 ہندوستانی زائرین ایک ہی لمحے میں راہیٔ آخرت
رپورٹ: سید آصف امام کاکوی
-سعودی عرب کی وہ سیاہ رات ہمیشہ ان بے شمار گھروں کی زندگی میں ایک نہ مٹنے والا زخم بن کر رہے گی، جن کے پیارے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کے روحانی سفر پر تھے۔ وہ لمحہ، وہ گھڑی رات کا تقریباً 1:30 بجے کا وقت جب ایک بس حادثہ اچانک 42 ہندوستانی زائرین کی جانیں لے اُڑا۔ یہ کوئی معمولی حادثہ نہیں تھا… یہ 42 خاندانوں کے چراغوں کے اچانک بجھ جانے کی قومی سانحہ ہے، ایک ایسی چیخ جو آنے والی کئی نسلوں تک سنائی دیتی رہے گی۔ ان مرحومین میں اکثریت حیدرآباد کے افراد کی تھی۔ وہ لوگ جو ابھی چند گھنٹے پہلے خانۂ خدا کا دیدار کرکے لوٹے تھے، جنہوں نے کعبہ کے سائے میں سجدے کئے تھے، جن کی آنکھوں میں سکون تھا، چہروں پر نور تھا، اور دلوں میں رحمتِ الٰہی کی لطافت۔ کون جانتا تھا کہ مدینہ منورہ کی وہ روشن گلیاں جہاں وہ سلام پیش کرنے جا رہے تھے، وہیں پہنچنے سے پہلے ان کا سفر ہمیشہ کے لئے تھم جائے گا۔ عمرہ کوئی عام زیارت نہیں، روح کا سفر ہے۔ انسان اپنی جمع پونجی، اپنی دعائیں، اپنی ساری تمنائیں لے کر رب کے دربار میں حاضر ہوتا ہے۔ یہ سفر دل کو نرم کرتا ہے، رُوح کو دھوتا ہے، ایمان کو تازہ کرتا ہے۔ مگر اس بار یہی مبارک سفر درجنوں خاندانوں کے لئے ہمیشہ کا روگ، ہمیشہ کا درد، اور ہمیشہ کا خلا بن گیا۔
حادثے کے بعد بس کا منظر دیکھ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے ٹوٹے ہوئے شیشے، بکھرا ہوا سامان، اور وہ نشان جن میں چند ہی گھنٹے پہلے احرام میں لپٹے وہ لوگ تھے جو ہاتھ اٹھا کر دُعائیں کر رہے تھے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے لمحہ بھر میں 42 دھڑکتے دل رک گئے، 42 خواب بکھر گئے، 42 منزلیں ادھوری رہ گئیں۔ جیسے ہی یہ دل دہلا دینے والی خبر پہنچی، پوری فضا سوگوار ہوگئی۔ جس گھر میں فجر کی اذان کے بعد چائے بنانے کی خوشبو آنی تھی، وہاں آہ و بکا کی آوازیں بلند ہوئیں۔ کوئی ماں اپنے بیٹے کے نام کی تلاش میں بے حال کوئی بہن بھائی کی تصویر سینے سے لگائے ہوئے کوئی بوڑھا باپ آنکھوں میں نمی لئے صرف اتنا پوچھتا ہوا میرا بچہ واپس آجائے گا نا؟”وہ مائیں جن کی آخری ملاقات اپنے بیٹے سے ایئرپورٹ پر ہوئی تھی وہ بیویاں جو شوہروں کے لئے پسندیدہ کھانا بنانے کے منصوبے کرتی تھیں وہ ننھے بچے جنہیں صرف اتنا معلوم ہے کہ “ابّو اللہ کے گھر گئے ہیں انہیں کون سمجھائے کہ ابّو اب واپس نہیں آئیں گے؟ یہ وہ درد ہے جو لفظوں میں بیان نہیں ہوتا، صرف دلوں میں ٹوٹتا ہے۔ تلنگانہ حکومت نے فوراً سعودی عرب میں موجود بھارتی سفارت خانہ سے رابطہ کیا۔
سفارت خانہ نے حادثے کی تصدیق کرتے ہوئے 24×7 کنٹرول روم قائم کیا ہے، تاکہ ہر متاثرہ خاندان کو معلومات تک فوری رسائی ہو۔ ہندوستانی حجاج کیلئے ہیلپ لائن نمبر:8002440003یہ محض ایک نمبر نہیں آج یہ سینکڑوں روتے ہوئے دلوں کا سہارا ہے، امید کی آخری کرن ہے۔ سفارت خانہ اپنی پوری توجہ کے ساتھ امدادی کارروائیوں میں مصروف ہے، مگر جو نقصان ہو چکا ہے اس کا مداوا دنیا کی کوئی طاقت نہیں کر سکتی۔ یہ حادثہ بتا رہا ہے کہ موت نہ وقت دیکھتی ہے، نہ جگہ نہ عمر، نہ منزل جو لوگ اللہ کے گھر سے دلوں میں نور لئے لوٹ رہے تھے، وہ شاید دنیا کے دکھوں سے آزاد ہوکر اس مقام پر پہنچ گئے جہاں نہ تھکن ہے، نہ بیماری، نہ غم صرف رحمت ہی رحمت ہے۔ لیکن پیچھے رہ جانے والے لوگ؟ ان کے لئے یہ آزمائش زندگی کی سب سے بڑی چوٹ ہے۔ ان کے دل میں بس ایک ہی صدا گونج رہی ہے یا اللہ! یہ امتحان اتنا سخت کیوں؟ ہم اس وقت کوئی خبر نہیں لکھ رہے ہر لفظ ایک آنسو ہے، ہر جملہ ایک سسکی، اور ہر فقرہ ٹوٹے ہوئے دلوں کی گواہی ہے۔ کسی کا بھائی کسی کا شوہر کسی کی بہن کسی کا جوان بیٹا یہ سب اس سفر میں اللہ کے حضور حاضر ہوگئے۔
سعودی عرب کی گرم ریت شاید برسوں تک ان 42 جانوں کی خوشبو اپنے اندر سنبھالے رکھے گی۔ مدینہ کی مقدس ہوائیں، شاید ان کی روحوں کے لئے دعا کرتی رہیں گی خاموش، آہستہ، مگر ہمیشہ۔ یا اللہ ان سب کی مغفرت فرما۔ ان کی قبروں کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنا دے۔ ان کے گناہوں کو معاف فرما۔ ان کی روحوں پر اپنی بے حساب رحمتیں نازل فرما۔ ان کے لواحقین کے دلوں کو تھام لے، انہیں وہ صبر عطا فرما جو تیرے سوا کوئی نہیں دے سکتا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ہم سب اسی کے ہیں اور اُسی کی جانب لوٹ کر جانے والے ہیں۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر1 year agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار5 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
بہار11 months agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ1 year agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ1 year agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
