Connect with us

بہار

بہار SIR:ووٹرلسٹ کی حتمی فہرست جاری

Published

on

(پی این این)
چھپرہ :انتخابی فہرست کے خصوصی نظرثانی مہم کے تحت منگل کو حتمی انتخابی فہرست ڈی ایم و ڈی آئی او امن سمیر نے شائع کیا۔انہوں نے بتایا کہ انتخابی فہرست عوام کے دیکھنے کے لیے ہر پولنگ اسٹیشن،ای آر او،اے ای آر او اور بلاک دفاتر پر شائع کی گئی ہے۔اسے چیف الیکٹورل آفیسر بہار کی ویب سائٹ پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ حتمی انتخابی فہرست کی اشاعت کے ساتھ ہی مسلسل اپ ڈیٹنگ (SSR) کا عمل شروع ہو گیا ہے۔اس کے تحت کوئی بھی اہل شخص فہرست میں نام شامل کرنے،شامل نام کو درست کرنے یا نام کی منتقلی کے لیے درخواست دے سکتا ہے۔یہ سلسلہ عام انتخابات کے لیے نامزدگی کے عمل سے دس روز قبل تک جاری رہے گا۔عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ حتمی فہرست میں اپنے ناموں کو چیک کریں اور ضروری کارروائی کے لیے اپنے BLO کے ذریعے آف لائن یا کمیشن کی ویب سائٹ اور ووٹر ہیلپ لائن ایپ کے ذریعے آن لائن درخواست دیں۔
فہرست کی اشاعت کے ساتھ ہی تمام تسلیم شدہ قومی اور ریاستی سیاسی جماعتوں کے ساتھ ایک میٹنگ کی گئی اور ووٹر لسٹ کی ایک ہارڈ اور ایک سافٹ دو کاپیاں دستیاب کرائی گئیں۔ضلع مجسٹریٹ نے درخواست کی کہ وہ اسمبلی وار اور پولنگ اسٹیشن وار سطح پر ووٹر لسٹ کا مکمل جائزہ لیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ کوئی بھی اہل ووٹر محروم نہ رہے۔میٹنگ میں بی ایس پی کے منوج رام،بی جے پی کے رنجیت کمار سنگھ اور امیش تیواری،سی پی آئی (ایم) کے بٹیشور مہتو، کانگریس کے بچو پرساد بیرو،جے ڈی یو کے ایم او فیروز،ایل جے پی کے کوشل سنگھ،آر ایل ایس پی کے ڈاکٹر اشوک کشواہا،سبھا کمار،سی پی آئی کے دیپانکر مشرا موجود تھے۔ضلع مجسٹریٹ نے سیاسی پارٹیوں کو ماڈل کوڈ آف کنڈکٹ کی جانکاری رہتے ہوئے بتایا کہ پریس نوٹ جاری ہونے کے 48 گھنٹوں کے اندر تمام عوامی مقامات سے بینرز،پوسٹرز،ہورڈنگز،وال پینٹنگز،جھنڈے وغیرہ کو ہٹا دینا چاہیے اور 72 گھنٹوں کے اندر تمام نجی املاک سے ہٹا دینا چاہیے۔بہار پریوینشن آف ڈیفیسمنٹ آف پراپرٹی ایکٹ، 1985 کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خلاف ورزی قابل ادراک جرم ہے۔جس کی سزا چھ ماہ تک قید یا ایک ہزار روپے جرمانہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ انتخابات کے اعلان سے لے کر انتخابی عمل کی تکمیل تک الیکشن کمیشن آف انڈیا کی ہدایت کی روشنی میں انتخابی ضابطہ اخلاق کا اطلاق نافذ ہوگا۔اس دوران عوامی جلسے،جلوس،روڈ شو،گاڑی چلانے وغیرہ کے لیے اتھارٹی سے اجازت لینا ہو گی۔اجازت لینے کے بعد ہی لاؤڈ اسپیکر صبح 6 بجے سے رات 10 بجے تک ہی استعمال کیا جا سکے گا۔اس کے علاوہ انہوں نے بتایا کہ فتنہ انگیزی،ووٹر کو ڈرانا،قابل اعتراض تقریر وغیرہ بھی دائرہ کار میں آئیں گے۔انہوں نے بتایا کہ ضلع میں جلسوں کے انعقاد کے لیے میدانوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔جس کی فہرست تمام سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کو فراہم کر دی گئی ہے۔اس کے ساتھ ہیلی کاپٹر کی لینڈنگ کے لیے شناخت شدہ مقامات کی فہرست بھی دستیاب کرائی گئی ہے۔

