Connect with us

بہار

چھپرہ :ڈی ایم نے تمام بینرز،پوسٹرز، ہورڈنگزاورجھنڈے72گھنٹے میں ہٹانے کی دی ہدایت

Published

on

(پی این این)
چھپرہ :بہار اسمبلی انتخابات کے لیے نوٹیفکیشن جاری ہونے کے ساتھ ہی ڈسٹرکٹ الیکشن افسر کم ڈی ایم امن سمیر نے پورے ضلع میں ماڈل ضابطہ اخلاق نافذ کرنے کا اعلان کیا۔نیز انہوں نے بی این ایس ایس کے تحت دھارا 163 لاگو کرنے کی بھی کی اطلاع دی۔ڈی ایم مسٹر سمیر اور ایس ایس پی ڈاکٹر کمار آشیش نے مشترکہ پریس کانفرنس منعقد کر انتخابات کے مجموعی خاکہ اور تیاریوں کے بارے میں جانکاری فراہم کی۔
انہوں نے بتایا کہ سارن ضلع کے تمام دس اسمبلی حلقوں کے لیے ووٹنگ 6 نومبر کو ہوگی،جب کہ نوٹیفکیشن 10 اکتوبر کو جاری کیا جائے گا۔کاغذات نامزدگی 17 اکتوبر تک داخل کیے جاسکتے ہیں۔کاغذات نامزدگی کی اسکروٹنی 18 اکتوبر کو ہوگی۔امیدوار 20 اکتوبر تک کاغذات نامزدگی واپس لے سکیں گے۔ووٹوں کی گنتی 14 نومبر مقرر کی گئی ہے۔ڈی ایم مسٹر سمیر نے کہا کہ ضابطہ اخلاق کے نفاذ کے تحت تمام پبلک پلیس سے بینرز،پوسٹرز، ہورڈنگز،جھنڈے اور وال پینٹنگز کو 48 گھنٹے کے اندر اور نجی املاک سے 72 گھنٹے کے اندر ہٹا دیا جائے۔لاؤڈ اسپیکر صرف مجاز اتھارٹی کی اجازت سے صبح 6 بجے سے رات 10 بجے تک استعمال کیے جاسکتے ہیں۔انتخابی مہم کے لیے بھی قواعد و ضوابط طے کیے گئے ہیں۔کسی بھی اجتماع،جلوس،ریلی یا اشتہاری گاڑیوں کے لیے کم از کم 48 گھنٹے پہلے سنگل ونڈو سسٹم سے اجازت لینا لازمی ہوگی۔انہوں نے بتایا کہ الیکشن کمیشن نے عام زمرے کے امیدواروں کے لیے 10,000 روپے اور درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کے لیے 5,000 روپے کی نومینیشن فیس مقرر کی ہے۔امیدواروں اور جماعتوں کو اپنے کیسز سے متعلق فارم C1 و C2 میں تفصیلات جمع کرانی ہوں گی، اور ووٹنگ سے پہلے 48 گھنٹوں کے اندر پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں ان کی اشاعت۔نشریات لازمی ہیں۔
ڈی ایم نے بتایا کہ عام رائے دہندگان کی مدد کے لیے الیکشن کمیشن آف انڈیا نے ووٹر ہیلپ لائن کے طور پر ٹول فری نمبر 1950 قائم کیا ہے۔جو 24 گھنٹے خدمات دے رہا ہے۔مزید برآں ووٹروں کی سہولت کے لیے cVIGIL ایپ بھی شروع ہو گیا ہے۔جہاں 100 منٹ کے اندر شکایات کا ازالہ کیا جائے گا. انہوں نے بتایا کہ سارن ضلع انتظامیہ نے انتخابات کے انعقاد کے لیے 339 سیکٹر افسران کو تعینات کیا ہے۔جنمیں ایکما اسمبلی کے لیے 36،ماجھی کے لیے 34،بنیا پور کے لیے 34،تریاں کے لیے 37،مڑھوڑہ کے لیے 33،چھپرہ کے لیے 39،گرکھا کے لیے 33،امنور کے لیے 32،پرسا کے لیے 33 اور سونپور کے لیے 28 سیکٹر شامل ہیں۔ضلع میں کل 3,510 پولنگ اسٹیشن قائم ہیں۔انہوں نے بتایا کہ مختلف اسمبلی حلقوں کے لیے الگ الگ ڈسپیچ سینٹرز مقرر کیے گئے ہیں۔جنمیں ایکما،بنیا پور،چھپرہ و گرکھا کے لیے جے پرکاش یونیورسٹی،تریاں،مڑھوڑہ اور امنور کے لیے آئی ٹی آئی مڑھوڑہ،پرسا و سونپور کے لیے گورنمنٹ ہائی اسکول نیاگاؤں اور ماجھی کے لیے راجندر کالج شامل ہیں۔
ایس ایس پی ڈاکٹر کمار آشیش نے بتایا کہ ضلع میں پرامن انتخابات کو یقینی بنانے کے لیے اب تک 11,384 گرفتاریاں کی گئی ہیں۔آرمز ایکٹ کے تحت 313 مقدمات درج کیے گئے ہیں اور 370 کارتوس ضبط کیے گئے ہیں۔شراب مافیا کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 962 غیر قانونی بھٹیاں مسمار کر دی گئیں۔اب تک 4 کروڑ روپے سے زیادہ کی شراب اور گاڑیاں ضبط کی گئی ہیں۔ضلعی انتظامیہ نے 228 حساس مقامات کی نشاندہی کی ہے اور 219 کو خصوصی نگرانی میں رکھا ہے۔سرحدی علاقوں اور جیلوں میں بھی خصوصی چوکسی رکھی جارہی ہے۔ضلع انتظامیہ نے واضح کیا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی مسلسل نگرانی کی جائے گی۔کسی بھی غلط معلومات،افواہوں یا ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر فوری کارروائی کی جائے گی۔
پریس کانفرنس میں ڈی ڈی سی یتیندر کمار پال،اے ڈی ایم مکیش کمار،ڈپٹی الیکشن آفیسر جاوید اقبال،تعلقات عامہ افسر رویندر کمار اور دیگر افسران موجود تھے۔تمام نے متفقہ طور پر الیکشن کمیشن کے ضوابط پر عمل کرنے اور ضلع میں انتخابات مکمل طور پر منصفانہ اور پرامن ماحول میں کرائے جانے کا عہد کیا۔

