Connect with us

دیش

اردو یونیورسٹی میں’’سوچھتا ہی سیوا 2025 مہم “ کی اختتامی تقریب منعقد

Published

on

(پی این این)
حیدرآباد:صفائی محض ایک مہم نہیں بلکہ زندگی کا لازمی حصہ ہے۔ ان خیالات کا اظہار پروفیسر سید علیم اشرف جائسی (ڈین اسٹوڈنٹس ویلفیئر) نے کیا۔ وہ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی (مانو) کے ثقافتی سرگرمی مرکز، ڈین بہبودی طلبہ کی جانب سے ”سوچھتا ہی سیوا 2025“ مہم کے تحت انعامات کی تقسیم کی تقریب سے مخاطب تھے۔ یہ مہم وزارتِ تعلیم کی جانب سے ”سوچھ بھارت مشن“ کے تحت 17 ستمبر تا 2 اکتوبر 2025 چلائی گئی۔
اس مہم کے دوران طلبہ برادری میں صفائی اور حفظان صحت کے متعلق شعور بیداری کے مقصد سے کئی ایک ادبی و ثقافتی مقابلے منعقد کیے گئے جن میں مضمون نویسی، اسٹالیشن، کوئز، نکڑ ناٹک، اوپن مائک وغیرہ کے مقابلے شامل ہیں۔ 2 اکتوبر کو سوچھ بھارت مشن مہم کی اختتامی تقریب میں مقابلوں کے فاتحین میں انعامات تقسیم کیے گئے۔پروفیسر علیم اشرف نے بحیثیت مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے طلبہ کی سرگرم شمولیت کی ستائش کی اور کہا کہ ایسی سرگرمیاں نوجوانوں میں بیداری اور ذمہ داری کا شعور پیدا کرتی ہیں۔
تقریب میں کلچرل کوآرڈینیٹر معراج احمد، ڈاکٹر جرار احمد (صدر یو ایف اے سی)، ڈاکٹر عبدالقدوس (اسسٹنٹ رجسٹرار، اسٹیٹ سیکشن) اور مختلف کلبوں کے سکریٹریز و ارکان شریک رہے۔اس پروگرام میں مختلف مقابلوں میں کامیاب طلبہ کو انعامات سے نوازا گیا۔ اساتذہ، عملہ اور طلبہ نے جوش و خروش کے ساتھ حصہ لیا اور ”سوچھتا ہی سیوا“ کے جذبے کو تازہ کیا۔تقریب کے اختتام پر ڈاکٹر جرار احمد نے تمام معاونین اور شرکاءکا شکریہ ادا کیا جن کی کوششوں سے مہم اور تقریب کامیابی سے ہمکنارہوئی۔

دیش

سبری مالامیں خواتین کی انٹری پر سپریم کورٹ میں فیصلہ محفوظ

Published

on

نئی دہلی۔سپریم کورٹ نے سبری مالا مندر سمیت دیگر مذہبی مقامات پر خواتین کے داخلے کولیکر اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔چیف جسٹس کی قیادت والی 9 رکنی بنچ میں16 دنوں تک اس معاملے پر کارروائی چلی،غورطلب ہے کہ سبری مالا مالا مندرمیںدس سے پچاس سال تک کی خواتین کے داخلے پر پابندی ہے۔ جس کولیکر کئی تنظیمیں سپریم کورٹ گئی تھیں۔ کورٹ نے 16 دنوں تک مختلف تنظیموں اور مذہبی اداروں کے دلائل سنے ،چنانچہ اب سپریم کورٹ مذہبی آزادی، آرٹیکل 25 کے آئینی اختیارات کے تحت اہم فیصلہ کو محفوظ کرلیا ہے۔