بہار

بہار مدرسہ بورڈ کی تیاریاں مکمل،وسطانیہ امتحان 11 جنوری سے

Published

on

(پی این این)
سیتامڑھی :بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ، پٹنہ کے زیرِ اہتمام ہونے والے وُسطانیہ (آٹھویں) سال 2026 کے امتحان کا اعلان جاری کر دیا گیا ہے۔ امتحان 11 سے 15 جنوری 2026 تک مسلسل دو نشستوں میں منعقد ہوگا۔ پہلی نشست صبح 10 بجے سے 12 بجے تک جبکہ دوسری نشست دوپہر 2 بجے سے 4 بجے تک ہوگی۔ ضلع بھر کے مقررہ امتحان مراکز پر امتحان پُرامن اور منظم انداز میں لینے کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق سیتامڑھی ضلع کے مختلف تسلیم شدہ مدارس سے بڑی تعداد میں طلبہ و طالبات اس امتحان میں شریک ہوں گے۔ بورڈ کی جانب سے امتحان کو شفاف، نقل سے پاک اور وقت کی پابندی کے ساتھ منعقد کرانے کے لیے تمام ضروری انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ سوالیہ پرچوں کی رازداری، جوابی کاپیوں کی محفوظ نقل و حمل اور امتحانی مراکز پر سخت نگرانی کے واضح ہدایت جاری کیے گئے ہیں۔ امتحان کے دوران ہر مرکز پر مرکزِ نگران اور دیگر عملے کی تعیناتی عمل میں لائی گئی ہے۔ ساتھ ہی امتحانی مراکز پر نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے ضروری رہنما اصول نافذ کیے گئے ہیں۔ طلبہ سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ وقت سے پہلے مرکزِ امتحان پر پہنچیں، ایڈمٹ کارڈ ساتھ رکھیں اور بورڈ کے تمام قواعد و ضوابط کی مکمل پابندی کریں۔
بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ، پٹنہ کے سیکرٹری عبدالسلام انصاری، مدرسہ حمیدیہ دارالْبنات حسینہ مہسول، سیتامڑھی کے پرنسپل مولانا ضیاءُالرحمن قاسمی اور مدرسہ رحمانیہ مہسول کے سابق صدر محمد ارمان علی نے کہا کہ وُسطانیہ امتحان مدرسہ تعلیم کی بنیادی اور اہم کڑی ہے، جس کے ذریعے طلبہ کی علمی صلاحیتوں اور تعلیمی معیار کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ امتحان کے سلسلے میں طلبہ میں جوش و خروش پایا جاتا ہے اور وہ بھرپور تیاری کے ساتھ امتحان میں شرکت کے لیے پُرعزم ہیں۔