بہار

تعلیم ہی قوموں کی ترقی اور خوشحالی کا دارومدار : امیرشریعت

Published

on

(پی این این)
کشن گنج: امارت پبلک اسکول کے زیرِ اہتمام کمیونٹی ہال کشن گنج میں ایک عظیم الشان اجلاسِ عام کا انعقاد کیا گیا، جس کی صدارت امیرشریعت مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی (سجادہ نشین خانقاہِ رحمت مونگیر) نے کی۔ امیرِ شریعت نے اپنے تفصیلی خطاب میں تعلیم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تعلیم ہی وہ بنیادی ستون ہے جس پر قوموں کی ترقی اور خوشحالی کا دارومدار ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں صرف دینی تعلیم کافی نہیں بلکہ دینی تعلیم کے ساتھ عصری تعلیم بھی نہایت ضروری ہے، تاکہ نئی نسل علم کے ساتھ ساتھ دین و اخلاق سے بھی وابستہ رہے۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے دنیاوی تعلیم پر توجہ دیتے ہیں، مگر ان کے دین و ایمان کی فکر سے غافل ہو جاتے ہیں۔ مزید فرمایا کہ اسلام محض ایک مذہب نہیں بلکہ مکمل ضابطۂ حیات ہے، اس لیے ہمیں اپنی زندگی کے ہر شعبے میں سنتِ نبوی ﷺ کو اپنانا چاہیے۔ انہوں نے شادی بیاہ کے مواقع پر فضول خرچی اور اسراف سے بچنے کی تلقین کرتے ہوئے سادگی کو فروغ دینے پر زور دیا ۔
مولانا مفتی سعید الرحمن قاسمی (ناظمِ اعلیٰ امارت شرعیہ، بہار، اڑیسہ و جھارکھنڈ، پھلواری شریف پٹنہ) نے اپنے خطاب میں کہا کہ تعلیم ترقی کی شاہ کلید ہے اور جو قوم تعلیم کو اپنائے گی وہی کامیابی سے ہمکنار ہوگی۔ انہوں نےوالدین کو نصیحت کی کہ وہ اپنے بچوں کو عصری تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم سے بھی آراستہ کریں ساتھ ہی جہیز جیسی سماجی برائی کے خاتمے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بیٹیوں کو جہیز کے بجائے تعلیم سے آراستہ کریں، نکاح کو آسان بنائیں اور شادی بیاہ میں فضول خرچی سے مکمل پرہیز کریں۔
مولانا حکیم الدین قاسمی (جنرل سکریٹری، جمعیۃ علماء ہند) نے نوجوان نسل میں بڑھتے ہوئے نشہ اور منشیات کے رجحان پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے اس کے سدباب کے لیے سنجیدہ اقدامات کی اپیل کی مفتی جاوید احمد قاسمی (صدر، جمعیۃ علماء ہند بہار) نے تعلیم کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں دینی و دنیاوی دونوں علوم کا حصول نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے سیاسی بصیرت و حکمت اپنانے اور تجارت و تعلیم کو مضبوطی سے اختیار کرنے کی تلقین کی۔