Continue Reading

دیش

کالا کوٹ پہن کر کلکتہ ہائی کورٹ پہنچیں ممتا

Published

on

(پی این این)
کولکاتہ۔ایس آئی آر کے معاملے پر سپریم کورٹ پہنچنے والی ممتا بنرجی اب ایک بار پھر عدالت پہنچ گئی ہیں۔ اور کلکتہ ہائی کورٹ میں انھوں نے دلیل دیتے ہوئے کہا کہ بنگال بلڈوزر اسٹیٹ نہیں ہے۔ یہاں پر لاقانونیت بڑھ گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ بنگال کے عوام کی تحفظ ضروری ہے۔
مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ اور ٹی ایم سی چیف ممتا بنرجی جمعرات کو وکیل کے لباس میں کلکتہ ہائی کورٹ پہنچیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ وہ ہائی کورٹ میں انتخاب کے بعد ہونے والے تشدد سے متعلق دائر مفاد عامہ کی عرضی (پی آئی ایل) معاملہ میں چیف جسٹس سوجوئے پال کے سامنے دلیل رکھیں گی۔
یہ عرضی ٹیم ایم سی لیڈر کلیان بنرجی کے بیٹے شیرشانیا بنرجی نے داخل کی تھی۔ واضح رہے کہ ممتا بنرجی اس سے قبل ایس آئی آر کے معاملے پر بھی سپریم کورٹ میں بطور وکیل دلیل پیش کر چکی ہیں۔عرضی گزار کے مطابق انتخاب کے بعد کئی ترنمول لیڈران اور کارکنان کو مبینہ طور پر اپنے گھر چھوڑنے کے لیے مجبور کیا گیا، جبکہ ان میں سے کئی پر ترنمول کانگریس سے ان کے تعلقات ہونے کی وجہ سے حملہ کیا گیا۔ یہ عرضی 12 مئی کو کلکتہ ہائی کورٹ میں داخل کی گئی تھی۔ یہ معاملہ چیف جسٹس سوجوئے پال اور جسٹس پارتھ سارتھی سین کی ڈویژن بنچ کے سامنے سماعت کے لیے آیا ہے۔ترنمول کانگریس نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’ہماری چیئرپرسن ممتا بنرجی آج ذاتی طور پر کلکتہ ہائی کورٹ پہنچیں تاکہ بنگال میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے انتخاب کے بعد پھیلائے گئے وسیع پیمانے پر تشدد سے متعلق معاملے میں دلائل پیش کر سکیں۔‘‘ پارٹی کے مطابق ایک بار پھر انہوں نے ثابت کر دیا کہ آخر وہ دوسروں سے مختلف کیوں ہیں۔ وہ بنگال کے عوام کو ان کی مشکل گھڑی میں کبھی تنہا نہیں چھوڑتیں۔ وہ سچ، انصاف اور آئینی اقدار کے لیے لڑنا کبھی بند نہیں کرتیں۔ اور ہر بار نفرت کی سیاست سے اوپر اٹھ کر بے مثال ہمدردی، جرأت اور عزم کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ خواہ ایس آئی آر کی ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانی ہو یا بھارتیہ جنتا پارٹی کے بے قابو رویے کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہونا، وہ مسلسل یہ ثابت کر رہی ہیں کہ آج ملک میں ان جیسی کوئی اور لیڈر موجود نہیں۔واضح رہے کہ ممتا بنرجی مغربی بنگال انتخاب کے نتائج کے بعد سے مسلسل انتخاب میں بے ضابطگی کا الزام عائد کرتی رہی ہیں۔ وہ بی جے پی سے زیادہ الیکشن کمیشن آف انڈیا کو ہدف تنقید بنا رہی ہیں۔
ٹی ایم سی کا کہنا ہے کہ ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظر ثانی (ایس آئی آر) کے ذریعہ الیکشن کمیشن نے لوگوں کو ووٹ کرنے سے محروم کیا ہے۔ ساتھ ہی سابق وزیر اعلیٰ ووٹوں کی گنتی میں بھی بے ضابطگی کا الزام عائد کر رہی ہیں۔قابل ذکر ہے کہ مغربی بنگال اسمبلی انتخاب کے نتائج 4 مئی کو آئے تھے، اس کے بعد کئی جگہوں سے تشدد کی خبریں آئی تھیں۔ سوشل میڈیا پر ٹی ایم ایس کے دفتر پر حملے کی ویڈیوز بھی سامنے آئی تھیں۔ اس کے متعلق ٹی ایم سی نے الزام عائد کیا تھا کہ مغربی بنگال میں انارکی کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے اور ہمارے کارکنان پر حملے ہو رہے ہیں۔