Continue Reading

بہار

بہار میں کیمپ لگا کر بنائے جارہے ہیں مفت آیوشمان کارڈ

Published

on

(پی این این)
چھپرہ:رکن پارلیمنٹ راجیو پرتاپ روڈی کے توسط سے آیوشمان کارڈ رجسٹریشن کیمپ کا انعقاد کیا گیا۔20 نکاتی پروگرام کے چیئرمین دھرمیندر سنگھ چوہان کی نمائندگی میں دیوریا گاؤں میں ونود سنگھ کی رہائش پر منعقدہ کیمپ میں 204 مستفیدین کے مفت آیوشمان کارڈ بنائے گئے۔
اس موقع پر چوہان نے کہا کہ وہ وزیر اعظم نریندر مودی کے ڈریم پراجیکٹ آیوشمان بھارت تک ہر کسی تک رسائی کے لیے کام کر رہے ہیں۔جب سے وزیر اعظم نے غریبوں کے علاج کے لیے آیوشمان کارڈ کا آغاز کیا ہے سارن لوک سبھا حلقہ میں ایم پی کے کارکن گاؤں گاؤں جا رہے ہیں۔ایک دن پہلے اپنی اشتہار گاڑی سے لوگوں کو مطلع کیا جاتا ہے اور پھر لوگوں کا رجسٹریشن کرنے کے لیے اگلے دن سروس گاڑی کے ساتھ مکمل نظام کو بھیجا جاتا ہے۔آن دی اسپاٹ لوگوں کا فری رجسٹریشن کیا جاتا ہے۔15 دن کے بعد ایم پی کنٹرول روم ان تمام لوگوں کو مطلع کرتا ہے جن کے کارڈ بن چکے ہوتے ہیں۔انہیں کارڈ تقسیم کئے جاتے ہیں۔
چوہان نے کہا کہ آیوشمان کارڈ غریبوں کے لیے ایک وردان ثابت ہو رہا ہے۔یہ اسکیم غریبوں کو پیسے کی کمی کی وجہ سے اپنی جان گنوانے سے بچاتی ہے۔کیمپ کو کامیاب بنانے میں بی جے وائی ایم کے سابق ضلع صدر گاما سنگھ،ڈاکٹر تارکیشور تیواری،سابق منڈل صدر سنجے تیواری وارثی،راج کمار تیواری،جنرل سکریٹری پریا کانت کشواہا،نائب صدر راکیش سنگھ نے تعاون کیا۔موقع پر راہل کمار،اوم پرکاش،وکاس،سوربھ،برجیش اور ایم پی کنٹرول روم کے معاون وغیرہ موجود تھے۔

Continue Reading

بہار

گورنر کے نام زمین رجسٹری کرنا گویا زمین کی ملکیت حکومت کو منتقل کرنا ہے:امارت شرعیہ

Published

on

(پی این این)
پھلواری شریف:ناظم امارت شرعیہ مولانا مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی نے ایک پریس بیان میں کہاہے کہ بعض علاقوں سے یہ اطلاع مل رہی ہے کہ مسلمان مسجد ، مدرسہ ، قبرستان او ر عید گاہ وغیرہ کی زمین گورنر صاحب کے نام رجسٹری کرنے کی پہل کر رہے ہیں اور ان کی سوچ یہ ہے کہ اس سے زمین محفوظ رہے گی اور مدارس ومساجد کابھی تحفظ ہوگا،یہ اقدام درست نہیں ہے۔
انہوں نے کہاکہ گورنر کے نام جو زمین رجسٹری ہوتی ہے اس کی ملکیت حکومت کو منتقل ہو جاتی ہے اور اس جائداد کے سلسلہ میں سارا اختیار حکومت کا ہوتا ہے، موجودہ صورت حال میں ایسا اقدام نہ تو مذہبی نقطۂ نظر سے درست ہے اور نہ اس طریقہ سے ذاتی زمینوں یا اوقاف کی زمین کا تحفظ ہو سکتا ہے ، بلکہ آنے والے دنوں میں بے شمار خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، اس لئے ایسے اقدام سے گریز کیا جائے ، مدارس ومساجد ، عید گاہ وقبرستان ملی سرمائے ہیں ان کا صحیح نظم ونسق اور تحفظ خود مسلمانوں کی ذمہ داری ہے ،اس لئے ضرورت ہے کہ ایسی زمینوں کے کاغذات کو قانونی اعتبار سے مستحکم رکھا جائے ،انتظامیہ کمیٹی کی شکل میں ٹرسٹ بنا کر ان کے نظام کو شریعت کی روشنی میں چلایا جائے ، امارت شرعیہ سمیت دیگر ملی تنظیمیں مسلسل ایسے امور کے بارے میں رہنمائی کر رہی ہیں ، ان کی رہنمائی سے فائدہ اٹھایا جائے اور صلاح ومشورہ کے بعد ہی کوئی قدم اٹھایاجائے ۔
ناظم صاحب نے مزید کہا کہ مخدوم گرامی امیر شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی اس سلسلہ میں بے حد فکر مند ہیں اور اوقاف کے رجسٹریشن،غیر رجسٹرڈ زمینوں کے تحفظ کے طریقۂ کار اور جو زمینیں کسی طور پر رجسٹرڈ نہیں ہیں یا اس کے کاغذات موجود نہیں ہیں ،ان سے متعلق قانونی و شرعی نقطۂ نظر سے غور و فکر کر رہے ہیں اور جلد ہی ان امور سے متعلق مناسب رہنمائی فراہم کرائی جائے گی ۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network