Continue Reading

بہار

بہارمیں شراب بندی کے معاملے پر مانجھی نے اپنی ہی حکومت کوبنایا نشانہ

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:بہار کے سابق وزیرِ اعلیٰ اور ’ہم‘ پارٹی کے سرپرست جیتن رام مانجھی نے ریاست میں نافذ شراب بندی کے قانون کے حوالے سے ایک بار پھر اپنی صاف گوئی کا اظہار کیا ہے۔
پٹنہ ایئرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ بہار میں شراب بندی کی پالیسی تو درست ہے، لیکن اس کو عملی طور پر نافذ کرنے کے طریقے میں بڑی خرابیاں ہیں۔ مانجھی کے مطابق اس قانون کا سب سے زیادہ نقصان معاشرے کے غریب طبقے کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔
مانجھی نے کہا کہ شراب بندی کے باعث غریب طبقے کو دو طرح کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ پہلا یہ کہ اس قانون کی آڑ میں بڑی تعداد میں غریب لوگ قانونی پیچیدگیوں اور پولیس کارروائیوں میں پھنس رہے ہیں، جس سے ان کی معاشی اور سماجی حالت بگڑ رہی ہے۔ دوسرا یہ کہ ریاست میں شراب بندی کے باوجود غیر قانونی شراب کا کاروبار تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ مافیا عناصر جلد بازی میں یوریا اور دیگر خطرناک کیمیکل ملا کر زہریلی شراب تیار کر رہے ہیں، جس کے استعمال سے غریب لوگ 50 سے 60 سال کی عمر میں ہی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔
ریاست میں حالیہ اقتدار کی تبدیلی اور سمراٹ چودھری کے وزیرِ اعلیٰ بننے پر مانجھی نے کہا کہ انہیں بڑے فیصلے لینے میں کچھ وقت لگے گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ نئی حکومت شراب بندی کے قانون کو ختم کرنے پر غور کرے گی۔ مانجھی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ شراب بندی کی پالیسی پر نظرِ ثانی ہونی چاہیے۔ جو خرابیاں موجود ہیں انہیں دور کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ریاست کی آمدنی میں بھی اضافہ ہو اور غریبوں کو بلاوجہ کی اذیت سے بچایا جا سکے۔

 

Continue Reading

بہار

چیف سیکریٹری پرتیے امرت نے پُنورا دھام کی ترقی اور سرحدی سیکورٹی کالیاجائزہ

Published

on

(پی این این)
سیتامڑھی:بہار کے چیف سیکریٹری پرتیے امرت اور پولیس کے ڈائریکٹر جنرل ونئے کمار نے سیتامڑھی کے معروف مذہبی مقام پُنورا دھام مندر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے جاری تعمیراتی کاموں کا تفصیلی معائنہ کیا۔ اس موقع پر مندر احاطے میں ایک اہم جائزہ اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں متعلقہ ایجنسیوں نے تعمیراتی پیش رفت پر روشنی ڈالی۔ اجلاس میں سیاحت محکمہ کے اعلیٰ افسران اور انجینئرز بھی شریک رہے۔
چیف سیکریٹری نے ہدایت دی کہ مندر کی تعمیر اور احاطے کی مجموعی ترقی کو مقررہ وقت کے اندر اور معیاری طریقے سے مکمل کیا جائے تاکہ اسے ایک نمایاں مذہبی و سیاحتی مرکز کے طور پر فروغ دیا جا سکے۔ دریں اثنا، بھارت-نیپال سرحد سے متعلق امور پر بھی ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ منعقد کی گئی، جو مرکزی وزیر داخلہ کی حالیہ ہدایات کی روشنی میں کی گئی۔ اجلاس میں سرحدی علاقوں میں سکیورٹی کو مزید مضبوط بنانے اور غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت دی گئی۔
ذرائع کے مطابق، نو مینز لینڈ میں تجاوزات کے خاتمے، سرحد سے 15 کلومیٹر کے اندر سرکاری زمین پر غیر قانونی قبضے کے خلاف مہم، جعلی بھارتی کرنسی، سائبر فراڈ اور غیر قانونی ٹیلی کمیونیکیشن نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی پر زور دیا گیا۔ اس کے علاوہ مول اکاؤنٹس اور فرضی کمپنیوں کی جانچ کر فوری کارروائی کی ہدایت دی گئی۔ اجلاس میں منشیات کی اسمگلنگ پر قابو پانے کے لیے بھی سخت اقدامات کی ہدایت دی گئی اور کہا گیا کہ این ڈی پی ایس ایکٹ کو مؤثر انداز میں نافذ کرتے ہوئے خصوصی مہم چلائی جائے۔
اس موقع پر ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ، ڈی جی اسپیشل برانچ، کمشنر، سکریٹری سیاحت، ڈی آئی جی، ضلع مجسٹریٹ، ایس پی سمیت ایس ایس بی اور آئی بی کے افسران بھی موجود تھے۔ واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے پُنورا دھام کی ترقی اور سرحدی علاقوں میں سکیورٹی کو لے کر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے، جس سے ترقی اور تحفظ دونوں کو یکساں اہمیت دی جا رہی ہے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network