Continue Reading

دیش

یوپی میں آندھی -طوفان،110 ہلاک،22 ٹرینیں منسوخ، راجستھان میں گرمی کا الرٹ، مدھیہ پردیش پر بھی ہیٹ ویوکا قہر

Published

on

(پی این این)
لکھنؤ/بھوپال/دہلی۔اترپردیش میں 80 کلو میٹر کی رفتار سے طوفان آگیا، جس میں ایک شخص ہوا میں اڑ گیا اور شدید زخمی ہوگیا۔ آندھی طوفان کی رفتار کے تحت کئی حادثے ہوئے جس میں 110 لوگوں کی موت ہوگئی۔ بریلی میں ایک مکان گرگیا جس میں کئی لوگ دب گئے۔
اترپریش کے کئی اضلاع میں بدھ کے روز آندھی اور بارش نے زبردست تباہی مچائی۔ تیز آندھی کے سبب درخت اور بجلی کے کھمبے گر گئے جس سے کئی جگہ بجلی سپلائی معطل ہو گئی۔ خراب موسم کی وجہ سے ریاست کے مختلف اضلاع میں 110 لوگوں کی موت بھی ہو گئی جبکہ کئی لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ سب سے زیادہ وارانسی، پریاگ راج اور کانپور ڈویزن میں َلوگوں کی موت ہوئی ہے۔دیہی علاقوں میں کچے مکان اور ٹین شیڈ اُڑ گئے وہیں فصلوں کو کافی نقصان ہوا ہے۔ تیز بارش اور دھول بھری آندھی کی وجہ سے سڑکوں پر آمد و رفت متاثر رہی۔ کئی جگہ درخت گرنے سے ٹریفک میں رخنہ پڑا ہے۔ جو خبریں سامنے آ رہی ہیں ان کے مطابق بھدوہی میں 18، اناؤ اور بدایوں میں 6-6، سیتاپور، رائے بریلی، چندوسی، کانپور دیہات، ہردوئی اور سنبھل میں 2-2، کوشامبی، شاہجہاں پور، سون بھدر اور لکھیم پور کھیری میں 1-1 شخص کی موت خراب موسم کے سبب ہوئی ہے۔
آندھی کی وجہ سے دہلی-ہاوڑا ریلوے روٹ میں تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کے لئے رخنہ پڑا۔ وہیں فتح پور میں درخت گرنے سے او ایچ ای لائن ٹوٹ گئی۔ جس کی وجہ سے کانپور ہوکر آنے جانے والی 22 ٹرینیں متاثر ہوئیں۔ وہیں پریاگ راج۔جونپور ریل سیکشن پر تھروئی اور سرائے چنڈی ریلوے اسٹیشن کے درمیان ایک 4 بڑا درخت گرگیا جس سے ٹرینوں کی آمد و رفت ٹھپ ہوگئی۔ لکھنؤ اور پرتاپ گڑھ روٹ پر بھی کافی اثر پڑا۔وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ریاست میں بے موسم بارش، آندھی اور بجلی گرنے سے ہوئے نقصان پر متاثرین کو معاوضہ دینے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرین کو راحت پہنچانے کا کام 24 گھنٹے کے اندر پورا کیا جائے۔ انہوں نے ضلع مجسٹریٹوں سمیت دیگر محکموں کے افسران کو موقع پر پہنچ کر متاثرین کو ہر ممکن مدد پہنچانے کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کام میں لاپرواہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
دریں اثنا راجستھان میںتیز گرمی اور ہیٹ ویو کا قہر جاری ہے۔ جیسلمیر میں درجہ حرارت 46 ڈگری پار کرگیا ہے۔ اسی طرح بیکانیر ، جوت پور، جیسلمیر ، باڑمیر میں گرمی کا ریڈ الرٹ جاری کردیا گیا۔ راجستھان کے 13اضلاع میں ہیٹ ویو کی وارننگ دی گئی ہے۔ مدھیہ پردیش کے 25 اضلاع میں ہیٹ ویو چل رہی ہے۔ اندور ، اجین ، دھار ، رتلام میں درجہ حرارت 45 پار کر گیا ہے۔ یہاں بھی الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network